30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
دل پرگناہوں کی لذت کا غلبہ
بعض اوقات انسان کے دل ودماغ پر مختلف گناہوں مثلاً زنا، شراب نوشی ، بدنگاہی ، نامحرم عورتوں سے ہنسی مذاق ، فلم بینی وغیرہ کی لذت کا اس قدر غلبہ ہوجاتا ہے کہ وہ ان گناہوں کو چھوڑنے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ ان گناہوں کے بغیر اسے اپنی زندگی بہت اداس اور ویران محسوس ہوتی ہے ، یوں وہ توبہ سے محروم رہتا ہے۔
اس کا حل :
اس قسم کی صورتِ حال سے دوچار شخص اس طرح سوچ وبچار کرے کہ جب میں زندگی کے مختصر ایام میں ان لذتوں کو نہیں چھوڑ سکتا تو مرنے کے بعد ہمیشہ ہمیشہ کے لئے لذتوں (یعنی جنت کی نعمتوں ) سے محرومی کیسے گوارہ کروں گا؟ جب میں صبر کی آزمائش برداشت نہیں کرسکتا تو نارِ جہنم کی تکلیف کس طرح برداشت کروں گا ؟ان گناہوں میں لذت یقینا ہے لیکن ان کا انجام طویل غم کا سبب ہے ، جیساکہ کسی بزرگ نے ارشاد فرمایا :
’’کبھی لذّت کی وجہ سے گناہ نہ کرو کہ لذت جاتی رہے گی لیکن گناہ تمہارے ذمے باقی رہ جائے گا اور کبھی مشقّت کی وجہ سے نیکی کو ترک نہ کرو کہ مشقت کا اثر ختم ہوجائے گا لیکن نیکی تمہارے نامۂ اعمال میں محفوظ رہے گی ۔‘‘
اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ اس انداز سے غوروفکر کرنے کی برکت سے مذکورہ رکاوٹ دور ہوجائے گی اورتوبہ کرنے میں کامیابی نصیب ہوگی ۔ جب ایسا شخص نیکیوں کی وجہ سے حاصل ہونے والے سکونِ قلب کو ملاحظہ کرے گا تو گناہوں کی لذت کو بھول جائے گا جیساکہ ایک شخص جسے دال بڑی پسند تھی اور وہ کسی دوسرے کھانے حتی کہ گوشت کو بھی خاطر میں نہ لاتا تھا ۔ اس کا دوست اسے مرغی کھانے کی دعوت دیتا لیکن وہ یہ کہہ کر اس دعوت کو ٹھکرا دیتا کہ اس دال میں جو لذت ہے کسی اور کھانے میں کہاں ؟ آخر کار ایک دن جب اس کے دوست نے اسے مرغی کھانے کی دعوت دی تو اس نے سوچا کہ آج مرغی بھی کھا کر دیکھ لیتے ہیں کہ اس کا ذائقہ کیسا ہے اور مرغی کھانے لگا ۔جب اس نے پہلا لقمہ منہ میں رکھا تو اسے اتنی لذت محسوس ہوئی کہ اپنی پسندیدہ دال کو بھول گیا اور کہنے لگا : ’’ہٹاؤ اس دال کو ، اب میں مرغی ہی کھایا کروں گا ۔‘‘ بلاتشبیہ جب تک کوئی شخص محض گناہوں کی لذت میں مبتلاء اور نیکیوں کے سکون سے ناآشنا ہوتا ہے ، اسے یہ گناہ ہی رونق ِ زندگی محسوس ہوتے ہیں لیکن جب اسے نیکیوں کا نور حاصل ہوجاتا ہے تو وہ گناہوں کی لذت کو بھول جاتا ہے اور نیکیوں کے ذریعے سکون ِ قلب کا متلاشی ہوجاتا ہے ۔
تُوْبُوْا اِلَی اللّٰہِ(یعنی اللہ تَعَالٰی کی بارگاہ میں توبہ کرو) اَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ (میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں ۔)
تیسری وجہ
توبہ میں تاخیر کا ایک سبب یہ بھی ہوتا ہے کہ نفس وشیطان اس طرح انسان کا ذہن بناتے ہیں کہ ابھی تو بڑی عمر پڑی ہے بعد میں توبہ کرلینا۔۔یا۔۔ ابھی تم جوان ہو بڑھاپے میں توبہ کرلینا۔۔یا۔۔نوکری سے ریٹائر ہونے کے بعد توبہ کرلینا ۔ چنانچہ یہ ’’عقل مند‘‘نفس وشیطان کے مشورے پر عمل کرتے ہوئے توبہ سے محروم رہتا ہے ۔
اس کا حل :
ایسے شخص کو اس طرح غور کرنا چاہیے کہ جب موت کا آنا یقینی ہے اور مجھے اپنی موت کے آنے کا وقت بھی معلوم نہیں تو توبہ جیسی سعادت کو کل پر مو قوف کرنا نادانی نہیں تو اور کیا ہے ؟جس گناہ کو چھوڑنے پر آج میرا نفس تیار نہیں ہورہا کل اس کی عادت پختہ ہوجانے پر میں اس سے اپنادامن کس طرح بچاؤں گا؟اوراس بات کی بھی کیا ضمانت ہے کہ میں بڑھاپے میں پہنچ پاؤں گا یا نوکری سے ریٹائر ہونے تک میں زندہ رہوں گا ؟ حدیث میں ہے کہ’’ توبہ میں تاخیر کرنے سے بچو کیونکہ موت اچانک آجاتی ہے ۔‘‘
(الترغیب والترہیب ، کتاب التو بۃ والزھد ، باب التر غیب فی التو بۃ ۔۔الخ ، رقم ۱۸ ، ج۴ ، ص ۴۸)
پھرموت تو کسی خاص عمر کی پابند نہیں ہے، بچہ ہو یا بوڑھا ، جوان ہو یا اُدھیڑ عمر یہ بلاامتیاز سب کو زندگی کی رونقوں کے بیچ سے اٹھا کر قبر کے گڑھے میں پہنچا دیتی ہے ، یہ وہ ہے کہ جب اِس کے آنے کاوقت آجائے تو کوئی خوشی یا غم ، کوئی مصروفیت یا کسی قسم کے ادھورے کام اس کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتے، ایک دن مجھے بھی موت آئے گی اور مجھے زیر ِ زمین دفن ہونا پڑے گا ، اگر میں بغیر توبہ کے مر گیا تو مجھے کتنی حسرت وندامت کا سامنا کرنا پڑے گا ، ابھی مہلت میسّرہے لہذ امجھے فوراً توبہ کرلینی چاہئیے ۔
اس انداز سے غوروفکر کرنے کی برکت سے مذکورہ رکاوٹ دور ہوجائے گی اورتوبہ کرنے میں کامیابی نصیب ہوگی ۔ اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ
تُوْبُوْا اِلَی اللّٰہِ(یعنی اللہ تَعَالٰی کی بارگاہ میں توبہ کرو) اَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ (میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں ۔)
چوتھی وجہ
رحمت ِ الہٰی کے بارے میں دھوکے کا شکار ہونا
ہمارے معاشرے میں اس قسم کے لوگ بھی بکثرت پائے جاتے ہیں کہ جب انہیں گناہوں سے توبہ کی ترغیب دی جائے تو اس قسم کے جملے بول کر لاجواب کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ : ’’اللہ تَعَالٰی بڑا غفور ورحیم ہے ، ہمیں اس کی رحمت پر بھروسا ہے ، وہ ہمیں عذاب نہیں دے گا ۔‘‘اور توبہ پر آمادہ نہیں ہوتے ۔
اس کا حل :
ایسوں کی خدمت میں گزارش ہے کہ اللہ تَعَالٰی کے رحیم وکریم ہونے میں کسی مسلمان کو شک وشبہ نہیں ہوسکتا لیکن جس طرح یہ دونوں اس کی صفات ہیں اسی طرح قہّار اور جبّار ہونا بھی رب عَزَّ وَجَلَّ کی صفات ہیں ۔ اور یہ بات بھی قرآن وحدیث سے ثابت ہے کہ کچھ نہ کچھ مسلمان جہنم میں بھی جائیں گے تو اب آپ ہی بتائیے کہ اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ وہ مسلمان تو غضب ِ الہٰی عَزَّ وَجَلَّ کا شکار ہوں اور جہنم میں جائیں لیکن آپ پر رحمت ِ الہٰی عَزَّ وَجَلَّ کی چھماچھم برسات ہو اور آپ کو داخل ِ جنت کیا جائے ؟ اس سلسلے میں ہمارے اکابرین کا طرزِ عمل ملاحظہ ہو :
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع