دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Toba Ki Riwayaat o Hikayaat | توبہ کی روایات و حکایات

book_icon
توبہ کی روایات و حکایات

بھاگنے لگا اوروہاں قیامت کے مناظر دیکھنے لگا۔میں ایک اونچائی پر چڑھا تو وہاں زبردست آگ تھی میں نے اس کی ہولناکی کو دیکھا اور چاہا کہ اژدھے سے بچنے کے لیے اس آ گ میں کود جاؤں مگر کسی نے چیخ کر کہا : ’’لوٹ آ، تو اس آگ کا اہل نہیں ہے ۔‘‘ میں مطمئن ہو کر لوٹ آیا لیکن اژدھا میری تلاش میں تھا ۔

        میں اسی بزرگ کے پاس آیا اور انہیں کہا :  ’’شیخ! میں نے آپ سے پناہ مانگی تھی لیکن آپ نے نہیں دی ۔‘‘وہ بزرگ پھر معذرت کر کے کہنے لگے کہ ’’میں کمزور آدمی ہوں لیکن تم اس پہاڑ پر چڑھ جاؤوہاں مسلمانوں کی امانتیں ہیں ، ہو سکتا ہے کہ تیری بھی کوئی امانت وہاں ہوجو تیری مدد کر سکے ۔‘‘ میں اس پہاڑ پر چڑھا جو چاندی سے بنا ہوا تھا، اس میں جگہ جگہ سوراخ تھے اور سرخ سونے سے بنے ہوئے غاروں پر پردے پڑے ہوئے تھے ، ان غاروں میں جگہ جگہ یاقوت اور جواہرات جڑے ہوئے تھے اور سب طاقچوں پر ریشم کے پردے پڑے ہوئے تھے ۔ جب میں اژدھے سے ڈر کر پہاڑ کی طرف بھاگا تو کسی فرشتے نے زور سے کہا : ’’پردے ہٹا دو ۔‘‘ تو پردے اٹھ گئے اور طاق کھول دیے گئے۔پھر ان طاقچوں سے چاندی کی رنگت جیسے چہروں والے بچے نکل آئے اور اژدھا بھی میرے قریب ہو گیا ۔اب میں بڑا پریشان ہوا ۔ کسی نے چلا کر کہا تمہارا ستیا ناس !دیکھ نہیں رہے کہ دشمن اس کے کتنا قریب آچکا ہے ، چلو سب باہر آؤپھر بچے فوج در فوج نکلنا شروع ہو گئے۔ میں نے دیکھا کہ میری وہ بچی جو مر چکی تھی، وہ بھی نکلی اور مجھے دیکھتے ہی رونے لگی : ’’ واللہ ! میرے والد۔‘‘پھر وہ تیزی سے کود کر ایک نور کے ہالے میں گئی اوردوبارہ میرے سامنے نمودار ہو گئی اور اپنے بائیں ہاتھ سے میرا دایاں ہاتھ پکڑ ا اور دایاں ہاتھ اژدھے کی طرف بڑھایا تو وہ الٹے پاؤں بھاگ گیا ۔

        اس کے بعد اس نے مجھے بٹھایا اور میری گود میں آبیٹھی اور اپنا سیدھا ہاتھ میری داڑھی میں پھیرتے ہوئے کہنے لگی :

اَلَمْ یَاْنِ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْ تَخْشَعَ قُلُوْبُهُمْ لِذِكْرِ اللّٰهِ

ترجمۂ کنزالایمان : کیا ایمان والوں کو ابھی وہ وقت نہ آیا کہ ان کے دل جھک جائیں اللہ   کی یاد (کے لئے )۔۲۷، الحدید۱۶)

        اور رونے لگی تو میں نے کہا : ’’میری بچی !کیا تمہیں قرآن معلوم ہے ؟‘‘اس نے کہا : ’’ ہاں !ہم لوگ آپ سے زیادہ جانتے ہیں ۔‘‘ میں نے پوچھا : ’’ مجھے اس اژدھے کے بارے میں بتاؤ جو مجھے ہلاک کر دینا چاہتا تھا؟‘‘اس نے کہا : ’’ وہ آپ کے برے اعمال تھے جنہیں خود آپ نے طاقتور بنایا تھا ۔‘‘میں نے پوچھا : ’’ وہ بزرگ کون تھے؟‘‘اس نے بتایا : ’’ وہ آپ کے اچھے اعمال تھے جنہیں آپ نے اتنا کمزور کر دیا تھا کہ وہ آپ کے برے اعمال کو دور نہ کر سکے ۔‘‘ میں نے پوچھا : ’’ میری بچی !تم لوگ اس پہاڑ میں کیا کرتے ہو ؟‘‘اس نے کہا کہ’’ ہم مسلمانوں کے بچے اس پہاڑ میں رہتے ہیں اور قیامت ہو نے تک رہیں گے، ہم منتظر ہیں کہ تم کب ہمارے پاس آؤ اور ہم تمہاری شفاعت کریں ۔‘‘

        مالک بن دینار کہتے ہیں کہ میں خوفزدہ حالت میں بیدار ہوا اور میں نے شراب پھینک کر اس کے برتن توڑ دیے اور اللہ    عَزَّ وَجَلَّ سے توبہ کر لی ، یہ میری توبہ کا سبب بنا۔‘‘

(کتاب التوابین ، تو بۃ مالک بن دینا ر ، ص ۲۰۲ ۔۲۰۵)

(38 )   بسم اللہ   کی تعظیم کی برکت سے توبہ نصیب ہوگئی

        حضرت سیدنا بشر حافی سے پوچھا گیا تھا کہ تمہاری توبہ کا کیا واقعہ ہے ؟تو انہوں نے بتایا کہ’’ یہ سب اللہ   عَزَّ وَجَلَّ کے فضل وکرم سے ہوا میں تمہیں کیا بتاؤں ؟میں  بہت چالاک اور جتھے والاانسان تھا، ایک دن میں کہیں جا رہا تھا کہ مجھے ایک کاغذراستے میں پڑا ملا میں نے اسے اٹھایا تو اس میں بسم اللہ   لکھی ہوئی تھی ۔میں نے اسے صاف کر کے جیب میں ڈال لیا۔ میرے پاس ایک درہم کے سوا اور کوئی پیسے بھی نہیں تھے ۔میں نے اسی درہم کی ایک مہنگی خوشبو لے کر اس کاغذ کو لگائی ۔رات کو جب میں سویا تو میں نے خواب میں دیکھا کہ کو ئی کہنے والا کہہ رہا ہے : ’’اے بشر بن حارث!تو نے ہمارا نام راستے سے اٹھا کر اسے خوشبو میں بسا یا ہے ہم بھی تیرا نام دنیا و آخرت میں مہکا دیں گے‘‘پھر ایسا ہی ہوا۔(کتاب التوابین ، تو بۃ بشر الحافی ، ص۲۱۰)

(39 )   ا یک لُٹیرے کی توبہ

        حضرت قعنبی علیہ الرحمۃ کے ایک بیٹے کا بیان ہے کہ (توبہ کرنے سے پہلے)میرے والد شراب پیتے اور نو عمر لڑکوں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا رکھتے تھے ۔ایک مرتبہ انہوں نے ان لڑکوں کو بلوایا اور دروازے پر ان کا انتظار کرنے لگے ۔اتنے میں وہاں سے حضرت ِسیدنا شعبہعلیہ الرحمۃ اپنی سواری پر وہاں سے گزرے ۔ان کے پیچھے پیچھے لوگ دوڑتے جا رہے تھے انہوں نے پوچھا : ’’ یہ کون ہے ؟‘‘لوگوں نے بتایاکہ’’ یہ شعبہ ہیں ۔‘‘انہوں نے پوچھا کہ ’’شعبہ کون ہیں ؟‘‘بتایا گیا : ’’محدث ہیں ۔‘‘تو میرے والد ان کے پیچھے دوڑتے ہوئے پہنچے اور کہا کہ مجھے حدیث سناؤ۔حضرت شعبہعلیہ الرحمۃ نے کہا کہ تُو کوئی محدث تو نہیں کہ تجھے حدیث سناؤں ؟

        یہ سن کر میرے والد نے چاقو نکال لیا اور کہا کہ’’ حدیث سناؤ ورنہ زخمی کردوں گا ۔‘‘تو حضرت شعبہ علیہ الرحمۃنے حدیث سنائی کہ ہمیں منصور ربعی نے ابن مسعود رَضِیَ اللہ   تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت بیان کی ہے کہ رسول اللہ  صَلَّی اللہ   تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا ’’ جب تجھے حیا نہ رہے تو جو چاہے کر گزر۔ ‘‘

        یہ سن کر میرے والد نے چاقو پھینک دیا اور گھر واپس آگئے اور ساری شراب پھینک دی اور میری والدہ کو کہا کہ ابھی میرے دوست آنے والے ہیں ، جب وہ آجائیں تو انہیں کھانا وغیرہ کھلا کر بتا دیناکہ میں نے شراب وغیرہ چھوڑ دی ہے اور برتن توڑ دیئے ہیں تاکہ وہ سب واپس چلے جائیں ۔‘‘ (کتاب التوابین ، تو بۃ القعنبی، ص۲۱۹)   

(40 )   ایک رہزن کی توبہ

        حضرت بشر حافی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں کہ میں نے عکبر کردی سے پوچھا کہ تمہاری توبہ کا کیا سبب بنا؟اس نے بتایا :

        ’’ میں ایک غار میں رہتاتھااور رہزنی کیا کرتا ۔ وہاں کھجور کے تین درخت تھے۔ ایک درخت پر پھل نہ تھے وہاں ایک چڑیا پھل والے درخت سے پکی ہوئی کجھوریں توڑتی اوراس درخت پر لے جاتی۔ میں نے اسے اس طرح دس چکر لگاتے ہوئے دیکھا تو میرے دل میں ایک خیال آیا کہ اٹھ کر دیکھوں کہ کیا ماجرا ہے۔جب میں نے اٹھ کر دیکھا تووہاں ایک اندھا سانپ تھا اور چڑیا اس کے منہ میں وہ دانے ڈال رہی تھی۔

        یہ دیکھ کر میں رونے لگا اور میں نے کہا کہ میرے آقا !سانپ کو تیرے نبی صَلَّی اللہ   تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے مار ڈالنے کا حکم دیا اور تو نے اس اندھے سانپ پر چڑیا اسکی کفالت کیلئے متعین کی

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن