دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Toba Ki Riwayaat o Hikayaat | توبہ کی روایات و حکایات

book_icon
توبہ کی روایات و حکایات

  پس اگر تو آگ پر صبر کر سکے ، تو نافرمانی کر، ورنہ نافرمانی سے دور ہو جا۔

وَفِیْمَا قَدْ کَسَبْتَ مِنَ الْخَطَایَا

رَھِنْتَ النَّفْسَ فَاجْھَدْفِی الْخَلَاصِیْ

    تو نے گناہ کس لیے کئے ہیں ، تونے اپنے آپ کو پھنسا دیا ، اب نجات کے لیے کوشش کر۔

        عتبہ کی چیخ نکل گئی اور غش کھا کر گر پڑا ۔جب افاقہ ہوا، تو کہنے لگا : ’’اے شیخ!کیا میرے جیسے کمینے کی توبہ بھی رب رحیم قبول فرمائے گا ۔‘‘شیخ نے فرمایا : ’’بد نصیب بندے کی توبہ اور معافی رب تَعَالٰی قبول فرماتا ہے۔‘‘پھرحضرت عتبہ علیہ الرحمۃنے سر اٹھایا اور تین دعائیں کیں :

(1)    اے میرے اللہ  !اگر تو نے میری توبہ قبول کر لی اور میرے گناہ معاف فرمادیے تو مجھے فہم و یاد داشت عطا کر ، مجھے عزت عطا فرما کہ علوم دین اور قرآن مجید سے جو سنوں حفظ کر لوں ۔

(2)    اے اللہ  !مجھے حسن ِآواز کا اعزاز عطا فرما ، جو بھی میری قرأت سنے اگر وہ سنگ دل ہو تو اس کا دل نرم ہو جائے ۔

(3)    اے اللہ   !رزق حلال کا اعزاز عطا فرما ، وہاں سے روزی عطا فرما کہ مجھے اس کا گمان بھی نہ ہو ۔

        اللہ  تَعَالٰی نے ان کی تمام دعائیں قبول فرمائیں ۔ان کا فہم تیز ہو گیا ، جب وہ قرآن مجید کی تلاوت کرتے، تو ہر سننے والا تائب ہوجاتا، ان کے گھر میں روزانہ سالن کا ایک پیالہ اور دو روٹیاں رکھی ہوتیں اور پتا نہیں چلتا تھاکہ کون رکھ جاتا ہے ۔اسی حالت میں آپ کا انتقال ہوگیا۔(مکاشفۃ القلوب، الباب الثامن فی التو بۃ ، ص ۲۸ ۔ ۲۹)

(32 )   بنی اسرائیل کے نوجوان کی توبہ

        بنی اسرائیل میں ایک جوان تھا جس نے بیس سال تک اللہ    عَزَّ وَجَلَّ کی عبادت کی ، پھر بیس سال تک نافرمانی کی ۔پھر آئینہ دیکھاتو داڑھی میں بال سفید تھے ۔وہ غم زدہ ہوگیا اورکہنے لگا : ’’اے میرے خدا!میں نے بیس سال تک تیری عبادت کی اور بیس سال تک تیری نافرمانی کی اگر میں تیری طرف آؤں تو کیا میری توبہ قبول ہو گی ؟‘‘اس نے کسی کہنے والے کی آواز سنی : ’’تم نے ہم سے محبت کی ہم نے تم سے محبت کی ، پھر تو نے ہمیں چھوڑ دیا اور ہم نے بھی تجھے چھوڑ دیا تو نے ہماری نافرمانی کی اور ہم نے تجھے مہلت دی اور اگر تُو توبہ کر کے ہماری طرف آئے گا تو ہم تیری توبہ قبول کریں گے۔‘‘(مکاشفۃ القلوب ، الباب السابع عشر فی بیان الامانۃ والتو بۃ ، ص ۶۲)

(33 )   توبہ پر قائم نہ رہنے والے کی توبہ

         حضرت سیدنا موسی کلیم اللہ   عَلَیْہِ السَّلَام کے زمانہ میں ایک آدمی توبہ پر پختہ نہیں رہتا تھا ، جب بھی توبہ کرتا توڑ ڈالتا ۔بیس سال تک اس کی یہی حالت رہی ۔اللہ  تَعَالٰی نے حضرت موسی عَلَیْہِ السَّلَام  کی طرف وحی کی کہ میرے بندے سے کہو کہ میں اس پر غضبناک ہوں ۔حضرت ِسیدنا موسی کلیم اللہ   عَلَیْہِ السَّلَام نے اس آدمی تک یہ پیغام پہنچا دیا ۔وہ بڑا غمگین ہوا اور صحرا کی طرف چل پڑا ۔وہ کہہ رہا تھا : ’’اے میرے خدا! کیا تیری رحمت ختم ہو گئی یا تجھے میری نافرمانی نے نقصان دیا ‘یا تیری معافی کے خزانے ختم ہو گئے ؟کونسا گناہ تیری قدیم صفات عفوو کرم سے بڑا ہے ؟جب تو اپنے بندوں پر رحمت بند کر دے گا تو وہ کس سے امید رکھیں گے ؟اگر تو نے انہیں رد کر دیاتو وہ کس کے پاس جائیں گے ؟اگر تیری رحمت ختم ہو گئی اور مجھے عذاب دینا لازم ہو گیا تو پھر اپنے تمام بندوں کا عذاب مجھ پر کر دے ، میں اپنی جان ان کے بدلے میں پیش کرتا ہوں ۔‘‘

        اللہ   عَزَّ وَجَلَّ  نے فرمایا : ’’اے موسی عَلَیْہِ السَّلَام   !اس کی طرف جاؤاور کہو کہ اگر تیرے گناہ زمین بھر کے برابر ہوں ، تب بھی تجھے بخش دوں گا کہ تو نے میرے کمال قدرت اورکمال عفو و رحمت کو جان لیا ۔‘‘(مکاشفۃ القلوب ، الباب السابع عشر فی بیان الامانۃ والتو بۃ  ، ص ۶۳۔ ۶۴)

(34 )   ایک نافرمان شخص کی توبہ

        حضرت ربیعہ بن عثمان علیہ الرحمۃ سے مروی ہے کہ ایک شخص اللہ   عَزَّ وَجَلَّ کی بہت نافرمانی کرتا تھا پھر اللہ   عَزَّ وَجَلَّ نے اسے بھلائی اور توبہ کی توفیق دی ۔اس نے اپنی بیوی کو کہا کہ میں اللہ   عَزَّ وَجَلَّ سے شفاعت کرنے والے کو تلاش کرتا ہوں ۔یہ کہہ کر وہ صحرا میں نکل گیا اور وہاں جا کر آہ وزاری شروع کردی : ’’اے آسمان میری شفاعت کر دے ، اے پہاڑو میری شفاعت کر دو، اے زمین میری شفاعت کر دے ، اے فرشتو!میری سفارش کر دو ۔‘‘ حتی کہ یہ تھک گیا اور بے ہوش ہو کر زمین پر گر گیا ۔ اللہ    عَزَّ وَجَلَّ  نے اس کے پاس ایک فرشتہ بھیجا اور اس نے اسے اٹھا لیا اور اس کے سر پر ہاتھ پھیرا اور کہا کہ خوشخبری ہو : ’’اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے تیری توبہ قبول فرما لی ہے۔‘‘تو اس شخص نے کہا : ’’اللہ  عَزَّ وَجَلَّ تجھ پر رحم کرے اللہ   عَزَّ وَجَلَّ سے میری سفارش کس نے کی ہے ؟‘‘اس نے کہا کہ’’ میں تیرے بارے میں خوف زدہ ہو گیا تو میں نے اللہ   عَزَّ وَجَلَّ سے تیری سفارش کر دی۔‘‘(کتاب التوابین ، تو بۃ عاصی من العماۃ ، ص ۸۴)

( 35)   نہر میں غسل کرنے والے کی توبہ

        حضرت سیدنا کعب الاحباررَضِیَ اللہ   تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ بنی اسرائیل کا شخص ایک فاحشہ عورت کے پاس آیا اور جب وہ غسل کرنے کے لئے نہر میں اترا تو پانی سے آواز آئی : ’’اے فلاں !کیا تو حیا نہیں کرتا ، کیا تو نے اس گناہ سے توبہ نہ کی تھی اور کہا تھا کہ اب دوبارہ نہیں کرے گا ۔‘‘تو وہ شخص یہ آواز سن کر یہ کہتے ہوئے نہر سے نکل گیا ’’میں اللہ   عَزَّ وَجَلَّ کی نافرمانی نہیں کروں گا۔ ‘‘پھر یہ ایک پہاڑ پر آیا جہاں بارہ آدمی اللہ   عَزَّ وَجَلَّ کی عبادت کر رہے تھے۔ یہ کچھ عرصہ ان کے ساتھ رہا ۔جب وہاں قحط نازل ہو گیا تو یہ لوگ وہاں سے اترے اور جڑی بوٹیاں تلاش کرنے لگے ۔ اس دوران یہ اسی نہر کے پاس سے گزرے تو اس شخص نے کہا : ’’میں تمہارے ساتھ نہیں جاؤں گا ۔‘‘انہوں نے پوچھا :  ’’کیوں ؟‘‘ اس نے کہا : ’’وہاں کوئی ہے جو میری ایک خطا کو جانتا ہے اور مجھے اس کے سامنے جاتے ہوئے شرم آتی ہے۔‘‘تو یہ لوگ اسے چھوڑ کر چلے گئے ۔

         نہر سے صدا آئی : ’’واہ!سبحان اللہ   ، اگر تم میں سے کوئی اپنے بیٹے یا کسی قریبی عزیز پر غصہ ہواور وہ توبہ کر کے تمہاری پسندیدہ بات کی طرف لوٹ آئے تو تم اس سے محبت کرنے لگو اور تمہارے اس ساتھی نے توبہ کر کے اپنی پسند سے رجو ع کر لیا ہے لہذا میں بھی اس سے محبت کرتا ہو ں ، جاؤ اس کو یہ بتا دو اور نہر کے کنارے پر اللہ    عَزَّ وَجَلَّ کی عبادت کرو۔‘‘تو ان لوگوں نے آکر

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن