30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اس کے جنازے میں کثیر لوگ شامل ہوئے اور رو رو کر اس کے لئے دعائیں کی گئیں ۔ حضرت سَیِّدُنا صالح مری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ اکثر اس کا ذکر اپنے وعظ میں کیا کرتے ۔ ایک دن کسی نے اس نوجوان کو خواب میں دیکھا تو پوچھا، ’’ تمہارے ساتھ کیا معاملہ ہوا؟‘‘تو اس نے جواب دیا ، ’’مجھے حضرت صالح مری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کی محفل سے برکتیں ملیں اور مجھے جنت میں داخل کر دیا گیا۔‘‘(کتاب التوابین ، تو بۃ فتی من الازددان ، ص ۲۵۰ ۔ ۲۵۲ )
بصرہ میں ایک انتہائی حسین وجمیل عورت رہا کرتی تھی ۔لوگ اسے شعوانہ کے نام سے جانتے تھے ۔ظاہری حسن وجمال کے ساتھ ساتھ اس کی آواز بھی بہت خوبصورت تھی ۔اپنی خوبصورت آواز کی وجہ سے وہ گائیکی اور نوحہ گری میں مشہور تھی ۔ بصرہ شہر میں خوشی اور غمی کی کوئی مجلس اس کے بغیر ادھوری تصور کی جاتی تھی ۔یہی وجہ تھی کہ اس کے پاس بہت سا مال و دولت جمع ہو گیا تھا ۔بصرہ شہر میں فسق وفجور کے حوالے سے اس کی مثال دی جاتی تھی ۔اس کا رہن سہن امیرانہ تھا ، وہ بیش قیمت لباس زیب تن کرتی اور گراں بہا زیورات سے بنی سنوری رہتی تھی۔
ایک دن وہ اپنی رومی اور ترکی کنیزوں کے ساتھ کہیں جا رہی تھی ۔راستے میں اس کا گزر حضرت صالح المری علیہ الرحمۃکے گھر کے قریب سے ہو ا۔آپ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے برگزیدہ بندوں میں سے تھے ۔آپ باعمل عالم دین اور عابد و زاہد تھے۔ آپ اپنے گھر میں لوگوں کو وعظ ارشاد فرمایا کرتے تھے ۔آپ کے وعظ کی تاثیر سے لوگوں پر رقت طاری ہو جاتی اوروہ بڑی زورزور سے آہ و بکاء شروع کر دیتے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے خوف سے ان کی آنکھوں سے آنسوؤں کی جھڑیاں لگ جاتیں ۔جب شعوانہ نامی وہ عورت وہاں سے گزرنے لگی تو اس نے گھر سے آہ وفغاں کی آوازیں سنیں ۔ آوازیں سن کر اسے بہت غصہ آیا ۔وہ اپنی کنیزوں سے کہنے لگی : ’’تعجب کی بات ہے کہ یہاں نوحہ کیا جارہا ہے اور مجھے اس کی خبر تک نہیں دی گئی۔ ‘‘پھر اس نے ایک خادمہ کو گھر کے حالات معلوم کرنے کے لیے اندر بھیج دیا ۔وہ لونڈی اندر گئی اور اندر کے حالات دیکھ کر اس پربھی خدا عَزَّ وَجَلَّ کا خوف طاری ہو گیا اور وہ وہیں بیٹھ گئی ۔جب وہ واپس نہ آئی توشعوانہ نے کافی انتظار کے بعد دوسری اور پھر تیسری لونڈی کو اندر بھیجا مگر وہ بھی واپس نہ لوٹیں ۔پھر اس نے چوتھی خادمہ کو اندر بھیجا جو تھوڑی دیر بعد واپس لوٹ آئی اور اس نے بتایا کہ گھر میں کسی کے مرنے پر ماتم نہیں ہو رہا بلکہ اپنے گناہوں پر آہ وبکاء کی جارہی ہے ، لوگ اپنے گناہوں کی وجہ سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے خوف سے رو رہے ہیں ۔‘‘
شعوانہ نے یہ سنا تو ہنس دی اور ان کا مذاق اڑانے کی نیت سے گھر کے اندر داخل ہو گئی ۔لیکن قدرت کو کچھ اورہی منظور تھا ۔ جونہی وہ اندر داخل ہوئی اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اس کے دل کو پھیر دیا ۔ جب اس نے حضرت صالح المری علیہ الرحمۃ کو دیکھا تو دل میں کہنے لگی : ’’افسوس !میری تو ساری عمر ضائع ہو گئی، میں نے انمول زندگی گناہوں میں اکارت کر دی، وہ میرے گناہوں کوکیونکر معاف فرمائے گا؟ ‘‘انہی خیالات سے پریشان ہوکر اس نے حضرت صالح المری علیہ الرحمۃ سے پوچھا : ’’اے امام المسلمین!کیا اللہ عَزَّ وَجَلَّ نافرمانوں اور سرکشوں کے گناہ بھی معاف فرما دیتا ہے ؟‘‘آپ نے فرمایا : ’’ہاں !یہ وعظ ونصیحت اور وعدے وعیدیں سب انہی کے لیے تو ہیں تاکہ وہ سیدھے راستے پر آ جائیں ۔‘‘اس پر بھی اس کی تسلی نہ ہوئی تو وہ کہنے لگی : ’’میرے گناہ تو آسمان کے ستاروں اور سمندر کی جھاگ سے بھی زیادہ ہیں ۔‘‘آپ نے فرمایا : ’’کوئی بات نہیں !اگر تیرے گناہ شعوانہ سے بھی زیادہ ہوں تو بھی اللہ عَزَّ وَجَلَّ معاف فرمادے گا ۔‘‘یہ سن کر وہ چیخ پڑی اور رونا شروع کر دیا اور اتنا روئی کہ اس پر بے ہوشی طاری ہو گئی ۔
تھوڑی دیر بعد جب اسے ہوش آیا تو کہنے لگی : ’’حضرت !میں ہی وہ شعوانہ ہوں جس کے گناہوں کی مثالیں دی جاتی ہیں ۔‘‘پھر اس نے اپنا قیمتی لباس اور گراں قدر زیوراتار کر پرانا سا لباس پہن لیا اور گناہوں سے کمایا ہوا سارا مال غرباء میں تقسیم کر دیا اوراپنے تمام غلام اور خادمائیں بھی آزاد کر دیں ۔ پھر اپنے گھر میں مقید ہو کر بیٹھ گئی ۔ اس کے بعد وہ شب و روز اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی عبادت میں مصروف رہتی اور اپنے گناہوں پر روتی رہتی اور ان کی معافی مانگتی رہتی ۔رو رو کر رب عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں التجائیں کرتی : ’’اے توبہ کرنے والوں کو محبوب رکھنے والے اور گنہگاروں کو معاف فرمانے والے !مجھ پر رحم فرما، میں کمزور ہوں تیرے عذاب کی سختیوں کو برداشت نہیں کر سکتی ، تو مجھے اپنے عذاب سے بچا لے اور مجھے اپنی زیارت سے مشرف فرما۔‘‘ اس نے اسی حالت میں چالیس سال زندگی بسر کی اورانتقال کر گئی ۔(حکایات الصالحین ص۷۴)
( 18) ایک وزیر کی توبہ
حضرت سَیِّدُنا جعفر بن حرب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ پہلے پہل بہت مالدار شخص تھے اور اسی کے بل بوتے پر بادشاہ کے وزیر بھی بن گئے اور لوگوں پر ظلم وستم ڈھانا شروع کر دیا ۔ ایک دن آپ نے کسی کویہ آیت پڑھتے ہوئے سنا،
اَلَمْ یَاْنِ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْ تَخْشَعَ قُلُوْبُهُمْ لِذِكْرِ اللّٰهِ
ترجمۂ کنزالایمان : کیا ایمان والوں کو ابھی وہ وقت نہ آیا کہ ان کے دل جھک جائیں اللہ کی یاد (کے لئے)۔ (پ۲۷، الحدید۱۶)
یہ سن کر آپ نے ایک چیخ ماری اور کہا، ’’اے میرے رب عَزَّ وَجَلَّ !کیوں نہیں ؟‘‘ آپ بار بار یہی کہتے جاتے اور روتے جاتے ۔ پھر اپنی سواری سے اتر کر اپنے کپڑے اتارے اور دریائے دجلہ میں چھپ گئے ۔ ایک شخص جو آپ کے حالات سے واقف تھا، دریائے دجلہ کے قریب سے گزرا تو آپ کو پانی میں کھڑے ہوئے پایا۔ چنانچہ اس نے آپ کو ایک قمیض اور تہبند بھجوایا ۔ آپ نے ان کپڑوں سے اپنا بدن ڈھانپا اور پانی سے باہر نکل آئے ۔ لوگوں سے ظلماً لیا گیا مال واپس کر دیااور بچ رہنے والا مال صدقہ کر دیا ۔اس کے بعد آپ تحصیل ِ علم اور عبادت میں مشغول ہو گئے ، حتی کہ انتقال کر گئے۔ (کتاب التوابین ، جعفر بن حرب ، ص۱۶۳ )
(19 ) اژدھے سے بچنے والے کی توبہ
حضر ت ذوالنون مصری علیہ الرحمۃ ایک روز نیل کے ساحل کی طرف تشریف لے گئے۔ اس وقت آپ کسی گہری سوچ میں مگن تھے ۔اچانک آپ نے ایک بہت بڑے بچھو کو تیزی کے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع