30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
رات کو حضرت سری علیہ الرحمۃنے خواب میں کسی کہنے والے کو یہ کہتے سنا : ’’اے سری !تم نے شرابی کا ہماری خاطر منہ دھویا ، ہم نے تمہاری خاطر اس کا دل دھو دیا۔‘‘حضرت سری علیہ الرحمۃتہجد کے وقت مسجد میں گئے تو اسی شرابی کو تہجد پڑھتے ہو ئے پایا ۔آپ نے اس سے پوچھا : ’’تم میں یہ انقلاب کیسے آگیا ؟۔‘‘تو وہ بولا : ’’آپ مجھ سے کیوں پوچھتے ہیں جب کہ اللہ نے آپ کو بتا دیا ہے۔‘‘(فیضان سنت بحوالہ روض الفائق، ص ۳۱۷ )
(15 ) گناہوں کی دلدل میں پھنسنے والے نوجوان کی توبہ
ایک بزرگ علیہ الرحمۃفرماتے ہیں کہ ایک بار نصف رات گزر جانے کے بعد میں جنگل کی طرف نکل کھڑا ہوا ۔راستے میں میں نے دیکھا کہ چار آدمی ایک جنازہ اٹھائے جا رہے ہیں ۔میں سمجھا کہ شاید انہوں نے اسے قتل کیا ہے اور لاش ٹھکانے لگانے کے لیے کہیں لے جارہے ہیں ۔جب وہ میرے نزدیک آئے تو میں نے ہمت کر کے ان سے پوچھا : ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّ کاجو حق تم پر ہے اس کو سامنے رکھتے ہوئے میرے سوال کا جواب دو ، کیا تم نے خود اسے قتل کیا ہے یا کسی اور نے اور اب تم اسے ٹھکانے لگانے کے لیے کہاں لے جا رہے ہو ؟۔‘‘انہوں نے جواب دیا : ’’ہم نے نہ تو اسے قتل کیا ہے اور نہ ہی یہ مقتول ہے بلکہ ہم مزدور ہیں اوراس کی ماں نے ہمیں مزدوری دینی ہے ، وہ اس کی قبر کے پاس ہمارا انتظار کر رہی ہے آؤ تم بھی ہمارے ساتھ آ جاؤ۔‘‘ میں تجسس کی وجہ سے ان کے ساتھ ہولیا ۔ہم قبرستا ن میں پہنچے تو دیکھا کہ واقعی ایک تازہ کھدی ہوئی قبر کے پاس ایک بوڑھی خاتون کھڑی تھیں ۔
میں ان کے قریب گیا اور پوچھا : ’’اماں جان ! آپ اپنے بیٹے کے جنازے کو دن کے وقت یہاں کیوں نہیں لائیں تاکہ اور لوگ بھی اس کے کفن دفن میں شریک ہو جاتے؟‘‘انہوں نے کہا : ’’یہ جنازہ میرے لخت جگر کا ہے ، میرا یہ بیٹا بڑا شرابی اور گناہ گار تھا ، ہر وقت شراب کے نشے اور گناہ کی دلدل میں غرق رہتا تھا۔جب اس کی موت کا وقت قریب آیا تو اس نے مجھے بلا کر تین چیزوں کی وصیت کی
(۱)جب میں مر جاؤں تو میری گردن میں رسی ڈال کر گھر کے ارد گرد گھسیٹنا اور لوگوں کو کہنا کہ گنہگاروں اور نافرمانوں کی یہی سزا ہوتی ہے ۔
(۲)مجھے رات کے وقت دفن کرنا کیونکہ دن کے وقت جو بھی میرے جنازے کو دیکھے گا مجھے لعن طعن کرے گا ۔
(۳)جب مجھے قبر میں رکھنے لگو تو میرے ساتھ اپنا ایک سفید بال بھی رکھ دیناکیونکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ سفید بالوں سے حیا فرماتا ہے، ہو سکتا ہے کہ وہ مجھے اس کی وجہ سے عذاب سے بچا لے ۔‘‘
جب یہ فوت ہوگیاتو میں نے اس کی پہلی وصیت کے مطابق جب میں نے اس کے گلے میں رسی ڈالی اور اسے گھسیٹنے لگی تو ہاتف غیبی سے آواز آئی : ’’اے بڑھیا ! اسے یوں مت گھسیٹو، اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اسے اپنے گناہوں پر شرمندگی (یعنی توبہ)کی وجہ سے معاف فرمادیا ہے ۔‘‘ جب میں نے اس بوڑھی عورت کی یہ بات سنی تو میں اس جنازے کے پاس گیا ، اس پر نماز جنازہ پڑھی پھر اسے قبر میں دفن کر دیا ۔میں نے اس کی بوڑھی ماں کے سر کا ایک سفید بال بھی اس کے ساتھ قبر میں رکھ دیا ۔اس کام سے فارغ ہو کر جب ہم اس کی قبر کو بند کرنے لگے تو اس کے جسم میں حرکت پیدا ہوئی اور اس نے اپنا ہاتھ کفن سے باہر نکال کر بلند کیا اور آنکھیں کھول دیں ۔میں یہ دیکھ کر گھبرا گیا لیکن اس نے ہمیں مخاطب کر کے مسکراتے ہوئے کہا : ’’اے شیخ!ہمارا رب عَزَّ وَجَلَّ بڑا غفور و رحیم ہے، وہ احسان کرنے والوں کو بھی بخش دیتا ہے اور گنہگاروں کو بھی معاف فرمادیتا ہے ۔‘‘ یہ کہہ کر اس نے ہمیشہ کے لیے آنکھیں بند کر لیں ۔ہم سب نے مل کر اس کی قبر کو بند کر دیا اور اس پر مٹی درست کر کے واپس آ گئے ۔‘‘(حکایات الصالحین ص۷۸)
حضرت سَیِّدُنا صالح مری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ ایک محفل میں وعظ فرما رہے تھے ۔ انہوں نے اپنے سامنے بیٹھنے والے ایک نوجوان کو کہا، ’’کوئی آیت پڑھو۔‘‘ تو اس نے یہ آیت پڑھ دی،
وَ اَنْذِرْهُمْ یَوْمَ الْاٰزِفَةِ اِذِ الْقُلُوْبُ لَدَى الْحَنَاجِرِ كٰظِمِیْنَ۬ؕ-مَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ حَمِیْمٍ وَّ لَا شَفِیْعٍ یُّطَاعُؕ(۱۸)
ترجمۂ کنزالایمان : اورانہیں ڈراؤ اس نزدیک آنے والی آفت کے دن سے جب دل گلوں کے پاس آجائیں گے غم میں بھرے ۔ اور ظالموں کا نہ کوئی دوست نہ کوئی سفارشی جس کا کہا مانا جائے ۔‘‘
( پ۲۴، المؤمن ۱۸)
یہ آیت سن کر آپ نے فرمایا، ’’کوئی کیسے ظالم کا دوست یا مدد گار ہوسکتا ہے؟ کیونکہ وہ تواللہ تَعَالٰی کی گرفت میں ہوگا۔بے شک تم سرکشی کرنے والے گنہگاروں کو دیکھو گے کہ انہیں زنجیروں میں جکڑ کر جہنم کی طرف لے جایا جارہا ہوگا اور وہ برہنہ پاؤں ہوں گے ، ان کے جسم بوجھل ، چہرے سیاہ اورآنکھیں خوف سے نیلی ہوں گی ۔‘‘وہ پکار کر کہیں گے، ’’ہم ہلاک ہو گئے ! ہم برباد ہوگئے! ہمیں کیوں جکڑا گیاہے، ہمیں کہاں لے جایا جارہا ہے اور ہمارے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا؟‘‘فرشتے انہیں آگ کے کوڑوں سے ہانکیں گے ، کبھی وہ منہ کے بل گریں گے اور کبھی انہیں گھسیٹ کر لے جایا جائے گا ۔ جب رو رو کر ان کے آنسو خشک ہوجائیں گے توخون کے آنسو رونا شروع کر دیں گے ، ان کے دل دہل جائیں گے اور حیران وپریشان ہوں گے ۔ اگر کوئی انہیں دیکھ لے تو ان پر نگاہ نہ جما سکے گا ، نہ دل کو سنبھال سکے گا اوریہ ہولناک منظر دیکھنے والے کے بدن پر لرزہ طاری ہوجائے گا ۔‘‘
یہ کہنے کے بعد حضرت سَیِّدُنا صالح مری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ بہت روئے اور آہ بھر کر کہنے لگے، ’’افسوس! کیسا خوفناک منظر ہوگا۔‘‘ یہ کہہ کر پھر رونے لگے اور ان کو روتا دیکھ کر لوگ بھی رونے لگے ۔ اتنے میں ایک نوجوان کھڑا ہو گیا اور کہنے لگا، ’’حضور!کیا یہ سارا منظر بروزِ قیامت ہوگا؟‘‘ آپ نے جواب دیا ، ’’ہاں ! اور یہ منظر زیادہ طویل نہیں ہوگا کیونکہ جب انہیں جہنم میں ڈال دیا جائے گا تو ان کی آوازیں آنا بند ہوجائیں گی ۔‘‘یہ سن کر نوجوان نے ایک چیخ ماری اور کہا، ’’ افسوس ! میں نے اپنی زندگی غفلت میں گزار دی، افسوس! میں کوتاہیوں کا شکار رہا، افسوس ! میں اپنے پرورد گار عَزَّ وَجَلَّ کی اطاعت میں سستی کرتا رہا، آہ! میں نے اپنی زندگی ضائع کر دی ۔‘‘ اور رونے لگا ۔کچھ دیر بعد وہ کہنے لگا، ’’اے میرے رب عَزَّ وَجَلَّ ! میں اپنے گناہوں سے توبہ کرنے کے لئے تیری بارگاہ میں حاضر ہوں ، مجھے تیرے سوا کسی سے غرض نہیں ، مجھ میں جو برائیاں ہیں انہیں معاف فرما کر مجھے قبول کر لے، میرے گناہ معاف کردے ، مجھ سمیت تمام حاضرین پر اپنا کرم وفضل فرما اور ہمیں اپنی سخاوت سے مالا مال کردے ، یاارحم الراحمین ! میں نے گناہوں کی گٹھڑی تیرے سامنے رکھ دی ہے اور صدقِ دل سے تیرے سامنے حاضر ہوں ، اگر تو مجھے قبول نہیں کرے گا تو میں ہلاک ہوجاؤں گا۔‘‘ اتنا کہہ کر وہ نوجوان غش کھا کر گرا اور بے ہوش ہو گیا ۔ اور چند دن بسترِ علالت پر گزار کر انتقال کر گیا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع