30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ایک رسی لی اور اس کی گردن میں ڈالنے کا قصد کیا تو کمرے کے ایک کونے سے ندا آئی کہ ، ’’اس کے گلے میں رسی مت ڈالنا ، کیا اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے اولیاء سے ایسا سلوک کیا جاتا ہے ؟‘‘ یہ آواز سن کر میرے بدن پر کپکپی طاری ہوگئی ۔ یہ سننے کے بعد میں نے اس کے پاؤں کو بوسہ دیا اور اس کے کفن ودفن کاانتظام کرنے چلاگیا ۔
اس کی تدفین سے فارغ ہونے کے بعد میں اس کا قرآن پاک اور انگوٹھی لے کر خلیفہ کے محل کی جانب روانہ ہو گیا۔وہاں جا کر میں نے اس نوجوان کا واقعہ ایک کاغذ پر لکھا اور محل کے داروغہ سے اس سلسلے میں بات کرنا چاہی تو اس نے مجھے جھڑک دیا اور اندر جانے کی اجازت دینے کی بجائے اپنے پاس بٹھا لیا ۔ آخرِ کار !خلیفہ نے مجھے اپنے دربار میں طلب کیا اور کہنے لگا ، ’’کیا میں اتنا ظالم ہوں کہ مجھ سے براہ راست بات کرنے کی بجائے رقعے کا سہارا لیا ؟‘‘ میں نے عرض کی، ’’اللہ تَعَالٰی آپ کا اقبال بلند کرے ، میں کسی ظلم کی فریاد لے کر نہیں آیا بلکہ ایک پیغام لے کر حاضر ہوا ہوں ۔‘‘ خلیفہ نے اس پیغام کے بارے میں دریافت کیا تو میں نے وہ قرآن مجید اور انگوٹھی نکال کر اس کے سامنے رکھ دی ۔ خلیفہ نے ان چیزوں کو دیکھتے ہی کہا ، ’’یہ چیزیں تجھے کس نے دی ہیں ؟‘‘ میں نے عرض کی ، ’’ایک گارا بنانے والے مزدور نے …۔‘‘ خلیفہ نے ان الفاظ کو تین بار دہرایا، ’’گارا بنانے والا، گارا بنانے والا، گارا بنانے والا۔…‘‘اور رو پڑا ۔ کافی دیر رونے کے بعد مجھ سے پوچھا ، ’’وہ گارا بنانے والا اب کہاں ہے ؟‘‘میں نے جواب دیا ، ’’وہ مزدور فوت ہو چکا ہے ۔‘‘یہ سن کر خلیفہ بے ہوش ہو کر گر گیا اور عصر تک بے ہوش رہا ۔ میں اس دوران حیران وپریشان وہیں موجود رہا ۔ پھر جب خلیفہ کوکچھ افاقہ ہوا تو مجھ سے دریافت کیا ، ’’اس کی وفات کے وقت تم اس کے پاس تھے ؟‘‘ میں نے اثبات میں سر ہلا دیا تو کہنے لگا، ’’اس نے تجھے کوئی وصیت بھی کی تھی ؟‘‘میں نے اسے نوجوان کی وصیت بتائی اور وہ پیغام بھی دے دیا جو اس نوجوان نے خلیفہ کے لئے چھوڑا تھا ۔
جب خلیفہ نے یہ ساری باتیں سنیں تو مزید غمگین ہو گیا اور اپنے سر سے عمامہ اتار دیا ، اپنے کپڑے چاک کر ڈالے اور کہنے لگا ، ’’اے مجھے نصیحت کرنے والے ! اے میرے زاہد وپارسا! اے میرے شفیق !…‘‘ اس طرح کے بہت سے القابات خلیفہ نے اس مرنے والے نوجوان کو دئیے اور مسلسل آنسو بھی بہاتا رہا ۔ یہ سارا معاملہ دیکھ کر میری حیرانی اور پریشانی میں مزید اضافہ ہوگیا کہ خلیفہ ایک عام سے مزدور کے لئے اس قدر غم زدہ کیوں ہے ؟ جب رات ہوئی تو خلیفہ نے مجھ سے اس کی قبر پر لے جانے کی خواہش ظاہر کی تو میں اس کے ساتھ ہو لیا ۔ خلیفہ چادر میں منہ چھپائے میرے پیچھے پیچھے چلنے لگا۔ جب ہم قبرستان میں پہنچے تو میں نے ایک قبر کی طرف اشار ہ کر کے کہا ، ’’عالی جاہ! یہ اس نوجوان کی قبر ہے ۔‘‘
خلیفہ اس کی قبر سے لپٹ کر رونے لگا ۔ پھر کچھ دیر رونے کے بعد اس کی قبر کے سرہانے کھڑا ہو گیا اورمجھ سے کہنے لگا ، ’’یہ نوجوان میرا بیٹا تھا ، میری آنکھوں کی ٹھنڈک اور میرے جگر کا ٹکڑا تھا ، ایک دن یہ رقص وسُرور کی محفل میں گم تھا کہ مکتب میں کسی بچے نے یہ آیت کریمہ تلاوت کی ،
اَلَمْ یَاْنِ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْ تَخْشَعَ قُلُوْبُهُمْ لِذِكْرِ اللّٰهِ
ترجمۂ کنزالایمان : کیا ایمان والوں کو ابھی وہ وقت نہ آیا کہ ان کے دل جھک جائیں اللہ کی یاد (کے لئے )۔(پ۲۷، الحدید : ۱۶)
جب اس نے یہ آیت سنی تو اللہ تَعَالٰی کے خوف سے تھر تھر کانپنے لگا اور اس کی آنکھوں سے آنسوؤں کی جھڑی لگ گئی اور یہ پکار پکار کر کہنے لگا، ’’کیوں نہیں ؟ کیوں نہیں ؟‘‘ اور یہ کہتے ہوئے محل کے دروازے سے باہر نکل گیا ۔ اس دن سے ہمیں اس کے بارے میں کوئی خبر نہ ملی یہاں تک کہ آج تم نے اس کی وفات کی خبر دی ۔‘‘ (حکایات الصالحین، ص ۶۷)
ایک روزحضرت سیدنا منصوربن عمار علیہ الرحمۃبصرہ کی گلیوں میں سے گزر رہے تھے۔آپ نے ایک جگہ ایک محل نما عمارت دیکھی جس کی دیواریں نقش و نگار سے مزین تھیں اور اس کے اندر خدام و حشم کا ایک ہجوم تھا جوادھر ادھر بھاگ دوڑکر مختلف کاموں کو سر انجام دینے میں مصروف تھا ۔اس میں بے شمار خیمے بھی لگے ہوئے تھے اور محل کے دروازے پردربان بالکل اسی طرح سے بیٹھے تھے جس طرح بادشاہ کے محل کے باہر بیٹھے ہوتے ہیں ۔اس محل نما عمارت کے منقش دیوان خانے میں سونے چاندی کا جڑا ہوا تخت رکھا ہوا تھا ۔آپ علیہ الرحمۃ نے ایک انتہائی خوبصورت نوجوان کو اس پر بیٹھے ہوئے دیکھا جس کے گرد نوکر اور خادم ہاتھ باندھے کسی اشارے کے منتظر تھے ۔
آپ فرماتے ہیں کہ میں نے اس محل نما خوبصورت عمارت میں داخل ہونا چاہاتو دربانوں نے مجھے ڈانٹ دیا اور اندر داخل ہونے سے منع کر دیا۔ میں نے سوچا کہ ’’اس وقت یہ نوجوان دنیا کا بادشاہ بنا بیٹھا ہے لیکن اسے بھی موت تو آنی ہے جب موت آئے گی تو اس کی بناوٹی بادشاہی کا خاتمہ ہو جائے گا جو کچھ اس کے پاس کل تک تھا وہ اگلے دن تک نہیں رہے گا لہذا مجھے ڈرنا نہیں چاہیے اور اسکے پاس جا کر حق بات کی نصیحت کرنی چاہیے شاید اللہ تَعَالٰی اس پراپنی رحمت کے دروازے کھول دے ۔ چنانچہ میں موقع کی تلاش میں رہا جونہی دربان ذرا مشغول ہوئے میں آنکھ بچا کر اندر داخل ہوگیامیں نے دیکھا کہ اس نوجوان نے کسی عورت کو پکارا ۔’’اے نسواں ! ‘‘اس کے بلانے پر ایک کنیز حاضر ہو گئی ۔
مجھے یوں لگا جیسے اچانک دن چڑھ آیا ہو ۔اس کے ساتھ اور بھی بہت سی کنیزیں تھیں جن کے ہاتھوں میں خوشبودار مشروب سے بھرے ہوئے برتن تھے۔ اس مشروب کے ساتھ اس نوجوان کے دوستوں کی خدمت کی گئی ۔مشروب سے لطف اندوز ہونے کے بعد اس کے تمام احباب یکے بعد دیگرے اس کو سلام کر کے رخصت ہونے لگے۔ جب وہ دروازے تک پہنچے توانہوں نے مجھے دیکھ لیا اور مجھے ڈانٹنا شروع کر دیا۔ میں نے ان سے خوف زدہ ہونے کے بجائے پوچھا کہ ’’یہ نوجوان کون ہے ؟‘‘ انہوں نے بتایا : ’’ یہ بادشاہ کا بیٹا ہے ۔‘‘میں یہ سن کر تیزی سے اس نوجوان کی طرف بڑھااور اس کے سامنے جا کر رک گیا ۔جب بادشاہ کے بیٹے نے مجھ جیسے فقیر کو بالکل اپنے سامنے کھڑا پایا تو سخت غصے میں آ گیا اور کہنے لگا : ’’ارے پاگل ! تو کون ہے؟ تجھے کس نے اندر داخل ہونے دیا ؟ اور تو میری اجازت کے بغیر یہاں کیسے آیا ؟‘‘
میں نے کہا : ’’اے شہزادے !ذراٹھہر جائیے اور میری لاعلمی کو اپنے حلم اورمیری خطا کو اپنے کرم سے درگزر کیجئے، میں ایک طبیب ہوں ۔ میرے اتنا کہنے سے اس کا غصہ ٹھنڈا پڑ گیا اورکہنے لگا : ’’ ٹھیک ہے، ذرا ہمیں بھی بتائیے کہ آپ کیسے طبیب ہیں ؟‘‘ میں نے کہا : ’’میں گناہوں کے درد اور نافرمانیوں کے زخموں کا علاج کرتا ہوں ۔‘‘ اس نے کہا : ’’ اپنا علاج بیان کرو۔‘‘میں نے کہا : ’’اے شہزادے !تو اپنے گھر میں آرام سے تخت پر تکیہ لگائے بیٹھا ہے اور لہو ولعب میں مصروف جبکہ تیرے کارندے باہر لوگوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ رہے ہیں ، کیا تجھے اللہ سے خوف نہیں آتا اس کے دردناک عذاب کا تجھے کوئی ڈر نہیں ؟تجھے اس دن کا کوئی لحاظ نہیں جس دن تمام بادشاہوں اور حکمرانوں کوان کی بادشاہیوں اور حکمرانیوں سے معزول کر دیا جائے گااور
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع