30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سے امت ِ رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے قافلے رات میں سفر نہیں کرتے اور گھروں میں عورتیں میرا نام لے کر بچوں کو ڈراتی ہیں ۔‘‘
آپ مسلسل روتے رہے یہاں تک کہ صبح ہوگئی اور آپ نے سچی توبہ کر کے یہ ارادہ کیا کہ اب ساری زندگی کعبۃ اللہ کی مجاوری اور اللہ تَعَالٰی کی عبادت میں گزاروں گا ۔ چنانچہ آپ نے پہلے علمِ حدیث پڑھنا شروع کیا اور تھوڑے ہی عرصے میں ایک صاحبِ فضیلت محدث ہوگئے اور حدیث کا درس دینا بھی شروع کر دیا ۔(اولیائے رجال الحدیث ص۲۰۶ )
(8 ) تیس سال تک سچی توبہ کی دعا کرنے والا
حضرت ِسیدنا ابو اسحاق علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں کہ ’’میں نے تیس سال تک اللہ تَعَالٰی کی بارگاہ میں دعا مانگی کہ اے اللہ رب العزت تو مجھے سچی اور خالص توبہ کی توفیق عطا فرما ۔‘‘تیس برس گزر جانے کے بعد میں اپنے دل میں تعجب کرنے لگا اور بارگاہ ایزدی میں عرض کیا : ’’اے اللہ تو پاک اور بے عیب ہے میں نے تیس برس تک تیری بارگاہ میں ایک حاجت کی التجا کی لیکن تو نے اب تک میری وہ حاجت پوری نہیں کی ۔‘‘
جب میں سو گیا تو خواب میں دیکھا کہ ایک شخص مجھ سے کہہ رہا تھا : ’’تم اپنی تیس سالہ دعا پر تعجب اور حیرت کرتے ہوکیا تمہیں یہ نہیں معلوم کہ تم اللہ سے کتنی بڑی چیز مانگ رہے ہو ؟ تم اس بات کا سوال کر رہے ہو کہ اللہ تَعَالٰی تمہیں اپنا دوست اورمحبوب بنا لے کیا تم نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا یہ فرمان نہیں سنا :
اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ التَّوَّابِیْنَ وَ یُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِیْنَ
ترجمہ کنزالایمان : بے شک اللہ پسند رکھتا ہے بہت تو بہ کرنے والوں کو اور پسند رکھتاہے ستھروں کو۔‘‘(پ ۲، البقرہ : ۲۲۲)
تو کیا تم اس محبت کو معمولی سمجھتے ہو؟‘‘(منہاج العابدین ، الی جنۃ رب العالمین العقبۃ الثانیۃ عقبۃ التو بۃ ، ص ۳۵)
ایک مرتبہ کوئی خراسانی عالم صاحب‘ حضرت قطب الدین اولیاء ابواسحق ابراہیمعلیہ الرحمۃ کے بیان میں شریک تھے۔ پورے مجمع میں آپ کے پُر اثر وعظ سے ایک وجدانی کیفیت طاری تھی ۔اس وقت خراسانی عالم صاحب کے دل میں یہ بات آئی کہ میرا علم شیخ سے کہیں زائد ہے لیکن جو مقبولیت انہیں حاصل ہے وہ مجھے تمام علوم پر دسترس کے باوجود بھی حاصل نہیں ۔‘‘
سیدناابواسحق ابراہیمعلیہ الرحمۃنے اسی وقت اپنے نورِ باطن سے اس عالم کی نیت کو بھانپ کر اجتماع کو مخاطب کر کے فرمایا : ’’اس قندیل کی طرف دیکھو ، آج قندیل کا تیل اور پانی آپس میں باتیں کر رہے ہیں ۔پانی کا کہنا ہے کہ خدا عَزَّ وَجَلَّ نے مجھے ہر شے پر فوقیت عطا کی ہے کیونکہ اگر میرا وجود نہ ہوتا تو لوگ شدید پیاس سے مر جاتے اور یہ مرتبہ تجھے حاصل نہیں ، اس کے باوجود تو میرے اوپر آجاتا ہے ۔اس کے جواب میں تیل نے کہا کہ میں منکسر المزاج ہوں اور تجھ میں غرور و تکبر ہے کیونکہ میرا بیج پہلے زمین میں ڈالا گیاپھر پودا نکلنے کے بعد مجھے کاٹ کر کوہلو میں پِیلا گیا، اس کے بعد میں نے خود کو جلا جلا کر دنیا کو روشنی عطا کی اور جس قدر اذیتیں مجھے پہنچائی گئیں میں نے ان سب کو نظر انداز کر دیا ۔‘‘اس کے بعد آپ نے وعظ ختم کر دیا اور وہ خراسانی عالم آپ کے مقصد کو سمجھ کرآپ کے قدموں پر گر پڑے اور تائب ہو گئے۔(تذکر ۃ الاولیاء، باب نودم ذکر شیخ ابواسحاق شہر یار ، ج ۱۲ ، ص۲۴۶)
ایک نیک شخص کے گھر کی دیوار اچانک گر گئی ۔ اسے بڑی پریشانی لاحق ہوئی اور وہ اسے دوبارہ بنوانے کے لئے کسی مزدور کی تلاش میں گھر سے نکلا اور چوراہے پر جاپہنچا ۔ وہاں اس نے مختلف مزدوروں کو دیکھا جو کام کے انتظار میں بیٹھے تھے ۔ان میں ایک نوجوان بھی تھا جو سب سے الگ تھلگ کھڑا تھا ، اس کے ایک ہاتھ میں تھیلا اور دوسرے ہاتھ میں تیشہ تھا ۔
اس شخص کا کہنا ہے کہ ،
’’میں نے اس نوجوان سے پوچھا ، ’’کیا تم مزدوری کرو گے؟‘‘نوجوان نے جواب دیا، ’’ہاں !‘‘ میں نے کہا ، ’’گارے کا کام کرنا ہوگا۔‘‘ نوجوان کہنے لگا، ’’ٹھیک ہے! لیکن میری تین شرطیں ہیں اگر تمہیں منظور ہوں تو میں کام کرنے کے لئے تیار ہوں ، پہلی شرط یہ ہے کہ تم میری مزدوری پوری ادا کرو گے ، دوسری شرط یہ ہے کہ مجھ سے میری طاقت اور صحت کے مطابق کام لو گے اور تیسری شرط یہ ہے کہ نماز کے وقت مجھے نماز ادا کرنے سے نہیں روکو گے ۔‘‘میں نے یہ تینوں شرطیں قبول کر لیں اور اسے ساتھ لے کر گھر آگیا، جہاں میں نے اسے کام بتایا اور کسی ضروری کام سے باہر چلا گیا ۔جب میں شام کے وقت واپس آیا تو دیکھا کہ اس نے عام مزدوروں سے دوگنا کام کیا تھا ۔ میں نے بخوشی اس کی اجرت ادا کی اور وہ چلا گیا ۔
دوسرے دن میں اس نوجوان کی تلاش میں دوبارہ اس چوراہے پر گیا لیکن وہ مجھے نظر نہیں آیا ۔ میں نے دوسرے مزدوروں سے اس کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے بتایا کہ وہ ہفتے میں صرف ایک دن مزدوری کرتا ہے ۔ یہ سن کر میں سمجھ گیا کہ وہ عام مزدور نہیں بلکہ کوئی بڑا آدمی ہے ۔ میں نے ان سے اس کا پتا معلوم کیا اور اس جگہ پہنچا تو دیکھا کہ وہ نوجوان زمین پر لیٹا ہواتھا اور اسے سخت بخار تھا ۔ میں نے اس سے کہا ، ’’میرے بھائی!تو یہاں اجنبی ہے ، تنہا ہے اور پھر بیمار بھی ہے ، اگر پسند کرو تو میرے ساتھ میرے گھر چلو اور مجھے اپنی خدمت کا موقع دو ۔‘‘ اس نے انکار کر دیا لیکن میرے مسلسل اصرار پر مان گیا لیکن ایک شرط رکھی کہ وہ مجھ سے کھانے کی کوئی شے نہیں لے گا، میں نے اس کی یہ شرط منظور کر لی اور اسے اپنے گھر لے آیا ۔
وہ تین دن میرے گھر قیام پذیر رہا لیکن اس نے نہ تو کسی چیز کا مطالبہ کیا اور نہ ہی کوئی چیز لے کرکھائی ۔ چوتھے روز اس کے بخار میں شدت آگئی تو اس نے مجھے اپنے پاس بلایا اور کہنے لگا، ’’میرے بھائی !لگتا ہے کہ اب میراآخری وقت قریب آگیا ہے لہذا جب میں مر جاؤں تو میری اس وصیت پر عمل کرنا کہ، ’’جب میری روح جسم سے نکل جائے تو میرے گلے میں رسی ڈالنا اور گھسیٹتے ہوئے باہر لے جانا اور اپنے گھر کے اردگرد چکر لگوانا اور یہ صدا دینا کہ لوگو! دیکھ لو اپنے رب تعالیٰ کی نافرمانی کرنے والوں کا یہ حشر ہوتا ہے ۔‘‘شاید اس طرح میرا رب عَزَّ وَجَلَّ مجھے معاف کر دے ۔ جب تم مجھے غسل دے چکو تو مجھے انہی کپڑوں میں دفن کر دینا پھر بغداد میں خلیفہ ہارون رشید کے پاس جانا اور یہ قرآن مجید اور انگوٹھی انہیں دینا اور میرا یہ پیغام بھی دینا کہ، ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے ڈرو! کہیں ایسا نہ ہو کہ غفلت اور نشے کی حالت میں موت آجائے اور بعد میں پچھتانا پڑے، لیکن پھر اس سے کچھ حاصل نہ ہوگا ۔‘‘
وہ نوجوان مجھے یہ وصیت کرنے کے بعد انتقال کر گیا ۔ میں اس کی موت کے بعد کافی دیر تک آنسو بہاتا رہا اور غمزدہ رہا ۔ پھر (نہ چاہتے ہوئے بھی )میں نے اس کی وصیت پوری کرنے کے لئے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع