30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تھی ۔ کہنے لگی ’’اے ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ !میں نے گناہ کیا ہے کیا توبہ ہو سکتی ہے ۔‘‘میں نے پوچھا : ’’کیا گناہ کیا ہے؟‘‘ کہنے لگی : ’’میں نے زنا کروایا اور حرامی بچے کو قتل کر ڈالا ۔‘‘یہ سن کر میں نے کہا کہ : ’’تو خود بھی ہلاک ہو گئی اور ایک جان کو بھی ہلاک کر دیا ، تیرے لیے کوئی توبہ نہیں ۔‘‘ یہ سن کر ا س نے ایک چیخ ماری اور بے ہوش ہو گئی ۔
میں چل پڑا راستہ میں خیال آیا کہ سرکار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے ہوتے ہوئے اس طرح مسئلہ بتانااچھا نہیں ۔میں نے صبح ہی صبح سرکار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بارگاہ میں پہنچ کر رات والا واقعہ گوش گزار کیا آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فوراً ’’اِنَّا لِلّٰہِ‘‘ پڑھی اور فرمایا : ’’قسم بخدا! اے ابو ہریرہ تو خود بھی ہلاک ہو گیا اور ایک نفس کو بھی ہلاک کر ڈالا ۔ شرعی حکم بتاتے ہوئے یہ آیت تیرے سامنے نہ تھی :
وَ الَّذِیْنَ لَا یَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ وَ لَا یَقْتُلُوْنَ النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ لَا یَزْنُوْنَۚ
ترجمہ کنزالایمان : اور وہ جو اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہیں پوجتے اور اس جان کو جس کی اللہ نے حرمت رکھی ناحق نہیں مارتے اور بدکاری نہیں کرتے۔‘‘(پ۱۹، الفرقان : ۶۸)
فَاُولٰٓىٕكَ یُبَدِّلُ اللّٰهُ سَیِّاٰتِهِمْ حَسَنٰتٍؕ-وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا(۷۰)
ترجمہ کنزالایمان : تو ایسوں کی برائیوں کو اللہ بھلائیوں سے بدل دے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘(پ ۱۹ ، الفرقان : ۷۰)
یہ سن کر میں آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بارگاہ سے نکل کرمدینہ شریف کی گلیوں میں دوڑ دوڑ کر کہتا تھا کہ ہے کوئی جو مجھے فلاں فلاں اوصاف والی عورت کے بارے میں بتائے ۔ حتی کہ رات کے وقت مجھے وہ عورت اسی جگہ ملی ۔میں نے اسے بتایاکہ رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا ہے کہ ’’اس کی تو بہ قبول ہو سکتی ہے ‘‘اب اس نے خوشی سے چیخ ماری اور کہنے لگی : ’’میرا ایک باغیچہ ہے جسے میں اپنے گناہ کے کفّارہ کے طور پر مساکین کے لیے صدقہ کرتی ہوں ۔‘‘(تنبیہ الغافلین، باب آخر من التو بۃ ، ص۶۰۔۶۱)
حضرت سیدنا عمر فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ ایک بار مدینہ منورہ کی ایک گلی سے گزر رہے تھے کہ ایک نوجوان سامنے آیا۔اس نے کپڑوں کے نیچے ایک بوتل چھپا رکھی تھی۔ حضرت سیدنا عمر فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے پوچھا : ’’اے نوجوان!یہ کپڑوں کے نیچے کیا اٹھا رکھا ہے ؟‘‘ اس بوتل میں شراب تھی ، نوجوان نے اسے شراب کہنے میں شرمندگی محسوس کی ۔اس نے دل میں دعا کی ’’یا اللہ عَزَّ وَجَلَّ !مجھے حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کے سامنے شرمندہ اور رسوا نہ فرمانا، ان کے ہاں میری پردہ پوشی فرمانا ، میں کبھی شراب نہیں پیوں گا ۔‘‘اس کے بعد نوجوان نے عرض کیا : ’’اے امیر المؤمنین !میں سرکہ(کی بوتل )اٹھائے ہوئے ہوں ۔‘‘ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا : ’’مجھے دکھاؤ!‘‘جب اس نے وہ بوتل آپ کے سامنے کی اور حضرت سیدنا عمر فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے اسے دیکھا ‘تو وہ سرکہ تھا ۔(مکاشفۃ القلوب ، الباب الثامن فی التو بۃ ، ص ۲۷ ۔۲۸)
حضر ت مالک بن دینار علیہ الرحمۃ دمشق میں سکونت پذیر تھے اور حضرت امیر معاویہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کی تیار کردہ مسجد میں اعتکاف کیا کرتے تھے ۔ایک مرتبہ ان کے دل میں خیال آیا کہ کوئی ایسی صورت پیدا ہو جائے کہ مجھے اس مسجد کا متولی بنا دیا جائے ۔چنانچہ آپ نے اعتکاف میں اضافہ کردیا اور اتنی کثرت سے نمازیں پڑھیں کہ ہر شخص آپ کو ہمہ وقت نماز میں مشغول دیکھتا ۔لیکن کسی نے آپ کی طرف توجہ نہیں کی ۔ ایک سال اسی طرح گزر گیا۔ ایک مرتبہ آپ مسجد سے باہر آئے تو ندائے غیبی آئی : ’’اے مالک !تجھے اب توبہ کرنی چاہیے ۔‘‘
یہ سن کر آپ کو ایک سال تک اپنی خود غرضانہ عبادت پر شدید رنج و شرمندگی ہوئی اور آپ اپنے قلب کو ریا سے خالی کر کے خلوصِ نیت کے ساتھ ساری رات عبادت میں مشغول رہے ۔ صبح کے وقت مسجد کے دروازے پر لوگوں کاایک مجمع موجود تھا، اور لوگ آپس میں کہہ رہے تھے کہ’’ مسجد کا انتظام ٹھیک نہیں ہے لہذا اسی شخص کو متولی مسجد بنا دیا جائے اور تمام انتظامی امور اس کے سپرد کر دیے جائیں ۔‘‘سارا مجمع اس بات پر متفق ہو کر آپ کے پاس پہنچا اور آپ کے نماز سے فارغ ہونے کے بعدانہوں نے آپ سے عرض کی کہ’’ ہم باہمی طور پر کئے گئے متفقہ فیصلے سے آپ کو مسجد کا متولی بنانا چاہتے ہیں ۔‘‘آپ نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں عرض کی : ’’اے اللہ !میں ایک سال تک ریا کارانہ عبادت میں اس لیے مشغول رہا کہ مجھے مسجد کی تولیت حاصل ہو جائے مگر ایسا نہ ہوا اب جبکہ میں صدق دل سے تیری عبادت میں مشغول ہوا تو تیرے حکم سے تمام لوگ مجھے متولی بنانے آ پہنچے اور میرے اوپر یہ بار ڈالنا چاہتے ہیں ، لیکن میں تیر ی عظمت کی قسم کھاتا ہوں کہ میں نہ تو اب تولیت قبول کروں گا اور نہ مسجد سے باہر نکلوں گا ۔‘‘یہ کہہ کر پھر عبادت میں مشغول ہو گئے ۔(تذکر ۃ الاولیاء، باب چہارم، ذکر مالک دینار رحمۃ اللہ ، ج ۱ ، ص ۴۸ ، ۴۹)
حضرت سَیِّدُنا فضیل بن عیاض علیہ الرحمۃ بہت نامور محدث اور مشہور اولیائے کرام میں سے ہیں ۔ یہ پہلے زبردست ڈاکو تھے ۔ ایک مرتبہ ڈاکہ ڈالنے کی غرض سے کسی مکان کی دیوار پر چڑھ رہے تھے کہ اتفاقاً اس وقت مالک مکان قرآن مجید کی تلاوت میں مشغول تھا ۔ اس نے یہ آیت پڑھی ،
اَلَمْ یَاْنِ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْ تَخْشَعَ قُلُوْبُهُمْ لِذِكْرِ اللّٰهِ
ترجمۂ کنزالایمان : کیاایمان والوں کو ابھی وہ وقت نہ آیا کہ ان کے دل جھک جائیں اللہ کی یاد (کے لئے )۔(پ۲۷، الحدید : ۱۶)
جونہی یہ آیت آپ کی سماعت سے ٹکرائی ، گویا تاثیرِ ربّانی کا تیر بن کر دل میں پیوست ہوگئی اور اس کا اتنا اثر ہوا کہ آپ خوفِ خدا عَزَّ وَجَلَّ سے کانپنے لگے اور بے اختیار آپ کے منہ سے نکلا ، ’’کیوں نہیں میرے پروردگار عَزَّ وَجَلَّ ! اب اس کا وقت آگیا ہے ۔‘‘
چنانچہ آپ روتے ہوئے دیوار سے اتر پڑے اور رات کو ایک سنسان اور بے آباد کھنڈر نما مکان میں جاکر بیٹھ گئے ۔ تھوڑی دیر بعد وہاں ایک قافلہ پہنچا تو شرکائے قافلہ آپس میں کہنے لگے کہ، ’’رات کو سفر مت کرو ، یہاں رک جاؤ کہ فضیل بن عیاض ڈاکو اسی اطراف میں رہتا ہے ۔‘‘ آپ نے قافلے والوں کی باتیں سنیں تو اور زیادہ رونے لگے کہ ، ’’افسوس ! میں کتنا گناہ گار ہوں کہ میرے خوف
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع