30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
عمل کریں اور باکردار مسلمان بننے کے لئے مکتبۃ المدینہ کی کسی بھی شاخ سے مدنی انعامات کا کارڈ حاصل کریں اورروزانہ فکرمدینہ یعنی اپنے محاسبے کے ذریعے کارڈ پر کر کے ہر مدنی یعنی قمری ماہ کے ابتدائی دس دن کے اندر اندر اپنے یہاں کے مدنی انعامات کے ذمہ دار کو جمع کروانے کا معمول بنا لیں ۔اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ! ہماری زندگی میں حیرت انگیز طور پر مدنی انقلاب برپا ہوگا ۔
پیارے اسلامی بھائیو! دعوتِ اسلامی کے سنتوں کی تربیت کے لئے عاشقان ِ رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے بے شمار مدنی قافلے ۱۲ماہ ، ۳۰دن ، ۱۲دن اور ۳دن کے لئے شہر بہ شہر گاؤں بہ گاؤں سفر کرتے رہتے ہیں ، آپ بھی راہِ خدا عَزَّ وَجَلَّ میں سفر کرکے اپنی آخرت کے لئے نیکیوں کا ذخیرہ اکٹھا کیجئے ۔ اپنی روزمرہ کی دنیاوی مصروفیات ترک کرکے اپنے گھر والوں اور دوستوں کی صحبت چھوڑ کر جب ہم ان مدنی قافلوں میں سفر کریں گے تو سفر کے دوران ہمیں اپنے طرزِزندگی پر دیانت دارانہ غوروفکر کا موقع میسر آئے گا ، اپنی آخرت کو بہتر سے بہتر بنانے کی خواہش دل میں پیدا ہوگی، جس کے نتیجے میں اب تک کئے جانے والے گناہوں کے ارتکاب پر ندامت محسوس ہوگی ، ان گناہوں کی ملنے والی سزاؤں کا تصور کر کے رونگٹے کھڑے ہوجائیں گے ، دوسری طرف اپنی ناتوانی وبے کسی کا احساس دامن گیر ہوگااوراگر دل زندہ ہوا توخوفِ خدا عَزَّ وَجَلَّ کے سبب آنکھوں سے بے اختیار آنسوچھلک کررخساروں پر بہنے لگیں گے۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!ان مدنی قافلوں میں مسلسل سفر کرنے کے نتیجے میں فحش کلامی اور فضول گوئی کی جگہ زبان سے درود ِ پاک جاری ہوجائے گا ، یہ تلاوت قرآن ، حمد ِ الٰہی اور نعت ِرسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی عادی بن جائے گی ، دنیا کی محبت سے ڈوبا ہوا دل آخرت کی بہتری کے لئے بے چین ہوجائے گا ۔ اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ
اس کے علاوہ اپنے اپنے شہروں میں ہونے والے دعوت ِ اسلامی کے ہفتہ وار سنتوں بھرے اجتماع میں پابندیٔ وقت کے ساتھ شرکت فرما کر خوب خوب سنتوں کی بہاریں لُوٹیں ۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!
بطورِ ترغیب توبہ کرنے والوں کے چند منتخب واقعات ملاحظہ ہوں کہ کس طرح رحمت ِ الہٰی عَزَّ وَجَلَّ نے تائبین (یعنی توبہ کرنے والوں )کو اپنی آغوش میں لے لیا ۔
ایک حبشی نے سرکارمدینہ ، سُرور قلب وسینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بارگاہ میں عرض کی ، ’’یارسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ !میرے گناہ بے شمار ہیں ، کیا میری توبہ بارگاہِ الٰہی عَزَّ وَجَلَّ میں قبول ہو سکتی ہے ؟‘‘ آپ نے ارشاد فرمایا ، ’’کیوں نہیں ۔‘‘اس نے عرض کی ، ’’کیا وہ مجھے گناہ کرتے ہوئے دیکھتا بھی رہا ہے ؟‘‘ ارشاد فرمایا ، ’’ہاں ! وہ سب کچھ دیکھتا رہا ہے ۔‘‘یہ سن کر حبشی نے ایک چیخ ماری اور زمین پر گرتے ہی دم توڑگیا ۔(کیمیائے سعادت، رکن چھار م منحیات ، اصل ششم مقام دوم درمراقبت ، ج ۲ ، ص۸۸۶ )
حضرت سیدنا عمران بن حصین رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ ایک عورت اللہ کے رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خدمت میں حاضر ہوئی ، اسے زنا کا حمل تھا ۔وہ عرض کرنے لگی : ’’یارسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ !میں وہ کام (یعنی زنا)کر بیٹھی ہوں جس پر حد واجب ہوتی ہے ، آپ مجھ پر حد قائم فرما دیں ۔‘‘رسو ل اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اس کے ولی کو بلا کر ارشاد فرمایا : ’’اس کے ساتھ اچھا سلوک کرو اور جب وضع حمل ہو جائے تو اسے میرے پاس لے آنا ۔‘‘
پھر ایساہی ہوا (یعنی وضع حمل کے بعد ولی اسے لے کر حاضر خدمت ہو گیا )تو رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے حکم دیا کہ : ’’اسے اس کے کپڑوں کے ساتھ باندھ د یاجائے۔‘‘پھراسے رجم کر دیا گیا ۔پھر سرور دو عالم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اس پر نماز جنازہ پڑھی تو حضرت سیدنا عمر فاروقرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ عرض گزار ہوئے : ’’یا رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ !آپ نے اس پر نماز جنازہ پڑھ دی حالانکہ اس نے زنا کا ارتکاب کیا تھا ؟‘‘اس پر حضور انور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : ’’یقینا اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر اس کی یہ توبہ اہل مدینہ کے سترافراد پر تقسیم کر دی جائے تو انہیں کافی ہو جائے (یعنی ان کی مغفرت ہو جائے)اور کیا تم اس سے افضل کوئی عمل پاتے ہو کہ اس نے اپنی جان خود اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لیے پیش کر دی۔‘‘
(صحیح مسلم ، کتاب الحدو د ، باب من اعترف علی نفسہ بالزنی ، رقم ۱۶۹۶ ، ص ۹۳۳)
حضرت عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ ایک دن مضافات ِکوفہ سے گزر رہے تھے ۔ان کا گزر فاسقین کے ایک گروہ پر ہوا، جو شراب پی رہے تھے ۔زاذان نامی ایک گوّیا ڈھول پر ہاتھ مار مار کر انتہائی خوبصورت آواز میں گا رہا تھا ۔آپرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے سن کر کہا : ’’کتنی خوبصورت آواز ہے کاش!کہ یہ قرآن کریم کی تلاوت میں استعمال ہوتی ۔‘‘اورسر پر چادر ڈال کر وہاں سے روانہ ہوگئے۔زاذان نے جب آپکو دیکھا تو لوگوں سے پوچھا : ’’یہ کون ہیں ؟‘‘لوگوں نے بتایا : ’’ حضورنبی رحمت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے صحابی حضرت عبد اللہ بن مسعودرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ ۔‘‘اس نے پوچھا : ’’انہوں نے کیا کہا ۔‘‘بتایا گیا کہ انہوں نے کہا ہے کہ : ’’کتنی میٹھی آواز ہے، کاش کہ قرأت قرآن کے لیے ہوتی ۔‘‘یہ بات سنتے ہی اس کے دل پر رعب سا چھا گیا ۔اپنے بربط کو زمین پر پٹخ کر توڑ دیا ۔کھڑا ہوا اور جلدی سے انہیں جا لیا۔ اپنی گردن میں رومال ڈالا اور حضرت ابن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کے سامنے رونے لگ گیا ۔
حضرت عبد اللہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے اسے گلے سے لگایا اور دونوں رونا شروع ہو گئے اور آپرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا : ’’میں ایسے شخص کو کیوں نہ محبوب سمجھوں جسے اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے محبوب بنا لیا ہو ۔‘‘سیدنا زاذان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے گناہوں سے توبہ کی اور حضرت عبد اللہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کی صحبت اختیار کر لی۔ قران کریم اور دیگرعلوم سیکھے ۔حتی کہ علم میں امام بن گئے ۔حضرت ابن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کی کئی روایات حضرت زاذان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے۔‘‘(تنبیہ الغافلین ، باب آخرمن التو بۃ ، ص ۶۳)
(4 ) حرامی بچے کو مارنے والی عورت کی توبہ
حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ ایک رات میں سرکار صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں نماز عشاء پڑھ کر جا رہا تھا کہ راستہ میں نقاب اوڑھے ایک عورت کھڑی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع