30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سب سے پہلا کام یہ کرے کہ کسی طرح گناہوں کی معرفت حاصل کرے تاکہ مستقبل میں کسی قسم کے گناہ کے ارتکاب سے بچ سکے ۔پھر ان گناہوں سے مکمل پرہیز کرے اور ہر اس کام سے بچے جو گناہ کی طرف لے جانے والا ہو ۔ اس کے علاوہ کثرت سے نیکیاں کرنے میں مشغول ہوجائے کہ نیکیوں کے نور سے گناہوں کی تاریکی جاتی رہتی ہے ۔ اللہ تَعَالٰی نے ارشاد فرمایا :
اِنَّ الْحَسَنٰتِ یُذْهِبْنَ السَّیِّاٰتِؕ
ِ ترجمہ کنزالایمان : بے شک نیکیاں برائیوں کو مٹا دیتی ہیں ۔(پ۱۲، ھود : ۱۱۴)
مدنی آقا صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے بھی اسی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا : ’’گناہ کے پیچھے نیکی لاؤ وہ اس کو مٹا دے گی ۔‘‘
(المسند للامام احمدبن حنبل ، حدیث ابی ذر الغفاری ، رقم ۲۱۴۶۰ ، ج ۸، ص ۹۲)
حضرت سیدنا عقبہ بن عامررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : ’’اس آدمی کی مثال جو پہلے برائیوں میں مشغول تھاپھر نیک اعمال کرنے لگا ، اس شخص کی طرح ہے کہ جس کے بدن پر تنگ زِرّہ ہو جو اس کی گردن گھونٹ رہی ہو ۔پھر اس نے ایک نیک عمل کیا تو اس زِرّہ کا ایک حلقہ کھل گیا ۔پھر دوسرا نیک کام کیا تو دوسرا حلقہ کھل گیا (اور پھر نیک عمل کرتا چلا گیا)حتی کہ وہ تنگ زرہ کھل کر زمین پر آ گری ۔‘‘(المعجم الکبیر ، رقم ۷۸۳ ، ج ۱۷ ، ص ۲۸۴)
اگر دل دوبارہ گناہوں کی طرف مائل ہوتو؟
پیارے اسلامی بھائیو! توبہ کے بعدگناہوں کی طرف میلان ہونا یقینا بہت بڑی آزمائش ہے ۔ انسان کو چاہئیے کہ اس میلان پر قابو پانے کے لئے اپنے گناہوں کو پیش ِ نظر رکھے اوردل میں ندامت کی آگ کو جلائے رکھے ، اس کی تپش نفس کی خواہشات کا قلع قمع کردے گی ، اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ ۔اس سلسلے میں اکابرین کا طرزِ عمل ملاحظہ ہو ، …
حضرت سیدنا بایزید بسطامی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ ایک رات اپنے گھر کی چھت پر پہنچے اور دیوار کو تھام کر پوری رات خاموش کھڑے رہے جس کی وجہ سے آپ کے پیشاب میں خون آنے لگا ۔ جب لوگوں نے اس کی وجہ پوچھی تو ارشاد فرمایا ، ’’ دوچیزوں کی وجہ سے ، ایک یہ کہ آج میں خدا عَزَّ وَجَلَّ کی عبادت نہ کرسکا ، دوسری یہ کہ بچپن میں مجھ سے ایک گناہ سرزد ہوگیا تھا ، چنانچہ میں ان دونوں چیزوں سے اس قدر خوف زدہ تھا کہ میرا دل خون ہوگیا اور پیشاب کے راستے سے خون آنے لگا ۔‘‘(تذکرۃ الاولیاء ، باب چہار دہم ذکر بایز ید بسطامی ، ج ۱ ، ص ۱۳۳)
منقول ہے کہ حضرت سیدنا حسن بصری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے بچپن میں ایک گناہ سرزد ہوگیا تھا۔ آپ جب بھی کوئی نیا لباس سلواتے تو اس کے گریبان پر وہ گناہ درج کردیتے۔ اوراکثر اس کو دیکھ کر اس قدر گریہ وزاری کرتے کہ آپ پر غشی طاری ہوجاتی ۔(تذکرۃ الاولیاء ، باب سوم ، ذکر حسن بصری ، ج۱ ، ص ۳۹)
حضرت سیدنا کہُمَس بن حسین رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا، ’’مجھ سے ایک گناہ سرزد ہوگیا تو میں چالیس برس تک روتا رہا ۔‘‘ لوگوں نے پوچھا ، ’’ابوعبداللہ ! وہ کون سا گناہ تھا ؟‘‘تو آپ نے فرمایا، ’’ایک دفعہ میرا دوست مجھ سے ملنے آیا تو میں نے اس کے لئے مچھلی پکائی اور جب وہ کھانا کھا چکا تو میں نے اپنے پڑوسی کی دیوار سے مٹی لے کر اپنے مہمان کے ہاتھ دُھلائے تھے ۔‘‘
(منہاج العابدین الی جنۃ رب العالمین ، العقبۃ الثانیۃ ، ص ۳۵ ۔ ۳۶ )
توبہ کے بعد گناہ سرزد ہوجائے تو کیا کرے؟
جس شخص نے صدق ِ دل سے توبہ کرلی ہو پھر وہ دانستہ یا نادانستہ طور پر غلبۂ شہوت وغیرہ کی وجہ سے کسی گناہ کا مرتکب ہوجائے تو اسے چاہئیے کہ دوبارہ توبہ کرنے میں دیر نہ کرے کیونکہ بعد ِ توبہ گناہ کا صدور ایک مصیبت ہے تو دوبارہ توبہ نہ کرنا اس سے کہیں زیادہ نقصان دہ ہے ۔حضرت ِسیدنا ابوہریرہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمان ہے کہ’’جب کوئی بندہ مؤمن گناہ کرلیتا ہے، تو اس کے قلب پر ایک سیاہ نکتہ لگ جاتا ہے، لیکن جب وہ توبہ کرلیتا ہے اوراللہ تَعَالٰی سے طلب ِ مغفرت کرتا ہے، تو اس کا قلب صاف کردیا جاتا ہے اور اگر وہ گناہ کرتا رہے(یعنی درمیان میں توبہ نہ کرے)تو یہ سیاہی بڑھتی رہتی ہے، یہاں تک کہ اس کا دل سیاہ پڑجاتا ہے۔پس یہ وہی زنگ ہے جس کاذکراللہ تَعَالٰی نے بھی اس طرح فرمایاہے :
كَلَّا بَلْٚ- رَانَ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ مَّا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ(۱۴)
ترجمہ کنزالایمان : کوئی نہیں بلکہ ان کے دلوں پر زنگ چڑھا دیا ہے ان کی کمائیوں نے ۔‘‘(پ ۳۰، المطففین : ۱۴)
(جامع الترمذی ، کتاب التفسیر ، باب ومن سورۃ ویل للمطففین ، رقم ۳۳۴۵ ، ج ۵ ، ص ۲۲۰)
ایک بزرگ کے بارے میں منقو ل ہے کہ وہ کیچڑ میں کپڑوں کو بچاتے ہوئے کیچڑ میں چل رہے تھے تاکہ پاؤں پھسل نہ جائے ۔ لیکن پھر بھی ان کا پاؤں پھسل گیا اور وہ گر گئے ۔وہ کھڑے ہوئے اور روتے روتے کیچڑ کے درمیان چلنے لگے وہ کہہ رہے تھے کہ : ’’بندے کی یہ ہی مثال ہے وہ گناہ سے بچتا اور کنارہ کش رہتا ہے حتی کہ وہ ایک یا دو گناہوں میں جاپڑ تا ہے، اس وقت وہ گناہوں میں ڈوب جاتا ہے یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ گناہ کی فوری سزا یہ ہے کہ وہ دوسرے گناہ کی طرف لے جاتا ہے۔‘‘(احیاء علوم الدین ، کتاب التو بۃ، الرکن الرابع فی دواء التو بۃ وطریق العلاج ، ج ۴ ، ص ۶۷)
عبادات کی ادائیگی اور ارتکاب ِ گناہ سے بچنے پر استقامت اختیار کرنا عموماً دشوار محسوس ہوتا ہے ۔ لیکن یہ دشواری اس وقت تک محسوس ہوتی ہے جب تک ہمارے سامنے کوئی شخص انہیں استقامت سے اپنائے ہوئے نہ ہو۔ لہذا! اگر ہم تبلیغ ِ قرآن وسنت کی عالمگیر غیرسیاسی تحریک دعوت ِاسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ہوجائیں گے تو ہمیں کثیر اسلامی بھائی اجتماعی طور پر عبادات پر استقامت پزیر دکھائی دیں گے جس کی برکت سے حیرت انگیز طور پر ہم بھی کسی قسم کی مشقت کے احساس کے بغیر عبادات اور پرہیزِ گناہ پر استقامت حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے ۔
اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ
چنانچہ ہمیں چاہئے کہ توبہ پر استقامت پانے کے لئے بانی ٔدعوتِ اسلامی، شیخ طریقت، امیر اہل سنت حضرت علامہ مولانا محمد الیاس عطار قادری مدظلہ العالی کے عطا کردہ مدنی انعامات پر
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع