دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Toba Ki Riwayaat o Hikayaat | توبہ کی روایات و حکایات

book_icon
توبہ کی روایات و حکایات

لے)یا انہیں لوٹا دے ، یا (اگر وہ نہ ہوں تو )انہیں (دے کہ)جو ان کے قائم مقام ہوں جیسے وکیل یا وارث وغیرہ ۔ اور قنیہ میں ہے کہ : ’’ایک شخص پر کچھ ایسے لوگوں کے دَین مثلا غصب شدہ چیز، مظالم اور دیگر جرائم ہیں کہ جن کو یہ نہیں پہچانتا ، تو ادائیگی کی نیت سے دیون کی مقدار مال، فقیروں پر صدقہ کرے ، (پھر)اگر وہ انہیں ، اللہ  تَعَالٰی کی بارگاہ میں توبہ کرنے کے بعد پائے  تو ان سے معافی طلب کرے  ۔‘‘

        اور اگر توبہ ایسے مظالم سے ہو کہ جو اعراض (یعنی کسی کی عزت سے تعلق رکھتے) ہیں جیسے زنا کی تہمت لگانااور غیبت ، تو ان کی توبہ میں ، حقوق اللہ   کے سلسلے میں بیان کردہ چیزوں کے علاوہ یہ ہے کہ جن پر تہمت لگائی یا جن کی غیبت کی انہیں اس بات کی خبر دے کہ جو اس نے ان کے بارے میں کہی تھی اور (پھر)ان سے معافی طلب کرے۔ پھر اگر یہ دشوار ہو تو ارادہ کرے کہ جب بھی ان کو پائے گاتو معافی طلب کرے گا ۔پھر اگر یہ عاجز آ جائے بایں طور کہ مظلوم مر گیا تو اسے چاہیے کہ اللہ   تَعَالٰی سے مغفرت طلب کرے اور اس کے فضل و کرم سے امید رکھے کہ وہ اس کے مد مقابل کو اپنے احسان کے خزانوں کے ذریعے ، اس سے راضی فرما دے گا ، کیونکہ وہ جواد، کریم ، رؤف اور رحیم ہے۔‘‘ (فتاویٰ رضویہ ج ۱۰، نصف اول ، ص ۹۷)   

        مشائخ کرام رحمھم اللہ   کی تصریح کے مطابق توبہ کے لئے چار امور کا ہوناضروری ہے۔

        (i)پہلے اس گناہ کا ارتکاب ہوچکا ہو،

        (ii)اس گناہ کو اللہ   تَعَالٰی کی نافرمانی سمجھ کر اس پر نادم ہو ،

        (iii)اسے آئندہ نہ کرنے کا پختہ ارادہ کیاجائے، ۔۔۔اور۔۔۔

        (iv)  اس گناہ کی تلافی کرے ۔

ان شرائط کی تفصیل

(i)پہلے اس گناہ کا ارتکاب ہوچکا ہو :  

        یعنی  توبہ سے ماضی میں کئے گئے گناہ معاف ہوں گے نہ کہ زمانہ ٔ مستقبل میں ارتکاب گناہ کی اجازت ملے گی ، لہذا! آئندہ زمانے میں گناہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہوئے اس پر پیشگی توبہ کرنا ، پھر ِ گناہ کرنا بہت بڑی جرأت ہے ، کیا معلوم کہ انسان گناہ کرنے کے بعد توبہ کرنے کے لئے زندہ رہے گا بھی یا نہیں ؟

(ii)اس گناہ کو اللہ   تَعَالٰی کی نافرمانی سمجھ کر اس پر نادم ہو :

        توبہ گناہ کو چھوڑنے کانام ہے اور کسی چیز کو چھوڑنااسی وقت ممکن ہے جب اس کی پہچان ہو ، لہذا! سب سے پہلے گناہوں کی معرفت کا ہونا بے حد ضروری ہے کیونکہ جب تک بندہ گناہ کو گناہ نہیں سمجھے گا اس سے توبہ کیسے کرے گا ؟گناہوں کی معرفت کے لئے سیدنا امام محمد غزالی علیہ الرحمۃ کی تصنیف لطیف’’ احیاء العلوم‘‘ اور علامہ شمس الدین ذھبی علیہ الرحمۃ کی تالیف’’ کتاب الکبائر ‘‘، مکتبۃ المدینہ کی شائع کردہ کتاب ’’جہنم میں لے جانے والے اعمال ‘‘اور ’’رسائل ِ امیرِاہل ِ سنت مدظلہ العالی ‘‘کا مطالعہ بے حد مفید ہے۔     

        نیزتوبہ کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ کسی گناہ کو اس لئے چھوڑے کہ یہ اللہ   تَعَالٰی کی نافرمانی ہے ، لہذا! اگر کسی شخص کے خوف یا طبعی نقصان کی وجہ سے کسی گناہ کو ترک کیا مثلاً جگر کے امراض کی وجہ سے شراب نوشی ترک کی یا بدنامی کے خوف سے زناء کرنا چھوڑدیا تو ایسا شخص تائب نہیں کہلائے گااور نہ ہی اسے توبہ کا ثواب اور فضائل حاصل ہوں گے اگرچہ گناہ کو چھوڑنا بھی ایک سعادت ہے ۔

        اب رہا یہ سوال کہ ندامت ِ قلبی کس طرح حاصل ہوکیونکہ قلبی جذبات پر تو انسان کا اختیار نہیں ؟ اس کے لئے درج ذیل گزارشات پر عمل کریں ، …

 (۱)  اللہ   تَعَالٰی کی نعمتوں پر اس طرح غور وفکر کریں کہ’’ اس نے مجھے کروڑہا نعمتوں سے نوازا مثلاً مجھے پیدا کیا ، … مجھے زندگی باقی رکھنے کے لئے سانسیں عطا فرمائیں ، … چلنے کے لئے پاؤں دئیے…، چھونے کے لئے ہاتھ دئیے…، دیکھنے کے لئے آنکھیں عطا فرمائیں … ، سننے کے لئے کان دئیے…، سونگھنے کے لئے ناک دی…، بولنے کے لئے زبان عطا کی اور کروڑ ہا ایسی نعمتیں عطا فرمائیں جن پر آج تک میں نے کبھی غور نہیں کیا ۔‘‘پھر اپنے آپ سے یوں سوال کرے : ’’کیا اتنے احسانات کرنے والے رب تعالیٰ کی نافرمانی کرنامجھے زیب دیتا ہے ؟‘‘

 (۲)  گناہوں کے انجام کے طور پر جہنم میں دئیے جانے والے عذاب ِ الہٰی  کی شدت کو اپنے دل ودماغ میں حاضر کریں مثلاًسرورِ عالم صَلَّی اللہ   تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا کہ

     ’’دوزخیوں میں سب سے ہلکا عذاب جس کو ہو گا اسے آگ کے جوتے پہنائے جائیں گے جن سے اس کا دماغ کھولنے لگے گا۔‘‘

(صحیح مسلم ، کتاب الایمان ، باب اھون اھل النار عذابا  ، رقم ۴۶۷  ، ص ۱۳۴)   

                                                ’’ اگراس زرد پانی کا ایک ڈول جو دوزخیوں کے زخموں سے جاری ہو گا دنیا میں ڈال دیا جائے تو دنیا والے بدبودار ہو جائیں ۔‘‘

(جامع التر مذی ، کتاب صفۃ جھنم ، باب ماجاء فی صفۃ شراب اھل النار ، رقم ۲۵۹۳ ، ج ۴، ص ۲۶۳ )

         ’’دوزخ میں بختی اونٹ کے برابر سانپ ہیں ‘ یہ سانپ ایک مرتبہ کسی کو کاٹے تو اس کا درد اور زہر چالیس برس تک رہے گا۔ اور دوزخ میں پالان بندھے ہوئے خچروں کے مثل بچھو ہیں تو ان کے ایک مرتبہ کاٹنے کا دردچالیس سال تک رہے گا۔‘‘(المسند للامام احمد بن حنبل ، حدیث عبداللہ  ، بن الحارث بن جزء الزبیدی ، رقم ۱۷۷۲۹ ، ج۶ ، ص ۲۱۷)

  ’’تمہاری یہ آگ جسے ابن آدم روشن کرتا ہے ، جہنم کی آگ سے ستر درجے کم ہے۔ ‘‘ یہ سن کر صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم عرض کی ’’ یا رسول اللہ   صَلَّی اللہ   تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ! جلانے کے لئے تو یہی کافی ہے؟‘‘ ارشادفرمایا ’’ وہ اس سے اُنہتر(۶۹) درجے زیادہ ہے ، ہر درجے میں یہاں کی آگ کے برابر گرمی ہے۔‘‘

 ( صحیح مسلم، کتاب الجنۃ وصفۃ نعیمھا واھلھا ، باب فی شدۃ حرنار جھنم ، رقم ۲۸۴۳ ، ص ۱۵۲۳)

        پھر اپنے آپ سے یوں مخاطب ہوں : ’’اگر مجھے جہنم میں ڈال دیا گیا تو میرا یہ نرم ونازک بدن اس کے ہولناک عذابات کوکس طرح برداشت کر پائے گا ؟جبکہ جہنم میں پہنچنے والی تکالیف کی شدت کے سبب انسان پر نہ توبے ہوشی طاری ہوگی اور نہ ہی اسے موت آئے گی ۔ آہ! وہ وقت کتنی بے بسی کا ہوگاجس کے تصور سے ہی دل کانپ اٹھتا ہے ۔کیا یہ رونے کا مقام نہیں ؟ کیا اب بھی

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن