{۱} امیرُ المؤمنین حضرتِ سیِّدُنا عمرفاروقِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ روزانہ صبح قراٰنِ مجیدکو چُومتے تھے اور فرماتے: ’’ یہ میرے رب عَزَّوَجَلَّ کا عہد اور اس کی کتاب ہے۔ ‘‘ (دُرِّمُختار ج ۹ ص۶۳۴ دار المعرفۃ بیروت) {۲} تلاوت کے آغاز میں اعوذُپڑھنا مُسْتَحَب ہے اور ابتِدائے سورت میں بسم اﷲ سنّت، ورنہ مُسْتَحَب ( بہارِ شریعتج۱حصّہ ۳ ص ۵۵۰ مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی ) {۳} سورۂ براءَت (سورۂ توبہ ) سے اگر تلاوت شروع کی تو اَعُوْذُ بِاللّٰہ (اور) بِسْمِ اللہ (دونوں ) کہہ لیجئے اور جو اس کے پہلے سے تلاوت شروع کی اور سورۂ توبہ (دورانِ تِلاوت ) آگئی تو تَسْمِیہ (یعنی بِسْمِ اللہ شریف) پڑھنے کی حاجت نہیں ۔ اور اس کی ابتِدا میں نیا تَعَوُّذ (تَعَوْ ۔ وُذ ) جو آج کل کے حافِظوں نے نکالا ہے، بے اَصل ہے اور یہ جو مشہو ر ہے کہ سورۂ توبہ ابتِداء ً بھی پڑھے جب بھی بِسْمِ اللہ نہ پڑھے یہ مَحض غَلَط ہے (اَیضاًص۵۵۱) {۴} باوُضُو، قِبلہ رُو، اچّھے کپڑے پہن کر تِلاوت کرنا مُسْتَحَب ہے (اَیضاًص۵۵۰) {۵} قراٰنِ مجیددیکھ کر پڑھنا، زَبانی پڑھنے سے افضل ہے کہ یہ پڑھنا بھی ہے اور دیکھنا اور ہاتھ سے اس کا چُھونا بھی اور یہ سب کام عِبادت ہیں ۔ ( غُنْیَۃُ المُتَمَلّی ص۴۹۵) {۶} قراٰنِ مجید کو نہایت اچّھی آواز سے پڑھنا چاہیے، اگرآواز اچّھی نہ ہو تو اچّھی آواز بنانے کی کوشش کرے، مگر لَحن کے ساتھ پڑھنا کہ حُرُوف میں کمی بیشی ہوجائے جیسے گانے والے کیا کرتے ہیں یہ ناجائز ہے، بلکہ پڑھنے میں قواعِدِ تَجوید کی رعایت کیجئے (دُرِّمُختار، رَدُّالْمُحتار ج۹، ص۶۹۴) {۷} قراٰنِ مجید بلند آواز سے پڑھنا افضل ہے جب کہ کسی نَمازی یا مریض یا سوتے کو اِیذا نہ پہنچے۔ (غُنْیَۃُ المُتَمَلّی ص ۴۹۷) {۸} جب قراٰنِ پاک کی سورَتیں یا آیَتیں پڑھی جاتی ہیں اُس وقت بعض لوگ چپ تو رہتے ہیں مگر اِدھر اُدھر دیکھنے اور دیگر حرکات و اشارات وغیرہ سے باز نہیں آتے، ایسوں کی خدمت میں عرض ہے کہ چپ رہنے کے ساتھ ساتھ غور سے سننا بھی لازِمی ہے جیسا کہ فتاویٰ رضویہ جلد 23 صَفْحَہ 352پرمیرے آقا اعلیٰ حضرت، اِمامِ اَہلسنّت، مولیٰناشاہ امام اَحمد رضا خان علیہ رحمۃُ الرَّحمٰن فرماتے ہیں : قراٰنِ مجید پڑھا جائے اسے کان لگا کر غور سے سُننا اور خاموش رہنا فرض ہے۔ قالَ اللّٰہُ تعالٰی (اللہ تعالٰی نے ارشاد فرمایا : ) وَ اِذَا قُرِئَ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوْا لَهٗ وَ اَنْصِتُوْا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ (۲۰۴) (پ۹ الاعراف ۲۰۴) (ترجَمۂ کنزالایمان: اورجب قراٰن پڑھا جائے تو اسے کان لگا کر سنو اور خاموش رہو کہ تم پر رحم ہو) {۹} جب بلند آواز سے قراٰن پڑھا جائے تو تمام حاضِرین پر سُننا فرض ہے، جب کہ وہ مجمع سُننے کے لئے حاضر ہو ورنہ ایک کا سننا کافی ہے، اگرچِہ اور (لوگ) اپنے کام میں ہوں ۔ (فتاوٰی رضویہ مُخَرَّجہ ج۲۳ص۳۵۳ مُلَخَّصاً) {۱۰} مجمع میں سب لوگ بلند آواز سے پڑھیں یہ حرام ہے، اکثر تیجوں میں سب بلند آواز سے پڑھتے ہیں یہ حرام ہے، اگر چند شخص پڑھنے والے ہوں تو حکم ہے کہ آہستہ پڑھیں ۔ (بہارِشریعت ج۱حصّہ ۳ص۵۵۲) {۱۱} مسجِدمیں دوسرے لوگ ہوں ، نَماز یا اپنے وِرد ووظائف پڑھ رہے ہوں اُس وقت فَقَط اتنی آواز سے تلاوت کیجئے کہ صرف آپ خود سن سکیں برابر والے کو آواز نہ پہنچے {۱۲} بازاروں میں اور جہاں لوگ کام میں مشغول ہوں بلند آواز سے پڑھنا ناجائز ہے، لوگ اگر نہ سُنیں گے تو گناہ پڑھنے والے پر ہے اگر کام میں مشغول ہونے سے پہلے اِس نے پڑھنا شروع کر دیا ہو اور اگر وہ جگہ کام کرنے کے لیے مقرَّر نہ ہو تو اگر پہلے پڑھنا اِس نے شروع کیا اور لوگ نہیں سنتے تو لوگوں پر گناہ اور اگرکام شروع کرنے کے بعد اِس نے پڑھنا شروع کیا ، تو اِس (یعنی پڑھنے والے) پر گناہ (غُنْیَۃُ المُتَمَلّی ص۴۹۷) {۱۳} جہاں کوئی شخص علمِ دین پڑھا رہا ہے یا طالبِ علم علمِ دین کی تکرار کرتے یا مُطالَعَہ دیکھتے ہوں ، وہاں بھی بلند آواز سے پڑھنا منع ہے۔ (اَیضاً ) {۱۴} لیٹ کر قراٰن پڑھنے میں حرج نہیں جبکہ پاؤں سِمٹے ہوں اور منہ کُھلا ہو، یوہیں چلنے اور کام کرنے کی حالت میں بھی تلاوت جائز ہے، جبکہ دل نہ بٹے، ورنہ مکروہ ہے۔ (اَیضاً ص۴۹۶) {۱۵} غسل خانے اورنَجاست کی جگہوں میں قراٰنِ مجید پڑھنا، ناجائز ہے (اَیضاً ) {۱۶} قراٰنِ مجید سُننا، تلاوت کرنے اورنَفل پڑھنے سے افضل ہے (اَیضاً ص ۴۹۷) {۱۷} جو شخص غَلَط پڑھتا ہو تو سُننے والے پر واجِب ہے کہ بتا دے، بشرطیکہ بتانے کی وجہ سے کینہ و حسد پیدا نہ ہو۔ (اَیضاًص۴۹۸) {۱۸} اسی طرح اگر کسی کا مُصْحف شریف (قراٰنِ پاک ) اپنے پاس عارِیَت (یعنی وقتی طور پر لیا ہوا) ہے، اگر اس میں کِتابت کی غَلَطی دیکھے، (تو جس کا ہے اُسے ) بتا دینا واجِب ہے۔ (بہارِشریعت ج۱حصّہ ۳ ص۵۵۳ ) {۱۹} گرمیوں میں صبح کو قراٰنِ مجید ختم کرنا بہتر ہے اورسردیوں میں اوّل شب کو کہ حدیث میں ہے: ’’جس نے شروع دن میں قراٰن ختم کیا ، شام تک فرِشتے اس کے لیے اِستِغفار کرتے ہیں اور جس نے اِبتِدائے شب میں ختم کیا ، صبح تک اِستِغفار کرتے ہیں ۔ ‘‘ گرمیوں میں چُونکہ دن بڑا ہوتا ہے تو صبح کے وَقت ختم کرنے میں اِستِغفارِ ملائکہ زیا دہ ہوگی اور جاڑوں (یعنی سردیوں ) کی راتیں بڑی ہوتی ہیں تو شروع رات میں ختم کرنے سے اِستِغفار زیا دہ ہوگی۔ (غُنْیَۃُ المُتَمَلّی ص۴۹۶) {۲۰} جب قراٰنِ پاک ختم ہو تو تین بار سورۂ اِخلاص پڑھنابہتر ہے۔ اگرچِہ تراویح میں ہو، البتَّہ اگر فرض نَماز میں ختم کرے تو ایک بار سے زیا دہ نہ پڑھے۔ (غُنْیَۃُ المُتَمَلّی ص۴۹۶) {۲۱} ختمِ قراٰن کا طریقہ یہ ہے کہ سورۂ ناس پڑھنے کے بعد سورۂ فاتحہ اورسورۂ بقرہ سے وَ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ (۵) تک پڑھئے اور اس کے بعد دعا مانگئے کہ یہ سنّت ہے چُنانچِہ حضرتِ سیِّدُنا عبد اللہ بن عبّاس رضی اللہ تعالٰی عنہما حضرتِ سیِّدُنا اُبی بِن کعَب رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کرتے ہیں : ’’نبیِّ کریم، رء وفٌ رَّحیم صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلم جب’’ قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِۙ (۱) ‘‘ پڑھتے تو سورۂ فاتحہ شروع فرماتے پھر اورسورۂ بقرہ سے ’’وَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ (۵) ‘‘تک پڑھتے پھر ختم قراٰن کی دعا پڑھ کر کھڑے ہوتے۔ (اَلْاِتقَان فِیْ عُلُوْمِ الْقُرْاٰن، ج۱، ص۱۵۸)
حضرتِ سیِّدُناابو عبد ا للہ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں : حضرتِ سیِّدُنا ابو الحسن محمد بن اسلم طُوسی علیہ ر حمۃ اللّٰہِ القوی اپنی نیکیا ں چھپانے کا بے حد خیا ل فرماتے یہاں تک کہ ایک بار فرمانے لگے: اگرمیرا بس چلے تو میں کراماً کاتبین (اعمال لکھنے والے دونوں بُزُرگ فرِشتوں ) سے بھی چھپ کر عبادت کروں !راوی کہتے ہیں : میں بیس برس سے زیا دہ عرصہ آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی صحبت میں رہا مگر جمعۃ المبارک کے علاوہ کبھی آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کو دو رَکعَت نَفل بھی پڑھتے نہیں دیکھ سکا۔ آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ پانی کا کوزہ لیکر اپنے کمرۂ خاص میں تشریف لے جاتے اور اندر سے دروازہ بند کر لیتے تھے۔ میں کبھی بھی نہ جان سکا کہ آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کمرے میں کیا کرتے ہیں ، یہاں تک کہ ایک دن آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کا مَدَنی مُنّازور زور سے رونے لگا۔ اس کی امّی جان چُپ کروانے کی کوشش کر رہی تھیں ، میں نے کہا: مَدَنی مُنّاآخِراس قَدَر کیو ں رو رہا ہے ؟ بی بی صاحِبہ نے فرمایا : اس کے ابّو (حضرتِ سیِّدُنا ابو الحسن طُوسی علیہ ر حمۃ اللّٰہِ القوی) اس کمرے میں داخِل ہو کر تلاوتِ قراٰن کرتے ہیں اور روتے ہیں تو یہ بھی ان کی آواز سن کر رونے لگتا ہے!شیخ ابو عبداللہ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں : حضرتِ سیِّدُنا ابو الحسن طُوسی علیہ ر حمۃ اللّٰہِ القوی (ریا کاریوں کی تباہ کاریوں سے بچنے کی خاطِر) نیکیا ں چھپانے کی اِس قَدَر سعی فرماتے تھے کہ اپنے اُس کمرۂ خاص سے عبادت کرنے کے بعد باہَرنکلنے سے پہلے اپنا منہ دھوکر آنکھوں میں سُرمہ لگالیتے تاکہ چہرہ اور آنکھیں دیکھ کر کسی کو اندازہ نہ ہونے پائے کہ یہ روئے تھے! (حلیۃ الاولیا ء ج۹ ص۲۵۴) اللہ عَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری مغفِرت ہو۔
ٰٰامین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمین صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم
سبحٰنَ اللّٰہ !ایک طرف نیکیا ں چھپانے والے وہ مخلِص صالِح انسان اورآہ! دوسری طرف اپنی نیکیوں کا بڑھا چڑھا کرڈھنڈورا پیٹنے والے ہم جیسے اِخلاص سے عاری نادان! کہ اوّل تو نیکی ہو نہیں پاتی ہے کبھی ہو بھی گئی توریا کاری لاگو پڑجاتی ہے ۔ ہائے ! ہائے! ؎
قراٰنِ کریم کے حُرُوف کی دُرُست مَخَارِج سے ادائیگی اور غلط پڑھنے سے بچنا فرضِ عین ہے
میرے آقااعلیٰ حضرت، امامِ اہلسنّت، مولانا شاہ امام احمدرضا خان علیہ رحمۃالرحمن فرماتے ہیں : ’’بِلاشُبہ اتنی تجوید جس سے تَصحِیحِ (تَص۔ حِی ۔ حِ ) حُروف ہو (یعنی قواعدِ تجویدکے مطابِق حُرُوف کودُرُست مخارِج سے ادا کر سکے) ، اورغَلَط خوانی (یعنی غلط پڑھنے) سے بچے، فرضِ عَین ہے۔ (فتاویٰ رضویہ مُخَرَّجَہ ج۶ ص ۳۴۳ )
اپنی قیمتی آراء دینے کے لئے support@dawateislami.net پر ای میل کیجئے یا فیڈ بیک کے بٹن پر کلک کیجئے
ڈونیشن
اپنے عطیات دعوت اسلامی کو دیجئے، آپ کے چندے یعنی ڈونیشن کو کسی بھی جائز، دینی، اصلاحی، فلاحی، روحانی، خیرخواہی، بھلائی اور آمدنی بڑھانے کے جائز اور محفوظ کام میں لگایا جا سکتا ہے تا کہ بڑھتے اخراجات کو پورا کیا جا سکے.