ایک حدیث شریف میں ہے: جس شخص نے کتابُ اللہ کی ایک آیت یا علم کا ایک باب سکھایا اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ تا قِیا مت اس کا اجر بڑھا تا رہیگا۔ (تاریخ دمشق لابن عساکِر ج۵۹ ص۲۹۰)
عطا ہو شوق مولیٰ مدرَسے میں آنے جانے کا
خدایا ذوق دے قراٰن پڑھنے کاپڑھانے کا
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
’’ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت ‘‘ سے ایک مفید عرض اور ایمان افروز ارشاد ملاحَظہ فرمایئے:
عرض: حضور!’’ تقریب ِ بِسْمِ اللہِ ‘‘ کی کوئی عمر شرعاً مقرر ہے؟
ارشاد: شرعا ً کچھ مقرَّر نہیں ، ہاں مشائخِ کرام (رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السّلام) کے یہاں چار برس چار مہینے چار دن مقرَّر ہیں ۔ حضرت خواجہ قطبُ الحقِّ وَالدّین بختیا ر کاکی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عمر جس دن چار برس چار مہینے چار دن کی ہوئی (تو) ’’تقریبِ’’ بِسْمِ اللہِ‘‘مقرَّر ہوئی ، لوگ بلائے گئے۔ حضرت خواجہ غریب نواز رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی تشریف فرما ہوئے۔ بِسْمِ اللہِ پڑھانا چاہی مگر اِلہام ہوا کہ ٹھہرو! حمید الدین ناگوری آتا ہے وہ پڑھائے گا ۔ اِدھر ناگور میں قاضی حمید الدین صاحب رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کو اِلہام ہو ا کہ جلد جامیرے ایک بندے کو ’’ بِسْمِ اللہِ ‘‘ پڑھا۔ قاضی صاحِب فوراً تشریف لائے اور آپ سے فرمایا : صاحبزادے پڑھئے! بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط آپ نے پڑھا: اَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط اور شروع سے لے کر پَندرَہ پارے حِفظ سنا دیئے ۔ حضرت قاضی صاحِب اورخواجہ صاحِب نے فرمایا : ’’صاحبزادے آگے پڑھئے ! فرمایا : میں نے اپنی ماں کے شکم (پیٹ) میں اِتنے ہی سُنے تھے اور اِسی قَدَر اُن (یعنی امّی جان ) کو یا د تھے، وہ مجھے بھی یا د ہو گئے! (ملفوظاتِ اعلٰی حضرت ص ۴۸۱ مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی) اللہ عَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری مغفِرت ہو۔ اٰمین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمین صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم
خدا اپنی الفت میں صادِق بنا دے
مجھے مصطَفٰے کا تو عاشق بنا دے
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
افسوس !اسلامی معلومات کی کمی کی وجہ سے آج مسلمانوں کی بَہُت بڑی تعداد قراٰنِ پاک پڑھنے پڑھانے ، سُننے سنانے اور چُھونے اٹھانے وغیرہ کے شَرعی اَحکام سے نابَلَدہے ۔ اِشاعتِ عِلم کا ثواب پانے اور مسلمانوں کو گناہوں سے بچانے کی نیّت سے قراٰنِ پاک کے بارے میں رنگ برنگے مَدَنی پھولوں کا گلدستہ پیش کرتا ہوں ۔