{۴} ’’ایصالِ ثواب ‘‘ کوئی مشکل کام نہیں صرف اتنا کہدینا یا دل میں نیّت کر لینا بھی کافی ہے کہ مَثَلاً یا اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ! میں نے جو قراٰنِ پاک پڑھا (یا فُلاں فُلاں عمل کیا ) اس کا ثواب میری والِدہ ٔ مرحومہ کو پہنچا۔ ‘‘ اِن شا ءَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ثواب پَہنچ جائے گا۔
{۵} آج کل مسلمانوں میں خُصُوصاً کھانے پر جو فاتِحہ کا طریقہ رائج ہے وہ بھی بہت اچّھا ہے، اس دوران تلاوت وغیرہ کا بھی ایصالِ ثواب کیا جا سکتا ہے۔ جن کھانوں کا ایصالِ ثواب کرنا ہے وہ سارے یا سب میں سے تھوڑا تھوڑاکھانا نیز ایک گلاس میں پانی بھر کر سب کچھ سامنے رکھ لیجئے۔
اب’’ اَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ‘‘ پڑھ کر
اب ہاتھ اٹھاکر فاتحہ پڑھانے والابُلند آواز سے ’’ اَلفاتِحہ‘‘ کہے۔ سب لوگ آہستہ سے سورۂ فاتحہ پڑھیں ۔ اب فاتحہ پڑھانے والا اس طرح اعلان کرے: ’’آپ نے جو کچھ پڑھا ہے اُس کا ثواب مجھے دیدیجئے‘‘۔ تمام حاضِرین کہہ دیں : ’’ آپکو دیا ۔ ‘‘اب فاتحہ پڑھانے والا ایصالِ ثواب کردے۔
یا اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ جو کچھ پڑھا گیا (اگر کھانا وغیرہ ہے تو اس طرح سے بھی کہئے) اور جو کچھ کھانا وغیرہ پیش کیا گیا ہے بلکہ آج تک جو کچھ ٹوٹا پھوٹا عمل ہو سکا ہے اس کا ثواب ہمارے ناقص عمل کے لائق نہیں بلکہ اپنے کرم کے شایا نِ شان مرحمت فرما۔ اور اسے ہماری جانب سے اپنے پیا رے محبوب، دانائے غُیُوب صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلم کی بارگاہ میں نَذْر پہنچا۔ سرکار مدینہ صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلم کے تَوَسُّط سے تمام انبیا ئے کرام عَلَیھم الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام تمام صَحابۂ کرام علیہم الرضوان تمام اولیا ئے عِظا م رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السّلام کی جناب میں نَذْر پہنچا۔ سرکار مدینہ صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلم کے تَوَسُّط سے سَیِّدُ نا آدم صَفِیُّ اللّٰہ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام سے لیکر اب تک جتنے انسان و جِنّات مسلمان ہوئے یا قیا مت تک ہوں گے سب کو پہنچا۔ اس دَوران جن جن بُزُرگوں کو خُصُوصاً ایصالِ ثواب کرنا ہے ان کا نام بھی لیتے جایئے۔ اپنے ماں باپ اور دیگر رشتے داروں اور اپنے پیر و مرشِد کو بھی ایصالِ ثواب کیجئے۔ ( فوت شُدگَان میں سے جن جن کا نام لیتے ہیں ان کو خوشی حاصل ہوتی ہے) اب حسبِ معمول دعا ختم کردیجئے۔ (اگر تھوڑا تھوڑا کھانا اور پانی نکالا تھا تو وہ کھانوں اور پانی میں واپس ڈال دیجئے)
چھ فرامِینِ مصطَفٰے صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم : { 1 } عمامے کے ساتھ دو رَکعت نَمازبِغیر عمامے کی ستّر (70) رَکعتوں سے اَفضل ہیں (اَلْفِرْدَوْس بمأثور الْخَطّاب ج۲ص۲۶۵ حدیث۳۲۳۳ دارالکتب العلمیۃ بیروت) { 2} ٹوپی پر عمامہ ہمارے اور مشرکین کے درمیا ن فرق ہے ہر پیچ پرکہ مسلمان اپنے سر پر دے گا اس پر روزِ قیا مت ایک نور عطا کیا جائے گا (اَلْجامِعُ الصَّغِیر لِلسُّیُوْطِی ص ۳۵۳حدیث۵۷۲۵) {3} بے شک اللہ عَزَّوَجَلَّ اور اس کے فرِشتے دُرُود بھیجتے ہیں جمعے کے روز عمامے والوں پر (اَلْفِرْدَوْس بمأثور الْخَطّاب ج۱ص۱۴۷ حدیث۵۲۹) { 4} عمامے کے ساتھ نَماز دس ہزار نیکیوں کے برابر ہے (ایضاً ج۲ص ۴۰۶ حدیث ۳۸۰۵ ، فتاوٰی رضویہ مُخَرَّجہ ج۶ص ۲۲۰) { 5} عمامے کے ساتھ ایک جُمُعہ بغیر عمامے کے ستّر (70) جُمعوں کے برابرہے (تاریخ مدینۃ دمشق لابن عساکِر ج۳۷ص۳۵۵دارالفکر بیروت) { 6} عمامے عرب کے تاج ہیں تو عمامہ باندھو تمہارا وقار بڑھے گا اور جو عمامہ باندھے اُس کے لئے ہر پیچ پر ایک نیکی ہے۔ (جَمْعُ الْجَوامِع لِلسُّیُوْطِیّ ج۵ ص۲۰۲ حدیث ۱۴۵۳۶) {7} دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 312 صَفحات کی کتاب ، بہارِ شریعت حصّہ16 صَفْحَہ 303پر ہے: عمامہ کھڑے ہوکر باندھے اور پاجامہ بیٹھ کر پہنے، جس نے اس کا الٹا کیا (یعنی عمامہ بیٹھ کر باندھا اور پاجامہ کھڑے ہو کرپہنا) وہ ایسے مرض میں مبتَلا ہوگا جس کی دوا نہیں {8} مناسِب یہ ہے کہ عمامے کا پہلا پیچ سر کی سیدھی جانب جائے۔ (فتاوٰی رضویہ ج۲۲ص ۱۹۹ ) {9} خاتَمُ الْمُرْسَلین، رَحمَۃٌ لّلْعٰلمین صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہ وسلَّم کے مبارَک عِمامے کا شِملہ عُمُوماً پُشت (یعنی پیٹھ مبارک) کے پیچھے ہوتا تھا اور کبھی کبھی سیدھی جانب ، کبھی دونوں کندھوں کے درمِیا ن دو شملے ہوتے ، اُلٹی جانب شملہ کا لٹکاناخلافِ سنّت ہے۔ (اشعۃ اللّمعات ج۳ ص ۵۸۲) {10} عمامے کے شملے کی مقدارکم از کم چار انگل اور زیا دہ سے زیا دہ (آدھی پیٹھ تک یعنی تقریباً) ایک ہاتھ (فتاوٰی رضویہ ج ۲۲ ص ۱۸۲) { 11 } عمامہ قبلہ رُو کھڑے کھڑے باندھئے۔ (کَشْفُ الاِلْتِباس فِی اسْتِحْبابِ اللِّباس لِلشَّیْخ عبدالْحَقّ الدّھلَوی ص۳۸) {13-12} عمامہ میں سنّت یہ ہے کہ ڈھائی گز سے کم نہ ہو، نہ چھ گز سے زیا دہ اور اس کی بندِش گنبد نُما ہو۔ (فتاوٰی رضویہ ج۲۲ص۱۸۶) {15-14} رومال اگربڑا ہو کہ اتنے پیچ آسکیں جوسرکوچھپالیں تووہ عمامہ ہی ہوگیا اور چھوٹا رومال جس سے صرف دوایک پیچ آسکیں لپیٹنا مکروہ ہے (فتاوٰی رضویہ مُخَرَّجہج۷ص ۲۹۹) {16} اگرضرورتاً اتارا اور دوبارہ باندھنے کی نیّت ہوئی تو ایک ایک پیچ کھولنے پر ایک ایک گناہ مٹا یا جائیگا (مُلَخَّص ازفتاوٰی رضویہ مُخَرَّجہ ج۶ص ۲۱۴) {17} مُحَقِّق عَلَی الِاْطلاق ، خاتِمُ المُحَدِّثین ، حضرتِ علّامہ شیخ عبدُالحقّ مُحَدِّث دِہلَوی علیہ ر حمۃ اللّٰہِ القوی فر ما تے ہیں : دَسْتارمُبارَک آنْحَضرَت صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ والہ وسلَّمدَر اَکْثَر سَفَیْد بُوْد وَگاہَے سِیا ہ اَحیا ناً سَبْز۔ نبیِّ اکرم کا عمامہ شریف اکثر سفید ، کبھی سیا ہ اور کبھی سبز ہوتا تھا۔ (کَشْفُ الاِلْتِباس فِی اسْتِحْبابِ اللِّباس ص۳۸دار احیا ء العلوم باب المدینہ کراچی)
اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ سبز رنگ کا عمامہ شریف بھی سبز سبز گنبد کے مکین، رحمۃٌ لِّلْعٰلمین صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے سرِ اَنور پر سجایا ہے، دعوتِ اسلامی نے سبزسبز عمامے کو اپنا شِعار بنایا ہے، سبز سبز عمامے کی بھی کیا بات ہے ! میرے مکّی مَدَنی آقا، میٹھے میٹھے مصطَفٰے صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے روضۂ انور پر بنا ہوا جگمگ جگمگ کرتاگنبد شریف بھی سبز سبز ہے! عاشقانِ رسول کو چاہئے کہ سبز سبز رنگ کے عمامے سے ہر وقت اپنے سرکو ’’ سر سبز ‘‘ رکھیں اور سبز رنگ بھی ’’ گہرا‘‘ ہونے کے بجائے ایسا پیا راپیا را اور نکھرا نکھرا سبز ہو کہ دُور دُور سے بلکہ رات کے اندھیرے میں بھی سبز سبز گنبد کے سبز سبز جلووں کے طفیل جگمگاتا نور برساتا نظر آئے۔ ؎
اپنی قیمتی آراء دینے کے لئے support@dawateislami.net پر ای میل کیجئے یا فیڈ بیک کے بٹن پر کلک کیجئے
ڈونیشن
اپنے عطیات دعوت اسلامی کو دیجئے، آپ کے چندے یعنی ڈونیشن کو کسی بھی جائز، دینی، اصلاحی، فلاحی، روحانی، خیرخواہی، بھلائی اور آمدنی بڑھانے کے جائز اور محفوظ کام میں لگایا جا سکتا ہے تا کہ بڑھتے اخراجات کو پورا کیا جا سکے.