(۱) {اِنَّ الَّذِیْنَ عِنْدَ رَبِّكَ لَا یَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِهٖ وَ یُسَبِّحُوْنَهٗ وَ لَهٗ یَسْجُدُوْنَ۠۩ (۲۰۶) } (پ ۹ اَعْرَاف ۲۰۶)
(۲) {وَ لِلّٰهِ یَسْجُدُ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ طَوْعًا وَّ كَرْهًا وَّ ظِلٰلُهُمْ بِالْغُدُوِّ وَ الْاٰصَالِ۩ (۱۵) } (پ۱۳ رَعْد ۱۵)
(۳) {وَ لِلّٰهِ یَسْجُدُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ مِنْ دَآبَّةٍ وَّ الْمَلٰٓىٕكَةُ وَ هُمْ لَا یَسْتَكْبِرُوْنَ (۴۹) } (پ۱۴ نَحْل ۴۹)
(۴) {اِنَّ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِهٖۤ اِذَا یُتْلٰى عَلَیْهِمْ یَخِرُّوْنَ لِلْاَذْقَانِ سُجَّدًاۙ (۱۰۷) وَّ یَقُوْلُوْنَ سُبْحٰنَ رَبِّنَاۤ اِنْ كَانَ وَعْدُ رَبِّنَا لَمَفْعُوْلًا (۱۰۸) وَ یَخِرُّوْنَ لِلْاَذْقَانِ یَبْكُوْنَ وَ یَزِیْدُهُمْ خُشُوْعًا۩ (۱۰۹) } (پ ۱۵ بَنی اِسْرَائِیْل ۱۰۷۔ ۱۰۹)
(۵) {اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُ الرَّحْمٰنِ خَرُّوْا سُجَّدًا وَّ بُكِیا ۩ (۵۸) } (پ۶ا مَرْیَم۵۸)
(۶) {وَ مَنْ یُّهِنِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ مُّكْرِمٍؕ-اِنَّ اللّٰهَ یَفْعَلُ مَا یَشَآءُؕ۩ (۱۸) } (پ۱۷ حَج ۱۸)
(۷) {وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمُ اسْجُدُوْا لِلرَّحْمٰنِ قَالُوْا وَ مَا الرَّحْمٰنُۗ-اَنَسْجُدُ لِمَا تَاْمُرُنَا وَ زَادَهُمْ نُفُوْرًا۠۩ (۶۰) } (پ۱۹ فُرْقَان۶۰)
(۸) {اَلَّا یَسْجُدُوْا لِلّٰهِ الَّذِیْ یُخْرِ جُ الْخَبْءَ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ یَعْلَمُ مَا تُخْفُوْنَ وَ مَا تُعْلِنُوْنَ (۲۵) اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ۩ (۲۶) } (پ۱۹ نَمْل۲۵۔ ۲۶)
(۹) {اِنَّمَا یُؤْمِنُ بِاٰیٰتِنَا الَّذِیْنَ اِذَا ذُكِّرُوْا بِهَا خَرُّوْا سُجَّدًا وَّ سَبَّحُوْا بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَ هُمْ لَا یَسْتَكْبِرُوْنَ۩ (۱۵) } (پ۲۱سَجْدَہ۱۵)
(۱۰) {فَاسْتَغْفَرَ رَبَّهٗ وَ خَرَّ رَاكِعًا وَّ اَنَابَ۩ (۲۴) فَغَفَرْنَا لَهٗ ذٰلِكَؕ-وَ اِنَّ لَهٗ عِنْدَنَا لَزُلْفٰى وَ حُسْنَ مَاٰبٍ (۲۵) } (پ۲۳صٓ ۲۴۔ ۲۵)
(۱۱) {وَ مِنْ اٰیٰتِهِ الَّیْلُ وَ النَّهَارُ وَ الشَّمْسُ وَ الْقَمَرُؕ-لَا تَسْجُدُوْا لِلشَّمْسِ وَ لَا لِلْقَمَرِ وَ اسْجُدُوْا لِلّٰهِ الَّذِیْ خَلَقَهُنَّ اِنْ كُنْتُمْ اِیا هُ تَعْبُدُوْنَ (۳۷) فَاِنِ اسْتَكْبَرُوْا فَالَّذِیْنَ عِنْدَ رَبِّكَ یُسَبِّحُوْنَ لَهٗ بِالَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ هُمْ لَا یَسْــٴَـمُوْنَ۩ (۳۸) } (پ۲۴ حٰمٓ السَّجْدَۃ۳۷۔ ۳۸)
(۱۲) { فَاسْجُدُوْا لِلّٰهِ وَ اعْبُدُوْا۠۩ (۶۲) } (پ۲۷نَجم۶۲)
(۱۳) {فَمَا لَهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَۙ (۲۰) وَ اِذَا قُرِئَ عَلَیْهِمُ الْقُرْاٰنُ لَا یَسْجُدُوْنَؕ۩ (۲۱) } (پ۳۰ اِنْشِقَاق۲۰۔ ۲۱)
(۱۴) { وَ اسْجُدْ وَ اقْتَرِبْ۠۩ (۱۹) } (پ۳۰عَلَق۱۹)
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
{۱} اگر وُضُو نہ ہو تو قراٰنِ عظیم چُھونے کے لئے وُضو کرنا فرض ہے۔ (نُورُ الْاِیضَاح ص۱۸) {۲} بے چھوئے زَبانی دیکھ کر (بے وُضو) پڑھنے میں کوئی حَرَج نہیں {۳} قراٰنِ مجید چُھونے کے لئے یا سجدہ ٔتلاوت یا سجدۂ شکر کے لئے تَیَمُّم جائز نہیں جب کہ پانی پر قدرت ہو۔ ( بہارِ شریعت ج۱ حصّہ۲ ص۳۵۲) {۴} جس پر غُسل فرض ہو اُس کو قراٰنِ مجید چھونا اگرچِہ اس کا سادہ حاشِیہ یا جِلد یا چَولی چُھوئے یا بے چُھوئے دیکھ کر یا زَبانی پڑھنا یا کسی آیت کا لکھنا یا آیت کا تعویذلکھنا یا ایسا تعویذ چھونا یا ایسی انگوٹھی چُھونا یا پہننا جیسے مُقَطَّعَات ( ) کی انگوٹھی حرام ہے۔ ( بہارِ شریعت ج۱حصّہ۲ ص۳۲۶) {۵} اگر قراٰنِ عظیم جُزدان میں ہو توجُزدان پر ہاتھ لگانے میں حَرَج نہیں یونہی رومال وغیرہ کسی ایسے کپڑے سے پکڑنا جو نہ اپنا تابع ہو نہ قراٰنِ مجید کا تو جائز ہے، کُرتے کی آستین ، دوپٹّے کے آنچل سے یہاں تک کہ چادر کا ایک کونا اس کے مونڈھے (یعنی کندھے) پر ہے دوسرے کونے سے چھُونا حرام ہے کہ یہ سب اس کے تابِع ہیں جیسے چَولی قراٰن مجید کے تابِع تھی۔ (دُرِّمُختار، رَدُّالْمُحتار ج۱ص۳۴۸) {۶} قراٰن کا ترجَمہ فارسی یا اردو یا کسی اور زبان میں ہو اس کے چھونے اور پڑھنے میں قراٰنِ مجید ہی کا سا حُکم ہے۔ ( بہارِ شریعت حصّہ ۲ص۳۲۷) {۷} کتاب یا اخبارمیں آیت لکھی ہو تو اُس آیت پر نیز اُس آیت والے حصّۂ کاغذ کے عین پیچھے بے وضو اور بے غُسلے کو ہاتھ لگانا جائز نہیں {۸} جس کاغذ پر صرف آیت لکھی ہو اور کچھ بھی نہ لکھا ہو اُس کو آگے پیچھے یا کونے وغیرہ کسی بھی جگہ پربے وُضواور بے غُسلا ہاتھ نہیں لگا سکتا۔
کلامِ پاک کے مولا مجھے آداب سکھلا دے
مجھے کعبہ دکھا دے گنبدِ خضرا بھی دکھلا دے
{۹} دینی کتابیں اور ماہنامے وغیرہ چھاپنے والوں کی خدمتوں میں درد بھری مَدنی التجاء ہے کہ سرِورق (TITLE) کے چاروں صفحوں میں سے کسی بھی صفحے پر آیا تِ مبارَکہ یا ان کے ترجَمے نہ چھاپاکریں کہ کتاب یا رسالہ لیتے اُٹھاتے ہوئے بے شمار مسلمان بے خیا لی میں بے وُضو چُھونے میں مُبتلا ہو سکتے ہیں ۔ اس ضِمن میں میرے آقا اعلیٰ حضرت، اِمامِ اَہلسنّت، مولیٰناشاہ امام اَحمد رضا خان علیہِ رَحمۃُ الرَّحمٰن فتاوٰی رضویہ جلد 23صَفْحَہ393 پر فرماتے ہیں : آیۃ کریمہ کو اخبار کی طَبلَق (یعنی اخبار یا رسالے کے بنڈل، پُلندے یا گڈّی کے گرد لپٹے ہوئے کاغذ) یا کارڈ یا لِفافوں پر چھپوانابے ادَبی کو مُستَلزِم (یعنی لازم کرتا) اور حرام کی طرف مُنْجِر (یعنی لے جانے والا) ہے اُس پر چٹھی رَسانوں (یعنی ڈاکیوں ) وغیرہم بے وُضو بلکہ جُنُب (یعنی بے غسل) بلکہ کُفّار کے ہاتھ لگیں گے جو ہمیشہ جُنُب (یعنی بے غسلے) رہتے ہیں اوریہ حرام ہے۔ قال تعالٰی (اللہ تعالٰی نے فرمایا ) لَّا یَمَسُّهٗۤ اِلَّا الْمُطَهَّرُوْنَؕ (۷۹) (ترجَمۂ کنزالایمان: اسے نہ چھوئیں مگر باوُضو) مہریں لگانے کے لئے زمین پر رکھے جائیں گے پھاڑ کر ردّی میں پھینکے جائیں گے ان بے حُرمتیوں پر آیت کا پیش کرنا اس (یعنی چھاپنے یا لکھنے والے ) کا فِعل ہوا۔ ؎
کر دَم ازعَقل سُوا لے کہ بگہ ایمان چِیست
عقل دَرگَوشِ دِلَم گُفت کہ ایمان ادب سست
(میں نے عقل سے یہ سُوال کیا تُو یہ بتا دے کہ ایمان کیا ہے ، عقل نے میرے دل کے کانوں میں کہا کہ ایمان ادب کانام ہے)
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
اگر کسی کتاب کے سرِورق (TITLE) پر آیتِ قراٰنی چھپی ہوئی دیکھیں تو درخواست ہے اچّھی اچّھی نیّتیں کر کے کتاب چھاپنے والے کو مندرجہ بالا تحریر دکھایئے یا اس کی فوٹو کاپی بذریعۂ ڈاک ارسال فرمایئے اور ساتھ میں یہ بھی لکھئے کہ آپ کی فُلاں کتاب کے سرِوَرَق پر آیتِ کریمہ دیکھی تو تحریری طور پر حاضِر ہو کر عرض گزار ہوں کہ برائے کرم! سرِورق پر آیا تِ مبارکہ اور ان کے ترجَمے نہ چھاپئے تا کہ مسلمان بے خیا لی میں بے وضو چھونے سے محفوظ رہیں ۔ جزاکَ اللّٰہُ خیراً۔ اگر پبلیشر بزرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللّٰہُ المبین کا عاشق ہوا تواِن شاءَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ آپ کو دعاؤں سے نواز تے ہوئے آئندہ احتیا ط کی نیّت کا اظہار کریگا۔
محفوظ خدا رکھنا سدا بے اَدَبوں سے
اور مجھ سے بھی سرزد نہ کبھی بے ادَبی ہو
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
{۱} بِغیر تفسیر صرف ترجمۂ قراٰن نہ پڑھا جائے میرے آقا اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کے مبارَک فتوے کے ایک جُز (یعنی حصّے) کا خلاصہ ہے: بغیر علمِ کثیر کے صرف ترجمۂ قُراٰن پڑھ کر سمجھ لینا ممکن نہیں ، بلکہ اس میں نفع کے مقابلے میں نقصان زیا دہ ہے۔ ترجَمہ پڑھنا ہے تو کسی عالِم ماہر کامل سنّی دیندار سے پڑھے۔ (فتاوٰی رضویہ مُحَرَّجہ ج۲۳ ص ۳۸۲ مُلَخَّصاً) {۲} قراٰن پاک کو سمجھنے کے لئے میرے آقا اعلیٰ حضرت، ولیٔ نعمت، اِمامِ اہلسنّت، عظیم البرکت، عظیم المرتبت، پروانۂ شمعِ رِسالت ، مُجَدِّدِ دین ومِلَّت، حامیِ سنّت ، ماحِیِ بدعت، عالمِ شریعت ، پیرِ طریقت، امامِ عشق و محبت ، باعثِ خیر وبرکت، حضرت علامہ مولانا الحاج الحافِظ القاری شاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃُ الرَّحمٰن کا شُہرۂ آفاق ترجَمۂ قراٰن ’’کَنزُالِایمان‘‘ مع تفسیر ’’خَزَائِنُ العِرفَان ‘‘ (از حضرت علامہ مولاناسیِّد نعیمُ الدین مراد آبادی علیہ رحمۃ اللہ الھادی ) حاصِل کیجئے {۳} روزانہ قراٰن پاک کی کم از کم 3آیا ت (مع ترجمہ و تفسیر ) کی تلاوت کے مَدَنی انعام ( ) پر عمل کیجئے ، ان شاء اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اس کی برکتیں آپ خود ہی دیکھ لیں گے{۴} دعوتِ اسلامی کے تنظیمی انداز کے مطابِق ہر مسجد کو ایک ذیلی حلقہ قرار دیا گیا ہے۔ تمام ذیلی حلقوں میں روزانہ نمازِ فجر کے بعد اجتماعی طور پر تین آیا ت کی تلاوت مع ترجمۂ کنز الایمان و تفسیر خزائن العرفان کے مَدَنی حلقے کا ہَدَف ہے ۔ اگر مُیسَّر ہو تو اسلامی بھائی اس میں شرکت کی سعادت پائیں ۔
’’کنزالایمان‘‘ اے خدا میں کاش! روزانہ پڑھوں
پڑھ کے تفسیر اِس کی پھر اُس پر عمل کرتا رہوں
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
{۱} اگرمُصْحَف (یعنی قراٰن) شریف پُرانا ہوگیا ، اس قابِل نہ رہاکہ اس میں تِلاوت کی جائے اوریہ اَندیشہ ہے کہ اِس کے اَوراق مُنْتَشِرہوکرضائِع ہوں گے توکسی پاک کپڑے میں لَپیٹ کراحتِیا ط کی جگہ دَفْن کیا جائے اور دَفْن کرنے میں اس کیلئے لَحَدبنائی جائے (یعنی گڑھاکھود کر جانِبِ قِبلہ کی دیوار کو اِتنا کھودیں کہ سارے مُقَدَّس اَوراق سما جائیں ) تاکہ اس پرمِٹّی نہ پڑے یا (گڑھے میں رکھ کر) اُس پرتَخْتہ لگاکرچَھت بناکرمِٹّی ڈالیں کہ اس پرمِٹّی نہ پڑے، مُصْحَف شریف پُرانا ہوجائے تواُس کوجَلایا نہ جائے۔ ( بہارِ شریعتحصّہ ۱۶ ص۱۳۸ مکتبۃ المدینہ بابُ المدینہ کراچی) {۲} مُقَدَّس اَوْرَاق کم گہرے سَمُندر، دریا یا نہرمیں نہ ڈالے جائیں کہ عُمُوماً بہ کر کَنارے پر آجاتے اور سخت بے ادبیا ں ہوتی ہیں۔ ٹھنڈا کرنے کاطریقہ یہ ہے کہ کسی تھیلی یا خالی بوری میں بھر کر اُس میں وَزنی پتّھر ڈالدیا جائے نیز تَھیلی یا بوری پرچند جگہ اس طرح چِیرے لگائے جائیں کہ اُس میں فوراً پانی بھر جائے اور وہ تہ میں چلی جائے ورنہ پانی اَندر نہ جانے کی صُورت میں بعض اَوقات مِیلوں تک تَیرتی ہوئی کَنارے پَہُنچ جاتی ہے اور کبھی گنوار یا کُفّار خالی بوری حاصِل کرنے کے لالَچ میں مُقَدَّس اَوراق کَنارے ہی پر ڈھیرکر دیتے ہیں اور پھراِتنی سخْت بے اَدَبِیا ں ہوتی ہیں کہ سُن کر عُشّاق کا کلیجہ کانپ اُٹھے! مُقَدَّس اَوراق کی بوری گہرے پانی تک پَہُنچانے کیلئے مسلمان کشتی والے سے بھی تعاوُن حاصِل کیا جاسکتا ہے مگر بوری میں چِیرے ہر حال میں ڈالنے ہوں گے۔
میں ادب قراٰن کا ہر حال میں کرتا رہوں
ہر گھڑی اے میرے مولیٰ تجھ سے میں ڈرتا رہوں
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
{۱} قراٰنِ مجید کو جُزدان و غِلاف میں رکھنا ادب ہے۔ صَحابہ و تابِعین رضی اﷲ تعالیٰ عنہم اجمعین کے زمانے سے اس پر مسلمانوں کا عمل ہے۔ (بہارِ شریعت حصّہ ۱۶ص۱۳۹) {۲} قراٰنِ مجید کے آداب میں یہ بھی ہے کہ اس کی طرف پیٹھ نہ کی جائے، نہ پاؤں پھیلائے جائیں ، نہ پاؤں کو اس سے اونچا کریں ، نہ یہ کہ خود اونچی جگہ پر ہواور قراٰن مجید نیچے ہو۔ (اَیضاً) {۳} لُغَت و نَحو و صَرف (تینوں عُلُوم) کاایک (ہی ) مرتبہ ہے، ان میں ہر ایک (علم) کی کتاب کو دوسرے کی کتاب پر رکھ سکتے ہیں اور ان سے اوپر عِلمِ کلام کی کتابیں رکھی جائیں ان کے اوپرفِقْہ اور احادیث و مَوَاعِظ و دعواتِ ماثُورہ (یعنی قراٰن واحادیث سے منقول دعائیں ) فِقہ سے اوپر اور تفسیر کو ان کے اوپر اور قراٰنِ مجید کو سب کے اوپر رکھئے۔ قرآن مجید جس صَندُوق میں ہو اس پر کپڑاوغیرہ نہ رکھا جائے۔ (فتاوٰی عالمگیری ج۵ص۳۲۳۔ ۳۲۴ ) {۴} کسی نے محض خیرو بَرَکت کے لیے اپنے مکان میں قراٰنِ مجید رکھ چھوڑا ہے اور تلاوت نہیں کرتا تو گناہ نہیں بلکہ اس کی یہ نیّت باعثِ ثواب ہے۔ (فتاوی قاضی خان ج۲، ص۳۷۸) {۵} بے خیا لی میں قراٰنِ کریم اگر ہاتھ سے چُھوٹ کر یا طاق وغیرہ پر سے زمین پر تشریف لے آیا (یعنی گڑ پڑا) تو نہ گناہ ہے نہ کوئی کفّارہ {۶} گستاخی کی نیّت سے کسی نے معاذاللہ عَزَّوَجَلَّ قراٰنِ پاک زمین پر دے مارا یا بہ نیّتِ توہین اِس پر پاؤں رکھ دیا تو کافِر ہو گیا {۷} اگر قراٰنِ مجید ہاتھ میں اٹھا کر یا اس پر ہاتھ رکھ کرحَلَف یا قَسَم کا لفظ بول کر کوئی بات کی تو یہ بَہُت ’’سخت قَسَم‘‘ ہوئی اور اگرحَلَف یا قَسَم کالفظ نہ بولا تو صِرف قراٰنِ کریم ہاتھ میں اُٹھا کر یا اُس پر ہاتھ رکھ کر بات کرنا نہ قَسَم ہے نہ اس کا کوئی کفّارہ ۔ (فتاوٰی رضویہ مُخَرَّجہ ج۱۳ ص ۵۷۴ ۔ ۵۷۵ مُلَخَّصاً ) {۸} اگر مسجِد میں بَہُت سارے قراٰنِ پاک جمع ہو گئے اور سب استِعمال میں نہیں آ رہے ، رکھے رکھے بوسیدہ ہو رہے ہیں تب بھی انہیں ھَدِیَّۃًدے کر (یعنی بیچ کر) ان کی قیمت مسجِد میں صَرف نہیں کر سکتے۔ البتّہ ایسی صورت میں وہ قراٰنِ پاک دیگر مساجِد و مدارِس میں رکھنے کیلئے تقسیم کئے جا سکتے ہیں ۔ (فتاوٰی رضویہ مُخَرَّجہ ج۱۶ ص ۱۶۴ مُلَخَّصاً )
ہر روز میں قراٰن پڑھوں کاش خدایا
اللہ! تلاوت میں مرے دل کو لگا دے
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
{۱} سرکارِ نامدار صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کا ارشادِ مشکبار ہے: مُردہ کا حال قبر میں ڈوبتے ہوئے انسان کی مانند ہے کہ وہ شدّت سے اِنتظار کرتا ہے کہ باپ یا ماں یا بھائی یا کسی دوست کی دعا اس کو پہنچے اور جب کسی کی دعا اسے پہنچتی ہے تو اس کے نزدیک وہ دنیا ومَافِیْھا (یعنی دنیا اور اس میں جو کچھ ہے) سے بہتر ہوتی ہے۔ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ قبر والوں کو ان کے زندہ مُتَعَلِّقین کی طرف سے ہَدِیّہ کیا ہوا ثواب پہاڑوں کی مانند عطا فرماتا ہے، زندوں کا ہدیّہ (یعنی تحفہ) مُردوں کیلئے ’’دعائے مغفرت کرنا ہے‘‘۔ ( شُعَب الاِْیمان ج۶ص۲۰۳حدیث۷۹۰۵) {۲} طَبَرانِی میں ہے: ’’ جب کوئی شخص میِّت کو اِیصال ثواب کرتا ہے تو جبرئیل علیہ السلام اسے نُورانی طباق میں رکھ کر قبر کے کَنارے کھڑے ہوجاتے ہیں اور کہتے ہیں : ’’ اے قبر والے ! یہ ہَدِیّہ (تحفہ) تیرے گھر والوں نے بھیجا ہے قَبول کر۔ ‘‘ یہ سن کر وہ خوش ہوتا ہے اور اس کے پڑوسی اپنی محرومی پر غمگین ہوتے ہیں ۔ ( اَلْمُعْجَمُ الْاَوْسَط لِلطَّبَرانِیّ ج۵ ص۳۷ حدیث۶۵۰۴ دار الفکر بیروت)
قبر میں آہ! گھپ اندھیرا ہے
فضل سے کردے چاندنا یا رب!
{۳} تلاوتِ قراٰن کے ساتھ ساتھ فرض، واجِب ، سنّت ، نَفل، نَماز، روزہ، زکوٰۃ، حج، بیا ن، درس، مَدَنی قافلے میں سفر، مَدَنی انعامات، نیکی کی دعوت، دینی کتاب کا مُطالَعَہ، مَدَنی کاموں کیلئے اِنفرادی کوشِش وغیرہ ہر نیک کام کا ایصالِ ثواب کرسکتے ہیں ۔