30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وفات ومدفن:
شوال المکرم 1393ھ مطابق نومبر 1973ءکو آپ بیمارہوگئے ،آپ کو لاہورکے میوہسپتال میں داخل کروادیا گیا ،علاج کا شروع ہوامگرمرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی کے مصداق افاقہ نہ ہوااورمفتی صاحب اسی بیماری میں 24 شوال 1393ھ/ 20 نومبر 1973ءکو میوہسپتال لاہور میں رات اڑھائی بجے شب وِصال فرماگئے، نمازجنازہ مفتی اعظم پاکستان حضرت علامہ سیدابوالبرکات احمدقادری صاحب نے پڑھائی ۔(111) تقریبا پچاس ہزارافرادنے آپ کےجنازے میں شرکت کی ۔(112) آپ کی خواہش کے مطابق میانی قبرستان لاہور میں دفن کیا گیا ۔(113)
مفتی اعجازولی صاحب کا مزار:
راقم الحروف برادرِ اسلامی حاجی محمد ارشدعطاری صاحب (114)کے ہمراہ مفتی صاحب کے مزارپر حاضری کا شرف حاصل کرچکا ہے ۔لاہورمیں ملتان روڈ اورفیروزپورروڈ کے درمیان بہاولپورروڈ ہے جوچوبرجی سے مزنگ جاتے ہوئے میانی قبرستان کے اندرسے گزرتی ہے ،اگرہم چوبرجی ملتان روڈ کی جانب سے آئیں تو بائیں طرف غازی علم الدین شہید(115) کے مزارکا بورڈ نظرآتاہے اس سےآگے بہاولپورروڈ پر ہی آئیں تو واصف علی واصف کے مزارسے پہلے بائیں جانب برلب روڈ بالمقابل مزار مہر محمد صوبہ(116) مولانا غلام محمدترنم (117) اورمولانامفتی سید غلام معین الدین نعیمی (118) کے مزارات ہیں ان دونوں کے سرہانے یعنی جانبِ شمال چندقدم چلنے کے بعدمفتی اعجازولی خان صاحب کا مزار ہے ۔(119) مزارکے کتبے پرآپ کا نام ان الفاظ کے ساتھ ہے : استاذالعلمافقیہ العصرحضرت مفتی محمداعجازولی خان رحمۃ اللہ علیہ،شیخ الحدیث دارالعلوم انجمن نعمانیہ لاہوروجامعہ نظامیہ رضویہ لاہورومہتمم مدرسہ حامدیہ رضویہ وخطیب جامعہ حامدیہ رضویہ عمرروڈ اسلام پورہ ۔ اس کے بعد مفتی محمدابراہیم خوشترقادری صاحب کے لکھے ہوئے شعرکنداہیں:
رخصت ہواجہان سے یہ کوئی باکمال بوجھل ہوئی زمین توفلک غم سے ہے نڈھال
عقبیٰ کی فکردین کا جس کو رہا ملال "بادابخیرعاقبت"اس کا سن ِ وصال (120)
سب سے نیچے لکھا ہے منجانب بیٹا:ظفرپاشارضوی
حواشی ومراجع:
(1) اعلیٰ حضرت ،مجدددین وملت، امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت10شوال 1272ھ مطابق6جون 1856ءکو بریلی شریف(یو۔پی) ہند میں ہوئی، یہیں 25 صفر 1340 ھ مطابق28،اکتوبر1921ءکو وصال فرمایا۔ مزار جائے پیدائش میں مرجع خاص وعام ہے۔آپ حافظ قرآن، پچاس سے زیادہ جدیدوقدیم علوم کے ماہر،فقیہ اسلام ،محدث وقت ،مصلح امت، نعت گوشاعر، سلسلہ قادریہ کے عظیم شیخ طریقت، تقریبا ایک ہزارکتب کے مصنف، مرجع علمائے عرب وعجم،استاذالفقہاومحدثین ،شیخ الاسلام والمسلمین ،مجتہدفی المسائل اور چودہویں صدی کی مؤثر ترین شخصیت کے مالک تھے۔ کنزالایمان فی ترجمۃ القرآن،فتاویٰ رضویہ (33جلدیں)، جد الممتارعلی ردالمحتار(7 جلدیں،مطبوعہ مکتبۃ المدینہ کراچی) اور حدائق بخشش آپ کی مشہور تصانیف ہیں۔( حیاتِ اعلیٰ حضرت، 1/58، 3/295،مکتبۃ المدینہ،تاریخِ مشائخِ قادریہ رضویہ برکاتیہ،282، 301)
(2)حافظ کاظم علی خان ،درباراودھ کی طرف سے بدایون کے تحصیل دار(سٹی مجسٹریٹ)تھے ،دوسوفوجیوں کی بٹالین آپ کی خدمت میں رہتی تھی ،آپ کو آٹھ گاؤں معافی جاگیرمیں ملےتھے ، مال ومنصب کے باوجودآپ کا میلان دین کی جانب تھا،آپ حافظ قرآن اورحضرت علامہ شاہ نورالحق قادری رازقی فرنگی محلی (متوفی 1237ھ مطابق1882ء)کے مریدوخلیفہ تھے ،ہرسال بارہ ربیع الاول کو محفل میلادکیا کرتےتھے جوخانوادہ رضویہ میں اب بھی ہوتی ہے۔(تجلیات تاج الشریعہ ،83،84)
(3)مفتی اعجازولی خان کا تذکرہ جن کتابوں میں ہے ان میں سے بعض میں اعلیٰ حضرت کے دادامولانا رضا علی خان کوحکیم ہادی علی خان کاوالدلکھا گیا ہے جوکہ درست نہیں ،مفتی اعجازولی خان صاحب کے دادا حکیم ہادی علی خان ،امام العلما مولانا رضا علی خان صاحب کے بھائی رائیس الحکماءحکیم تقی علی خان کے بیٹے ہیں ۔
(4) حیات اعلیٰ حضرت ،مکتبہ رضویہ کراچی،16۔مزیدمعلومات کے لیے راقم کا مقالہ تلمیذ اعلیٰ حضرت مفتی تقدس علی خان ایک عہدسازشخصیت کا مطالعہ فرمائیں ۔
(5)سِراجُ العَارِفِین حضرت مولانا سیّد ابوالْحُسَین احمد نُوری رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہِ عالِمِ دین،شیخِ طریقت اورصاحِبِ تصانیف ہیں۔1255ھ مطابق1840 ءمیں پیدا ہوئے اور 11رجب 1324ھ مطابق31اگست 1906ءمیں وِصال فرمایا۔ مزارِ پُراَنوار مارہرہ شریف (ضلع ایٹہ یو پی) ہِند میں ہے۔ ”سِرَاجُ الْعَوَارِفِ فِیْ الْوَصَایَا وَالْمَعَارِفِ“ آپ کی اہم کتاب ہے۔(تذکرۂ نوری، ص 146،275،218)
(6) حیات مفتی تقدس علی خان ،تحریک اہل سنت کراچی،5 ۔
(7)حیات مفتی تقدس علی خان ،تحریک اہل سنت کراچی،5 ، ماہنامہ معارف رضا کراچی،جولائی 2013ء،ص57،حیات اعلیٰ حضرت ،مکتبہ رضویہ کراچی،16۔
(8)اعلیٰ حضرت آپ کے سگے ماموں یعنی محرم تھے کیونکہ آپ اعلیٰ حضرت کی ہمشیرہ حجاب بیگم کی بیٹی تھیں ۔ حیات اعلیٰ حضرت ،مکتبہ رضویہ کراچی،16۔
(9)حیاتِ اعلیٰ حضرت از مولانا ظفر الدین بہار ی مکتبہ نبویہ لاہور ص885 ۔
(10)تذکرہ اکابرِ اہلِ سنت، ص 63-65
(11)تذکرہ جمیل ،240
(12)مقالات رضا ،1/72
(13)یہ بریلی شریف کے رہنے والے اوراعلیٰ حضرت کے مرید تھے ،مزید حالات نہ مل سکے ۔
(14)ان کے حالات سے بھی آگاہی نہ ہوسکی ۔
(15)تجلیات تاج الشریعہ ،96
(16) صاحب ِ بہارِ شریعت صدرُالشّریعہ حضرت علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللّٰہ علیہ کی ولادت 1300ھ مطابق1883ء کو مدینۃ العُلَماءگھوسی (ضلع مؤ،یوپی)ہند میں ہوئی اور 2 ذیقعدہ1376ھ مطابق31مئی 1957ء کووصال فرمایا،مزارمبارک گھوسی میں ہے۔ آپ جیّدعالم ،بہترین مفتی ،مثالی مدرّس،متقی وپرہیزگار ،استاذالعُلَماء،مصنفِ کتب وفتاویٰ ، مؤثرشخصیت کے مالک اوراکابرینِ اہلِ سنّت سے تھے۔اسلامی معلومات کا انسائکلوپیڈیا بہارِ شریعت آپ کی ہی تصنیف ہے۔(تذکرہ صدرالشریعہ،5، 41وغیرہ)
(17)شیخ الحدیث علامہ عبدالمصطفی الازہری بن مفتی امجدعلی اعظمی کی ولادت محرم 1334ھ مطابق1918ءکو بریلی شریف میں ہوئی اورکراچی میں 16ربیع الاول 1410ھ مطابق 18،اکتوبر1989ءکو وصال فرمایا ،دارالعلوم امجدیہ کے مشرقی جانب مزارہے ۔آپ جیدعالم دین ،فاضل جامعۃ الازہرمصر،نائب شیخ الحدیث جامعۃ الاشرفیہ مبارکپور،شیخ الحدیث دارارالعلوم کراچی اورسابقہ ممبرقومی اسمبلی پاکستان تھے ۔(سیرت صدرالشریعہ ،224تا226)
(18)حیاتِ اعلیٰ حضرت از مولانا ظفر الدین بہاری مکتبہ نبویہ مطبوعہ لاہور ص883۔
(19)حیات اعلیٰ حضرت از مولانا ظفرالدین بہاری مکتبہ نبویہ لاہور ص 884۔
(20) دارالعلوم (مدرسہ اہل سنت وجماعت) منظراسلام بریلی شریف عالمی شہرت یافتہ اسلامی درس گا ہ ہے جسے اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قادری رحمۃ اللہ علیہ نے شہر بریلی(یوپی ہند) میں(غالباماہ شعبان المعظم) 1322ھ مطابق اکتوبر1904ء میں اسے قائم فرمایا ، اس مدرسے کے بانی اعلیٰ حضرت ، سربراہ حجۃ الاسلام مولانا حامدرضا قادری اورپہلے مہتمم برادراعلیٰ حضرت مولانا حسن رضا خان مقررہوئے ، ہر سال اس ادارے سے فارغ التحصیل ہونے والے حفاظ قرآن، قراء، عالم اور فاضل گریجویٹ طالب علموں کی ایک بڑی تعداد ہے۔(صدسالہ منظراسلام نمبرماہنامہ اعلیٰ حضرت بریلی،ماہ مئی 2001ء،قسط 1ص28،132)
(21) تِلْمیذِ اعلیٰ حضرت، مفتی تَقدُّس علی خان رَضَوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی، عالِمِ باعمل، شیخُ الحدیث اور اُستاذُ العُلَما ہیں۔ رجب المرجب 1325ھ مطابق اگست 1907ء میں بریلی شریف میں پیدا ہوئے اور 3رجب 1408ھ مطابق22فروری 1988ءمیں پیرجو گوٹھ ضلع خیرپور میرس سندھ میں وِصال فرمایا، مزار یہاں کے قبرستان میں ہے۔(مفتیِ اعظم اور ان کے خلفاء، ص 268، 273)
(22)ان کے حالات سے آگاہی نہ ہوسکی ۔
(23)شہزادۂ استاذِ زمن، استاذُ العلما حضرتِ مولانا محمد حسنین رضا خان رضوی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 1310 ھ مطابق1893 ء کو بریلی شریف (یوپی) ہند میں ہوئی۔ آپ اعلیٰ حضرت امام احمدرضاخان صاحب کے بھتیجے، داماد، شاگرد و خلیفہ، جامع معقول و منقول،ذہین وفطین ومحنتی، کئی کُتُب کے مصنف، مدرسِ دار العلوم منظرِ اسلام، صاحبِ دیوان شاعر، بانیِ حسنی پریس و ماہنامہ الرضا و جماعت انصار الاسلام تھے۔ وصال5 صَفَر 1401ھ مطابق14ستمبر1980ء میں فرمایا اور مزار بریلی شریف میں ہے۔ (تجلیات تاج الشریعہ، ص95، صدر العلما محدث بریلوی نمبر، ص77تا81)
(24) شہزادۂِ اعلیٰ حضرت، مفتیِ اعظم ہند، حضرت علّامہ مولانا مفتی محمدمصطفےٰ رضا خان نوری رضوی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 22ذوالحجہ 1310ھ مطابق 7جولائی 1893ء کورضا نگر محلّہ سوداگران بریلی (یوپی،ہند) میں ہوئی۔ آپ فاضل دارالعلوم منظرِ اسلام بریلی شریف، جملہ علوم و فنون کے ماہر، جید عالِم، مصنفِ کتب، مفتی و شاعرِ اسلام، شہرۂ آفاق شیخِ طریقت، مرجعِ علما و مشائخ و عوامِ اہلِ سنّت تھے۔ 35سے زائد تصانیف و تالیفات میں سامانِ بخشش اور المکرمۃ النبویۃ فی الفتاوی المصطفویۃ المعروف فتاویٰ مفتی اعظم (یہ چھ جلدوں پرمشتمل ہے اس میں پانچ سوفتاویٰ اور22رسائل ہیں )مشہور ہیں۔ 14 محرّمُ الحرام 1402ھ /13نومبر1981ءمیں وصال فرمایا اور بریلی شریف میں والدِ گرامی امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کے پہلو میں دفن ہوئے۔(جہانِ مفتی اعظم، ص64تا130)
(25)مولاناالحاج سردارعلی خان عزومیاں کی ولادت بریلی میں تخمینا1320ھ مطابق1902ء کو ہوئی اور صفرالمظفر 1374ھ مطابق اکتوبر1954ءکو مدینۃ الاولیا ملتان میں وصال فرمایا ، شاہ شمس قبرستان(قدیم خانیوال روڈ،ملتان) میں برلب سٹرک دفن کیاگیا ۔ آپ تلمیذومرید اعلیٰ حضرت ، عالم دین ،فاضل ومدرس دارالعلوم منظراسلام بریلی شریف ،خلیفہ حجۃ الاسلام علامہ حامدرضا ،استاذالعلمااورعبادت گزارتھے ۔
(26) الیواقیت المہریہ فی شرح الثورۃ الہندیہ،115۔ اکابرتحریک پاکستان صفحہ 340 میں لکھا ہے:’’ مفتی اعجازولی خان صاحب نے تفسیرجلالین حضرت محدثِ پاکستان مولانا سرداراحمدلائل پوری رحمۃ اللہ علیہ سے پڑھیں ۔‘‘یہ بات درست نہیں ۔
(27) صدرالشریعہ مفتی امجدعلی اعظمی کے مختصرحالات حاشیہ 16 میں دیکھئے۔
(28)مدرسہ عربیہ حافظیہ سعیدیہ دادوں ضلع علی گڑھ کے بانی نواب ابوبکرخان شیروانی ہیں ،جورئیس،دین دار،حافظ محمد علی خیرآبادی کے مریدتھے ،ان کے انتقال کےبعدبانی مدرسہ کے حقیقی بھائی حاجی محمدخان شیروانی (جوکہ حافظ خیرآبادی کے مرید،پابندصوم وصلوۃ اوراسلامی شاعرتھے ،ان کا مجموعہ کلام دیوانِ حافظی ہے ۔)متولی ہوئے ۔اس مدرسے کی اہم خصوصیت یہ تھی کہ اساتذہ طلبہ کی تمام ضروریات احسن اندازسے پوری کی جاتی تھی ۔مفتی امجدعلی اعظمی ثانی الذکرکے اصرارپر یہاں بطورصدرالمدرسین وشیخ الحدیث 1355ھ مطابق 1936ء کوتشریف لائے اور1362ھ مطابق 1943ء تک یہاں سات سال رہے ۔(ماہنامہ اشرفیہ ،صدرالشریعہ نمبر،اکتوبر،نومبر1995ء،80۔سیرت صدرالشریعہ ،50تا53)
(29)تذکرہ جمیل ،240۔استاذالعلما،زینت القراء حضرت مولاناغلام محی الدین رضوی شیری صاحب حضرت شاہ جی محمدشیرمیاں رحمۃ اللہ علیہ کےپوتے اور نواسے تھے ،آپ کی پیدائش پیلی بھیت میں ہوئی اور7رجب 1405ھ مطابق 28فروری 1985ء کو ہوا،مزارہلدوانی نینی تال ہند میں ہے ،آپ حافظ قرآن ،بہترین قاری،علامہ وصی احمدمحدث سورتی،حجۃ الاسلام مفتی حامدرضا خان اورصدرالشریعہ مفتی امجدعلی اعظمی کے شاگرد،حضرت شاہ جی کے مرید اورمفتی اعظم ہندمفتی مصطفی رضا خان کے خلیفہ ہیں ،کئی مدارس میں تدریس بعد ہلدوانی (ضلع نینی تال ،یوپی ہند)میں مدرسہ اشاعت الحق بنایا،آستانہ شیریہ کے نظام کو بھی دیکھا۔آپ استاذالعلما،شیخ الحدیث ،صاحب دیوان شاعراورصاحب تصنیف ہیں ۔(مفتی اعظم ہنداوران کے خلفا،530تا535)
(30) شہزادۂ اعلیٰ حضرت،حُجّۃُ الاسلام مفتی حامد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ علامۂ دہر، مفتی اسلام ،نعت گوشاعر،اردو،ہندی ،فارسی اورعربی زبانوں میں عبوررکھنے والےعالم دین ، ظاہری وباطنی حسن سےمالامال ،شیخ طریقت ،جانشینِ اعلیٰ حضرت اوراکابرین اہل سنت سے تھے ۔ بریلی شریف میں ربیعُ الاول1292ھ مطابق اپریل1875ء میں پیداہوئے اور17جمادی الاولیٰ 1362ھ مطابق 22مئی 1943ءمیں وصال فرمایا ، مراز شریف خانقاہِ رضویہ بریلی شریف ہند میں ہے، تصانیف میں فتاویٰ حامدیہ مشہورہے۔(فتاویٰ حامدیہ،ص48،79)
(31)تذکرہ جمیل ،240، تذکرہ اکابرِ اہلِ سنت، ص 63،الیواقیت المہریہ فی شرح الثورۃ الہندیہ،115،116،اکابرتحریک پاکستان،340۔آپ کا تذکرہ جب کتابوں میں ہے ،ان میں آپ کے تعلیمی ایام کے بارے میں مختلف سنین درج ہیں ،راقم نے دیگرکتب سے استفادہ کرتے ہوئے اس مضمون میں تواریخ درج کیں ہیں ۔
(32)عِلْمِ جَفْر [عِل + مے + جَفْر[وہ علم جس میں حروف و اعداد کے ذریعے سےمختلف احوال کرتے ہیں۔
(33)وہ علم جس میں تاریخ گوئی کے اصول وقواعد اور استخراج کے طریقے سیکھائے جاتے ہیں ۔اعدادشمس اوراعدادقمری کی مددسے تاریخ بیان کی جاتی ہے ۔
(34) عالمی مبلغِ اسلام علّامہ محمد ابراہیم خَوشْتر صِدّیقی رضوی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت1348ھ/1930ء کو بنڈیل (ضلع چوبیس پرگنہ،مغربی بنگال) ہند میں ہوئی۔آپ حافظ قرآن، تَلمیذِ محدّثِ اعظم پاکستان، خلیفہ حجۃ الاسلام و قُطبِ مدینہ، مُصنّف و شاعر، بہترین مدرّس، باعمل مبلغ، بانی سنّی رضوی سوسائٹی انٹرنیشنل اور امام و خطیب جامع مسجد پورٹ لوئس ماریشس تھے۔تصانیف میں ”تذکِرَۂ جمِیل“ اہم ہے۔5جُمادَی الاُخریٰ 1423ھ/24،اگست2002ء کو ماریشس میں وِصال فرمایا مَزارمُبارک سنّی رضوی جا مع مسجد عیدگاہ پورٹ لوئس ماریشس میں ہے۔(ماہنامہ اعلیٰ حضرت بریلی شریف، رجب 1435ہجری،ص 56،57،مفتیِ اعظم اور ان کے خلفاء، ص 125تا 129)
(35) تذکرہ جمیل ،240،241۔
(36) تذکرہ جمیل ، 183۔
(37) سلطانُ الہند ، حضرت خواجہ غریب نواز معین الدین سیّد حَسن سَنْجَری رحمۃ اللہ علیہکی ولادت537ھ میں سجستان (موضع سنجر) ایران میں ہوئی۔ سلسلۂ عالیہ چشتیہ کے عظیم المَرْتَبَت شیخ، نجیبُ الطرفین سیّد، صاحبِ دیوان شاعراورمشہورترین ولی اللہ ہیں۔ لاکھوں کفّار آپ کے دستِ اقدس پر اسلام لائے۔ 6رجب627ھ کووصال فرمایا، مزارمبارَک اجمیر شریف (راجستھان) ہند میں دُعاؤں کی قبولیت کا مقام ہے۔ (اخبار الاخیار، ص 23، اقتباس الانوار، ص 344 ،385)
(38)دار العلوم نعمانیہ لاہور کی ایک قدیم اور دینی تعلیم کی معیاری درسگاہ ہے۔یہ امام ابو حنیفہ کی نسبت نعمانیہ کہلاتا ہے،موجودہ عمارت بالمقابل ٹبی تھانہ اندرون ٹیکسالی گیٹ لاہور میں ہے،اس کا آغاز1306ھ مطابق1888ءکو مسجدبوکن خان موچی گیٹ میں ہوا،اس کا عربی حصہ13شوال 1314ھ مطابق 17مارچ1897 ء کو بادشاہی مسجدمیں منتقل کیا گیا،جب اندرون ٹکسالی گیٹ میں دارالعلوم نعمانیہ کادارالاقامہ تعمیرہوگیا تو اس کے پانچ سال بعد اس کا عربی حصہ بادشاہی مسجدسےیہاں منتقل ہوگیا،اس کے 43ویں جلسے کی روئیدادسے معلوم ہوتاہے شعبان1349ھ/دسمبر1930ءتک اس سےچارہزاردوسوتین(4203 ) علمافارغ التحصیل ہوچکے تھے۔( امام احمدرضا اورعلمائےلاہور ،26،صدسالہ تاریخ انجمن نعمانیہ لاہور306،73)
(39)مجالس علما،118،119
(40)جامعہ محمدی شریف پنجاب کے شہرچنیوٹ کے ایک قصبے بھوانہ میں وسیع وعریض اراضی پر قائم ایک اسلامی درس گاہ ہے جس میں دینی ودنیاوی تعلیم دی جاتی ہے ،اس دارالعلوم کاتعلق ونسبت آستانہ عالیہ سیال شریف (ضلع سرگودھا )سے ہے۔
(41)شیخ الاسلام حضرت خواجہ محمد قمرالدین سیالوی چشتی کی ولادت 1324ھ مطابق1906ء سیال شریف ضلع سرگودھا،پنچاب میں ہوئی آپ کا وصال 17رمضان1401ھ مطابق 19جولائی1981ء سیال کو ہوا،آپ کا مزارسیال شریف ضلع سرگودھا میں ہے ۔آپ خانقاہ سیال شریف کے چشم وچراغ،جیدعالم دین، مصنف کتب،مجاہدتحریک پاکستان،مرجع علمااورفعال شخصیت کے مالک تھے۔( نور نور چہرے، 333تا347)
(42)فوزالمقال فی خلفاء پیرسیال ،6/575۔
(43)دارالعلوم مظہراسلام بریلی شریف مرکزی جامع مسجدبی بی جی صاحبہ ،بریلی شریف کے محلہ بہاری پور کےبزریہ (یعنی چھوٹےبازار) میں واقع ایک اسلامی درس گا ہ ہے ،یہ 1356ھ مطابق1937ء میں مفتی اعظم ہندمفتی محمدمصطفی رضا خان قادری کی سرپرستی میں قائم ہوئی،بدرالطریقہ حضرت مولانا عبدالعزیز خان بجنوری اس کے پہلے صدرالمدرسین اورمحدث اعظم پاکستان علامہ سرداراحمدقادری چشتی صاحب اس کے منتظم اورشیخ الحدیث مقررہوئے،اس زمانے میں دارالعلوم کی مستقل عمارت نہیں تھی ،مسجدکےحجروں اورصحن میں پڑھائی کا سلسلہ ہوتاتھا۔( حیات محدث اعظم ،45)
(44)یہ مدرسہ حضرت مولانا سید غوث علی شاہ پانی پتی رحمۃاللہ علیہ کے مزار(بمقام پانی پت،صوبہ ہریانہ ،ہند)کے ساتھ قائم تھا ۔
(45)تذکرہ علماء اہل سنت وجماعت لاہور،367۔
(46) محدثِ اعظم پاکستان حضرت علّامہ مولانا محمد سردار احمد قادری چشتی علیہ رحمۃ اللہ القَوی کی ولادت 1323ھ مطابق 1905ء میں ضلع گورداسپور (موضع دیال گڑھ مشرقی پنجاب) ہند میں ہوئی اور یکم شعبان 1382ھ مطابق 28دسمبر1962ءکو وصال فرمایا،آپ کا مزار مبارک فیصل آباد (پنجاب) پاکستان میں ہے۔آپ استاذالعلماء، محدثِ جلیل، شیخِ طریقت، بانیِ سنّی رضوی جامع مسجد و جامعہ رضویہ مظہرِ اسلام سردارآباد اور اکابرینِ اہلِ سنّت میں سے تھے۔(حیاتِ محدثِ اعظم، ص334،27)
(47)تذکرہ محدث اعظم پاکستان ،88تا90۔
(48)کل ہند جماعت رضائے مصطفی کےبانی وسرپرست اعلیٰ حضرت امام احمدرضا خان تھے ، یہ 7ربیع الاخر1339ھ مطابق 17دسمبر1920 ء کو بنائی گئی،اعلیٰ حضرت کے وصال کے بعد یکے بعددیگرے آپ کے صاحبزادگان حجۃ الاسلام علامہ حامدرضا خان اورمفتی اعظم ہند علامہ محمدمصطفی رضا خان سرپرستی وقیادت فرمائی ، اس کا مقصد تقریروتحریرکے ذریعے اسلام کی حفاظت کرنا ،عوام اہل سنت کے دین وایمان کی حفاظت کے لیے جدوجہدکرناتھا، اس کا اہم ترین کارنامہ مسلمانوں کو مرتدبنانے ولہ شدھی تحریک کے اثرات سے بچاکر باعمل وپانندصوم وصلوۃ بناناتھا ، اس کے کئی شعبے تھے مثلا شعبہ ٔ اشاعت کتب،شعبہ ٔ تبلیغ وارشاد،شعبہ ٔ صحافت ،شعبہ دارالافتاوغیرہ۔ (تاریخ جماعت رضائے مصطفی ،7،42،48 ،49)
(49)مولانا شہاب الدین رضوی صاحب کی تاریخ ولادت 19ربیع الاول 1394ھ مطابق 12،اپریل 1974ء ہے ،آپ عالم دین ،فاضل دارالعلوم مظہراسلام بریلی شریف ،مدیر ماہنامہ سنی دنیا ،رکن رضا اکیڈمی بمبئی ،بارہ کتب ورسائل کے مصنف اورمحقق اسکالرہیں ،مشہورکتابوں میں مفتی اعظم اوران کے خلفاہے جو دوجلدوں پر محیط ہے ۔(تاریخ جماعت رضائے مصطفی ،12تا15)
(50)تاریخ جماعت رضائے مصطفی ، 48 ،49۔
(51)آل انڈیا سنی کانفرنس،قیام پاکستان سے پہلے اہل سنت وجماعت کی ایک سیاسی جماعت تھی جس کےبانی صدرالافاضل حضرت علامہ سیدمحمدنعیم الدین مرادآبادی رحمۃ اللہ علیہ ہیں 20تا23شعبان1343ھ/ 16 تا 19 مارچ 1925کو مراد آباد میں پہلی آل انڈیا سنی کانفرنس کا انعقاد کیا گیااور آل انڈیا مسلم لیگ کے مطالبۂ پاکستان کی مکمل حمایت کی گئی۔ قیامِ پاکستان کے بعد اس پارٹی کا نام جمعیت علمائے پاکستان رکھ دیا گیا ۔(مزیددیکھئے علامہ جلال الدین قادردی صاحب کی کتاب ’’تاریخ آل انڈیا سنی کانفرنس 1925ءتا 1947ء‘‘)
(52)تاریخ آل انڈیا سنی کانفرنس ،225،282۔
(53)لاہورایک قدیم وتاریخی شہرہےمغلیہ عہدمیں لاہورکے اردگردفصیل اورتیرہ دروازے بنائےگئے ،372ھ کویہ ملتان سلطنت کا حصہ تھا،اب یہ پاکستان کے صوبہ پنجاب کا دار الحکومت اور پاکستان کادوسرا بڑا شہر ہے۔یہ پاکستان کا ثقافتی، تعلیمی اور تاریخی مرکزہے،اسےپاکستان کا دل اور باغوں کا شہر کہا جاتا ہے۔ یہ شہر دریائے راوی کے کنارے واقع ہے۔ اس شہر کی آبادی تقریباایک کروڑ 11لاکھ ہے۔
(54)22 مارچ سے 24 مارچ، 1940ء کو لاہور کے منٹو(موجودہ اقبال باغ ) پارک(جہاں آج مینارِ پاکستان ہے) میں آل انڈیا مسلم لیگ کے تین روزہ سالانہ اجلاس کے اختتام پر وہ تاریخی قرارداد منظور کی گئی تھی جس کی بنیاد پر مسلم لیگ نے برصغیر میں مسلمانوں کے لیے عليحدہ وطن کے حصول کے لیے تحریک شروع کی اور سات برس کے بعد اپنا مطالبہ منظور کرانے میں کامیاب رہی۔
(55)اکابرتحریک پاکستان 340،341،تذکرہ اکابراہل سنت ،64۔
(56) البریلویۃ کا تحقیقی اورتنقیدی جائزہ،294۔
(57)جامعہ محمدی شریف کے بارے میں حاشیہ نمبر40 دیکھئے ۔
(58)اس زمانے میں یہاں کے شیخ الحدیث حضرت علامہ عبد المصطفی الازہری رحمۃ اللہ علیہ تھے،چنانچہ سیرت صدرالشریعہ میں ہے : (علامہ عبدالمصطفی الازہری)1948ء میں جامعہ محمدی شریف ضلع جھنگ پنجاب میں شیخ الحدیث کی حیثیت سے تشریف لائے۔(سیرت صدرالشریعہ،225)
(59)فوزالمقال فی خلفاء پیرسیال ،6/432 ۔
(60)دارالعلوم اہل سنت وجماعت جہلم کےبارے میں مزیدتفصیلات حاصل نہ ہوسکیں ۔
(61)حافظ محمدسعید کاشمیری صاحب میرپورکشمیرکے رہنے والے ہیں ،قیام پاکستان کے بعد جہلم شہرمیں تشریف لے آئے اور دارالعلوم اہل سنت وجماعت کے شعبہ حفظ وقرأت سے منسلک ہوگئے ،آپ کی تقریبا تمام زندگی اشاعت تعلیم قرآن میں گزری ،آپ کے کثیرشاگردوں میں آپ کے بیٹے مبلغ یورپ حضرت مولانا حافظ عبدالقیوم نقشبندی صاحب،ڈاکٹرپیرفضیل عیاض قاسمی ،صاحبزادہ ٔ پیراولیا بادشاہ مولانافاروق احمدوغیرہ شامل ہیں ۔(برطانیہ کے علمااہل سنت ومشائخ ،2/546)
(62)باب ِ علوم ،استاذالعلما مفتی غلام محمودہزاروی صاحب کی ولادت سلطان المناظرین علامہ قاضی محمد عبدالسبحان قادری کے گھرتقریباً 1920ء میں بمقام کھلابٹ(ہزارہ) میں پیدا ہوئےاور16ربیع الاخر1412ھ مطابق 24،اکتوبر1991ءکووصال فرمایا،تدفین جامعہ صدیقہ فیض العلوم خانپورروڈبالمقابل ٹیلی کم سٹاف کالج ہری پورہزارہ کے ایک گوشے میں ہوئی ۔آپ جیدعالم دین ،جامع معقول ومنقول،فارضل مدرسہ خیرآبادیہ دہلی،مدرس درس نظامی ،شیخ القرآن ولتفسیر،تقریبا136کتب ورسائل کے مصنف،شیخ طریقت سلسلہ نقشبندیہ وقادریہ اورمناظراہل سنت تھے ،آپ نے10 سال دارالعلوم اہل سنت وجماعت جہلم میں پڑھایاپھرجہلم میں ہی ایک ادارہ جامعہ اشاعت الاسلام عربیہ غوثیہ قائم فرمایا،اس میں8 سال مدرس وناظم رہے ۔(تذکرہ بابِ علوم رئیس العلماغلام محمودہزاروی،10تا30)
(63)برطانیہ کے علمااہل سنت ومشائخ ،2/546۔
(64)دارالعلوم جامعہ نعیمیہ لاہور ایک عظیم و تاریخی دینی درسگا ہ ہے جس کی بنیاد شیخ الحدیث مفتی محمدحسین نعیمی(ولادت:1342ھ مطابق1923ء۔وفات :14ذیقعدہ 1418ھ مطابق 13مارچ 1998ء )نے تقریبا1372ھ مطابق 1953ء کو مسجدچوک دالگراں میں رکھی تھی،1378ھ مطابق 1959ء کو اسے عید گاہ گڑھی شاہومنتقل کردیا یہ علامہ اقبال روڈ پرواقع ہے ،اس نے دینی علوم کی ترویج میں اہم خدمات سر انجام دیں۔شعبان 1422ھ مطابق مارچ 2021ءمیں ہائیر ایجوکیشن کمیشن پاکستان نے اسے ڈگری ایوارڈنگ دینی انسٹیٹیوٹ کا درجہ دے دیاگیا ہے۔
(65)مرکزی جامعہ گنج بخش داتادر بارلاہورکے بارے میں مزیدمعلومات نہ مل سکیں ۔
(66)عارف ربانی حضرت پیرسیدمحمدمعصوم شاہ نوری قادری نوشاہی کی ولادت 1315ھ کو ایک صوفی گھرانےمیں ہوئی اور29شوال1388ھ مطابق19جنوری 1969ءکووصال فرمایا ،مزارخانقاہ قادریہ چک سادہ (ضلع گجرات ،پنجاب)میں دفن کئے گئے۔آپ عالم دین،مصنف کتب،شیخ طریقت،حضرت داتاگنج بخش کےعاشق صادق،بانی نوری کتب خانہ،مرجع علماومشائخ ،نوری مسجد(ریلوے اسٹیشن لاہور)سمیت 20مساجد کےبانی اورکئی مدارس کے معاون تھے۔حکیم الامت مفتی احمدیارخان نے آپ کی ترغیب پرکئی کتب تصنیف فرمائیں۔(تذکرہ علمائے اہل سنت، ص247) آپ نے 1945ء میں نوری کتب خانہ کا آغازکیا ،شاید داتادربارمارکیٹ میں یہ پہلا اشا عتی ادارہ تھا،راقم الحروف بچپن میں والدگرامی حاجی محمدصادق چشتی مرحوم کے ساتھ جمعرات کو داتادربارحاضری کے لیے جاتاتو اس کتب خانہ کو دیکھا کرتاتھا ،اس زمانے(1982ء) میں دربارشریف کے قریب جانب مشرق قائم مین گیٹ کے سامنے تھا ،اب یہ حصہ مسجدداتادربارمیں شامل ہوچکا ہے ۔
(67)تذکرہ علمائے اہل سنت وجماعت،367تا369۔
(68)مرکزی جامع مسجدمحلہ اسلام پورعمرروڈلاہور واقع ایک مسجد ہے جس میں عرصہ دارازتک مفتی اعجازولی صاحب امام وخطیب رہے ۔
(69)مدرسہ حامدیہ رضویہ متصل مرکزی جامع مسجداسلام پورہ لاہورکے بارے میں معلومات نہ مل سکیں ۔
(70)جامعہ نعمانیہ لاہورکے بارے میں جاننے کے لیے حاشیہ نمبر 38 کا مطالعہ کیجئے ۔
(71)ان کےحالات نہ ملے سکے ۔
(72)صدسالہ تاریخ انجمن نعمانیہ لاہور،301۔
(73)صدسالہ تاریخ انجمن نعمانیہ لاہور،284۔
(74)صدسالہ تاریخ انجمن نعمانیہ لاہور،286۔
(75)صدسالہ تاریخ انجمن نعمانیہ لاہور،286۔
(76)ان کےحالات نہ ملے سکے ۔
(77) مجاہدملت حضرت مولانا محمدعبدالستارخان نیازی رحمۃ اللہ علیہ کی پیدائش 22ذیقعد1333ھ مطابق یکم اکتوبر1915ء کو موضع اٹک پنیالہ(تحصیل عیسیٰ خیل)ضلع میانوالی میں ہوئی،7صفر1422ھ مطابق یکم مئی2001ء کو میانوالی میں انتقال فرمایا،مزار’’مجاہدملت کمپلیکس‘‘ روکھڑی موڑمیانوالی میں ہے ۔آپ عالم دین،پرچوش مبلغ ،باہمت رہبرورہنما،اخبارخلافت پاکستان کے مدیر ،مجلس اصلاح قوم ،دی پنجاب مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن،آل پاکستان عوامی تحریک کے بانی،تحریک پاکستان کے متحرک کارکن،تحریک نفاذِ شریعت،تحریک ختم نبوت،تحریک نفاذِ نظام مصطفیٰ میں بھرپورحصہ لیا، قومی اسمبلی اورسینٹ کے رکن بھی رہے۔آپ کا شماراکابرین اہل سنت میں ہوتاہے ۔آپ آستانہ عالیہ میبل شریف ضلع بھکر میں مریداورقطب مدینہ حضرت مولانا ضیاء الدین احمدمدنی رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ تھے۔آپ نے اٹھارہ سے زیادہ مقالات وکتب ورسائل تحریرفرمائے۔(تحریک پاکستان میں علماء ومشائخ کا کردار،427)
(78)صدسالہ تاریخ انجمن نعمانیہ لاہور،288۔
(79)صدسالہ تاریخ انجمن نعمانیہ لاہور،289۔
(80)صدسالہ تاریخ انجمن نعمانیہ لاہور،290،291۔
(81)جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور لوہاری گیٹ کے اندرونی حصے میں ایک دینی درس گاہ ہے۔ اس کا افتتاح شوال المکرم 1376ھ مطابق مئی1956 ء کو محدث اعظم پاکستان علامہ محمدسرداراحمدچشتی قادری صاحب نے قدیم تاریخی مسجد خراسیاں اندرون لوہاری دروازہ میں فرمایا،ان کے شاگرد استاذالعلماء شیخ الحدیث علامہ غلام رسول رضوی نے1381ھ مطابق 1962 ء تک اس کی نگرانی اور آبیاری کی ۔اس کے بعدعلامہ غلام رسول رضوی صاحب نے اسے اپنے ذہین اور محنتی تلمیذ استاذ العلماء حضرت علامہ مفتی محمد عبدالقیوم ہزاروی صاحب کے سپردکیا ۔
(82)تذکرۂ اکابراہل سنت ،64۔
(83)تذکرۂ اکابراہل سنت ،64۔
(84) حضرت مولانا پیرزادہ اقبال احمدفاروقی صاحب ضلع گجرات (پنجاب پاکستان)کےایک موضع شہاب دیوال کےایک علمی فاروقی گھرانے میں 1346ھ مطابق 1928 ءکو پیداہوئے اورتقریبا89سال کی عمرمیں16 ؍صفرالمظفر1435ھ مطابق 20دسمبر 2013 کو لاہور میں وصال فرمایا،ان کی تدفین میانی صاحب قبرستان میں خواجہ محمد طاہر بندگی کے مزار اقدس کےمتصل ہوئی۔ آپ ایک متحرک عالم دین،دینی ودنیاوی تعلیم سے مرصع،مکتبہ نبویہ کےبانی ،ناشر ِ رضویات، مدیر ماہنامہ جہان رضا لاہوراور روح رواں مجلس رضااوراکابر علمائے اہل سنت لاہورسےتھے۔ آپ خوش اخلاق،مہمان نوازاورہردل عزیزشخصیت کےمالک تھے ، چھوٹےبڑےسب کو اہمیت دیتے اورعلمی کاموں پر حوصلہ افزائی فرمایاکرتےتھے،راقم کئی مرتبہ ان سے ملا،یہ مجھ پرخصوصی شفقت فرماتے اورمجھےاپنا کراچی والادوست کہاکرتےتھے۔
(85)مجالس علما،118۔
(86)مفتیِ اعظم پاکستان، سیّدُ المحدّثین حضرت علامہ ابوالبرکات سیّد احمد قادری رضوی اشرفی استاذُ العُلَماء، شیخ الحدیث، مناظرِ اسلام، بانی و امیر مرکزی دارُالعلوم حِزبُ الاحناف اور اکابرینِ اہلِ سنّت سے تھے۔ 1319 ہجری مطابق1901ء کو محلہ نواب پور اَلْوَر (راجستھان) ہند میں پیدا ہوئے اور مرکز الاولیا لاہور میں 20شوّال 1398ھ مطابق ۲۳،ستمبر 1978ءمیں وِصال فرمایا، مزار مبارک دارُالعلوم حِزب الاحناف داتا دربار مارکیٹ مرکز الاولیاء لاہور میں ہے۔(تاریخِ مشائخِ قادریہ رضویہ برکاتیہ، ص314-318)
(87)مجالس علماء،117تا119۔
(88)شرفِ ملت حضرت علّامہ محمد عبد الحکیم شرف قادری رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت23شعبان 1363ھ 13 مطابق اگست 1944ء مزار پور (ضلع ہوشیار پور پنچاب) ہند میں ہوئی۔ آپ استاذالعلماء، شیخ الحدیث و التفسیر جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور ، مصنف و مترجم کتب، پیرِ طریقت اور اکابرینِ اہلِ سنّت سے تھے۔ 18شعبان 1428ھ مطابق یکم ستمبر2007ء کو وصال فرمایا، مزار مبارک جوڈیشنل کالونی لالہ زار فیز-2 لاہور پاکستان میں ہے۔آپ کاترجمہ قرآن ’’انوارالفرقان فی ترجمۃ معانی القرآن ‘‘یادگارہے۔راقم کوکئی مرتبہ آپ کی بارگاہ میں حاضری کاشرف حاصل ہوا۔(شرفِ ملت نمبر لاہور، ص 126)
(89)تذکرۂ اکابراہل سنت ،65۔
(90)حضرت مولانا قاضی محمد مظفراقبال رضوی صاحب کی ولادت 9جمادی الاولیٰ1354ھ مطابق 8،اگست 1936ء کو ہوئی اور24ذوالحجہ 1440ھ مطابق26،اگست 2019ء کو وصال فرمایا ،میانی صاحب قبرستان میں والدگرامی خلیفہ اعلیٰ حضرت مفتی غلام جان ہزاروی کے قریب تدفین ہوئی ۔آپ عالم دین ،فارغ التحصیل دارالعلوم حزب الاحناف لاہور،مدرس درسِ نظامی،خطیب اونچی مسجدجامع شاہ عنایت قادری ،مریدوخلیفہ مفتی اعظم ہنداورچیئرمین سنی ایکشن کمیٹی تھے ۔( حیات فقیہ زماں ،138تا144)
(91)روزنامہ نوائے وقت لاہور29،اگست ، 2013ء۔
(92)اکابرِ تحریک پاکستان ،342۔
(93) تذکرۂ اکابراہل سنت ،65۔
(94)مرآۃ التصانیف ،21۔
(95)مرآۃ التصانیف ،62۔
(96)مرآۃ التصانیف ،117۔
(97)مرآۃ التصانیف ،112۔
(98)تذکرۂ اکابراہل سنت ،65۔
(99) شیخ محقق حضرتِ علّامہ شیخ عبدُالحق مُحَدِّثِ دہلوی قادری علیہ رحمۃ اللہ الہادِی کی ولادت 958ھ مطابق1551ء کو دہلی (ہند) میں ہوئی اوریہیں 21ربیعُ الاوّل 1052ھ مطابق 19جون1642ء کو وِصال فرمایا، مَزارمُبارک خانقاہِ قادریہ (نزد باغ مہدیاں بالمقابل قلعہ کہنہ) دہلی ہند میں ہے۔ آپ حافظِ قراٰن،امامُ الْمُحَدِّثِین فِی الْہند، علامۂ دَہر، قطبِ زَماں، کئی کُتُب کے مُصَنِّف اور شارِحِ اَحادیث ہیں۔ دَرجَن(12)سے زائد کُتُب میں مِشْکوٰۃ شریف کی دوشُرُوحات اَشِعَّۃُ اللَّمْعَات (فارسی)اور لَمْعَاتُ التَّنْقِیْح(عربی) بھی شامل ہیں۔ (اشعۃ اللمعات شرح مشکوٰۃ مترجم،ص93،67، اخبار الاخیار مترجم، ص18،13، شیخ عبد الحق محدثِ دہلوی، ص90)
(100) مجالس علماء،117تا118۔
(101)مولانا انوارالاسلام رضوی1355ھ مطابق 1936ء کو شمس آباد ضلع اٹک میں پیداہوئے ،شیخ الحدیث علامہ غلام رسول رضوی صاحب اوردیگرعلما سے علم دین حاصل کیا ،دارالعلوم منظراسلام فیصل آباد سے فارغ التحصیل ہوئے ،جامع مسجد محمدجان صدرلاہورکینٹ میں خطیب مقررہوئے ،جامعہ نظامیہ رضویہ کے مدرس وناظم بنائے گئے ۔پھر مکتبہ حامدیہ میں مصروف ہوئے اورساتھ ساتھ جامعہ شیرازیہ میں اعزازی مدرس ہوئے ۔(تذکرہ علماء اہل سنت وجماعت لاہور،399 )
(102)مجالس علما256۔
(103)مبلغ اسلام مولانا محمد ابراہیم خوشتررضوی صاحب کا مختصرتعارف حاشیہ نمبر34 میں دیکھئے۔
(104) مفتی زمن حضرت مفتی سیدمحمد ریاض الحسن جیلانی رضوی حامدی صاحب کی ولادت شوال1340ھ مطانق 1914ء کو جودھ پور(راجستھان،ہند)میں ہوئی اور28رمضان 1388ھ مطابق 19دسمبر1968ء کو بحالت سجدہ حیدرآبادسندھ پاکستان میں ہوئی،مزار مبارک ٹنڈویوسف قبرستان میں ہے ،گنبددورسے دکھائی دیتاہے،آپ خاندان غوث الوریٰ کے چشم چراغ،آپ جامعہ منظراسلام بریلی کے فاضل ،مریدوخلیفہ حجۃ اسلام ،مفتی اسلام،صاحب دیوان شاعر،جامع مسجداہل سنت وجماعت (امریکن کوارٹرحیدرآباد)سمیت کئی مساجدکے بانی اورفعال شخصیت کے مالک تھے ،آپ کی 29تصانیف میں ریاض الفتاویٰ (3 جلدیں)یادگارہے ۔(ریاض الفتاویٰ ،1/37تا62)
(105)حضرت مولانا حکیم مطیع الرضاخاں قادری صاحب کی ولادت موضع چندوس ضلع سنبھل (سابقہ ضلع مرادآباد)یوپی ہندمیں 2ربیع الاخر1346ھ مطابق 29ستمبر1927ءکو ہوئی اوروصال راولپنڈی پاکستان میں6جمادی الاولیٰ 1399ھ مطابق4،اپریل 1979ءکو فرمایا ،مدرسہ رضویہ راولپنڈی سے متصل تدفین ہوئی ۔آپ فاضل بریلی شریف،شاگردصدرالشریعہ ومفتی اعجازولی خان ،مریدحجۃ اسلام علامہ حامدرضا ،خلیفہ مفتی اعظم ہند،سندیافتہ حازق طبیب ،بانی قادری دواخانہ راولپنڈی ،اسلامی شاعر، خطیب جامع مسجدلال کڑتی اوربانی مدرسہ رضویہ راولپنڈی ہیں ۔(تحریک پاکستان میں علماء ومشائخ کا کردار،368،369)
(106)خطیب اسلام حضرت مولانا شاہ محمد نشتر صاحب کی ولادت 4شعبان 1359ھ مطابق 7ستمبر1940ء کو موضع کلاں رقبہ چھاترہ (عباس پور،ضلع پونچھ کشمیر)میں ہوئی آپ عالم دین ،دینی ودنیاوی علوم کے جامع ،مرید بابوجی سرکارگولڑہ شریف، فاضل جامعہ رضویہ منظراسلام فیصل آباداورمفکراسلام ہیں ،مفتی اعجازولی صاحب سے آپ نے جامعہ نعیمیہ لاہورمیں شرف تلمذپایا ۔آپ کافی عرصہ جامع مسجدتبلیغ اسلام بریڈ فورڈ میں امام وخطیب رہے۔(برطانیہ میں علماءاہل سنت اورمشائخ 3/514تا517)
(107) جدِّ اعلیٰ حضرت ،مفتی رضا علی خان نقشبندی رَحْمَۃُ اللہ عَلَیْہ عالم، شاعر،مفتی اورشیخ طریقت تھے۔1224ھ مطابق1880ء میں پیدا ہوئے اور 2جمادی الاولیٰ1286ھ مطابق 10،اگست 1869ءمیں وصال فرمایا، مزار قبرستان بہاری پورنزدپولیس لائن سٹی اسٹیشن بریلی شریف (یوپی، ہند) میں ہے۔ (معارف رئیس اتقیا،ص17، مطبوعہ دہلی)
(108)والدِ اعلیٰ حضرت، رئیس المتکلمین مفتی نقی علی خان قادری رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ باعمل عالمِ دین، مفتیِ اسلام، پچیس سے زائد کتب کے مصنّف اور بہترین مدرّس تھے۔ 1246ھ مطابق1831ھ میں بریلی شریف(ہند) میں پیدا ہوئے اور یہیں 30 ذیقعدہ 1297ھ مطابق 3نومبر1880ءمیں وصال فرمایا، مزار مُبارک قبرستان بہاری پور نزد پولیس لائن سٹی اسٹیشن بریلی شریف (یو پی) ہند میں ہے۔( مولانا نقی علی خان حیات اور علمی و ادبی کارنامے، ص5تا6)
(109)حیات اعلیٰ حضرت مکتبہ رضویہ کراچی،15،16۔
(110)تذکرہ ٔ جمیل ،241۔
(111)تذکرۂ اکابراہل سنت ،65۔
(112)ماہنامہ عرفات ،خاص نمبرامام اہل سنت ،ستمبر،اکتوبر1975،ص10۔
(113)تذکرہ ٔ جمیل ،241۔
(114)حاجی محمد ارشدعطاری صاحب ایک متشرع ،صالح اورمؤدب شخصیت کے مالک ہیں ،ان کی پیدائش 5ربیع الاخر 1399ھ مطابق5مارچ 1979 ء کو بلال (بھٹہ)چوک بیدیاں روڈلاہورکینٹ کے علاقے میں ہوئی ،میٹرک کے بعد دعوت اسلامی سے وابستہ ہوئے ، بوجوہ درسِ نظامی نہ کر سکے ،ایم کام کرنے کے بعد مختلف مقامات پر ملازمت کی، آجکل شیخوپورہ کی تین کمپنیز میں ہیڈ آف ٹیکس ڈیپارٹمنٹ ہیں،درس نظامی کرنے کے لیے جامعۃ المدینہ نائیٹ میں داخلہ لے چکے ہیں،بڑی محنت سے مصروف تعلیم ہیں ،انھوں نے درجہ اولیٰ کے سالانہ امتحان میں تیسری پوزیشن حاصل کی ہے ،درسِ نظامی مکمل کرنے کے بعد تخصص فی الفقہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں ۔
(115) غازی علم الدین شہید 8 ذیقعد 1366ھ مطابق 3 دسمبر 1908ء کو لاہور کے ایک علاقے محلہ سرفروشاں میں پیدا ہوئے اور31 اکتوبر 1929ء کوجام شہادت نوش فرمایا۔ کم و بیش چھ لاکھ عشاق رسول نے آپ کے نمازجنازہ میں شرکت کی،مزارمیانی صاحب قبرستان میں ہے ۔
(116)حضرت الحاج مہر محمد صوبہ نقشبندی سلسلہ عالیہ نقشبندیہ مجددیہ مرتضائیہ لاہور کے عظیم بزرگ ہیں۔ آپ کا سنِ ولادت 1250ھ مطابق1835ءقیاس کیا جاتا ہے جبکہ آپ کی وفات 20صفر1364ھ مطابق 4 فروری 1945ءکو ہوئی۔ آپ پیر صاحب قلعہ شریف والے حضرت الحاج خواجہ غلام مرتضیٰ فنا فی الرسول صاحب کے خلیفہ اول ،پیشے کے اعتبارسے کاشتکار اورصاحب کرامت ولی اللہ تھے ۔ آپ کا مزارمیانی قبرستان میں ہے ۔(خواجگان مرتضائیہ، 460تا467)
(117)سحرالبیان خطیب حضرت مولانا غلام محمد ترنم جماعتی صاحب کی ولادت 1320ھ مطابق 1900ء کو امرتسرکے ایک کاشمیری گھرانے میں ہوئی اورلاہورمیں 17محرم 1379ھ مطابق 24جولائی 1959ء کو وصال فرمایا ،آپ عالم دین ،دینی ودنیاوی علوم سے مالامال ،اسلامی صاحب دیوان شاعر،بہترین خطیب ،تحریک پاکستان کارکن ،جمعیت علماپاکستان کے مرکزی نائب صدر،خظیب جامع مسجدسول سیکرٹریٹ ،محبوب العلمامؤثرشخصیت کے مالک تھے، تصانیف میں مقدمہ وحوشی بطل نبوت اہم ہے ۔(تحریک پاکستان کے سات ستارے،96تا105،یادرفتگان،2/40)
(118)حضرت مولانامفتی سید غلام معین الدین نعیمی صاحب کی ولادت 14جمادی الاولیٰ 1342ھ مطابق23دسمبر1923ءکو مرادآبادہند میں ہوئی اوروصال لاہورمیں 12جمادی الاخریٰ 1391ھ مطابق4،اگست 1971ء کو ہوا،نمازجنازہ مفتی اعجازولی صاحب نے پڑھائی ،تدفین میانی قبرستان میں کی گئی ،آپ فاضل جامعہ نعیمیہ مرادآباد،صدرالافاضل کے تلمیذوخاص خدمت گار،50 کتب کے مترجم ،ہفت روزہ سواداعظم کے اڈیٹراورفعال عالم دین تھے ۔(سیدغلام معین الدین نعیمی حیات وخدمات ،51،153،138،113)
(119)اکابرتحریک پاکستان صفحہ 343میں ہے کہ مفتی اعجازولی خان صاحب کو مولانا غلام محمد ترنم رحمۃ اللہ علیہ کے پہلومیں دفن کیاگیا جوکہ درست نہیں ۔
(120)تذکرہ ٔ جمیل ،241۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع