30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ایسے طالب علم کو اپنے ساتھ لے جانا چاہتا ہوں جو ذہین، اِطاعت گزار اور ایمان دار ہو۔ یہ سن کر محدثِ قصوری نے ایک ایسے طالبِ علم کاانتخاب کیا جو شرحِ جامی تک کی کتب پڑھ چکا تھا، انتہائی شریف النفس، عالی نسب اور محنتی تھا۔ اس طالب ِعلم کی خوش قسمتی کہ اُسے عالمِ اسلام کی عظیم ہستی، علم و عمل کے پیکر، علوم وفنون کے سمندر،خلیفۂ اعلیٰ حضرت سیّد صاحب قبلہ کی صحبت نصیب ہونے والی تھی۔ محدثِ قصوری نے اسے چند نصیحتیں کرتے ہوئے اپنے استاذ گرامی کے ساتھ لاہور روانہ کردیا۔ اس طالبِ علم نے سیّد صاحب قبلہ سے نہ صرف علوم و فنون میں کمال حاصل کیا بلکہ آپ کی خدمت کے لیے اپنے شب و روز وقف کردئیے۔ ایک وقت وہ بھی آیا کہ سیّد صاحب قبلہ نے اسے سلسلہ قادریہ اشرفیہ میں بیعت فرمایا اوراد و وظائف کی تلقین کی اور سلاسلِ اربعہ وغیرہ کی خلافت عطا فرمائی۔ یہ طالبِ علم جو اپنے اساتذہ کی توقعات پر پورا اُترا اور اُن کی دعاؤں اور مرکزی دارالعلوم حزب الاحناف لاہور(1)سے دورۂ حدیث کرکے سند الفراغ کا حقدار ٹھہرا، اسے اب دنیا
[1] مرکزی دارالعلوم حزب الاحناف لاہورکا آغاز امام المحدثین مفتی سیدمحمد دیدارعلی شاہ محدث الوری رحمۃ اللہ علیہ نے 1343 ھ مطابق 1924ء کو لاہور کی تاریخی جامع مسجد وزیر خان، اندرون دہلی گیٹ میں فرمایا۔ جمادی الاخریٰ 1346ھ مطابق دسمبر1927ءمیں محمدی (چنگڑ)محلہ اندرون دہلی گیٹ کی تین گنبدوالی شیرشاہی مسجدکی تعمیرنو کرتے ہوئے اس کے ساتھ دار العلوم کے کمرے بنائے گئے۔یہ دارالعلوم برسوں یہاں دولتِ علم تقسیم کرتا رہا۔جب طلبہ کے اضافے کی وجہ سے یہ جگہ تنگ ہوئی تو 1962ءمیں اسے لال کوٹھی گنج بخش روڑ بیرون بھاٹی گیٹ نزد داتا دربار منتقل کردیا گیا۔ بلاشبہ مرکزی درالعلوم حزب الاحناف لاہور سے ہزاروں علما و مشائخ نے علوم وفنون میں کمال پایااورملک میں علوم اسلامیہ کوعام کرنے میں اپنا فعال کردار ادا کیا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع