30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
19 ویں صدی کے شروع میں نہایت کٹھن سفر کر کے انڈونیشیا تشریف لائے۔آپ نے کوئی ظاہری عمارت یا مکان یادگار نہیں چھوڑا مگر آپ کی علمی میراث باقی ہے۔آپ کے شاگرد اور پھر ان کے شاگرد خدمتِ دین میں مصروف ہیں۔شیخ سید حسن دحلان نے ساری زندگی تعلیم و تدریس میں گزاری،کیونکہ ان کی ہجرت کا مقصد نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے دینِ اسلام کے علوم کو انڈونیشیا میں پھیلانا تھا۔سید حسن کی زندگی کا کوئی دن بغیر تدریس کے نہیں گزرتا تھا۔اگرچہ اس وقت اساتذہ کو کوئی پیشہ ورانہ وظیفہ یا تنخواہ نہیں دی جاتی تھی،لیکن پھر بھی سید حسن کی تعلیمی سرگرمیوں میں محنت اور بے مثال خلوص تھا،نیز آپ کا مقصد محض رضائے الٰہی کا حصول تھا۔
در حقیقت ہمارے قدیم علما نے پہلے ہی سے بین الاقوامی سطح پر دین کی خدمت کی ہے۔اس لیے ہمیں بھی چاہیے کہ ان کے نقشِ قدم پر چلیں اور علم کے میدان میں پیچھے نہ رہیں۔جب شیخ حسن دحلان قندال میں مقیم ہوئے تو مسجدِ اعظم قندال کے شمال میں ایک مدرسے کے قریب رہائش اختیار کی جس کے نتیجے میں بہت سے شاگرد ان سے علم حاصل کر کے قندال کے بڑے دینی راہ نما بنے۔
یہ واقعی سید حسن قندال کا پہلا باقاعدہ عرسِ اکبر ہے جو اجتماعی طور پر منایا جا رہا ہے۔اس سے پہلے خاندان والے عرس کو ہمیشہ علیحدہ علیحدہ انداز میں کرتے تھے، کیونکہ سید حسن کا خاندان مختلف علاقوں میں بکھرا ہوا ہے۔
الحمدُ للہ!اس بار سب ایک ساتھ جمع ہو کر ایک صدی مکمل ہونے پر عرس منا رہے ہیں اور سب لوگ گرابگ، قندال کے مزار پر جمع ہو گئے ہیں۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع