میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! عمر کا کوئی سا بھی حصہ ہو، نفسانی خواہشات کو پورا کرنے میں لگے رہنے میں بھلائی نہیں اور نفس کی شرارت جوانی کے زمانے میں تو عروج (یعنی بُلندی) پر ہوتی ہے، نفس کو علم و عمل کی لگام ڈال کر اس کی تربیت کرنے کا یہی وقت ہوتا ہے ۔ حضرت سیِّدُنا مجدّ د الف ثانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی نے بھی اس جانب توجہ دلائی ہے چنانچہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : ’’جوانی کی ابتدا جس طرح ہوا وہوس (یعنی خواہشات کے ابھرنے ) کا وقت ہے، اسی طرح علم وعمل کواپنانے کا بھی یہی وقت ہے، جوانی میں کی جانے والی عبادات بڑھاپے کی عبادات سے افضل ہیں ۔ ‘‘ (مکتوباتِ امام ِربّانی، دفتر سوم ، حصہ ہشتم، مکتوب۳۵ ج ۲ص۸۷ ملخّصًا)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! ایّامِ جوانی کے اَوقات کی قدْر دانی بہت ضروری ہے کیونکہ جوانی میں انسان کے اَعضا مضبوط اور طاقتورہوتے ہیں ، جس کی وجہ سے اَحکام وعبادات کی بجاآوری، خوش اُسلوبی کے ساتھ ممکن ہوتی ہے، بُڑھاپے میں یہ بہاریں کہاں نصیب! اُس وقْت تو مسجد تک جانا بھی دشوار ہو جاتاہے۔ بھوک پیاس کی شدّت برداشْت کرنے کی بھی ہِمّت نہیں رہتی، نفْل تو کُجا فرْض روزے پورے کرنے بھی بھاری پڑجاتے ہیں ۔ جوانی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بہت بڑی نعمت ہے، جسے یہ نعمت ملے اُسے اِس کی قدْر کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ وَقْت عبادت واِطاعت میں گزارنا چاہئے، اوقات کے اَنمول ہیروں کو نفع مندبنانا چاہئے۔ حکیم ُ الا ُمّت حضرت مفتی احمدیار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الحَنّان نقل فرماتے ہیں : ’’ جوانی کی عبادت بڑھاپے کی عبادت سے افضل ہے کہ عبادات کا اصل وقت جوانی ہے۔ شعر
کر جوانی میں عبادت کاہلی اچھی نہیں جب بڑھاپا آگیا کچھ بات بن پڑتی نہیں
ہے بڑھاپا بھی غنیمت جب جوانی ہوچکی یہ بڑھاپا بھی نہ ہوگا موت جس دم آگئی
وقت کی قدر کرو، اسے غنیمت جانو، گیا وقت پھر ہاتھ آتا نہیں ۔ ‘‘ ( مراٰۃ المناجیح ج۳ص۱۶۷)
ایک مرتبہ ایک حافِظ صاحب حضرتِ سیِّدُنا مجدد اَلف ثانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی کے پاس بیٹھ کر قراٰنِ کریم کی تلاوت کر رہے تھے۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے جب ان کی طرف نگاہ فرمائی تو دیکھا کہ جس جگہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ تشریف فرماہیں وہ جگہ حافظ صاحب والی جگہ سے تھوڑی اونچی ہے۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فوراً اپنی نشست (یعنی بیٹھک) نیچی کردی۔ ( زُبْدَۃُ الْمَقامات ص۱۹۵)
٭ سفر ہو یا حضر ، سردی ہو یا گرمی ، آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ آدھی رات کے بعد بیدار ہو جاتے اورمسنون دعائیں پڑھتے ٭پابندی سے تہجد ادا فرماتے اور تہجد میں طویل قراءَ ت کرتے ٭قبلہ رو بیٹھ کر وضو فرماتے اور ٭وضو میں کسی سے مدد نہ لیتے ٭وضو میں مسواک فرماتے، فراغت کے بعد کاتب (یعنی لکھنے والے) کی طرح مسواک کبھی کان پر لگا لیتے اور کبھی خادم کے سپرد فرما دیتے ٭وضو کے دوران تمام سنن و مستحبات کا خوب خیال فرماتے ٭ اعضائے وضو دھوتے وقت اوروضو کے بعد مسنون دعائیں پڑھتے ٭نماز کے لئے عمدہ لباس زیبِ تن فرماتے اور نہایت وقار کے ساتھ نمازکی ادائیگی کے لئے تیّار ہو جاتے ٭نمازِ فجر کی سنتیں گھر میں ادا فرماتے ٭فجر کے فرض مسجد میں جماعتِ کثیرہ (یعنی بہت بڑی جماعت) کے ساتھ ادا فرماتے ٭نمازسے فراغت کے بعد مسنون دعائیں پڑھتے، پھردائیں یابائیں جانب رخ فرما کر دعا فرماتے اور دعا کے بعد دونوں ہاتھ چہرے پر پھیر لیتے ٭نماز کے بعد ذِکر، تلاوتِ قراٰنِ کریم کاحلقہ قائم کرتے اورابتدائی طالب علموں کی تربیت فرماتے ٭آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اکثر خاموش رہا کرتے ٭بعض اوقات آپ پر گریہ (یعنی رونا) طاری ہو جاتا اور آنکھوں سے سیلِ اشک رواں ہو جایا کرتا (یعنی خوب روتے) ٭نمازِ چاشت پابندی سے ادا فرماتے ٭آپ نہایت ہی کم کھانا تناول فرماتے ٭کھانے سے پہلے اور بعد کی دعائیں پڑھتے ٭ (دن میں ) کھانے کے بعد تھوڑی دیر کے لئے قیلولہ فرماتے ٭اذان سن کر جواب دیتے ٭نمازِ ظہر کے بعد پھرذِکرالٰہی کا حلقہ قائم کرتے، اس کے بعد ایک دو سبق کی تدریس فرماتے ٭تحیۃُ المسجد پابندی سے ادا فرماتے ٭نمازِ مغرب کے بعد اَوَّابین کے چھ نوافل ادا فرماتے ٭نمازِوتر کی ادائیگی کے بعد سنّت کے مطابق قبلہ رخ ہو کر سیدھا ہاتھ دائیں رخسار کے نیچے رکھ کر آرام فرماہوتے ٭سورج یا چاند گرہن ہونے پر نمازِ کسوف و خسوف ادا فرماتے ٭آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ رَمَضانُ الْمُبارَک کے آخری عشرے میں اعتکاف فرماتے ٭ذوالحجہ کے ابتدائی عشرے (یعنی شروع کے دس دن) میں مخلوق سے کنارہ کش ہو کر عبادت کا اہتمام فرماتے ٭کثرت سے دُرُودِ پاک پڑھتے اور خصوصا شبِ جمعہ مریدوں کے ساتھ مل کر ایک ہزار درودِ پاک کا نذرانہ بارگا ہ رسالت میں پیش کرتے ٭سفر و حضر میں تراویح کی مکمل بیس رکعتیں خشوع و خضوع سے ادا فرماتے ٭رمضانُ الْمُبارَک میں کم از کم تین مرتبہ قراٰنِ کریم کا ختم فرماتے ٭آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ چونکہ حافظِ قراٰن تھے اس لئے اکثر تلاوتِ قراٰنِ کریم کا سلسلئہ جاری رہتا ٭دورانِ سفر بھی تلاوت فرماتے اور اگر اس دوران آیتِ سجدہ آجاتی تو فوراً سواری سے اتر کر سجدۂ تلاوت ادا فرماتے ٭ انفرادی نماز میں رکوع و سجود کی تسبیحات پانچ ، سات ، نو یا گیارہ مرتبہ تک ادا فرماتے ٭سفر کے لئے اکثر آپ پیر یا جمعرات کے دن کا انتخاب فرماتے ٭کپڑا پہننے ، آئینہ دیکھنے ، پانی پینے، کھانا کھانے ، چاند دیکھنے اور دیگر معمولات میں جو مسنون دعائیں مروی ہیں ان کا اہتمام فرماتے ٭نماز کی تمام سنتوں اور مستحبات کا خوب اہتمام فرماتے ٭جب کوئی بزرگ آپ سے ملاقات کے لئے تشریف لاتے تو تعظیماً کھڑے ہو جاتے ٭سلام میں ہمیشہ پہل فرماتی٭علامہ بدر الدین سرہندی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : مجھے علم نہیں کہ کبھی کوئی شخص سلام میں آپ سے سبقت لے گیا (یعنی پہل کرنے میں کامیاب ہوا) ہو ٭ سر پر عمامہ شریف سجائے رکھتے ٭پاجامہ ہمیشہ ٹخنوں سے اوپرہوا کرتا۔ (حَضَراتُ القُدْس، دفتر دُوُم ص۸۰ تا۹۲مُلَخَّصًا)
حضرت سیِّدُنا امامِ ربانی ، مجددِ الفِ ثانی ، شیخ احمدفاروقی سرہندی نقشبندی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی کے متعلق منقول ہے کہ عمامہ شریف آپ عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی کے سرِ مبارک پر ہوتا اورشملہ دونوں کندھوں کے درمیان ہوتا۔ (ایضاًص۹۲ مُلَخَّصًا)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! احادیثِ مبارکہ میں عمامہ شریف باندھنے کے بہت سے فضائل بیان کیے گئے ہیں : چنانچہ
رسولِ اکرم، نُورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا: عمامے کے ساتھ نَماز دس ہزار نیکی کے برابر ہے۔ (اَلْفِرْدَوْس بمأثور الْخطّابً ج۲ص۴۰۶حدیث۳۸۰۵ ، فتاوٰی رضویہ مُخَرَّجہ ج۶ص۲۱۳)
حضرت علامہ مفتی محمد وقارُا لدین قادری رضوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں : عمامہ صرف علما و مشائخ ہی کے لئے نہیں بلکہ تمام مسلمانوں کے لئے سنّت ہے اور عمامے کی فضیلت اور عمامہ باندھ کر نماز پڑھنے کی فضیلت احادیث میں بیان کی گئی ہے اس لئے ہر بالغ مرد کے لئے عمامہ باندھنا ثواب کا کام ہے اور اچھے کام کی عادت ڈالنے کے لئے بچوں کو بھی اس کی تعلیم دینی چاہئے۔ (وقارالفتاوٰی ج۲ ص۲۵۲)
بَحْرُالعُلُوم حضرت علامہ مفتی عبدالمنان اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی ایک سوال (عام مسلمان یعنی غیر عالم کو عمامہ باندھنا سنّت ہے یا نہیں ؟) کے جواب میں ارشاد فرماتے ہیں : ہر مسلمان چاہے عالم ہویا غیرِ عالم اسے عمامہ باندھنا سنّت ہے، امام بیہقی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے شُعَبُ الایمان میں حضرت (سیِّدُنا) عُبادہ بن صامِت رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عنہ سے روایت کی کہ رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا کہ: ’’ عمامہ باندھنا اِختیار کرو کہ یہ فرشتوں کا نشان ہے اور اس ( شملے) کو پیٹھ کے پیچھے لٹکالو۔ ‘‘ (شعب الایمان ج۵ص۱۷۶حدیث: ۶۲۶۲) ’’بہارِ شریعت ‘‘میں ہے کہ عمامہ باندھنا سنّت ہے۔ (بہار شریعت ج ۳ص۴۱۸) ان اَحکام سے یہی ظاہر ہے کہ مسلمان خواہ عالم ہو یا چاہے جاہل سب کو عمامہ باندھنے کا حکم ہے۔ (فتاوٰی بحرالعلوم ج۵ص۴۱۱ ملخّصًا)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد