Itteba e Sunnat Ishq e Rasool Ki Alamat
دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Tazkira Mujaddid e Alf e Sani | تذکرۂ مجدد الف ثانی قدس سرہ النورانی

Itteba e Sunnat Ishq e Rasool Ki Alamat

book_icon
تذکرۂ مجدد الف ثانی قدس سرہ النورانی

اتّباعِ سنّت عشقِ رسول کی علامت

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!   سچے عاشق رسول کی علامت یہ ہے کہ وہ اپنی زندگی نبی رحمت،   شفیع امت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی سنّت کے مطابق گزارنے کی کوشش کرتا ہے،   یوں سنت نبوی کو عملی طور پر اپنانے کی وجہ سے عاشقِ صادق کا دل عشق مصطفے میں تڑپتا ہے ۔  حضرت سیِّدُنا  مجدد الف ثانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی  کا ہر عمل سنت مصطفے کی عملی تصویر ہوا کرتا ،  آپ    اپنی گفتگو ،  چلنے پھرنے اور زندگی کے دیگر معمولات سنّت کے مطابق گزارتے،   سنّتوں کی برکت سے آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو جو مقام و مرتبہ نصیب ہوا اس کے متعلّق آپ خود ارشاد فرماتے ہیں :   نبی ٔ کریم ،  رء وف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے کمالِ اتباع (یعنی مکمل پیروی)   کی وجہ سے مجھے ایسے مقام سے سرفراز کیا گیا جو ’’ مقامِ رضا‘‘ سے بھی بلند وبالا ہے۔   (حَضَراتُ القُدْس،   دفتر دُوُم ص۷۷)   سنّتوں کے مطابق زندگی گزارنا بہت بڑی سعادت ہے کہ اس کی برکت سے مقام ِ محبوبیت نصیب ہوتا ہے جیسا کہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ خود ارشاد فرماتے ہیں :   ’’ہر وہ چیز جس میں محبوب کے اخلاق و عادات پائی جائیں محبوب کے ساتھ وابستگی اور اس کے تابع ہونے کی وجہ سے وہ بھی محبوب اور پیاری ہوجاتی ہے،   اس کی طرف اس آیت میں اشارہ فرمایا گیا ہے:  
فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ  (پ۳،  اٰلِ عمرٰن:  ۳۱)  
ترجَمۂ کنزالایمان:   تو میرے فرمانبردار ہوجاؤ اللہ تمہیں دوست رکھے گا۔  
لہٰذا اللہ تَعَالٰی  کے پیارے نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی پیروی میں کوشش کرنا بندے کو مقامِ محبوبیت تک لے جاتا ہے،   تو ہر عقلمند پر لازم ہے کہ اللہ تَعَالٰی کے حبیب  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے اتباع میں ظاہراً و باطناً پوری کوشش کرے۔  ‘‘ (مکتوباتِ امام ِربّانی،   دفتر اول،   حصہ دوم،   مکتوب۴۱ ج۱ص۵)  

تصانیف

     آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی تصانیف میں سے فارسی ’’مکتوبات امام ربّانی‘‘ زیا دہ مشہو ر ہوئے ۔   ان کے عر بی،   اردو،  ترکی اورانگریزی زبانوں میں تراجم بھی شائع ہو چکے ہیں ۔   آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے چاررسائل کے نام مُلاحَظہ ہوں :    (۱)  اِثْباۃُ النُّبُوَّۃ  (۲)   رِسالہ تَہْلِیْلِیَّہ   (۳)   معارفِ لَدُنِّیَّہ  (۴)   شرحِ رُباعیات ۔   

مجدّدِ الفِ ثانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی کے 11 اَقوال

      ٭حلال و حرام کے معاملے میں ہمیشہ باعمل علما سے رجوع کرنا چاہیے اور ان کے فتاوٰی کے مطابق عمل کرنا چاہیے کیونکہ نجات کا ذریعہ شریعت ہی ہے ۔   (ایضاً،   حصہ سوم،  مکتوب۱۶۳ ج۱ص۴۶)  
٭احکامِ شریعت کی صحیح نوعیت علمائے آخرت سے معلوم کیجیے ان کے کلام میں ایک تاثیر ہے،   شاید ان کے مبارک کلما ت کی برکت سے عمل کی بھی توفیق مل جائے ۔   (ایضاً،   حصہ دوم،  مکتوب۷۳ ج۱ص۵۹)  
٭ تمام کاموں میں ان باعمل علمائے کرام کے فتاوٰی کے مطابق زندگی بسر کرنی چاہئے جنہوں نے ’’عزیمت‘‘ کا راستہ اختیار کر رکھا ہے اور ’’رخصت‘‘ سے اجتناب کرتے (یعنی بچتے)   ہیں نیزاس کو نجاتِ ابدی و اُخروی کاذریعہ و وسیلہ قرار دینا چاہیے۔   (ایضاً،  مکتوب۷۰ ج۱ص۵۲)  
٭ نجاتِ آخرت تما م افعال و اقوال،  اصول و فرو ع میں اہلسنّت کی پیروی کرنے پر موقوف ہے ۔   (ایضاً،   مکتوب۶۹ ج۱ص۵۰)  
٭ سرکار دوعالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کاسایہ نہ تھا۔   (ایضاً،  دفتر سوم ،  حصہ نہم،  مکتوب۱۰۰ ج۲ص۷۵)  
٭ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اپنے خاص علمِ غیب پر اپنے خاص رسولوں کو مطلع (یعنی باخبر)   فرماتا ہے۔    (ایضاً،  دفتر اول،  حصہ پنجم،  مکتوب۳۱۰ ج۱ص۱۶۰)  
٭حضورشاہِ خیر الانام صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے تمام صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم اَجْمَعِیْنَ کوذِکرِ خیر (بھلائی)   کے ساتھ یاد کرنا چاہئے۔   (ایضاً،  حصہ چہارم،  مکتوب ۲۶۶ ج۱ص ۱۳۲)  
٭ صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم اَجْمَعِیْنَ میں سب سے افضل حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رضی  اللہ تعالٰی عنہ  ہیں پھر ان کے بعد سب سے افضل سیِّدُنا فاروق اعظم رضی  اللہ تعالٰی عنہ ہیں ،   ان دونوں باتوں پر صحابۂ کرام اور تابعین کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کا اجماع  ہے،   نیز امام اعظم ابو حنیفہ و امام شافعی و امام مالک و امام احمد بن حنبل رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی علیھم اَجْمَعِیْنَ اور اکثر علمائے اہلسنّت کے نزدیک حضرت سیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے بعد تمام صحابۂ کرام میں سب سے افضل سیِّدُنا عثمان غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  ہیں ،   پھر ان کے بعد سب سے افضل سیِّدُنا مولیٰ علی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم ہیں ۔   (ایضاً،  مکتوب۲۶۶ ج۱ص ۱۲۹،  ۱۳۰ ملخصا)  
٭مجلس میلاد شریف میں اگر اچّھی آواز کے ساتھ قراٰنِ کریم کی تلاوت کی جائے،   نعت شریف اور صحابہ و اہل بیت و اولیائے کاملین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم اَجْمَعِیْنَ کی منقبت پڑھی جائے تو اس میں کیا حرج ہے!          (مکتوبات ِ امامِ ربّانی،  دفترسوم،  حصہ ہشتم ،  مکتوب۷۲ ج۲ص۱۵۷ ملخّصًا)  
٭حضور تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے کمالِ محبت کی علامت یہ ہے کہ آدمی حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے دشمنوں سے کامل دشمنی رکھے ۔    (ایضاً،  دفتراول،  حصہ سوم ،  مکتوب۱۶۵ ج۱ص۴۸ ملخّصًا)  

گانا بجانا ز ہرِ قاتل ہے

٭حضرت سیِّدُنا مجدد الف ثانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی فرماتے ہیں :   گانے بجانے کی خواہش مت کیجیے ،   نہ اس کی لذّت ہی پرفدا ہوں کیوں کہ یہ شہد ملا قاتل زہر ہے۔   (ایضاً ،  دفتر سوم،  حصہ ہشتم ،   مکتوب ۳۴ ج ۲ ص ۸۶ ملخّصًا)  

کانوں میں پگھلا ہوا سیسہ ڈالا جائے گا

    میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  گانے باجے سننا سنانا شیطانی اَفعال ہیں ،  سعادت مندمسلمان ان چیزوں کے قریب بھی نہیں پھٹکتے ۔  گانے باجوں سے بچنا بے حد ضروری ہے کہ اس کا عذاب کسی سے بھی نہ سہا جاسکے گا۔  حضرت سیِّدُنا انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے:   جو شخص کسی گانے والی کے پاس بیٹھ کر گانا سنتا ہے قیامت کے دن اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اس کے کانوں میں پگھلا ہواسیسہ انڈیلے گا۔   (جَمْعُ الْجَوامِع لِلسُّیُوطی ج ۷ ص ۲۵۴ حدیث ۲۲۸۴۳)  

مَناقِبِ غوثِ صمدانی بزبانِ مجدد الفِ ثانی

دعوتِ اسلامی کے اِشاعَتی اِدارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ561 صَفحات پر مشتمل کتاب ،   ’’ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت‘‘  صَفْحَہ 422پر ہے:  حضرتِ مجدد اَلف ثانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی فرماتے ہیں :  جو کچھ فُیُو ض و برکات کا مجمع ہے وہ سب سرکارِ غوثیت سے ملے ہیں ۔   نُوْرُ الْقَمَرِ مُسْتَفَادٌ مِنْ نُورِ الشَّمْس یعنی چاند کی روشنی سورج کے نور سے مستفاد ہے ۔    (مکتوبات ِ امام ربّانی،  دفترسوم ،  حصہ نہم ،  مکتوب۱۲۳ ج۲ص۱۴۵ ملخّصًا)  

مجدِّدِ اَلفِ ثانی اور اعلٰی حضرت

 (پانچ ملتی جلتی صفات)  
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!   اعلیٰ حضرت ،  امامِ اہلِسنّت ،  مجدِّدِ دین وملّت ،  مولانا شاہ امام احمد رضاخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن کی مبارک حیات  کے کئی گوشے ایسے ہیں جن میں حضرت سیِّدُنا مجدد الف ثانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی کی سیر ت کی جھلک نظر آتی ہے بلکہ تعلیم و تربیت،   دینی خدمات حتّٰی کہ وصال کے مہینے میں بھی یکسانیت ہے۔   اس کی تفصیل کچھ یوں ہے :    {۱}  حضرت سیِّدُنا  مجدّد الف ثانی اور امام اہلسنّت رحمۃ اللہ تعالٰی علیہما دونوں کا نام احمد ہے  {۲}  دونوں بزرگوں نے اپنے اپنے والد سے علمِ دین حاصل کیا  {۳}  دونوں حضرات   کی تمام عمر اسلام کے خلاف اٹھنے والے فتنوں کی سرکوبی میں بسر ہوئی{۴}  دونوں صاحبان نے کبھی بھی باطل کے سامنے سر نہیں جھکا یا  {۵}  دونوں اولیائے کرام کا وصال صفر المظفر میں ہوا۔   

مکتوباتِ امامِ ربّانی اور اعلٰی حضرت

اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اپنے ایک مکتوب میں ’’مکتوباتِ امام ربانی‘‘ سے ایک فرمان نقل کر کے حضرت مجد د الف ثانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی کے فرمان کو ارشادِ ہدایت قرار دیا ہے چنانچہ امامِ اہلسنّت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  نے اپنے ایک اہل ِ محبت کو گمراہ لوگوں کی صحبت کے نقصانات سمجھاتے  ہوئے لکھتے ہیں :   آپ جیسے صوفی صافی منش کو حضرت سیِّدُنا شیخ مجدد الف ثانی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا ایک ارشاد یاد دلاتا ہوں اور عین ہدایت کے امتثال (حکم بجالانے)   کی امید رکھتا ہوں ۔   پھر حضرت مجد د الف ثانی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے مکتوب کا کلام ذِکر فرما کر ارشاد فرمایا ’’مولانا انصاف !  آپ یا زید یااور اراکین مصلحت دین و مذہب زیادہ جانتے ہیں یا حضرت شیخ مجدد ؟مجھے ہرگز آپ کی خوبیوں سے امید نہیں کہ اس اِرشادِ ہدایت بنیاد کو مَعَاذَ اللہ عَزَّوَجَلَّ لغو و باطل جانئے،   اور جب وہ حق ہے اور بے شک حق ہے تو کیوں نہ مانئے۔  ‘‘  (مکتوباتِ امام احمد رضا ص۹۰ ملخّصًا)  

آثارِ وصال

حضرت سیِّدُنا مجدد الف ثانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی 1033ھ میں سرہند شریف آ کر خلوت نشین (یعنی سب سے الگ تھلگ)   ہو گئے۔   اپنے خالق و مالک عَزَّوَجَلَّ سے ملاقات کی  لگن نے مخلوق سے بے نیاز کردیا۔  اس خلوتِ خاص (یعنی خصوصی تنہائی)   میں صرف چندافراد کوحجرے (یعنی کمرے)   میں آنے کی اجازت تھی جن میں صاحبزادگان خواجہ محمد سعید اور خواجہ محمد معصوم رحمۃ اللہ تعالٰی علیہما،   خلفائے کرام میں سے حضرت خواجہ محمد ہاشم کِشمی،  حضرت خواجہ بدر الدین  رحمۃ اللہ تعالٰی علیہما اور دو ایک خادم۔   حضرت خواجہ محمد ہاشم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ وصال (یعنی انتقال)   سے قبل ہی دکن تشریف لے گئے تھے۔   حضرت خواجہ بدر الدین رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ آخر وقت تک حاضر رہے۔   جب حضرت خواجہ محمد ہاشم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  رخصت ہونے لگے تو حضرت سیِّدُنا مجدد الف ثانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی  نے فرمایا:   ’’دُعا کرتا ہوں کہ آخرت میں ہم ایک جگہ جمع ہوں ۔  ‘‘  ( زُبْدَۃُ الْمَقامات ص۲۸۲تا۲۸۵مُلَخَّصًا)    

وصال مبارک

28صفرُ المُظَفَّر 1034؁ ھ  /  1624 ء کوجانِ عزیز اپنے خالقِ حقیقی کے سپرد کردی ۔     اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَؕ (۱۵۶)  ۔      (حَضَراتُ القُدْس،   دفتر دُوُم ص۲۰۸)          

نمازِ جَنازہ و تَدفین

آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی نمازِ جنازہ آپ کے شہزادے حضرت خواجہ محمد سعید علیہ رحمۃ اللّٰہ المجید نے پڑھائی۔   اس کے بعد شہزادۂ مرحو م حضرت خواجہ محمد صادق عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الرَزَّاق کے پہلو میں دفن کردیا گیا۔   یہ وہی مقام تھا جہاں حضرت سیِّدُنا مجدد الف ثانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی نے اپنی زندگی میں ایک نور دیکھا تھا اور وصیت فرمائی تھی :  ’’میری قبرمیرے بیٹے کی قبر کے سامنے بنانا کہ میں وہاں جنت کی کیاریوں میں سے ایک کیاری دیکھ رہا ہوں ۔  ‘‘  اس قبے (یعنی گنبد)   میں پہلے شہزادۂ مرحوم حضرت خواجہ محمد صادق عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الرَزَّاق1025ھ کی تدفین ہوئی او ر اس کے بعد حضرت سیِّدُنا مجدد الف ثانی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کوان کے پہلو میں دفن کیا گیا۔   اب اس روضہ شریف کو دوبارہ تعمیر کیا گیا ہے ۔    (  زُبْدَۃُ الْمَقامات ص۲۹۴۔  ۲۹۶،  ۳۰۵  مُلَخَّصًا)   

اَولاد کے مبارک نام

     آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے سات شہزادے اور تین شہزادیاں تھیں جن کی تفصیل یہ ہے :   شہزادگان:    {۱}  حضرت خواجہ محمد صادق عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الرَزَّاق  {۲}  حضرت خواجہ محمد سعید رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  {۳}  حضرت خواجہ محمد معصوم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  {۴}  حضرت خواجہ محمد فرخ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ{۵}  حضرت خواجہ محمد عیسی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  {۶}  حضرت خواجہ محمد اشرف رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  {۷}  حضرت خواجہ محمد یحییٰ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ۔   شہزادیاں :   (۱)   {۱}  بی بی رقیہ بانو  رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی علیہا  {۲}  بی بی خدیجہ بانو رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی علیہا  {۳}  بی بی ام کلثوم  رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی علیھا  ( زُبْدَۃُ الْمَقامات)  

خُلَفائے کِرام

     حضرت سیِّدُنا مجددالف ثانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی کے چند خلفائے کرام کے نام یہ ہیں :   (۱)   صاحبزادہ خواجہ محمد صادق  (۲)  صاحبزادہ خواجہ محمد سعید  (۳)  صاحبزادہ خواجہ محمد معصوم  (۴)  حضرت میر محمد نعمان برہان پوری  (۵)  شیخ محمد طاہر لاہوری  (۶)  شیخ کریم الدین باباحسن ابدالی  (۷)  خواجہ سید آدم بَنّوری   (۸)  شیخ نور محمد پٹنی  (۹)   شیخ بدیع الدین  (۱۰)  شیخ طاہر بَدَخشی  (۱۱)  شیخ یار محمد قدیم طالَقانی (۱۲)  حضرت عبدالہادی بدایونی  (۱۳)   خواجہ محمد ہاشم کِشمی  (۱۴)   شیخ بدالدین سرہندی رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام۔    (حَضَراتُ القُدْس)  

مجدد الف ثانی اور خُلفائے اعلٰی حضرت

    اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے ایک خلیفہ امام المحدثین حضرت سیِّدُنا محمد دیدار علی شاہ اَلوَری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بھی نقشبندی مجددی ہیں ۔   اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے خلفا کو بھی حضرت سیِّدُنا مجدد الف ثانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی سے بے پنا ہ عقیدت و محبت تھی ،  سیدی قطب مدینہ حضرت قبلہ ضیاء الدّین احمد مَدَنی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِیْ نے ایک مرتبہ سرپردونوں ہاتھ رکھ کر ارشاد فرمایا :   ’’حضرت مجدد الف ثانیثانی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ تو ہمارے سر کے تاج ہیں ۔  ‘‘ (سیدی ضیاء الدین  احمد القادری ج۱ص۵۰۹ ملخّصًا )   خلیفہ ٔ اعلیٰ حضرت سیِّدُنا ابو البرکات سیداحمد قادری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے حضرت سیِّدُنا مجدد الف ثانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی کے ’’40 اِرشاد ات‘‘ جمع فرمائے ہیں ۔    
     یاربِّ مصطفٰے !  ہمیں اپنے ولیِّ برحق حضرت سیِّدُنا امامِ ربّانی مجدد الف ثانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی کے صدقے بے حساب مغفرت سے مشرف فرما کر جنت الفردوس میں اپنے پیارے حبیب  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کا پڑوس نصیب فرما۔  اٰمین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وسلَّم
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!    صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

یہ رسالہ  پڑھ لینے کے بعد  ثواب کی نیت سے  کسی کو دے  دیجئے

  غمِ مدینہ و بقیع و مغفرت و
بے حساب  جنّت الفردوس  میں آقا کے پڑوس کا طالب
 
صفر المظفر ۱۴۳۶ھ
نومبر 2016ء

مآخذ و مراجع

کتاب مطبوعہ کتاب مطبوعہ
قراٰنِ کریم زبدۃ المقامات مکتبۃ الحقیقۃ استنبول1307ھ
بخاری دار الکتب العلمیۃ بیروت حضرات القدس محکمۂ اوقاف پنجاب مرکز الاولیا لاہور 1971ء
مسلم دار ابن حزم بیروت جامع کرامات الاولیاء مرکز اہلسنّت برکات رضا الہند
معجم کبیر دار احیاء التراث العربی بیروت مکتوبات امام احمد رضا مکتبہ نبویہ مرکز الاولیا لاہور 
شعب الایمان دار الکتب العلمیۃ بیروت سیرت مجدد الف ثانی امام ربانی فاؤنڈیشن باب المدینہ کراچی
الفردوس بمأثور الخطاب دار الکتب العلمیۃ بیروت سیدی ضیاء الدین احمد القادری حزب القادریہ مرکز الاولیا لاہور 
جمع الجوامع دار الکتب العلمیۃ بیروت عالمگیری دار الفکر بیروت
التیسیر مکتبۃ الامام الشافعی ریاض فتاوٰی رضویہ رضا فاؤنڈیشن مرکز الاولیا لاہور 
مراٰۃ المناجیح ضیاء القرآن پبلی کیشنز مرکز الاولیا لاہور وقارالفتاویٰ بزم وقار الدین باب المدینہ کراچی
اتحاف السادۃ المتقین دار الکتب العلمیۃ بیروت فتاویٰ بحرالعلوم شبیر برادرز مرکز الاولیا لاہور 
مکتوباتِ امام ربانی کوئٹہ بہار ِشریعت مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی
مبدا ومعاد مکتبۃ الحقیقۃ استنبول حدائقِ بخشش شریف مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی

یہ رسالہ پڑھ کر دوسرے کو دے دیجئے

شادی غمی کی تقریبات،   اجتماعات،  اعراس اور جلوسِ میلاد و غیرہ میں مکتبۃ المدینہ کے شائع کردہ رسائل اور مدنی پھولوں پر مشتمل پمفلٹ تقسیم کرکے ثواب کمائیے ،   گاہکوں کو بہ نیتِ ثواب تحفے میں دینے کیلئے اپنی دکانوں پر بھی رسائل رکھنے کا معمول بنائیے ،    اخبار فروشوں یا بچوں کے ذریعے اپنے محلے کے گھر گھر میں ماہانہ کم از کم ایک عدد سنتوں بھرا رسالہ یا مدنی پھولوں کا پمفلٹ پہنچاکر نیکی کی دعوت کی دھومیں مچائیے اور خوب ثواب کمائیے۔   

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن