حضرت سیِّدُنا مجدّدِاَلف ثانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی کو مختلف سلاسلِ طریقت میں اجازت و خلافت حاصل تھی : {۱} سلسلئہ سہروردیہ کبرویہ میں اپنے استاد محترم حضرت شیخ یعقوب کشمیری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ سے اجازت و خلافت حاصل فرمائی{۲} سلسلئۂ چشتیہ اور قادریہ میں اپنے والد ماجد حضرت شیخ عبدالاحد چشتی قادری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ سے اجازت و خلافت حاصل تھی{۳} سلسلئۂ قادریہ میں کیتھلی ( مضافات سرہند) کے بزرگ حصرت شاہ سکندرقادری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ سے اجازت و خلافت حاصل تھی{۴} سلسلئۂ نقشبندیہ میں حضرت خواجہ محمد باقی باللّٰہ نقشبندی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ سے اجازت و خلافت حاصل فرمائی ۔ (سیرت مجدد الف ثانی ص۹۱) حضرت مجدّدِاَلف ثانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی نے تین سلسلوں میں اکتسابِ فیض کا یوں ذِکر فرمایا ہے: ’’مجھے کثیر واسطوں کے ذریعے نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے اِرادت حاصل ہے ۔ سلسلئۂ نقشبندیہ میں 21 ، سلسلئۂ قادریہ میں 25اورسلسلئۂ چشتیہ میں 27 واسطوں سے۔ ‘‘ (مکتوباتِ امامِ ربّانی، دفتر سوم، حصہ نہم، مکتوب۸۷ج۲ص۲۶)
حضرت سیِّدُنا مجدّدِاَلف ثانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی اپنے پیر و مرشد حضرت خواجہ محمد باقی باللّٰہ نقشبندی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی کا بے حد ادب و احترم فرما یا کرتے تھے اور حضرت خواجہ محمد باقی باللّٰہ نقشبندی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی بھی آپ کو بڑی قدر ومنزلت کی نگاہ سے دیکھتے تھے ۔ چنانچہ ایک روز حضرت مجدّدِاَلف ثانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی حجرہ شریف میں تخت پر آرام فرمارہے تھے کہ حضرت خواجہ محمد باقی باللّٰہ نقشبندی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ دوسرے درویشوں کی طرح تنِ تنہا تشریف لائے ۔ جب آپ حجرے کے دروازے پر پہنچے تو خادم نے حضرت مجدّدِاَلف ثانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی کو بیدار کرنا چاہا مگر آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے سختی سے منع فرمایا دیا اور کمرے کے باہر ہی آپ کے جاگنے کا انتظار کرنے لگے ۔ تھوڑی ہی دیر بعد حضرت مجدّدِاَلف ثانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی کی آنکھ کھلی باہر آہٹ سن کر آواز دی کون ہے ؟ حضرت خواجہ باقی باللّٰہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: فقیر، محمد باقی۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ آواز سنتے ہی تخت سے مضطربانہ (یعنی بے قراری کے عالم میں ) اٹھ کھڑے ہوئے اورباہر آکر نہایت عجزوانکساری کے ساتھ پیر صاحب کے سامنے باادب بیٹھ گئے ۔ ( زُبْدَۃُ الْمَقامات ص۱۵۳مُلَخَّصًاً)
حضرت سیِّدُنا مجدّدِاَلف ثانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی مرکزالاولیا لاہور میں تھے کہ 25 جُمادَی الْآخِرہ 1012ھ کو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے پیرو مرشد حضرت سیِّدُنا خواجہ محمد باقی باللّٰہ نقشبندی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا دہلی میں وصال ہوگیا۔ یہ خبرپہنچتے ہی آپ فوراً دہلی روانہ ہوگئے۔ دہلی پہنچ کر مزارِ پرانوار کی زیارت کی ، فاتحہ خوانی اور اہلِ خانہ کی تعزیت سے فارغ ہوکر سر ہند تشریف لائے۔ (ایضاً ص۳۲، ۱۵۹ مُلَخَّصًا)
حضرت سیِّدُنا مجدّدِاَلف ثانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی نے یوں تو قیام آگرہ کے زمانے ہی سے نیکی کی دعوت کا آغاز کردیا تھا، لیکن 1008ھ میں حضرت خواجہ محمد باقی باللّٰہ نقشبندی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی سے بیعت کے بعد باقاعدہ کام شروع فرمایا۔ عہدِ اکبری کے آخری سالوں میں مرکز الاولیا لاہور اور سرہند شریف میں رہ کر خاموشی اور دور اندیشی کے ساتھ اپنے کام میں مصروف رہے اس وقت علانیہ کوشش کرنا موت کو دعوت دینے کے مترادف تھا۔ جابرانہ اور قاہرانہ حکومت کے ہوتے ہوئے خاموشی سے کام کرنا بھی خطرے سے خالی نہ تھا لیکن حضرت مجدّدِاَلف ثانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی نے یہ خطرہ مول لے کر اپنی کوششیں جاری رکھیں اورحضورِ انور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی مکی زندگی کے ابتدائی دور کو پیش ِ نظر رکھا۔ جب دورِ جہانگیری شروع ہوا تو مدنی زندگی کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے برملا کوشش کا آغاز فرمایا۔ حضرت سیِّدُنا مجدّدِاَلف ثانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی نے نیکی کی دعوت اور لوگوں کی اِصلاح کے لیے مختلف ذرائع استعمال فرمائے۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے سنت ِ نبوی کی پیروی میں اپنے مریدوں ، خلفااور مکتوبات کے ذریعے اس تحریک کو پروان چڑھایا۔ (سیرتِ مجدِّد الفِ ثانی ص۱۵۷ ملخّصًا)
ایک مرتبہ ایک شخص حضرت مجدّدِاَلف ثانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی کے سامنے فلاسِفہ کی تعریف کرنے لگا، اس کا انداز ایسا تھا کہ جس سے علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کی تو ہین لازم آتی تھی، آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اسے سمجھاتے ہوئے فلاسفہ کے رد میں حضرت سیِّدُنا امام محمد بن محمد بن محمد غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الوالی کا فرمانِ عالی سنایا تو وہ شخص منہ بگاڑ کر کہنے لگا: غزالی نے نامعقول بات کہی ہے، مَعَاذَ اللہ عَزَّوَجَلَّ ۔ حضرت سیِّدُنا امام محمد بن محمدبن محمد غزالی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی شان میں گستاخانہ جملہ سن کر آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو جلال آگیا! فوراً وہاں سے اٹھے اوراسے ڈانٹتے ہوئے ارشاد فرمایا : ’’اگر اہلِ علم کی صحبت کا ذوق رکھتے ہو تو ایسی بے ادبی کی باتوں سے اپنی زبان بند رکھو ۔ ‘‘ (زُبْدَۃُ الْمَقامات ص۱۳۱)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! کسی بھی مسلمان کی تحقیردنیا و آخرت دونوں ہی کے لیے نقصان دہ ہے لیکن بزرگانِ دین کی گستاخی کی سزا بعض اوقات دنیا میں ہی دی جاتی ہے تاکہ ایساشخص لوگوں کے لیے عبرت کا سامان بن جائے ۔ چنانچہ حضرت سیِّدُنا تاج الدین عبدالوہاب بن علی سبکی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : ایک فقیہ ( یعنی عالم دین) نے مجھے بتا یا کہ ایک شخص نے فقہ شافعی کے درس میں حضرت سیِّدُنا اما م محمد بن محمد بن محمد غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الوالی کو برا بھلا کہا، میں اس پر بہت غمگین ہوا، رات اسی غم کی کیفیت میں نیند آگئی۔ خواب میں حضرت سیِّدُنا امام محمد بن محمد بن محمد غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الوالی کی زیارت ہوئی، میں نے برا بھلا کہنے والے شخص کا ذکرکیا تو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے ارشاد فرمایا: ’’فکر مت کیجیے ، وہ کل مر جائے گا۔ ‘‘صبح جب میں حلقہ ٔ درس میں پہنچاتو اس شخص کو ہشاش بشاش (یعنی بھلا چنگا) دیکھا مگر جب وہ وہاں سے نکلاتو گھر جاتے ہوئے راستے میں سواری سے گرا اور زخمی ہو گیا، سورج غروب ہونے سے قبل ہی مرگیا۔ (اِتحافُ السّادَۃ للزَّبِیدی ج۱ص۱۴)
حضرت سیِّدُنا مجدّدِاَلف ثانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی سفر میں تلاوتِ قراٰنِ کریم فرماتے رہتے، بسا اوقات تین تین چار چارپارے بھی مکمّل فرما لیا کرتے تھے۔ اس دوران آیتِ سجدہ آتی تو سواری سے اتر کر سجدہ ٔ تلاوت فرماتے۔ (زُبْدَۃُ الْمَقامات ص۲۰۷مُلَخَّصًا)
حضرت سیِّدُنا مجدّدِاَلف ثانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی دیگر معاملات کی طرح سونے جاگنے میں بھی سنّت کا خیال فرمایا کرتے تھے۔ ایک بار رمضان المبارک کے آخری عشرے میں تراویح کے بعد آرام کے لیے بے خیالی میں بائیں (LEFT) کروٹ پر لیٹ گئے ، اتنے میں خادم پاؤں دبانے لگا ۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو اچانک خیال آیا کہ ’’دائیں (RIGHT) کروٹ پر لیٹنے کی سنّت ‘‘ چھوٹ گئی ہے۔ نفس نے سستی دلائی کہ بھولے سے ایسا ہو جائے تو کوئی بات نہیں ہوتی لیکن آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اُٹھے اور سنّت کے مطابق دائیں ( یعنی سیدھی) کروٹ پر آرام فرما ہوئے۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : اس سنّت پر عمل کرتے ہی مجھ پر عنایات ، برکات اور سلسلے کے انوار کا ظہور ہونے لگااور آواز آئی: ’’ سنّت پر عمل کی وجہ سے آپ کو آخرت میں کسی قسم کا عذاب نہ دیا جائے گااور آپ کے پاؤں دبانے والے خادم کی بھی مغفرت کردی گئی ۔ ‘‘ ( ایضاًص۱۸۰مُلَخَّصًا)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے! سنّت پر عمل کی کیسی برکتیں ہیں ۔ اگر ہم بھی سنّت کے مطابق سونے کی عادت بنالیں تو اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کی برکات نصیب ہوں گی ۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ نیک بندوں کی خدمت کرنا بھی بہت بڑی سعادت کا باعث ہوتا ہے ۔
٭سونے سے پہلے یہ دعا پڑھ لیجئے: اَ للّٰھُمَّ بِاسْمِکَ اَمُوْتُ وَاَحْیَا۔ ترجَمہ: اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ! میں تیرے نام کے ساتھ ہی مرتا ہوں اور جیتا ہوں (یعنی سوتا اور جاگتا ہوں ) ۔ (بُخارِی ج ۴ ص۱۹۶حدیث۶۳۲۵) ٭سنت یوں ہے کہ’’ قُطْب تارے (یعنی شِمال) کی طرف سر کرے اور سیدھی کروٹ پر سوئے کہ سونے میں بھی منہ کعبے کو ہی رہے۔ ‘‘ (فتاوٰی رضویہ ج۲۳ ص ۳۸۵ ) دنیا میں ہر جگہ قُطْب تارہ شمال کی جانب نہیں پڑے گا لہٰذادُنیا کے کسی بھی حصے میں سوئیں اور سریاپاؤں کسی بھی سَمت ہوں بس’’ سیدھی کروٹ اس طرح سوئیں کہ چہرہ قبلے کی طرف رہے‘‘ سنّت ادا ہو جائے گی‘‘٭ جاگنے کے بعد یہ دعا پڑھئے : اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْٓ اَحْیَانَا بَعْدَ مَآ اَمَا تَنَا وَاِلَیْہِ النُّشُوْرُ ۔ ترجَمہ: تمام خوبیاں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لئے ہیں جس نے ہمیں مارنے کے بعد زندہ کیا اور اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ (بُخارِی ج۴ص۱۹۶حدیث۶۳۲۵) بہارِ شریعت جلد3صفحہ 436پر ہے : (نیند سے بیدار ہو کر) اُسی وقت پکّا ارادہ کرے کہ پرہیز گاری و تقویٰ کریگا کسی کو ستائے گا نہیں ٭ نیند سے بیدار ہوکرمِسواک کیجئے ٭رات میں نیند سے بیدار ہوکر تہَجُّد ادا کیجئے کہ بڑی سعادت ہے۔ سیِّدُ المُبَلِّغین، رَحمۃٌ لِّلْعٰلمِین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشادفرمایا : ’’فرضوں کے بعد افضل نَماز رات کی نماز ہے۔ ‘‘ ( مُسلِم ص۵۹۱حدیث ۱۱۶۳)
حضرت سیِّدُنا مجدّدِاَلف ثانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی نے ایک بار تحدیثِ نعمت کے طور پر فرمایا : ایک دن میں اپنے رفقا کے ساتھ بیٹھا اپنی کمزوریوں پر غور و فکر کر رہا تھا، عاجزی و انکساری کا غلبہ تھا۔ اِسی دوران بمصداقِ حدیث: ’’ مَنْ تَوَاضَعَ لِلّٰہِ رَفَعَہُ اللّٰہُ یعنی جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لئے انکساری کرتا ہے اللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے بلندی عطا فرماتاہے ۔ ‘‘ ( ) رب عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے خطاب ہوا : ’’غَفَرْتُ لَکَ وَلِمَنْ تَوَسَّلَ بِکَ بِوَاسِطَۃٍ اَوْبِغَیْرِ وَاسِطَۃٍ اِلیٰ یَوْمِ الْقِیَامَۃ یعنی میں نے تم کو بخش دیا اور قیامت تک پیدا ہونے والے ان تمام لوگوں کو بھی بخش دیا جو تیرے وسیلے سے بالواسطہ یا بلاواسطہ مجھ تک پہنچیں ۔ ‘‘ اس کے بعد مجھے حکم دیا گیا کہ میں اس بشارت کو ظاہر کر دوں ۔ (حَضَراتُ القُدْس، دفتر دُوُم ص ۱۰۴مُلَخَّصًا)
حضرت امامِ رَبّانی، مجدّدِاَلف ثانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی کے سفر و حضر کے خادم حضرت حاجی حبیب احمد عَلَیْہِ رَحْمَۃُاللہِ الاَ حَد فرماتے ہیں : حضرت مجدّدِاَلف ثانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی کے ’’ اجمیر شریف‘‘ قیام کے دوران ایک دن میں نے 70ہزار بار کلمہ طیبہ پڑھا اور آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی: میں نے 70 ہزار بار کلمہ شریف پڑھا ہے اُس کا ثواب آپ کی نذر کرتا ہوں ۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فوراًہاتھ اٹھا کر دعا فرمائی ۔ اگلے روز فرمایا: کل جب میں دعا مانگ رہا تھا تومیں نے دیکھا: فرشتوں کی فوج اُس کلمہ طیبہ کا ثواب لے کر آسمان سے اتر رہی ہے ان کی تعداد اس قدر زیادہ تھی کہ زمین پر پاؤں رکھنے کی جگہ باقی نہ رہی ! آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے مزید فرمایا: اس ختم کا ثواب میرے لیے نہایت مفید ثابت ہوا۔ انہی حاجی صاحب رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا بیان ہے کہ حضرت مجدّدِاَلف ثانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی نے مجھ سے فرمایا: میں نے جو کچھ بتایا اس پر تعجب نہ کرنا ، میں اپنا حال بھی تمہیں بتاتا ہوں : میں روزانہ تہجد کے بعد پانچ سو مرتبہ کلمہ طیبہ پڑھ کر اپنے مرحوم بچوں محمد عیسیٰ، محمد فرخ اور بیٹی ام کلثوم کوا یصالِ ثواب کرتا تھا ۔ ہر رات ان کی روحیں کلمہ طیبہ کے ختم کے لیے آمادہ کرتی تھیں ۔ جب تک میں تہجدکی ادائیگی کے بعد کلمہ طیبہ کا ختم نہ کرلیتا وہ روحیں میرے اردگرد اسی طرح چکر لگاتی رہتی جیسے بچے روٹی کے لیے ماں کے گرد اُس وقت تک منڈلاتے رہتے ہیں جب تک انہیں روٹی نہ مل جائے۔ جب میں کلمہ طیبہ کا ایصالِ ثواب کر دیتا تو وہ روحیں واپس لوٹ جاتیں ۔ مگر اب کثر تِ ثواب کی وجہ سے وہ معمور ہیں اور اب اُن کا آنا نہیں ہوتا۔ (ایضاً ص۹۵ مُلَخَّصًا)
٭ زندوں کو بھی ایصالِ ثواب کیاجاسکتا ہے ٭ مردے اپنے عزیزو اقارب اور دوست احبا ب کی طرف سے ایصالِ ثواب کے منتظر رہتے ہیں ٭ مردوں کو ثواب پہنچتا ہے اور وہ ثواب پا کر مطمئن ہوجاتے ہیں ٭ ایصالِ ثواب کرنا اولیائے کرام کا طریقہ رہا ہے۔
حضرت حاجی حبیب احمد عَلَیْہِ رَحْمَۃُاللہِ الاَ حَدفرماتے ہیں : جس دن میں نے حضرت سیِّدُنا مجدّدِاَلف ثانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی کو کلمہ طیبہ کا ثواب نذر کیا اسی دن سے آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اپنے لیے ایک ہزار دانے والی تسبیح بنوائی اور تنہائی میں اس پرکلمہ طیبہ کا ورد فرمانے لگے۔ شبِ جمعہ کو خاص طور پر مریدین کے ہمراہ اُسی تسبیح پرایک ہزار دُرُود شریف کا وِرد فرمایا کرتے۔ (حَضَراتُ القُدْس، دفتر دُوُم ص ۹۶)
امام ربّانی، حضرت مجدّدِاَلف ثانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی فرماتے ہیں : پہلے اگر میں کبھی کھانا پکاتا تو اس کا ثواب حضور سرور عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ و امیرُالْمُؤمِنِین حضرت مولائے کائنات، علی المرتضٰی شیر خدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم و حضرت خاتون جنت فاطمۃ الزہرا و حضرات حسنین کریمین رضی اللہ تعَالٰی عنہم کی ارواح مقدسہ کے لئے ہی خاص ایصال ثواب کرتا تھا۔ ایک رات خواب میں دیکھا کہ جناب رسالت مآب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ تشریف فرما ہیں ۔ میں نے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خدمت بابرکت میں سلام عرض کیاتو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ میری جانب متوجہ نہ ہوئے اور چہرہ ٔ انور دوسری جانب پھیر لیا اورمجھ سے فرمایا: ’’ میں عائشہ کے گھر کھانا کھاتا ہوں ، جس کسی نے مجھے کھانا بھیجنا ہو وہ (حضرت) عائشہ کے گھر بھیجا کرے۔ ‘‘اس وقت مجھے معلوم ہوا کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے توجہ نہ فرمانے کا سبب یہ تھا کہ میں اُمُّ الْمؤمِنین حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ صدّیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کو شریک طعام ( یعنی ایصال ثواب) نہ کرتا تھا۔ اس کے بعدسے میں حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدّیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَابلکہ تمام اُمَّہاتُ الْمؤمِنین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ کو بلکہ سب اہل بیت کو شریک کیا کرتا ہوں اور تمام اہل بیت کو اپنے لئے وسیلہ بناتا ہوں ۔ (مکتوباتِ امام ربّانی، دفتر دوم حصہ ششم مکتوب ۳۶ ج۲ ص۸۵) اللہُ رَبُّ العِزِّتْ عَزَّ وَجَلَّ کی ان پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو۔ اٰمین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وسلَّم
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اس حکایت سے معلوم ہوا کہ جن کو ایصال ثواب کیا جاتا ہے ان کو پہنچ جاتا ہے یہ بھی پتا چلا کہ ایصال ثواب محدود بزرگوں کوکرنے کے بجائے سبھی کو کر دینا چاہئے ۔ ہم جتنوں کو بھی ایصال ثواب کریں گے سبھی کو برابر برابر ہی پہنچے گا اور ہمارے ثواب میں بھی کوئی کمی نہ ہو گی۔ ( ) یہ بھی پتا چلا کہ ہمارے آقا، سرکارِ دو عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ا ُمُّ المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے بے حد اُنسیت رکھتے ہیں ۔ ’’بخاری‘‘ شریف کی روایت ہے ، حضرت سیِّدُنا عمرو بن عاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ جب’’ غزوۂ سلاسل‘‘ سے واپس لوٹے تو انہوں نے عرض کی: یا رسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ! آپ کو تمام لوگوں میں سب سے زیادہ محبوب کون ہے؟ فرمایا: (عورتوں میں ) عائشہ۔ انہوں نے پھر عرض کی: مردوں میں ؟ فرمایا: ان کے والد (یعنی حضرت سیِّدُنا ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ) ۔ (بخاری ج ۲ ص ۵۱۹ حدیث ۳۶۶۲)
بنت صدیق آرام جان نبی اس حریم براء ت پہ لاکھوں سلام
یعنی ہے سورۂ نور جن کی گواہ ان کی پر نور صورت پہ لاکھوں سلام ( حدائقِ بخشش شریف ص۳۱۱)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد