30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اندازہ کیجئے کہ امیرِدعوتِ اسلامی، حضرت مولانا محمد الیاس عطار قادِری رَضَوی دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہاور دعوتِ اسلامی کے مبلغین کو کتنے شہیدوں کا ثواب ملے گا؟ جن کی مساعی ٔجمیلہ سے لاکھوں افراد نہ صرف نمازی بن گئے ہیں بلکہ سرکارِ دوعالمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی سنّتوں پر عمل پیرا ہوگئے ۔
اِس کامیابی میں جہاں حضرت امیرِ دعوتِ اسلامی مدظلہ العالی کی شب و روز کوشِشوں اور ان کے بیانات کا دَخْل ہے وہاں فیضانِ سنّت کا بھی بڑا عمل دخل ہے ،فیضانِ سنّت فقیر کے اندازے کے مطابق پاکستان میں سب سے زیادہ شائع ہونے والی کتاب ہے۔‘‘(تقریظ بر فیضانِ سنّت)
صَلُّوْ ا عَلَی الْحَبِیبْ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکے بلند پایہ مقام اور عظمت کا اندازہ امامِ اہلسنّت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکے اس مبارَک فتویٰ سے لگایا جاسکتا ہے۔(جو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے اُس سُنی حنفی شخص کے بارے میں دیا جس کی خدماتِ دین امیرِ اہلسنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکی دینی خدمات سے مماثلت رکھتی تھیں ۔ )
امامِ اہلِسنّت عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن کا مُبارَک فتوٰی
امامِ اہلِسنّت مجددِ دین وملت اعلیٰ حضرت الشاہ مولانا احمد رضاخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن سے ایک سُنی حَنَفی شخص کے بارے میں کچھ اس طرح سوال ہوا کہ ہم ایسے شخص سے عقیدت رکھیں یا نہیں ؟ جس کے بیانات کے اثر سے شرک و بدعات وغیرہ کافور ہوتی چلی جاتی ہیں ، اور ہزارہا مسلمان،جو ضروری شَعائرِ اسلام اور نماز روزوں کے مسائل سے بھی واقفیت نہ رکھتے تھے وہ خود یعنی نماز کے مسائل سکھانے کیلئے درس و بیان کرنے والے اور ائمہ مساجد ہوگئے، اور یہ شخص مختلف اوقات میں مختلف مقامات پردشمنانِ دین کے مقابلے میں علی الاعلان جِہادِ لِسانی (یعنی زبانی جہاد) کرتاہے، اگر ایسے شخص کو مسلمان‘ عالمِ باعمل اور انبیاء علیہم السلام کا وارِث سمجھتے ہوئے کچھ نقد وغیرہ بِلا اس کی طمع(یعنی بغیرخواہش) اور درخواست کے تعظیماً اُس کی نذر کریں اور اَہلِ اسلام ایسے شخص کو مُعتَقَد علیہ(یعنی جس شخص سے عقیدت رکھی جائے ) تصوّر کریں یا نہیں ؟ اور اس نذ راور تحفہ کے بدلے اجرِ عظیم پائیں گے یا نہیں ؟
اِس سوال کا جواب دیتے ہوئے اعلیٰ حضرت علیہ رحمۃُ ربِّ العزت فتاوٰی رَضَویہ جلد 19 کے صفحہ 433 پر لکھتے ہیں [1]؎ :اگر فی الواقع وہ شخص علمائے اہلسنّت و جماعت ایَّدَہَمُ اللّٰہ تعالٰیسے ہے اور جو باتیں حقیقۃً شرک ہیں اُنہی کے معتقد (یعنی اعتقاد رکھنے والے)کو مشرِک کہتا ہے اور اَحکامِ مشرِکین میں داخل کرتا ہے اور جو نَو پیدا (یعنی نئی)باتیں مخالفِ شریعت و مُزاحِم سنّت (یعنی سنت کو روکنے والی )ایجاد کی گئیں انہیں کو بدعتِ شَرعِیہ ومَذْمومہ و شَنِیْعَہ جانتا اور ان سے نَہی و تَحذیر (یعنی منع کرتا ، ڈر سُناتا) ہے، اور شَعائرِ اسلام (مثلاًمساجد ، اذان،، حج وغیرہ ) اور نَماز صلوٰۃ وصِیام (یعنی نماز و روزہ ) وغیرہا کے اَحکام صحیح صحیح سکھاتا اور بارعایتِ شرائط و قواعد احتساب امر بالمعروف اور نہی عن المنکر(یعنی بااندازِ اَحسن نیکی کا حکم کرنااور بُرائی سے منع کرنا) بجالاتا ہے، اور وَعْظ میں روایاتِ باطلہ، و خُرافاتِ مُخْتَرَعہ(یعنی من گڑھت بکواسات) و بیانات مُشیرۂِ اَوہام(یعنی ایسی باتیں جو وہم پر مبنی ہوں ) و مفسِدۂ خیالاتِ عوام (یعنی عام لوگوں میں پائے جانے والے غلط خیالات)سے احتراز رکھتا(یعنی بچتا)اور علمِ کافی و فَہمِ صافی(یعنی واضِح سمجھ) کے ساتھ ہدایت و ارشاد میں ٹھیک مِعیارِ شرع پر چلتاہے ، تو اسے نہ صرف عالِم بلکہ اس زمانہ میں اراکینِ دین و سنّت (یعنی دین و سنّت کے ستون)و خُلَفائے رِسالت عَلَیْہِ اَفْضَلُ الصَّلٰوۃِ وَالتَّحِیَّۃِ (یعنی سرکار علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ’’خلیفہ‘‘و ’’نائب‘‘)اور اَولیائے جنابِ اَحَدِیّت آلاء جِلَّت (یعنی اللہ جل جلالہ کے اولیاءِکاملین اوراعلیٰ نعمتوں میں سے)سمجھنا چاہئے اور اس کی جو خدمت ہو سکے صلاح و فلاحِ دارین ورِضائے رَبُّ الْمَشْرِقین و خوشنودیِٔ سیدُ الکونین ہے جل جلالہ‘ و صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ۔ (وَاللّٰہُ سُبْحٰنَہ وَ تَعالٰی اَعْلَم) (ماخوذاز فتاویٰ رَضَویہ شریف ،ج ۱۹، ص ۴۳۳)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اعلیٰ حضرت علیہ َرحمۃ رَبِّ العزت کا یہ مبارَک فتویٰ فی زمانہ امیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہاور ہر وہ سنّی عالِم و مُبَلِّغ جو اس مُبارَک فتویٰ کے مطابق سنّتوں کی دُھومیں مچاتے ہیں اُن کی ذاتِ مقدسہ کی مکمل عکاسی کرتا ہے۔ اعلیٰ حضرتعلیہ رحمۃ رب العزت نے ایک علاقے یا شہر میں مَدَنی کام کیلئے کوشش فرمانے والے عالِمِ اَہلسنّت کیلئے فرمایا کہ انہیں نہ صرف عالم بلکہ اس زمانہ میں دین وسنّت کا سُتون، سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا خلیفہ و نائب اوراللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ کے کامل اولیاء میں سے جاننا چاہیے، تو جس ہستی کو دُنیا امیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکے نام سے پُکارتی ہو، جن کے تقویٰ ، پرہیزگاری اور دینی خدمات کی دُھوم دنیا کے کونے کونے میں مچ رہی ہو۔ جن کے سنتوں بھرے بیانات و پُر تاثیر تصنیفات و تالیفات کی بَرَکتوں سے لاکھوں مسلمانوں بالخصوص نوجوانوں کی زندگی میں مَدَنی انقلاب برپا ہو چکا ہو۔اُن کے مقام ومرتبے کا کون اندازہ لگا سکتا ہے ؟ اَہلسنّت کے ایک مشہور مفتی وشیخ الحدیث حضرتِ علّامہ مولانا منظور احمد فیضی علیہ رحمۃ اللہ القوی کی تحریر ملاحظہ ہو :
سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے سلام ارشاد فرمایا !
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع