30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سرکارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَاور حضرتِ بلال رضی اللہ عنہپرہونے والے مظالم کی داستا ن سن رکھی تھی ،ان مظالم کے سامنے میری تکالیف کچھ بھی نہیں تھیں ، اپنے آقاصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی آزمائشوں کو یاد کرکے میرا ایمان اور مضبوط ہوجاتا۔
ایک روز میں چھپ کر دعوتِ اسلامی کے سنتوں بھرے اجتماع میں جاپہنچا۔ اطلاع پا کر گھر والے پہنچے اوروہاں سے مجھے اٹھا کر لے گئے ۔نہ میں نے کوئی مزاحمت کی اور نہ کسی کو کرنے دی کہ فساد ہوگا۔گھر لے جا کر مجھے اتنا مارا گیاکہ میں نیم بے ہوش ہوگیا۔ہوش آنے پر میں نے گھر چھوڑنے کا پختہ ارادہ کر لیا حالانکہ3 دن پہلے ہی میری سرکاری نوکری کا آرڈرموصول ہواتھا جس کے لئے میں نے سالوں محنت اور کوششیں کی تھیں ۔ اب ایک طرف ذاتی مکان ،ماں باپ اور روشن مستقبل اور دوسری طرف ایمان جیسی عظیم دولت! مگر میں نے رَبّ عَزَّ وَجَلَّ کے کرم سے ایمان کے تحفظ کی خاطر 21 مارچ 2007ء کو اپنی مرضی سے گھر چھوڑ دیا۔
اَلْحَمْدُ ِللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ آج میں ہند کے مختلف شہروں میں عاشقانِ رسول کے ہمراہ مَدَنی قافلوں میں سفر کر رہا ہوں اورگھر والوں کی سختی کے باعث رہ جانے والی تمام نمازیں بھی قضاء کرلی ہیں ۔میری خواہش تھی کہ میں بھی کبھی نماز میں اِمامت کی سعادت حاصل کر سکوں ۔ اَلْحَمْدُ ِللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ مدنی قافلے میں سفر کی بَرَکت سے چند سورتوں کو دُرُست مخارج کے ساتھ سیکھنے اور نماز کے مسائل یاد کرنے میں کامیاب ہوچکا تھا۔13 اپریل2007ء کو میری مراد بَر آئی اور مجھے ’’جھانسی ‘‘ شہرمیں فجر کی جماعت میں امامت کی سعادت حاصل ہوگئی۔امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکی بنائی ہوئی دعوتِ اسلامی پر میری جان قربان کہ اس نے کفر کی آغوش میں پلنے والے کو نہ صرف دولتِ ایمان سے نوازا بلکہ اِمامت کے مصلّے پر لاکھڑا کیا۔میرے والد اور بھائی مجھ سے ملاقات کے لئے آتے اور خونی رشتے کی وجہ سے آنسو بہاتے گھر واپس چلنے پر اصرار کرتے، انہیں روتا دیکھ کر میری بھی آنکھیں بھیگ جاتیں مگر میں نے انہیں صاف صاف بتا دیا کہ میں مذہبِ اسلام کو کبھی نہیں چھوڑ سکتا ۔اب تومیں گھر والوں کے آنے پر قصداً نہیں ملتا کہ خدانخواستہ محبت کی آڑ میں شیطان ایمان خطرے میں نہ ڈال دے ۔یہ سب میر ے رَبّ عَزَّ وَجَلَّ کا کرم ،سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی عنایت اور میرے پیر و مُرشد امیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکی نظرِ ولایت کا فیض ہے۔
اِنہی اسلامی بھائی کے بیان کا خلاصہ ہے کہ دورانِ سفر ’’قَنّوج ‘‘شہرکے محلہ ’’کا غزیانی‘‘ میں جب علاقائی دورہ برائے نیکی کی دعوت کیلئے پہنچا تو وہاں کی ’’پرانی مسجد ‘‘کے سامنے والا میدان لوگوں سے بھرا پایا،کوئی تاش کھیلنے میں تو کوئی جوئے میں مصروف تھا۔میں نمازِ عصر کے بعد جب ان لوگوں کے پاس نیکی کی دعوت دینے کیلئے حاضر ہوا تو ایک شخص انتہائی غصے کی حالت میں کھڑا ہو کر مجھے گندی گندی گالیاں دیتے ہوئے ڈانٹے لگا کہ کسی اور کو جاکرسمجھاؤ ہمیں سمجھانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔اتنے میں ایک بوڑھے شخص نے اس سے کہا:’’ اس کی بات تو سنو کہ یہ کیا کہنا چاہتا ہے؟‘‘میں نے بھی اس گالیاں دینے والے شخص سے عرض کی: ’’بھائی ! گالیاں دے کر اور مجھے مار کر اگرآپ کوسکون ملتا ہے تو یہ سب بھی کر لو مگر پھر میری بات ضرور سن لینا۔‘‘ اس پر وہ خاموش ہو گیا اور میں نے اسے نیکی کی دعوت پیش کی اور دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول میں سیکھے ہوئے نماز پڑھنے کے فضائل اور نہ پڑھنے سے متعلق وعیدیں سنائیں ، جب محسوس ہواکہ لوہا گرم ہو چکا ہے تو میں نے کہا ’’ جو باتیں میں آپ کو بتا رہا ہوں یہ توآپ کو مجھے بتانی چاہئے کیوں کہ میں نے ابھی کچھ عرصہ قبل ہی اسلام قبول کیا ہے، پھر میں نے مختصراً اپنے اسلام قبول کرنے اور اس دوران آنے والی آزمائشوں کے واقعات سنانا شروع کئے تو وہاں موجود لوگ رونے لگے حتی کہ مجھے گالیاں بکنے والا شخص روتے ہوئے کہنے لگا، بس کرو ورنہ میرا دم نکل جائے گا۔اب یہ تما م ہمارے ساتھ مسجد میں چلنے کیلئے تیار تھے۔نمازِعصر میں ہم دو نمازی تھے مگر حیرت انگیز طور پرنمازِ مغرب میں 3 صفیں بن گئیں ۔ایک بُزُرگ فرمانے لگے :’’میں ان لوگوں کو دیکھتے دیکھتے بوڑھا ہو گیا ہوں آج پہلی بار انہیں مسجد میں دیکھ رہا ہوں ۔ ‘‘
اللّٰہ عَزّوَجَلَّ کی امیرِ اہلسنّت پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری مغفِرت ہو
صَلُّوْ ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد
باب المدینہ کراچی کے علاقے گلبہار کے ایک ماڈرن نوجوان محمد احسان دعوت اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابستہ ہوئے اور امیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکے مرید بن گئے ۔ ایک ولیِ کامل سے مرید تو کیا ہوئے ان کی زندگی میں مَدَنی انقلاب برپا ہوگیا۔ چہرہ ایک مٹھی داڑھی کے ذریعہ مَدَنی چہرہ بن گیا اور سر پر مستقل طور پر سبز سبز عمامے کا تاج جگمگ جگمگ کرنے لگا۔ انہوں نے دعوتِ اسلامی کے مدرسۃالمدینہ (بالغان) میں قرآن پاک ناظرہ ختم کرلیا اور لوگوں کے پاس جاجا کر نیکی کی دعوت کی دُھومیں مچانے لگے۔ ایک دن اچانک انہیں گلے میں دَرْد مَحسوس ہوا، علاج کروایا مگر " مَرض بڑھتا گیا جُوں جُوں دوا کی " کے مِصداق گلے کے مَرَض نے بَہت زیادہ شدّت اختیارکرلی یہاں تک کہ قریبُ المرگ ہوگئے۔
اسی حالت میں انہوں نے امیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکے مطبوعہ مَدَنی وصیت نامہ کو سامنے رکھ کر اپنا وصیت نامہ تیار کروا کر اپنے عَلاقے کے نگران کے سِپُرد کردیا اور پھر سَدا کیلئے آنکھیں مُوند لیں ۔ وقتِ وفات ان کی عمر تقریبًا 35 سال ہوگی۔ انہیں گلبہار کے قبرستان میں سِپُردِ خاک کردیا گیا۔ حسبِ وصیت بعدِ غسل کَفَن میں چہرہ چُھپانے سے قبل پہلے پیشانی پر انگشت شہادت سے بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط سینہ پر لَآاِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌرَّسُوْلُ اللّٰہ،صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ناف اور سینے کے درمیانی حصہ کَفَن پر یا غوثِ اعظم دستگیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ، یا اِمام اباحنیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ، یا امام اَحمد رَضا رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ، یا شیخ ضیاء الدین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اور انکے پیرو مرشِد (یعنی امیرِ اہلسنّت مدظلہ العالی) کا نام لکھا گیا۔ دفن کرتے وقت دیوارِ قبر میں طاق بنا کر عَہد نامہ ، نقشِ نعلین ودیگر تبرکات رکھے گئے۔ بعدِ دفن قبرپر اذان بھی دی گئی اور کم و بیش بارہ گھنٹے تک ان کی قبر کے قریب اسلامی بھائیوں نے اجتماع ذکْر و نعت جاری رکھا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع