30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اوراجتماعی و انفرادی کوشش کے ذریعے گناہوں بھری زندگی گزارنے والے لوگوں کی زندگیوں میں مَدَنی انقلاب برپا فرمادیا۔ جس کی بَرَکت سے وہ لوگ گناہوں سے تائب ہوکر نہ صرف فرائض وواجبات کی پابندی کرنے لگے بلکہ مستحب اعمال کے بھی عادی ہوگئے اور اُن اولیاء کرام کے دستِ مبارَک پر بیعت کرنے کے بعد رُوحانی تربیت کے مراحل طے کرنے لگے۔
اِن بُزرگانِ دین علیہم رحمۃ اللہ المُبین نے پوری لگن کے ساتھ اِن عاشقانِ رسول کی تربیت فرمائی۔پھر انہی میں سے کسی کو اپنی خلافت تو کسی کو وکالتسے نوازا اورحسبِ مراتب دینی ذمہ داری کامَدَنی تاج پہنا کر ہدایت کی کہ جاؤاورراہ ِخدا عَزَّ وَجَلَّ میں سفر کرواور اپنی اصلاح کے ساتھ اجتماعی وانفرادی کوشش کے ذریعے دوسروں تک نیکی کی دعوت پہنچاتے ہوئے اصلاحِ اُمّت کے مقدس کام میں مصروف ہو جاؤ۔
اِس پُر فِتن دور (یعنی پندرھویں صدی ہجری)میں کہ جب دنیا بھر میں گناہوں کی یلغار،V.TاورV.C.R کی بھر مار اور فیشن پرستی کی پھٹکار مسلمانوں کی اکثریت کو بے عمل بناچکی تھی، نیز علمِ دین سے بے رغبتی اور ہر خاص و عام کارُجحان صرف دُنیاوی تعلیم کی طرف ہونے کی وجہ سے اوردینی مسائل سے نا واقفیت کی بنا پر ہر طرف جہالت کے بادل منڈلا رہے تھے، غیرمسلم قوتیں ‘ مسلمانوں کو مٹانے کے لئے اور اسلام کی پاکیزہ تعلیمات کو بگاڑنے کی ناپاک سازشیں کر چکی تھیں ، مساجد کا تقدُّس پامال کیا جارہا تھا ، لادینیت و بدمذہبیت کا سیلاب ٹھا ٹھیں مار رہا تھا، ہر دوسراگھر سنیما گھر بنتا چلا جارہا تھا، مسلمان موسیقی ،شراب اور جوئے کا عادی ہوکر تیزی کے ساتھ بد اخلاقی کے عمیق گڑھے میں گرتا جا رہا تھا، گلشنِ اسلام میں خَزاں ڈیرہ ڈالے بیٹھی تھی، اِن نازُک حالات میں اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ نے اپنے ایک ’’ولیِٔ کامل‘‘ کواُمّتِ محمدیہ کی اصلاح کے لئے منتخب فرمایا ، جنہیں دنیا’’ امیرِاَہلسنّت‘‘ (دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ) کے نام سے پکارتی ہے۔
قبلہ شیخِ طریقت ،امیرِ اَہلسنّت ، بانیٔ دعوتِ اسلامی ، حضرت علّامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادِری رَضَوی ضیائی دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہنے نیکی کی دعوت عام کرنے کی ذمہ داری مَحسوس کرتے ہوئے ایک ایک اسلامی بھائی پر انفرادی کوشش کر کے مسلمانوں کو عَمَلی طور پر سنتیں اپنانے کی طرف راغب کر نا شروع کردیا،یہاں تک کہ دیکھتے ہی دیکھتے آپ نے ’’دعوتِ اسلامی‘‘ جیسی عظیم اورعالمگیر تحریک کے مَدَنی کام کا آغاز فرما دیا۔
آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہدور دراز کا سفر کرتے،دن میں بسا اوقات ایک سے زائد مرتبہ بیانات کرتے اور بسوں ،ٹرینوں میں حتی کہ پیدل سفر کر کے بھی مسجد مسجد ،گاؤں گاؤں ،شہر شہر خود تشریف لے جاتے ،آپ کے کھانے کا Tiffenساتھ ہو تا یہاں تک کہ نمک کی ڈبیا اور پانی تک ساتھ رکھتے کہ کسی سے سُوال نہ کر نا پڑجائے، مریضوں کی عِیادت کرتے، مُردوں کو اپنے ہاتھوں سے غسل دیتے اور کَفَن پہناتے، نمازِ جنازہ کی امامت فرماتے اور غمی وخوشی کے مواقع پر مسلمانوں کی ایسی دِلجُوئی فرماتے کہ وہ بھی نیکی کی دعوت کو عام کرنے کے لئے آپ کے شریک ِ سفر بن جاتے۔
فرائض و واجبات کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ دیگر نفلی عبادتوں اور خوفِ خدا عَزَّ وَجَلَّ ،عشق رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ،جذبۂ اتباع قرآن وسنّت ،جذبہ احیائِ سنّت، عفو ودرگزر ، صبروشکر،عاجزی وانکساری،اخلاص وتقوی، حسنِ اخلاق، جود وسخا، عبادت وریاضت ، دنیاسے بے رغبتی ، حفاظتِ ایمان کی فکر ، فروغِ علم دین وتبلیغِ دین بالخصوص خدمتِ مسلکِ اَہلسنّت ،محبوبانِ بارگاہ الٰہی خصوصاً اعلیٰ حضرت،مجددِ دین وملت، پروانۂ شمعِ رسالت الشاہ امام اَحمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن سے انتہائی محبت وعقیدت، لوگو ں سے ہمدردی وخیر خواہی کا ذہن ،تمام معاملات (مثلاً خرید وفروخت، نکاح وغیرہ)حتی کہ علاج ومعالجہ کے بارے میں بھی لوگوں کی رہنمائی وغیرہ جیسی صفات نے آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکوکروڑوں مسلمانوں کی دلوں کی دھڑکن بنادیا۔
دولت مندوں اور اربابِ اقتدار شخصیات سے بے نیازی نے آپ کو مزید ممتاز کر دیا، اَہلِ ثَروَت ، مال ودولت کے انبار آپ کی ذات کے لئے پیش کرتے مگر آپ منع فرما دیتے،آپ کے کردار کی بلندیوں سے متأثر ہوکر لاکھوں لاکھ مسلمان آپ کے ہاتھوں بیْعَتْ کر کے حضور سیدنا غوث الاعظم دستگیر پیرانِ پیر شَیخ عبد القادرجیلانی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے دامنِ کرم سے وابستہ ہوچکے ہیں ۔
امیرِ اَہلسنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکی احساسِ ذِمَّہ داری اور تقویٰ و پرہیز گاری کی بَرَکتیں ’’دعوت ِ اسلامی ‘‘ سے وابستہ ہونے والے اسلامی بھائیوں میں بھی منتقل ہونا شروع ہوئیں ،جنہوں نے فرائض و واجبات کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ سنتوں اور مستحبات پر عمل پیرا ہو کر نیکی کی دعوت کی ایسی دُھومیں مچائیں کہ لاکھوں مسلمانوں بالخُصوص نوجوانوں کو گناہوں سے توبہ کی توفیق ملی اور وہ تائب ہوکر صلوٰۃ وسنت کی راہ پر گامزن ہوگئے ۔ جو بے نمازی تھے نمازی بلکہ مسجدوں کے امام بن گئے، بدنگاہی کرنے والے نگاہیں نیچی رکھنے کی سنت پر عمل کرنے کی سعادت پانے لگے، زرق برق لباس پہن کر گلے میں دوپٹالٹکا کرتفریح گاہوں کی زینت بننے والیاں بے پردگی سے ایسی تائب ہوئیں کہ مَدَنی برقع ان کے لباس کا حصہ بن گیا ،ماں باپ سے گستاخانہ انداز اختیار کرنے والے باادب ہو گئے ، جس کی حَرَکتوں کی وجہ سے کبھی پورا مَحلّہ بیزار تھا وہ سارے عَلاقے کی آنکھ کا تارا بن گیا ، چوری و ڈاکے کے عادی دوسروں کی عزت وآبرو کی حفاظت کرنے لگے ، کسی غریب کو دیکھ کر تکبر سے ناک بھوں چڑھانے والے عاجزی کے پیکر بن گئے ،ہر وقت حسد کی آگ میں جلنے والے دوسروں کوترقی کی دعائیں دینے لگے ،گانے سننے کے شوقین ‘سنتوں بھرے بیانات اور مَدَنی مذاکرات کے کیسٹ سننے کے عادی ہوگئے، فحش کلامی کرنے والے نعتِ مصطفی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَپڑھنے اور جُھومنے لگے،یورپی ممالک کی رنگینیوں کو دیکھنے کے خواب اپنی آنکھوں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع