30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سوانِحِ حیات کی ضَرورت واَفادیت
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! بلاشبہ بُزُرگان دین علیہم رحمۃ اللہ المبینکی کتابِ حیات کے ہر صفحہ میں ہمارے لئے رَہنمائی کے نِکات ہوتے ہیں ۔یہ وہ ہستیاں ہیں جن کے شام وسَحر اپنے رَبّ عَزَّ وَجَلَّ کی رِضا پانے کی کوشش میں گزرتے ہیں ۔ جنت کی نعمتیں ،عقبیٰ کی مسرتیں اوربالخُصوص خالقِ حقیقی عَزَّ وَجَلَّ کے دیدار کی لذتیں ان کے پیشِ نظر ہوتی ہیں ۔یہی وہ نُفوسِ قُدسیہ ہیں جن کے ذکر سے دِلوں کو فرحت، رُو حوں کو مُسرت اور فکْر ونَظَر کو جَودَت(یعنی تیزی) ملتی ہے اور ذکر کرنے والے پر رَحمت نازل ہوتی ہے۔ حضرت سُفیان بن عُیَینہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِفرما تے ہیں : ’’عِنْدَ ذِکْرِ الصَّالِحِیْنَ تَنْزِلُ الرَّحْمَۃُ یعنی نیک لوگوں کے ذکر کے وقت رَحمت نازل ہوتی ہے۔‘‘(حلیۃ الاولیاء ،رقم ۱۰۷۵۰،ج۷،ص۳۳۵،دارالکتب العلمیۃ بیروت)
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ کے ان ولیوں کے نقشِ قدم پر چل کر ہم بھی دُنیا وآخرت کی ڈھیروں بھلائیاں پا سکتے ہیں ۔غالباً اسی مقدس جذبے کے تحت مؤلفین ومؤرخین نے ان بزرگوں کے حالاتِ زندگی قلمبند کئے ہیں ۔مگر چند ایک مثالوں کو چھوڑ کردیکھا جائے توہم اپنے اَکابرین کی حیات وخدمات کو اس کی ظاہری زندگی میں محفوظ کرنے میں ناکام رہے ، وہ جلیل القدر ہستیاں جن کے شام وسحر ہمارے سامنے گزرتے ہیں ،اُن کے بہت سے اَہم واقعات ہماری نگاہوں کے سامنے پیش آتے ہیں جن میں دوسروں کے لئے نصیحت وعبرت کے متعدد مَدَنی پھول ہوتے ہیں مگر ہم انہیں اپنی یادداشت کی حد تک محدود رکھتے ہیں دوسروں تک پہنچانے کی زحمت گوارا نہیں کرتے۔پھر جب کوئی عظیم شخصیت دُنیا سے رخصت ہوجاتی ہے تو اچھا خاصا عرصہ گزرنے کے بعد جب ان کے بارے میں براہِ راست جاننے اور بتانے والے بھی قبر میں جاچُکتے ہیں تو ہم اُن کی حیات وخدمات کو الفاظ کے روپ میں زیبِ قرطاس کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ مگر اس میں نقصان یہ ہوتا ہے کہ اُن کی سیرت کے بہت سے پہلو تشنہ کام رہ جاتے ہیں کیونکہ جانے والے اپنے ساتھ بہت کچھ لے جاتے ہیں ۔اُس وقت سوانحِ حیات لکھنے والا قلمکار بے چارہ کیا کرے گا ؟ جن موضوعات پر مواد ہی نہ ہو اُن پر کیا لکھے گا ؟ اپنی مہارت کو بروئے کار لاتے ہوئے کتنے نئے مضامین پیدا کرے گا؟اُس عظیم شخصیت کی عظمتوں کو صحیفۂ قرطاس پر کیونکر منتقل کرے گا ؟اعلیٰ حضرت مجددِ دین وملت الشاہ امام احمدرضاخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن نے اپنے دوسرے سفرِ حج کے واقعات بیان کرتے ہوئے اس طرف توجہ دلائی ہے ،چنانچہ آپ فرماتے ہیں :اِس قسم کے وقا ئع(یعنی واقعات) بہت تھے کہ یادنہیں ۔ اگر اسی وقت مُنْضَبَط کر(یعنی لکھ)لیے جاتے محفو ظ رہتے مگر اس کا ہمارے ساتھیوں میں سے کسی کو احساس بھی نہ تھا ۔(ملفوظات،حصہ دُوُم )
تذکرۂ امیرِ اہلسنّت (دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ)
ان سب باتوں کے پیشِ نظرضَروری تھا کہ امیرِ اہلسنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکی حیاتِ ظاہری ہی میں ان کے زندگی کے گوشے کتابی شکل میں مَحفوظ کر لئے جائیں ۔ اَلْحَمْدُللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہاب تک زندگی کی 57بہاریں دیکھ چکے ہیں ،سوچئے تو سہی کہ ایک ایسی ہستی جو بچپن سے لے کر اب تک جہدِ مسلسل میں ہو ،سنّتوں کی خدمت میں کئی دہائیوں سے فعال ہو اور ایسی متحرک کہ آپریشن میں کچھ تاخیر ہوئی تو وہ تحریری کام میں مصروف ہوجائے، جو ہمہ وقت مَدَنی کاموں میں مصروف رہنے کے جذبے کا اظہار یوں کرے کہ’’ میرا بس چلتا تو میں نیند بھی نہ کرتا کہ ابھی اتنا کام باقی ہے‘‘،جس نے راہِ خدا عَزَّ وَجَلَّ میں ہزاروں میل کا سفر کیا ہو ، شہر شہر ،گاؤں گاؤں جس نے مَدَنی دورے کئے ہوں ، اس دوران جتنی مساجد میں اُس نے نمازیں پڑھی ہوں شاید ہی کسی نے پڑھی ہوں ، جس نے ہزاروں اجتماعات میں لاکھوں لوگوں کے سامنے بیانات کئے ہوں ،جس کے بیانات ومَدَنی مذاکرات کی لاکھوں کیسٹیں اور وی سی ڈیز دنیا بھر میں فروخت ہوتی ہوں ، جس کی ایک جھلک دیکھنے کے لئے لاکھوں کا ہجوم بے قابو ہو جائے،جس سے چند لمحے کی ملاقات کے لئے عقیدت مند گھنٹوں قطار میں کھڑے رہتے ہوں ،وہ کتاب جو مارکیٹ میں چند روپے میں مل سکتی ہو مگر اس کے ہاتھ میں آئے تو تبرک کے طلب گار اُسی کتاب کے 12لاکھ دینے پر بھی تیار ہوجائیں مگر وہ ایسا قناعت پسندکہ اپنی تحریروں یا بیانات کے کیسٹ اوروی سی ڈی کے عوض پھوٹی کوڑی بھی اپنی ذات کے لئے لینے کے لئے تیار نہ ہو ،جس کی سعیٔ پیہم سے دُنیا بھر میں کروڑوں مسلمانوں کوتوبہ کی سعادت ملی اور صلٰوۃ وسنّت کی راہ پر چلنا نصیب ہوا ہو ،جس کی براہِ راست اور بالواسطہ کوششوں سے سینکڑوں مسا جد کی تعمیر ہوچکی ہو ،جس کی نگاہِ فیض سے ہزاروں مدارِس المدینہ اور 100 سے زائد جامعۃ المدینہ قائم ہوئے ہوں اوروہاں سے فارغ التحصیل ہونے والے ہزاروں حُفَّاظ اس کے دستِ شفقت سے سند اورسینکڑوں عُلَمَا اس کے ہاتھ دستار بندی کا شرف پاچکے ہوں ،کئی عُلَمَا ‘ مُفتی بننے کی سعادت پاچکے ہوں ، جس کی ذات سے سینکڑوں کرامتوں کا صُدور ہوا ہو، جس کی دُعا کی بَرَکتیں پانے والے ہزاروں میں ہوں ، جس کے رُوحانی علاج سے مستفید ہونے والے لاکھوں میں ہوں ، جس کی انفرادی کوشش نے ہزاروں کی تقدیر بدل دی ہو،جس کے تقوٰی وپرہیز گاری ، مسلمانوں کی خیر خواہی ، عاجزی ،ملنساری، صبر،تحمل ،بُردباری الغرض حُسن اخلاق کے ہرہر شعبے کی ہزاروں ایمان افروز حکایات جس کے دامن سے جڑی ہوئی ہوں ۔ ایسی عظیم شخصیت کے بکھرے ہوئے حالاتِ زندگی کو یکجا کرنے کی کتنی ضَرورت ہے ؟ موجودہ اور آئندہ نسلوں کو امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکی عظمتوں سے رُوشناس کرانا یقیناہماری تاریخی ذمّہ دار ی ہے۔
شعبہ امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ(المدینۃ العلمیۃ )
بہت ضَروری تھا کہ شیخِ طریقت امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہجیسی عظیم الشان شخصیت کی عکاسی کرنے کے لئے ایسا ’’تذکرۂ امیرِ اہلسنّت (دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ)‘‘ تیار کیا جائے جوسُنی سُنائی باتوں اور غیرمستند یا کمزور روایتوں کا ملغوبہ(یعنی مرکّب) نہ ہوبلکہ اس میں امانت ودیانت کے ساتھ یقین کی حد تک سچی بات نقل کی جائے ۔ جہاں تک ہوسکے روایت کرنے والے سے ذاتی طور پر ملاقات یا رابطہ کرکے تصدیق کر لی جائے،غیر شرعی مبالغہ آرائی سے بچا جائے اس میں جو حکایات شامل کی جائیں انہیں محض نگاہِ عقیدت سے نہیں بلکہ نظرِ حقیقت سے بھی دیکھا جائے تاکہ اِن حکایات کو
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع