30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
روحانی علاج کرنے والے کو کیسا ہونا چاہئے ؟
پیارے اسلامی بھائیو! اس گفتگو سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ روحانی علاج کرنے والے میں جتنی روحانی طاقت ہوگی، اُس کے علاج میں اتنی ہی تاثیر ہوگی یعنی بندہ جتنا زیادہ نیک، گناہوں سے بچنے والا، تقویٰ اختیار کرنے والا اور اللہ پاک کی بارگاہ کا قرب رکھنے والا ہوگا اس کا دم اور تعویذ اتنا ہی اثر دار ہوگا یہی وجہ ہے کہ اللہ والوں کی ایک پھونک سے لاعلاج مریضوں کو شفا مل جایا کرتی ہے۔ اِس کے برعکس ہم آج کل ایسے لوگوں کو بھی دیکھ رہے ہیں، جو بے عملی اور فسق وفجور میں مبتلا ہیں، رسولُ اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی سُنّتوں پر عمل کرنا درکنار یہ نمازیں تک نہیں پڑھتے، شرعی اَحکامات کو فراموش کئے ہوئے ہیں۔ ایسے خبیث باطن اور بہروپیئے روحانی عملیات کے نام پر جگہ جگہ اپنی دکانیں چمکائے بیٹھے ہیں اور بڑے بڑے دعوے کر کے لوگوں کو دھوکا دے رہے ہیں۔ بھلا ایسے لوگوں کی پھونک میں کیونکر تاثیر ہوگی جن کے باطن آلودہ اور گندے ہوں۔ آج کل روحانی علاج کے نام پر جو کچھ ہورہا ہے، اُس کی ایک جھلک ملاحظہ کیجئے:
(1)بے وقوف بنانا، جھوٹ بولنا
ان عاملین کی ایک خرابی یہ ہے کہ وہ لوگوں کو بےوقوف بناتے ہیں،کسی کو ذرا بیماری یا پریشانی آجائے تو فوراً کہہ دیتے ہیں کہ جادو ہوا ہے حالانکہ ایسا کچھ بھی نہیں ہوتا اور وہ محض بیماری ہوتی ہے۔ امیرِ اہلِ سنّت دامت بَرَکاتُہمُ العالیہ فرماتے ہیں: جادو کا وُجود ہے اور جادو کروایا بھی جاتا ہے مگر ہر دوسرا آدمی جادو نہیں کرواتا بلکہ ہزاروں لاکھوں میں سے کوئی اِکّا دُکّا جادو کرواتا ہے۔ (1)
[1] ... ملفوظاتِ امیرِ اہلِ سنّت،کالے جادو کا علاج(قسط:127)،ص2
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع