30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جواب: جنَّت مىں صِرف سَر، پَلکوں اوربَھنووں کے بال ہوں گے ، اِس کے عِلاوہ جنتیوں کے جِسم پر کہیں بھی بال نہىں ہوں گے ۔ ([1])
تین دِن راہِ خُدا کیلئے اور 27 دِن دُنیا کیلئے کہنا کیسا؟
سُوال: ہمارے ىہاں مَدَنى قافلے میں سفر کرنے کى ىوں تَرغىب دِلائى جاتى ہے کہ تىن دِن راہِ خُدا کے لىے رکھیں اور 27 دِن دُنىا کے لىے ، حالانکہ اِنسان 27 دِن کسبِ حَلال کما کر گھر والوں کے اَخراجات پورے کرنے کے ساتھ ساتھ اللہ پاک کى رضا والے کام بھى کر رہا ہوتا ہے ، جبکہ مَدَنى قافلے مىں بھی تو اىسا نہىں ہے کہ کوئی تین دِن کسى قسم کی کوئی شَرعى غَلَطى نہ کرے ، اِس کے باوجود یہ کہنا کہ تىن دِن راہِ خُدا کے لىے اور 27 دِن دُنىا کے لىے ، اِس بارے مىں کچھ مَدَنى پھول اِرشاد فرما دىجیے ۔
جواب: تىن دِن راہِ خُدا کے لىے اور 27 دِن دُنىا کے لىے ىہ تَرغىب کے لىے کہا جاتا ہے اور اس کا یہ مَطلب نہیں ہوتا کہ 27 دِن میں کیا جانے والا کوئی بھی کام اللہ کے لیے نہیں ہوتا یا 27 دِن تک آپ اپنی آخرت کو نُقصان پہنچانے والے کاموں میں لگے رہىں اور صِرف تىن دِن آخرت کى بہترى کے لیے مَدَنی قافلے میں سفر کرىں۔ ورنہ 27 دِن تو کیا اِنسان کا اىک سانس بھى اِس طرح نہىں گزرنا چاہىے جس سے اس کى آخرت کو نُقصان پہنچ رہا ہو۔
بہرحال یہ تَرغىب دِلانے کا اىک اَنداز ہے اور اِس کا مَطلب یہ ہوتا ہے کہ 27 دِن آپ اپنی نوکری اور کاروبار وغیرہ کرتے رہیں اور تىن دِن اپنی اِن مَصروفیات کو چھوڑ کر راہِ خُدا مىں سفر کرىں۔ حج و عمرہ کے لیے اِنسان جاتا ہے تو اُس وقت بھی وہ دُنىوى کام نہىں کرپاتا، دُنىوى کاموں کو چھوڑ کر ہی جاتا ہے ۔ اِسى طرح جو عاشقانِ اَولیا بغداد شرىف، اجمىر شرىف اور دِیگر مقامات پر مَزاراتِ اَولیا پر حاضِرى دینے کے لیے جاتے ہىں وہ بھى دُنىوى کام کاج چھوڑ کر ہی جاتے ہىں لہٰذا تین دِن راہِ خُدا کے لیے اور 27 دِن دُنیا کے لیے کہنے میں کوئی حَرج نہیں۔
سُوال: فجر کى نماز کا شُمار دِن کى نماز میں ہوتا ہے ىا رات کى نماز میں ؟
جواب: فجر کى نماز کا شُمار دِن کى نماز میں ہوتا ہے ۔ ([2])
مکروہِ تَحریمى اور حَرام میں فرق
سُوال: مکروہِ تَحرىمى اور حَرام مىں کیا فرق ہے ؟
جواب: مکروہِ تَحرىمى واجب کے مُقابِل ہوتا ہے ، جبکہ حرام فرض کے مُقابِل ہوتا ہے ۔ مکروہِ تَحرىمى اَفعال بھی ناجائز و گناہ ہوتے ہىں۔ مَزید تعریفات اور معلومات حاصِل کرنے کے لیے بہارِ شرىعت جلد اوّل کے دوسرے حصے کا مُطالعہ کیجیے ۔
سُوال: سُنا ہے اگر کسی کے اِنتقال پرقبر کھودی جائے تو وہ قبر اس مَیِّت کا اِنتظار کرتی ہے اور اگر اِنتقال پر قبر نہ کھودی جائے تو وہ مَیِّت قبر کا اِنتظار کرتی ہے کیا یہ بات دُرُست ہے ؟
جواب: ایسا کچھ بھی نہیں ہے ، اَلبتہ بعض رِوایات میں یہ موجود ہے کہ قبر روزانہ پکار کر کہتی ہے : اے آدمی!کیا تو مجھے بھول گیا؟ یاد رَکھ! تو عنقریب میرے اندر آئے گا، میں کیڑے مکوڑوں کا گھر ہوں، میں اندھیرے کا گھر ہوں، میں تنہائی اور وَحشت کا گھر ہوں۔ ([3])حدیث شریف کے مُطابق قبر روزانہ اِس طرح نِدا کرتی ہے حالانکہ اسے ابھی کھودا نہیں گیا ہوتا بلکہ کسی کو یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ کون کہاں دَفن کیا جائے گا۔ زمین میں دَفن ہونا نصیب ہو گا بھی یا نہیں۔ ہو سکتا ہے کوئی دَرندہ کھاجائے اگر ایسا ہوا تو اس کے لیے اسی دَرندے کا پیٹ ہی قبر قرار پائے گا اور منکر نکیر کے سُوالات بھی وہیں ہوں گے ۔ اِسی طرح جو لوگ لمبے عرصے کے لیے بَحری سفر پر جاتے ہیں اگر ان میں سے کسی کا اِنتقال ہو جائے تو وہ لوگ وہیں اس کو غُسل اور کفن دینے کے بعد نمازِ جنازہ پڑھتے ہیں
پھر اسے کسی وزن دار چیز سے باندھ کر سمندر میں ڈال دیتے ہیں۔ ممکن ہے اس کے جسم کو مچھلیاں اور سمندری جانور کھا جاتے ہوں۔ یہاں بھی بظاہر قبر نہیں
[1] بہارِ شریعت ، ۱ / ۱۵۹ ، حصہ: ۱ مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی
[2] جیسا کہ پارہ 12 سورۂ ہود کی آیت نمبر 114 میں خُدائے رَحمٰن عَزَّ وَجَلَّ کا فرمانِ عالیشان ہے : (وَ اَقِمِ الصَّلٰوةَ طَرَفَیِ النَّهَارِ وَ زُلَفًا مِّنَ الَّیْلِؕ-)ترجمۂ کنزالایمان: ” اور نماز قائم رکھو دِن کے دونوں کناروں اور کچھ رات کے حصّوں میں۔ “ اِس آیتِ کریمہ کے تحت صَدرُالافاضِل حضرت علّامہ مولانا سیِّدمحمد نعیمُ الدِّین مُراد آبادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْہَادِی فرماتے ہیں: دِن کے دو کناروں سے صبح و شام مُراد ہیں۔ زَوال سے قبل کا وقت صبح میں اور بعد کا شام میں داخِل ہے صبح کی نماز فجر اور شام کی نماز ظہر و عصر ہیں اور رات کے حصّوں کی نمازیں مَغرب و عشا ہیں۔ (خزائن العرفان، پ۱۲، ھود، تحت الآیۃ: ۱۱۴، ص۴۳۸ مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی)
[3] معجم اوسط، باب المیم، ۶ / ۲۳۲، حدیث: ۸۶۱۳ دار الكتب العلمية بيروت
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع