دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Tauba Par Istiqamat Ka Tareeqa | توبہ پراستقامت کا طریقہ

book_icon
توبہ پراستقامت کا طریقہ

گئے ہیں جہاں پہلے کی طرح مَخصُوص اَنداز میں پکی ہوئی مچھلی نہیں ملتی۔ چونکہ یہ بتانے والے بہت تجربہ کار اسلامی بھائی تھے اس لیے میں نے کہا چلو کوئی بات نہیں مچھلی کے بغیر بھی زندہ رہنا ممکن ہے ۔ جب(صَفَرُ الْمُظَفَّر ۱۴۴۰؁ ھ میں)میرے بیٹے حاجی عبید رضا مدینۂ پاک زَادَہَا اللّٰہُ شَرَفًاوَّتَعْظِیْماً حاضِر ہوئے تو انہوں نے میرے پاس وہی پہلے والے مَخصُوص اَنداز پر پکی ہوئی مچھلی بھیجی تو میں نے تَعَجُّب کیا کہ شاید یہ اپنے گھر سے لائے ہوں گے کیونکہ مجھے تجربہ کار اسلامی بھائی  بتا چکے تھے کہ اب مدینے شریف میں اس طرح کی مچھلی نہیں ملتی، مگر حاجی عبید  رضا نے مجھے یہ پىغام دىا کہ ” مدىنہ شرىف کے قدىم  راستے سے ہم گئے تھے تو وہاں ابھى تک وہی پُرانے  اَنداز کے ہوٹل باقى ہىں جہاں اِس طرح کى مچھلیاں ملتی ہیں، ہم نے  یہ مچھلی بَدر شریف والے قدیم  راستے  میں موجود ایک ہوٹل سے خریدی تھی۔  “ پتہ چلا کہ تجربہ کار بھی کبھی ٹھوکر کھا جاتا ہے ۔ یوں حج کے موقع پر میں نے اپنے بیٹے حاجی عبید رضا کو مدینہ شریف کی مچھلی کھانے سے متعلق میمنی زبان میں صَوتی پیغام دیا تھا۔

بسااوقات ہماری بھی محفل میں میمنی زبان میں بات چیت ہو جاتی ہے لیکن ہم سب کو اِحتیاط کرنی چاہیے ، چونکہ اپنی زبان میں بات چیت کرنے کی عادت ہوتی ہے اس لیے بعض اوقات اپنی زبان میں بات چیت  ہو جاتی ہے ۔ اگر میں اور حاجی عبید رضا محفل کے عِلاوہ آپس میں میمنی زبان میں بات چیت کریں تو حَرج نہیں مگر جب مجلس میں کریں گے تو  دوسروں کو تَشوِیش ہو سکتی ہے  کہ یہ باپ بیٹے کیا باتیں کر رہے ہیں؟بعض اوقات ایک دو لفظ دوسری زبان کے بولے جاتے ہیں جس سے دوسروں کو تَشوِیش کم ہوتی  ہے اور جو بولا جائے انہیں اس کا اَندازہ ہو جاتا ہے جیسے بچے کو بُلانے کے لیے ہاتھ سے اِشارہ کرنے کے ساتھ ساتھ میمنی زبان میں کہا ” اِڈاں اَچ “ تو اب دوسری زبان والے بھی سمجھ جائیں گے کہ بچے کو بُلایا جا رہا ہے ، اِس طرح کی باتیں Sign Language (یعنی اِشاروں میں کی جانے والی باتوں) میں شامل ہیں جن کا اُردو، پنجابی اور میمنی سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔

  بغیر دعوت کے محفل یا ولیمے میں شِرکت کرنے کا حکم

سُوال :  بغىر دعوت کے کسى کى محفل ىا ولىمے مىں جانا اور  کھانا پینا کىسا ہے ؟

جواب: محفل اور ولیمہ دونوں الگ الگ  چیزیں ہیں۔ عام مَحافل ہوتى ہىں تو ان مىں اِنتظار کیا جاتا ہے کہ  لوگ آئىں اور ایسا لگتا ہے کہ کھانے کى تَرکىب بھى اس لىے کی جاتی ہو گی کہ اِس بہانے لوگ آ جائىں اور ہمارى محفل کامىاب ہو جائے ۔ ہمارے ىہاں کامىابى کا Concept(یعنی تَصَوُّر)عوام زیادہ جمع کر لینے پر ہے حالانکہ حقىقت مىں کامیابی عوام زیادہ جمع کر لینے  پر نہیں بلکہ اِخلاص پر ہے ۔ اِجتماع کی کامىابى کا پتا تو مَرنے کے بعد  چلے گا کہ کامیاب ہوا تھا یانہیں؟ اِخلاص کے ساتھ اِجتماع کیا تھا یا لوگوں کو دِکھانے ، اپنی وا ہ وا کروانے یا کسی اور  مقصد کے لیے کیا تھا ؟  مَرنے کے بعد ہى پتہ چلے گا کہ  ہمارے حق مىں کىا فىصلہ ہوتا ہے ؟ اگر معلوم ہے کہ ىہ محفل  عام ہے تو وہاں  جانے اور کھانے  مىں کوئى حرج نہىں ہے ۔ رہی بات  ولىمے کی  تویہ  عام نہىں ہوتا، یوں ہی شادى کے کھانے اور  گھروں میں کی جانے والی دَعوتىں بھی  عام نہىں ہوتیں، اِن میں مَخصُوص لوگوں کے  لىے مَحدُود کھانا پکاىا جاتا ہے لہٰذا ایسی خاص  دَعوتوں میں چاہے کھانا مَحدُود ہو یا 100 دیگیں ہوں بغیر بُلائے جانا جائز نہیں۔ حدیثِ پاک میں ہے : جو کسی کی دَعوت میں بغیر بُلائے  گیا تو وہ چور بَن کر گھسا اور غارت گر بن کر نکلا۔ ([1]) لہٰذا کسى کى دَعوت مىں بِن بُلائے کھانے کے لیے  پہنچ  جانا گناہ ہے ۔

بغىر بُلائے  کسى کی خاص  دعوت میں نہىں گھسنا چاہىے مگر اىک تعداد ہے جو  چلى جاتى ہے اور کھانا کھا کر  دَعوت کرنے والے کی حَق تلفی کرتی ہے ، بعض لوگ تو اِس مُعاملے میں ایسے  ماسٹر اور ماہِر ہوتے ہىں کہ خوب ٹىپ ٹاپ کر کے اور مِسٹر بن کر   شادى ہالوں مىں جاتے ہىں تاکہ کوئى ان کو روکے  نہىں اور لڑکے والے سمجھیں کہ  ىہ لڑکى والوں کی طرف سے  ہو گا اور  لڑکى والے سمجھىں کہ یہ  لڑکے والوں کی طرف سے  ہو گا اور یوں وہ حرام کھا کر واپس چلے آتے ہیں۔ ایسے لوگ جہنَّم  کی آگ پیٹ میں بھر کر یہ سمجھتے ہیں کہ ہم نے لوگوں کو بے وقوف بنا دیا ہے مگر مَرنے کے بعد پتا چلے گا کہ کتنا لوگوں کو بے وقوف بنایا ہے ! ایسے لوگوں کو اِس طرح کرنے سے توبہ کے تقاضے  پورے کرتے  ہوئے توبہ  کرنی  ہو گی۔ ایسوں کو اب معافی مانگتے ہوئے بھی شَرم آئے گی کہ یہ کس طرح کہیں ہم بغیر دَعوت کے گُھس گئے تھے مگر انہیں مُعافی مانگنی پڑے گی اور جتنا کھایا اس کی رَقم دَعوت کرنے والے کو دینی پڑے گی۔ ہاں!اگر وہ معاف کر دے تو یہ الگ بات ہے ۔

گھرىلو نیاز مىں بھی   بغىر دَعوت کے نہ جایا جائے

 یاد رَکھیے !اگر کسى نے نىاز کا کھانا  بنایا مگر وہ گھرىلو نیاز ہے عوامى نہىں ہے تو اس مىں بھی اگر کوئی   بغىر دَعوت کے جائے  گا تو گنہگار ہو گا۔ ایسا نہیں کہ نیاز کے  کھانے پر سب کا حَق ہو گیا بلکہ جس نے نیاز کی وہ اس کھانے  کا مالِک ہے جسے چاہے کِھلائے اور جسے چاہے نہ کِھلائے ۔ بعض اوقات لوگ اِس پر تَنقىد بھى کرتے



[1]    ابوداود، کتاب الاطعمة، باب ما جاء فی اجابة الدعوة، ۳ / ۴۷۹، حدیث: ۳۷۴۱ 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن