30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کرے : اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ يَاسَیِّدِیْ ىعنى اے مىرے آقا!آپ پر سَلام ہو۔ ([1])
اللہ پاک چاہے تو بندہ دُور کی آواز بھی سُن لیتا ہے
قبرستان والوں کو سَلام کرتے ہوئے يَا اَهْلَ الْقُبُوْر! کے اَلفاظ تو سب کہتے ہىں لیکن یَارَسُوْلَ اللہ!ىاغوث پاک!ىاغرىب نواز! بولنے پر شىطانی وَساوِس کا شکار ہو جاتے ہیں کہ لفظِ ” يَا “ تو صِرف اللہ کے لیے بولنا چاہىے ۔ ایسے لوگوں کو غور کرنا چاہیے کہ جب عام قبر والوں کو لفظِ ” يَا “ کے ساتھ پکارنا جائز ہے تو پھر اللہ پاک کے مُقَرَّب بندوں کو کیوں نہیں پکارا جا سکتا؟یہاں یہ بھی نہیں کہا جا سکتا کہ قبرستان والے چونکہ قریب ہیں اِس لیے انہیں پکارا جا رہا ہے جبکہ اَنبیائے کِرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور اَولیائے کِرامرَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام دُور ہوتے ہیں اِس لیے انہیں نہیں پکار سکتے کیونکہ قبرستان تو مىلوں مىل تک پھىلے ہوتے ہىں، جب کوئی بندہ اىک جگہ کھڑے ہو کر آہستہ آواز سے يَا اَهْلَ الْقُبُوْر! کہتا ہے تو اللہپاک مىلوں میل دور، مَنوں مٹى تَلے دَفن قبر والوں تک اس کی آواز پہنچا دیتا ہے تو بالکل اِسی طرح وہى ربّ سىنکڑوں ہزاروں مىل دور تشرىف فرما اَنبیائے کِرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور اَولیائے کِرامرَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام کو بھى پکارنے والوں کی آواز پہنچا دیتا ہے لہٰذا وَساوِس میں آنے کے بجائے اللہ پاک کی قدرت پر یقین رکھنا چاہیے ۔ اللہ پاک چاہے تو بندہ دُور کی آواز بھی سُن لیتا ہے اور نہ چاہے تو سامنے بىٹھا بندہ بھی بہرہ ہونے کے سبب آواز سُن نہیں پاتا۔ ([2])
محفل میں کانا پُھوسی کرنا کیسا؟
سُوال: بعض اَفراد محفل مىں بىٹھ کر ایک دوسرے سے کانا پُھوسی کرتے رہتے ہیں، اِس حوالے سے کچھ مَدَنى پھول اِرشاد فرما دیجیے ۔
جواب: موقع کی مُناسَبَت سے ہی کانا پُھوسی کے بارے میں کچھ کہا جا سکتا ہے مثلاً کسی محفل میں اگر تین اَفراد ہیں اور اُن میں سے دو کانا پُھوسی کریں تو اس سے تیسرے کو اِیذا پہنچ سکتی ہے اور اُس کے ذہن میں یہ آ سکتا ہے کہ شاید یہ میرے بارے میں کچھ کہہ رہے ہیں اس لیے اس کی مُمانَعت ہے ۔ نیز ایسے موقع پر کانا پُھوسی کرنے سے تیسرا شخص اِحساسِ مَحرومی کا بھی شکار ہو گا کہ یار جب دیکھو آپس میں کانا پُھوسی کرتے ہیں، میرے اوپر اِعتماد نہیں کرتے اور مجھ سے باتیں چھپاتے ہیں۔ ([3]) محفل کے آداب کے بھی یہ مُناسِب معلوم نہیں ہوتا کہ بندہ بار بار آپس میں کانا پُھوسیاں کرتا رہے ۔ اِسی طرح اِشاروں میں گفتگو کرنا یہ بھی دُرُست نہیں ہے ۔ بعض اَوقات یہ بھی ہوتا ہے کہ کچھ لوگ محفل میں اپنی زبان میں گفتگو شروع کر دیتے ہیں اور پاس بیٹھے دوسرے لوگوں کو کچھ سمجھ نہیں آ رہا ہوتا جس کے باعِث انہیں تَشوِیش کا سامنا ہو سکتا ہے ۔ لہٰذا بہتر یہی ہے کہ جب کسی مَجلس یا محفل میں بیٹھیں تو اُسی زبان میں گفتگو کریں جسے سب سمجھتے ہوں اور بِلَاضَرورت کسی اور زبان میں گفتگو کرنے سے بچیں ۔ ضَرورت بھی ایسی ہو کہ جس کے بغیر چارہ نہ ہو، نہ یہ کہ اپنی زبان میں بات چیت کرنے کا موڈ ہوا تو اسے ضَرورت بنا لیا جائے ۔ البتہ وہ لوگ جو تھوڑا بہت سمجھ لیتے ہیں اور مَفہوم تک پہنچ جاتے ہیں ان کے سامنے دوسری زبان میں بات کرنے سے ان کے تَشوِیش میں پڑنے کے چانس کم ہوتے ہیں۔ بہرحال دوسروں کے دِلوں میں اُترنے ، ان کے دِلوں میں محبت پیدا کرنے اور انہیں اپنے قریب لانے کے لیے ہم سب کو چاہیے کہ وہ اَنداز اِختیار کریں جو بالکل صاف ہو اور کسی کے لیے بھی تکلیف ، تَشوِیش اور پریشانی کا باعِث نہ ہو ۔
سُوال: آپ نے دوسری زبان میں بات چیت کرنے سے مُتَعَلِّق اِصلاح فرمائی تو آپ نے حج کے موقع پر اپنے شہزادے حاجی عبید رضا کو میمنی زبا ن میں ایک صَوتی پیغام بھیجا تھا اس کی وَضاحت فرما دیجیے ۔ (رُکنِ شُوریٰ کا سُوال)
جواب: پہلے جب ہم مدینۂ پاک زَادَہَا اللّٰہُ شَرَفًاوَّتَعْظِیْماً کا سفر اِختیار کرتے تھے تو عام طور پر صحرائے مدینہ میں مچھلی کھاتے تھے ، اِس بار([4])جب میری 16 سال بعد مدینے شریف حاضِری ہوئی تو مجھے بتایا گیا کہ اَب وہ نِظام اور ہوٹل جہاں پہلے ایک مَخصُوص اَنداز پر پکی ہوئی مچھلی ملتی تھی ختم ہو گئے ہیں اور اب نئے اَنداز پر ہوٹل بن
[1] فتاویٰ رضویہ ، ۹ / ۵۲۲ ماخوذاً
[2] مزید معلومات حاصِل کرنے کے لیے دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی اِدارے مکتبۃُ المدینہ کے مطبوعہ رِسالے فیضانِ مَدَنی مذاکرہ قسط 25 ” اَنبیا و اولیا کو پُکارنا کیسا؟ “ کا مُطالعہ کیجیے ۔ (شعبہ فیضانِ مَدَنی مذاکرہ )
[3] بِلا ضَرورت کسی کی موجودگی میں اس کی اِجازت کے بغیر خُفیہ مشورہ کرنا مکروہِ تحریمی ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اِس طرح مشورہ کرنے سے تیسرے شخص کو اِیذا ہو گی اور یہ تَشوِیش میں مبتلا ہو گا کہ شاید یہ لوگ میری غیبت کر رہے ہیں یا مجھ پر بہتان لگا رہے ہیں یا مجھے اِس قابل ہی نہیں سمجھتے یا مجھے نقصان پہنچانا چاہتے ہیں وغیرہ۔ (الحدیقة الندية، النوع الخامس والخمسون من الانواع الستین... الخ ، ۲ / ۳۵۵ پشاور)رسولِ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: جب تین شخص ایک جگہ ہوں تو دوشخص تیسرے کو چھوڑ کر چپکے چپکے باتیں نہ کریں یہاں تک کہ مجلس میں بہت سے لوگ نہ آ جائیں، یہ اس وجہ سے ہے کہ اس تیسرے کو رَنج پہنچے گا۔ (بخاری، کتاب الاستئذان ، باب اذا کانوا اکثر من ثلاثة...الخ، ۴ / ۱۸۵، حدیث: ۶۲۹۰ دار الکتب العلمية بیروت)
[4] شیخِ طریقت، امیرِ اہلسنَّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرتِ علّامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطار قادری رضوی ضیائی دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی سفرِ حج پر رَوانگی وطنِ عزیز پاکستان سے ۲۷ذِیْقَعْدَۃُ الْحَرَام ۱۴۳۹ ھ مُطابق 10 اگست 2018ء کو ہوئی جبکہ واپسی ۱۷ذُوالْحِجَّۃ الْحَرام ۱۴۳۹ھ مُطابق 29 اگست 2018ء کو ہوئی ۔ (شعبہ فیضانِ مَدَنی مذاکرہ)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع