30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سُوال : گناہوں سے بچنے کى کوشش کرتا ہوں پھر دوبارہ مبتلا ہوجاتا ہوں۔ بَرائے کرم گناہوں سے بچنے اور توبہ پر اِستقامَت پانے کا طریقہ بیان فرما دیجیے ۔ (سوشل میڈیا کا سُوال)
جواب: سچى توبہ کرنے کے ساتھ پکا عہد کرىں کہ آئندہ گناہ نہیں کروں گا۔ توبہ کا جو طریقہ ہے اس کے مُطابق توبہ کریں مثلا ً توبہ مىں اُس گناہ کا تذکرہ ہو جس سے توبہ کرنی ہے ، دِل میں ندامت و شرمندگی بھى ہو، افسوس کى کىفىت ہو کہ ىہ مىں نے کىا کر دىا ہے اور پھر توبہ میں Final Decision (یعنی حتمی فیصلہ) ہو کہ اب آئندہ ىہ گناہ مىں نے کرنا ہى نہىں ہے تب جا کر یہ سچی توبہ کہلائے گی۔ اگر توبہ کرتے وقت گناہ چھوڑنے کا اِرادہ متزلزِل ہو کہ چلو گناہ سے بچنے کی کوشش کر کے دیکھ لیتا ہوں ، نہ بچ پایا تو دوبارہ سِہ بارہ توبہ کر لوں گا تو یہ توبہ نہیں۔ لہٰذا توبہ کرنے کا Final Decision (یعنی حتمی فیصلہ) ہو کہ بس اب میں گناہ نہیں کروں گا اور پھر بچنے کی پوری کوشش بھی کی جائے جب جا کر اس کا اَثر ظاہر ہو گا اور گناہوں سے بچنے میں کامیابی ملے گی۔ اگر پھر بھی گناہ سرزد ہو گىا تو اِسى طریقے سے پھر توبہ کی جائے ۔
توبہ پر اِستقامَت پانے کے لیے وَظائِف بھی پڑھتے رہیں۔ روزانہ صبح (آدھی رات ڈھلے سے سورج کی پہلی کِرن چمکنے تک صبح ہے )گىارہ مَرتبہ قُلْ ھُوَ اللہ شرىف پڑھ لىا کرىں اِنْ شَآءَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اِس کى بَرکت سے شىطان سے بچت رہے گى اور یوں گناہوں سے بھی حفاظت ہو گی۔ ([1])
کیا گھر میں اچانک موت گناہ کے سبب ہوتی ہے ؟
سُوال: اگر گھر میں کسى فَرد کى بغیر کسی وجہ کے اچانک موت ہوجائے تو لوگ کہتے ہیں کہ اس کے گھر والوں مىں کوئى گناہگار ہے جس کى وجہ سے ىہ ہو گىا ہے تو کیا ایسا کہنا دُرُست ہے ؟ (سوشل میڈیا کا سُوال)
جواب: موت تو آنی ہی ہے ، چاہے وہ اچانک آئے ىا بندہ بستر پر اىڑىاں رَگڑ رَگڑ کر فوت ہو۔ بہرحال موت سب کو آ کر ہی رہے گى۔ (اللہ پاک نے اِرشاد فرمایا: ) (كُلُّ نَفْسٍ ذَآىٕقَةُ الْمَوْتِؕ-)(پ۴، اٰل عمران: ۱۸۵) ترجمۂ کنز الایمان: ” ہر جان کو موت چکھنی ہے ۔ “ لہٰذا موت آنے مىں گناہگار ہونے اور نہ ہونے کا کوئی تَعَلُّق نہىں۔ اچانک موت آنے پر ىہ کہنا کہ کسی گناہگار کے سبب ایسا ہوا تو یہ لوگوں کا اپنا خیال ہے ۔ اچانک موت تو بسااوقات اچھی بھی ہوتی ہے مثلاً اچانک دىوار گر گئى اور بندہ دَب کر فوت ہو گىا تو ىہ شہادت کى موت ملى ۔ یوں ہی کشتى اُلٹ جانے اور ڈوب کر فوت ہونے ، زَلزلے میں لوگوں کا مَلبے تَلے دَب جانے ، سىلاب آنے اور کئی اَفراد کو بہا کر لے جانے وغیرہ وغیرہ اَسباب کے ذَریعے اچانک اَموات کے واقعات ہوتے رہتے ہىں۔ ([2])اصل یہ ہے کہ جب کسی کے سانسوں کی گنتی پوری ہو جائے تو اُسے موت آجاتی ہے ۔ بس اللہ پاک ہمارا اِىمان سَلامت رکھے اور ہمیں بُرے خاتمے سے بچائے ۔ ہم کمزور بندے سُوال کرتے ہىں کہ اللہ پاک اىمان و عافىت کے ساتھ ہمىں مدىنۂ پاک مىں زىرِ گنبدِ خَضرا شہادت کی موت نصىب کرے ۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِىِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم
مجھے مَرنا ہے آقا گُنبدِ خضرا کے سائے مىں
وطن مىں مَر گىا تو کىا کروں گا یارَسُوْلَ اللہ (وسائلِ بخشش)
سُوال: قبر پر جائىں تو کِس طرح سَلام کرىں؟
جواب: جب قبرستان میں جائیں تو کعبہ کی طرف پىٹھ کرکے قبر والوں کى طرف مُنہ کر کے یوں سَلام کىا جائے : اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ يَا اَهْلَ الْقُبُوْر! يَغْفِرُ اللَّهُ لَنَا وَلَكُمْ، اَنْتُمْ سَلَفُنَا وَنَحْنُ بِالْاَ ثَرِ یعنی اے قبر والو! تم پر سلام ہو۔ اللہ تعالىٰ ہمارى اور تمہارى مَغفرت فرمائے ، تم ہم سے پہلے آگئے ہم تمہارے بعد آنے والے ہىں۔ ([3])اگر کسى نىک بندے کے مَزار پر جائیں تو انہیں سَلام کرنے کا طریقہ اعلىٰ حضرت عَلَیْہِ رَحْمَۃُرَبِّ الْعِزَّت نے ىہ اِرشاد فرماىا کہ ان کے چہرے کى طرف سے آ کر سَلام کریں کىونکہ پىٹھ کى طرف سے سَلام کیا تو ان کو مُڑ کر دىکھنے کى زَحمت ہو گى لہٰذا قدموں کی طرف سے ہوتا ہوا چہرے کى طرف آئے اور چار ہاتھ یعنی کم و بىش دو مىٹر دور کھڑا ہو کر عرض
[1] شجرۂ قادریہ رضویہ ضیائیہ عطاریہ، ص۲۱ ماخوذاً مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی
[2] رَسُوْلُ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: اچانک موت غضب کی پکڑ ہے ۔ (ابوداود، کتاب الجنائز، باب موت الفجاة، ۳ / ۲۵۲، حدیث: ۳۱۱۰ دار احیاء التراث العربی بیروت)اِس حدیثِ پاک کے تحت مشہور مُفَسِّر حضرتِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں: ہارٹ فیل کی موت غضب ِ رَبّ کی علامت ہے کیونکہ اِس میں بندے کو توبہ، نیک عمل، اچھی وَصیت کا موقع نہیں ملتا مگر یہ کافر کے لیے ہے ، مؤمن کے لیے یہ بھی نعمت ہے کیونکہ مؤمن کسی وقت رَبّ سے غافل رہتا ہی نہیں۔ دیکھو حضرتِ سلیمان و یعقوب عَلَیْہِمَا السَّلَام کی وفات اچانک ہی ہوئی۔ حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم فرماتے ہیں: اچانک موت مؤمن کے لیے راحت ہے اور کافر کے لیے پکڑ۔ (مسند امام احمد، مسند السیدة عائشة رضی الله عنها، ۹ / ۴۶۲، حدیث: ۲۵۰۹۶ دار الفکر بیروت)کہ مؤمن اس موت میں بیماریوں کی مصیبت سے بچ جاتا ہے ۔ (مراٰۃ المناجیح، ۲ / ۴۴۱ ضیاء القرآن پبلی کیشنز مرکز الاولیا لاہور)
[3] ترمذی، کتاب الجنائز، باب ما یقول الرجل اذا دخل المقابر، ۲ / ۳۲۹، حدیث: ۱۰۵۵ دار الفکربیروت
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع