30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(۵۷) اَلْعَطْفُ بِالْحُرُوْفِ :
تَابِعٌ یُنْسَبُ إِلَیْہِ مَانُسِبَ إِلٰی مَتْبُوْعِہٖ وَکِلَاھُمَا مَقْصُوْدَانِ بِتِلْکَ النِّسْبَۃِ وَیُسَمّٰی عَطْفَ النَّسَقِ نَحْوُ قَامَ زَیْدٌ وَعَمْرٌو
ترجمہ : عطف بالحروف وہ تابع ہے کہ اس کی طرف وہی کچھ منسوب ہوتا ہے جس کی نسبت اس کے متبوع کی طرف ہوتی ہے اور اس نسبت سے یہ دونوں مقصود ہوتے ہیں ، اسے عطف ِ نسق بھی کہا جاتا ہے ۔ جیسے قَامَ زَیْدٌ وَعَمْرٌو
، : اس مثال میں عَمْرٌومعطوف بالحرف ہے ۔ قَامَ فعل کی نسبت زَیْدٌ اور عَمْرٌو دونوں کی طرف کی گئی ہے اور اس نسبت سے یہ دونوں ہی مقصود ہیں ۔
(۵۸) اَلتَّاکِیْدُ :
تَابِعٌ یَدُلُّ عَلٰی تَقْرِیْرِ الْمَتْبُوْعِ فِي مَانُسِبَ أَوْ عَلٰی شُمُوْلِ الْحُکْمِ لِکُلِّ فَرْدٍ مِنْ أَفْرَادِ الْمَتْبُوْعِ نَحْوُ جَاءَ نِيْ زَیْدٌ زَیْدٌ وجَاءَ نِيْ الْقَوْمُ کُلُّھُمْ
ترجمہ : تاکید وہ تابع ہے جو متبوع کی طرف کسی شی کی نسبت کو پختہ کرنے پر دلالت کرتا ہے یا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ حکم متبوع کے تمام افراد کو شامل ہے ۔ نسبت میں پختہ کرنے کی مثال جَاءَ نِيْ زَیْدٌ زَیْدٌاورمتبوع کے تمام افراد کے لئے حکم کے عام ہونے پر دلالت کرنے کی مثال جَاءَ نِيْ الْقَوْمُ کُلُّھُم
، : نسبت میں پختہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ تاکید اپنے متبوع کی طرف منسوب ہونے والے حکم میں پائے جانے والے وہمِ مجاز کو دُورکردیتا ہے ۔ جیسے جَاءَ نِيْ زَیْدٌ زَیْدٌ ۔ اس مثال میں دوسرے زَیْدٌنے پہلے زَیْدٌ سے وہمِ مجاز کو دور کردیا وہ اس طرح کہ سننے والاگمان کرسکتا تھا کہ خود زید نہ آیا ہوگابلکہ اس کا ایلچی یا اس کا خط یا اس کا غلام متکلم کے پاس آیا ہوگا اور متکلم نے آنے کے حکم کو مجاز ا زَیْدٌکی طرف منسوب کردیا تودوسرے لفظ ِ زَیْدٌ نے یہ ظاہر کردیا کہ یہاں پر نسبت مجازی نہیں بلکہ حقیقی ہے ۔ جبکہ جَاءَ نِي الْقَوْمُ کُلُّھُممیں کُلُّھُماس بات پر دلالت کررہا ہے کہ آنے کا حکم قوم کے ہرفرد کے لئے ثابت ہے ۔
(۵۹) اَلتَّاکِیْدُ اللَفْظِی :
ھُوَ تَکْرِیْرُ اللَّفْظِ الْأَوَّلِ نَحْوُ
جَاءَ نِي زَیْدٌ زَیْدٌ وَ جَاءَ جَاءَ زَیْدٌ وَإِنَّ إِنَّ زَیْدًا شَاعِرٌ
ترجمہ : تاکید لفظی سے مراد وہ تاکید ہے جو پہلے لفظ کی تکرار سے حاصل ہوتی ہے ۔ جیسے جَاءَ جَاءَ زَیْدٌ اور إِنَّ إِنَّ زَیْدًا شَاعِرٌ
(۶۰) التاکید المَعْنَوِیُّ :
مَا یَکُوْنُ بِأَلْفَاظٍ مَخْصُوْصَۃٍ مَعْدُوْدَۃٍ نحو جَاءَ نِيْ زَیْدٌ نَفْسُہُ
ترجمہ : تاکید معنوی وہ ہے جو چند مخصوص الفاظ (مثلاً نفس ، عین وغیرہ)کے ساتھ ہو ۔ جیسے جَاءَ نِيْ زَیْدٌ نَفْسُہُ
(۶۱) اَلْبَدْلُ :
تَابِعٌ یُنْسَبُ إِلَیْہِ مَانُسِبَ إِلٰی مَتْبُوْعِہٖ وَھُوَ الْمَقْصُوْدُ بِالنِّسْبَۃِ دُوْنَ مَتْبُوْعِہٖ نحوجَاءَ نِيْ زَیْدٌ أَخُوْکَ
ترجمہ : بدل وہ تابع ہے کہ اس کی طرف وہی کچھ منسوب ہوتا ہے جس کی نسبت اس کے متبوع کی طرف ہوتی ہے اور اس نسبت میں یہ خود مقصود ہوتا ہے نہ کہ اس کا متبوع ۔ جیسے جَاءَ نِيْ زَیْدٌ أَخُوْکَ
، : اس مثال میں أَخُوْکَ، زَیْدٌ کا بدل ہے ۔ اس مقام پر جَاءَکی نسبت سے اصل مقصود أَخُوْک ہے زَیْدٌ کا ذکر تو بطور تمہید آیا ہے ۔
(۶۲)بَدْلُ الْکُلِّ مِنَ الْکُلِّ :
ھُوَمَا یَکُوْنُ مَدْلُوْلُہٗ تَمَامَ مَدْلُوْلِ الْمَتْبُوْعِ نَحْوُ جَاءَ نِيْ زَیْدٌ أَخُوْکَ
ترجمہ : بدلِ کل سے مراد ایسا بدل ہے جس کا مدلول اس کے متبوع کا بھی مدلول ہو ۔ جیسے جَاءَ نِيْ زَیْدٌ أَخُوْکَ
، : اس مثال میں زَیْدٌ اورأَخُوْکَ کا مدلول ایک ہی شخص ہے ۔
(۶۳) بَدْلُ الْبَعْضِ مِنَ الْکُلِّ :
ھُوَ مَایَکُوْنَ مَدْلُوْلُہٗ جُزْئَ مَدْلُوْلِ الْمَتْبُوْعِ نَحْوُ ضَرَبْتُ زَیْدًا رَأْسَہٗ
ترجمہ : بدل بعض وہ بدل ہے جس کا مدلول اس کے متبوع کے مدلول کا جزء ہوتا ہے ۔ جیسیضَرَبْتُ زَیْدًا رَأْسَہٗ
، : اس مثال میں لفظ ِ زَیْدًا کی دلالت زید کے پورے جسم پر جبکہ رَأْسَہٗ کا مدلول فقط اس کا سر ہے جوکہ متبوع کے مدلول کا جزو ہے ۔
(۶۴(بَدْلُ الْاِشْتِمَالِ :
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع