30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ترجمہ : مستثنی وہ لفظ ہے جسے إِلاََّ اور دیگر حروف استثناء کے بعد اس لئے ذکر کیا جائے تاکہ یہ معلوم ہوجائے کہ اس کی طرف وہ حکم منسوب نہیں ہے جو إِلاَّکے ماقبل شی کی طرف منسوب ہے ۔ جیسے جَاءَ نِي الْقَوْمُ إِلَّازَیْدًا
، : مذکورہ مثال میں زَیْدًا مستثنیٰ ہے جسے إِلَّا کے بعد ذکر کیا گیا ہے تاکہ معلوم ہوکہ آنے کی جو نسبت قوم کی طرف کی گئی ہے زید اس سے خارج ہے ۔
(۵۰) اَلْمُسْتَثْنٰی الْمُتَّصِلُ :
ھُوَ مَا أُخْرِجَ عَنْ مُتَعَدِّدٍ بِإِِلَّا وَأَخَوَاتِہَا نَحْوُ جَاء نِي الْقَوْمُ إِِلَّازَیْدًا
ترجمہ : مستثنی متصل وہ ہے جسے إِلاَّ اور دیگر حروف استثناء کے ذریعے متعدد سے خارج کیا گیا ہو(یعنی قبلِ استثناء وہ مستثنیٰ منہ میں داخل ہو) ۔ جیسے جَاءَ نِی الْقَوْمُ إِلَّازَیْدًا
، : اس مثال میں پہلے توآنے کے فعل کی نسبت قوم کی طرف کی گئی ہے پھر إِلَّاکے ذریعے زید کو متعدد(یعنی آنے والی قوم)سے خارج کیا گیا ہے ۔
(۵۱) اَلْمُسْتَثْنٰی المُنْقَطِعُ :
ھُوَ الْمَذْکُوْرُ بَعْدَ إِلَّا وَ أَخَوَاتِہَا غَیْرَ مُخْرَجٍ عَنْ مُتَعَدِّدٍ لِعَدَمِ دُخُوْلِہٖ فِی الْمُسْتَثْنٰی مِنْہُ نَحْوُ جَاءَ نِي الْقَوْمُ إِلَّاحِمَارً ا
ترجمہ : مستثنیٰ منقطع وہ ہے جسے الاَّ یادیگر حروف استثناء کے بعد ذکر کیا گیا ہو مگراسے متعدد سے نہ نکالا گیا ہو کیونکہ وہ مستثنی منہ میں داخل ہی نہیں ہوتا ۔ جیسے جَاءَ نِي الْقَوْمُ إِلَّاحِمَارًا
، : اس مثال میں پہلے توآنے کے فعل کی نسبت قوم کی طرف کی گئی ہے پھر اِلاَّ کے ذریعے حمار کے آنے کی نفی کی گئی ہے لیکن حمار کو متعدد سے خارج نہیں کیا گیا کیونکہ حمار پہلے ہی قوم میں شامل نہ تھا ۔
(۵۲)الاسم المجرور :
ھُوَ کُلُّ اِسْمٍ نُسِبَ إِلَیْہِ شَیئٌ بِوَاسِطَۃِ حَرْفِ الْجَرِّلَفْظًا نَحْوُ مَرَرْتُ بِزَیْدٍ وَیُعَبَّرُ عَنْ ھٰذَا التَّرْکِیْبِ فِي الْاِصْطِلَاحِ بِأَنَّہٗ جَارٌّ وَمَجْرُوْرٌ أَوْ تَقْدِیْرًا نَحْوُ غُلَامُ زَیْدٍ تَقْدِیْرُہٗ غُلَامٌ لِزَیْدٍ وَیُعَبَّرُعَنْہُ فِي الْاِصْطِلَاحِ بِأَنَّہُ مُضَافٌ وَمُضَافٌ إِلَیْہِ
ترجمہ : اسم مجرور وہ اسم ہے جس کی طرف کسی شی کی نسبت حرفِ جر کے واسطے سے کی جائے ۔ اگر حرف ِ جر لفظاً ہو تو یہ ترکیب جار مجرور کہلاتی ہے جیسیمَرَرْتُ بِزَیْدٍاور اگر حرف ِ جر تقدیرا ہو تو اس ترکیب کو مضاف، مضاف الیہ کہا جاتا ہے ۔ جیسے غُلَامُ زَیْدٍ
(۵۳)اَلإِْ ضَافَۃُ اَلْمَعْنَوِیَّۃُ :
ھِيَ أَنْ یَکُونَ الْمُضَافُ غَیْرَ صِفَۃٍ مُضَافَۃٍ إِلٰی مَعْمُوْلِھَا نَحْوُ غُلَامُ زَیْدٍ
ترجمہ : اضافت ِ معنویہ سے مرادوہ اضافت ہے جس میں صفت کا صیغہ اپنے معمول کی طرف مضاف نہ ہو جیسے غُلَامُ زَیْدٍ
، : صیغہ صفت سے مراد اسم فاعل ، اسم مفعول ، صفت مشبہہ وغیرہاہیں ۔ مذکورہ مثال میں غُلَام صیغۂ صفت نہیں ہے اور نہ ہی یہ اپنے معمول کی طرف مضاف ہے اس لئے اس کی زَیْدکی طرف اضافت ، معنویہ کہلائے گی ۔
(۵۴)اَلإِضَافَۃُ اَللَّفْظِیَۃُ :
ھیَ أَنْ یَکُوْنَ الْمُضَافُ صِفَۃً مُضَافَۃً إِلٰی مَعْمُوْلِہَا نَحْوُ ضَارِبُ زَیْدٍ
ترجمہ : اضافت ِ معنویہ سے مرادوہ اضافت ہے جس میں صیغۂ صفت اپنے معمول کی طرف مضاف ہو جیسے ضَارِبُ زَیْدٍ
، : اس مثال میں ضَارِبُ صیغۂ صفت ہے جو اپنے معمول (یعنی مفعول) کی طرف مضاف ہے ۔
(۵۵) اَلتَّابِعُ : ھُوَ کُلُّ ثَانٍ مُعْرَبٍ بِإِعْرَابِ سَابِقِہِ مِنْ جِھَۃٍ وَاحِدَۃٍ نَحْوُ جَاءَ نِيْ رَجُلٌ عَالِمٌ
ترجمہ : تابع وہ دوسرا اسم ہے جس کا اعراب ایک ہی جہت سے پہلے اسم کے مطابق ہو ۔ جیسیجَاءَ نِيْ رَجُلٌ عَالِمٌ
، : اس مثال میں رَجُلٌاورعَالِمٌ کا اعراب ایک ہے اور ان دونوں پر اعراب کا سبب بھی ایک ہے یعنی رَجُلٌ کا فاعل ہونا ۔
(۵۶) اَلنَّعْتُ : تَابِعٌ یَدُلُّ عَلٰی مَعْنًی فِيْ مَتْبُوْعِہٖ نَحْوُ جَاء نِيْ رَجُلٌ عَالِمٌ أَوْ فِيْ مُتَعَلِّقِ مَتْبُوْعِہٖ نَحْوُ جَاءَ نِيْ رَجُلٌ عَالِمٌ أَبُوْہُ وَیُسَمّٰی صِفَتًا أَیْضًا
ترجمہ : نعت وہ تابع ہے جو اپنے متبوع یا متبوع کے متعلق میں پائے جانے والے معنی پر دلالت کرے ، اسے صفت بھی کہا جاتا ہے ۔ جیسے جَاءَ نِیْ رَجُلٌ عَالِمٌ اور جَاءَ نِيْ رَجُلٌ عَالِمٌ أَبُوْہُ
، : پہلی مثال میں عَالِمٌ، رَجُلٌ (متبوع)میں پائے جانے والے وصف ِ علم پر دلالت کررہا ہے ۔ اوردوسری مثال میں عَالِمٌ، رَجُلٌ کے متعلق أَبُوْہُ میں پائے جانے والے وصف ِ علم پر دلالت کررہا ہے ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع