30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مَا لَایَکُوْنُ مُرَکَّبًا وَلَا غَیْرَ مُنْصَرِفٍ وَلَا مُعْتَلَّ الآخِرِ
ترجمہ : وہ اسم جونہ مرکب ہو اور نہ ہی غیر منصرف اور نہ اس کے آخر میں حرف علت ہو ۔
(۱۶) اَلْجَارِی مَجْرَی الصَّحِیْحِ :
ھُوَ مَا یَکُوْنُ فِيْ اٰخِرِہٖ وَاوٌ أَوْ یَاءٌ مَا قَبْلَھُمَا سَاکِنٌ کَدَلْو ٍوَظَبْيٍ
ترجمہ : وہ اسم ’’جاری مجری صحیح ‘‘ کہلاتا ہے جس کے آخر میں واؤ ۔ ۔ یا ۔ ۔ ی ہو اور اِن کا ماقبل ساکن ہو ۔ جیسے دَلْوٌ، طَبْيٌ
(۱۷) اَلْجَمْعُ الْمَکَسَّرُ الْمُنْصَرِف :
ھُوَ الْجَمْعُ الَّذِيْ لَمْ یَسْلَمْ وَزْنُ مُفْرَدِہٖ وَلَا یَکُوْنُ غَیْرَ مُنْصَرِفٍ نَحْوُ رِجَالٍ
ترجمہ : جمع مکسر منصرف سے مراد وہ جمع ہے جس میں اس کے واحد کا صیغہ سلامت نہ رہے اورنہ وہ غیر منصرف ہو ۔ جیسے رِجَالٌ
، : رِجَالٌ رَجُلٌکی جمع ہے جسے رَجُلٌمیں عین کلمہ کے بعد الف کا اضافہ کرکے بنایا گیا ہے جس کی بنا پر واحد کاصیغہ سلامت نہ رہا ۔
(۱۸)اَلْجَمْعُ الْمُؤَنَّث السَّالِمُ :
مَاکَانَ فِيْ آخِرِہٖ أَلِفٌ وَتَائٌ نَحْوُ مُسْلِمَاتٍ
ترجمہ : وہ جمع جس کے آخر میں الف اور تا ہو ۔ جیسے مُسْلِمَاتٌ
(۱۹)اَلاِْسْمُ الْمَقْصُوْرُ :
ھُوَ مَا فِيْ آخِرِہٖ أَلِفٌ مَقْصُوْرَۃٌ کَعَصَا
ترجمہ : جس اسم کے آخر میں الف مقصورہ ( یٰ)ہو اسے اسم مقصور کہتے ہیں ۔ جیسیعَصا
(۲۰)اَلاِْسْم الْمَنْقُوْصُ :
ھُوَ مَا فِيْ آخِرِہٖ یَاءٌ مَا قَبْلَھَا مَکْسُورٌ کَالْقَاضِيْ
ترجمہ : اسم منقوص وہ اسم ہے جس کے آخر میں ’’ ی‘‘ ہو جس کا ماقبل مکسور ہو ۔ جیسیالْقَاضِيْ
(۲۱)اَلاِْسْمُ الْمُنْصَرِفُ :
ھُوَ مَا لَیْسَ فِیْہِ سَبَبَانِ أَوْ وَاحِدٌ یَقُوْمُ مَقَامَھُمَا مِنَ الْأَسْبَابِ التِّسْعَۃِ کَزَیْدٍ وَیُسَمَّی الْاِسْمَ الْمُتَمَکِّنَ نَحْوُ زَیْدٍ
ترجمہ : منصرف وہ اسم ہے جس میں منع صر ف کے نواسباب میں سے نہ تو دواسباب پائے جائیں اورنہ ہی ان میں سے ایک ایسا سبب پایا جائے جو دواسباب کے قائم مقام ہو ۔ اسے اسمِ متمکن بھی کہا جاتا ہے ۔ جیسے زَیْدٌ
(۲۲) غَیْرُ مُنْصَرِفٍ :
ھُوَ مَا فِیْہِ سَبَبَانِ أَوْ وَاحِدٌ مِنْہَا یَقُوْمُ مَقَامَھُمَا نَحْوُ عُمَرَ وَحَمْرَاء
ترجمہ : غیرِ منصرف وہ اسم ہے جس میں منع صرف کے نواسباب میں سے کوئی سے دواسباب یا ایک ایسا سبب پایا جائے جودو کے قائم مقام ہو ۔ جیسیعُمَرُ اور حَمْرَائُ
، منع صرف کے اسباب یہ ہیں : (۱) عدل(۲) وصف(۳)تانیث(۴) عجمہ (۵) تعریف(۶) وزن فعل(۷) جمع (۸)الف نون زائدتان(۹) ترکیب
نوٹ : ان میں سے تانیث (الف ممدودہ اورمقصورہ کے ساتھ) اورجمع ، دو اسباب کے قائم مقام ہے ۔
(۲۳) اَلْعَدْلُ :
ھُوَ تَغَیُّرُ اللَّفْظِ مِنْ صِیْغَتِہِ الْأَصْلِیَّۃِ إِلٰی صِیْغَۃٍ أُخْرٰی تَحْقِیْقًا أَوْ تَقْدِیْرًا نَحْوُ عُمَرَمِنْ عَامِرٍ
ترجمہ : عدل سے مراد یہ ہے کہ کوئی لفظ (صرفی قاعدے کے استعمال کے بغیر)اپنے صیغۂ اصلیہ سے دوسرے صیغہ میں تبدیل ہوجائے ۔ جیسے عَامِرسے عُمَرُ ۔
، : اس مثال میں عَامِرٍ کسی صرفی قاعدے کے استعمال کے بغیر عُمَرُ میں تبدیل ہوا ہے اسی کو عدل کہا جاتا ہے ۔ یادرکھئے کہ اگر کسی معدول میں غیرمنصرف ہونے کے علاوہ کوئی ایسی دلیل ہو جو اس کے معدول عنہ پردلالت کرے تو اس میں پائے جانے والے عدل کو عدل تحقیقی کہا جاتا ہے اور اگر ایسی دلیل نہ ہو تو اسے عدل تقدیری کہا جاتا ہے ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع