30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ترجمہ : افعال ِ ناقصہ وہ افعال ہیں جو اپنے مصادر کی صفت کے علاوہ کسی دوسری صفت کواپنے فاعل کے لئے ثابت کرنے کیلئے وضع کئے گئے ہیں ۔ جیسے کَانَ زَیْدٌ قَائِمًا
، : اس مثال میں کَانَ، صفت ِ قیام کو اپنے فاعل زید کے لئے ثابت کررہا ہے جو اس کے مصدر کی صفت کے علاوہ ہے ۔
(۱۰۳)أفعال المقاربۃ :
ھِيَ أَفْعَالٌ ُوضِعَتْ لِلدَّلَالَۃِ عَلٰی دُنُوِّالْخَبْرِ لِفَاعِلِھَا نَحْوُ عَسٰی زَیْدٌ أَنْ یَّقُوْمَ
ترجمہ : افعالِ مقاربہ وہ افعال ہیں جو خبر کے ان کے فاعل(اسم)سے قریب ہونے پر دلالت کرنے کے لئے وضع کئے گئے ہوں ۔ جیسیعَسٰی زَیْدٌ أَنْ یَّقُوْمَ
، : اس مثال میں عَسٰیافعال مقاربہ میں سے ہے جو اس بات پر دلالت کررہا ہے کہ زید کے لئے قیام کا وصف زمانہ قریب میں حاصل ہونے والا ہے ۔
(۱۰۴)فعل التعجب :
مَا وُضِعَ لِإِنْشَاءِالتَّعَجُّبِ نَحْوُ مَاأَحْسَنَ زَیْدًا
ترجمہ : فعل تعجب وہ فعل ہے جسے انشاء تعجب (یعنی تعجب کے اظہار )کے لئے وضع کیاگیا ہو ۔ جیسے مَاأَحْسَنَ زَیْدًا
(۱۰۵)افعال المدح والذم :
مَا وُضِعَ لِإِنْشَاءِ مَدْحٍ أَوْذَمٍّ نحو نِعْمَ الرَّجُلُ زَیْدٌ وَبِئْسَ الْمَرْءُالْخَائِنُ
ترجمہ : افعال مدح وذم وہ افعال ہیں جنہیں کسی کی تعریف یا مذمت کے انشاء (یعنی اظہار)کے لئے وضع کیا گیا ہو ۔ جیسے نِعْمَ الرَّجُلُ زَیْدٌ
(۱۰۶)حروف الجر :
ھِيَ حُرُوْفٌ وُضِعَتْ لِإِفْضَاءِالْفِعْلِ أَوْ شِبْہِہٖ أَوْ مَعْنَی الْفِعْلِ إِلٰی مَایَلِیْہِ نَحْوُ کَتَبْتُ بِالْقَلَمِ
ترجمہ : حروف جر وہ حروف ہیں جو فعل ، شبہ فعل یا معنی فعل کو اپنے مدخول تک پہنچانے کے لئے وضع کئے گئے ہوں ۔ جیسیکَتَبْتُ بِالْقَلَمِ
، : اس مثال میں کَتَبْتُکے معنی کو الْقَلَمُ تک پہنچانے کے لئے حرفِ جر’ب‘ کو استعمال کیا گیا ہے ۔
(۱۰۷)أم المتصلۃ :
ھِيَ أم الّتِیْ یُسْأَلُ بِھَا عَنْ تَعْیِیْنِ أَحَدِ الْأَمْرَیْنِ وَالسَّائِلُ بِھَا یَعْلَمُ ثُبُوْتَ أَحَدِھِمَا مُبْھَمًا نَحْوُ أَزَیْدٌ عِنْدَکَ أَمْ عَمْرٌو
ترجمہ : ام متصلہ وہ ام ہے جس کے ساتھ دوچیزوں میں سے ایک کی تعیین کے بارے میں سوال کیا جائے اور سائل کو ان میں سے ایک کا ثبوت مبہم طور پر معلوم ہو ۔ جیسے أَزَیْدٌ عِنْدَکَ أَمْ عَمْرٌو
، : اس مثال میں سائل زید یا عمرو میں سے کسی ایک کی مخاطب کے پاس موجودگی کا تعین کرنا چاہ رہا ہے اور اسے مبہم طور پر معلوم ہے کہ دونوں میں سے کوئی ایک زید کے پاس موجود ہے ۔
(۱۰۸)أم المنقطعۃ :
ھِيَ مَاتَکُونُ بِمَعْنٰی بَلْ مَعَ الْھَمْزَۃِ نَحْوُ اِنَّھَا لَإِبِلٌ أَمْ شَاۃٌ
ترجمہ : ام منقطعہ وہ ام ہے جو ہمزہ کے ساتھ استعمال ہونے والے بل کے معنی میں ہوتا ہے ۔ یعنی پہلے کلام سے اعراض ہوتا ہے اور دوسرے کلام میں شک ہوتا ہے ۔ جیسے دورسے کوئی چیز دیکھ کر اِنَّھَا لَاِبِلٌ کہنا پھر شک کی کیفیت طاری ہونے پر یوں کہنا أَمَْ شَاۃٌ
(۱۰۹) ۔ حرف التوقع :
مَا وُضِعَ لِتَقْرِیْبِ الْمَاضِيْ وَ ھُوَ قَدْ وَ قَدْ تَجِیٔ لِلتَّحْقِیْقِ وَالتَّقْلِیْلِ
ترجمہ : حرف توقع اُس حرف کو کہتے ہیں جو ماضی قریب کے لیے وضع کیا گیا ہو اوریہ تحقیق اور تقلیل کے لیے بھی آتا ہے ۔
(۱۱۰)حروف الزیادۃ :
وَھِيَ مَالَایَخْتَلُّ اَصْلُ الْمَعْنٰی بِدُوْنِھَا وَ ھِیَ (۱)اِنْ (۲) مَا (۳) اَنْ (۴) لاَ (۵) مِنْ (۶) کَاف (۷) بَاء (۸) لاَم ۔
ترجمہ : یہ وہ حروف ہیں جن کے نہ ہونے سے اصل معنی میں خلل واقع نہیں ہوتا ۔
(۱۱۱)التنوین :
نُوْنٌ سَاکِنَۃٌ تَتْبَعُ حَرْکَۃَ آخِرِ الْکَلِمَۃِ لَا لِتَاکِیْدِ الْفِعْلِ نَحْوُزَیْدٌ
ترجمہ : تنوین وہ نونِ ساکن ہے جو کلمہ میں آخری حرکت کے بعد آتا ہے اور یہ فعل کی تاکید کے لئے نہیں لایا جاتا ۔ جیسے زَیْدٌ
، : زَیْدٌ کا تلفظ یوں ہے زَیْدُنْ اور اس کے آخر میں آنے والا نون تنوین کہلاتا ہے ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع