30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ھُوَ مَا یَکُوْنَ مَدْلُوْلُہٗ مُتَعَلِّقَ الْمَتْبُوْعِ کَسُلِبَ زَیْدٌ ثَوْبُہٗ
ترجمہ : بدل اشتمال وہ بدل ہے جس کا مدلول متبوع کا متعلق ہو ۔ جیسے سُلِبَ زَیْدٌ ثَوْبُہٗ
، : اس مثال میں ثَوْبُہٗ زَیْدٌ کا بدل ہے اور اس کا مدلول متبوع (یعنی زید) کا متعلق (یعنی اس کا کپڑا )ہے لہذا یہ بدل اشتمال ہے ۔
(۶۵)بَدْلُ الْغَلَطِ :
ھُوَ مَا یُذْکَرُ بَعْدَ الْغَلَطِ نَحْوُ جَاءَ نِيْ زَیْدٌ جَعْفَرٌ وَرَأَیْتُ رَجُلًا حِمَارًا
ترجمہ : بدل غلط وہ بدل ہے جو غلطی کے بعد ذکر کیا جائے ۔ جیسے جَاءَ نِيْ زَیْدٌ جَعْفَرٌ اور رَأَیْتُ رَجُلًا حِمَارًا
، : اگر کوئی شخص یہ کہنا چاہے کہ میں نے گدھا دیکھا اور غلطی سے اس کے منہ سے رَأَیْتُ رَجُلاً نکل گیا پھر اس نے غلطی کے ازالے کے لئے حِمَارًاکہا تو یہ بدل غلط کہلائے گا ۔
(۶۶) عَطْفُ الْبَیَانِ :
ھُوَ تَابِعٌ غَیْرُ صِفَۃٍ یُوْضِحُ مَتْبُوْعَہٗ وَھُوَ أَشْہَرُ اِسْمَيْ شَیئٍ نَحْوُ قَامَ أَبُوْحَفْصٍ عُمَرُ
ترجمہ : عطف ِ بیان وہ تابع ہے جو صفت نہ ہواور اپنے متبوع کی وضاحت کرتا ہے ، عطف ِبیان کسی شیٗ کے دوناموں میں سے ایک ہوتاہے جو عموما پہلے سے زیادہ مشہور ہوتا ہے ۔ جیسیقَامَ أَبُوْحَفْصٍ عُمَرُ
، : اس مثال میں عُمَرُ أَبُوْحَفْصٍ کی صفت نہیں لیکن اس کی وضاحت کررہا ہے کہ أَبُوْحَفْصٍ سے مراد کون ہے ۔ نیز عُمَرُ کومشہور ہونے کے سبب مثال میں عطف ِ بیان بنایا گیا ہے ۔
(۶۷)اَلْاِسْمُ الْمَبْنِیُّ :
ھُوَ اِسْمٌ وَقَعَ غَیْرَ مُرَکَّبٍ مَعَ غَیْرِہٖ َکَلَفْظَۃِ زَیْد وَحْدَہٗ أَوْشَابَہَ مَبْنِيَّ الْأَصْلِ بِأَنْ یَکُوْنَ فِي الدَّلَالَۃِ عَلٰی مَعْنَاہُ مُحْتَاجًا إِلٰی قَرِیْنَۃٍ کَالْإِشَارَۃِ نَحْوُ ھٰٰٓؤُلآئِ أَوْیَکُوْنَ عَلٰی أَقَلَّ مِنْ ثَلاثَۃِ أَحْرُفٍ نَحْوُ ذَا أَوْ تَضَمَّنَ مَعْنَی الْحَرْفِ نَحْوُ أَحَدَ عَشَرَ
ترجمہ : اسم مبنی سے مراد ایسا اسم ہے جو اپنے غیر کے ساتھ مرکب نہ ہو جیسے زَیْد(جبکہ ترکیب میں واقع نہ ہو)یا مبنی الاصل کے مشابہ ہو اس طر ح وہ اپنے معنی پر دلالت کرنے کے لئے کسی قرینے کا محتاج ہو جیسے ھٰٓؤُلآءِ ۔ ۔ یا ۔ ۔ تین حُروف سے کم پر مشتمل ہو جیسیذَا ۔ ۔ یا ۔ ۔ معنیٔ حرف کو ضمن میں لئے ہوئے ہو جیسے أَحَدَ عَشَرَ ۔ (أَحَدَ عَشَرَ اصل میں أَحَدٌ وَّعَشْرٌ تھا )
(۶۸) اَلْمُضْمَرُ :
ھُوَ اِسْمٌ وُضِعَ لِیَدُلَّ عَلٰی مُتَکَلِّمٍ أَوْ مُخَاطَبٍ أَوْ غَائِبٍ تَقَدَّمَ ذِکْرُہٗ لَفْظًا أَوْ مَعْنًی أَوْ حُکْمًا نَحْوُأَنَا وَأَنْتَ وَ ھُوَ
ترجمہ : مضمر سے مراد وہ اسم مبنی ہے جو متکلم ، مخاطب یا اس غائب پر دلالت کرنے کے لئے وضع کیا گیا ہو جس کا ذکر لفظی یا معنوی یا حکمی طور پر پہلے ہوچکا ہو ۔ جیسیُأَنَا، أَنْتَ اور ھُوَ
(۶۹)اَلضَّمِیْرُ المُتَّصِلُ :
ھُوَ مَا لَا یُسْتَعْمَلُ وَحْدَہٗ نَحْوُ ضَرَبْتُ
ترجمہ : ضمیرمتصل وہ ضمیر ہوتی ہے جسے تنہا استعمال نہ کیا جاسکے ۔ جیسیضَرَبْتُ
(۷۰)اَلضَّمِیْرُ الْمُنْفَصِلٌ :
ھُوَ مَا یَسْتَعْمِلُ وَحْدَہٗ نَحْوُ ھُوَ
ترجمہ : ضمیرمنفصل وہ ضمیر ہوتی ہے جسے تنہا استعمال کیا جاسکے ۔ جیسے ھُوَ
(۷۱)ضَّمِیْرُ الشَّانِ وَالْقِصَّۃِ :
ھُوْ ضَمِیْرٌ یَقَعُ قَبْلَ جُمْلَۃٍ تُفَسِّرُہٗ وَیُسَمّٰی ضَمِیْرَالشَّانِ فِيْ الْمُذَکَّرِ وَ ضَمِیْرَ الْقِصَّۃِ فِيْ الْمُؤَنَّثِ نَحْوُ {قُلْ ھُوَاللّٰہُ اَحَدٌ} وَإِنَّہَا زَیْنَبُ قَائِمَۃٌ
ترجمہ : وہ ضمیر جوایسے جملے سے پہلے آتی ہے جو اس کی وضاحت کرتا ہے ، اگر ضمیر مذکر ہوتو اسے ضمیر شان اور اگر مؤنث ہو تو اسے ضمیر قصہ کہا جاتا ہے ۔ جیسے {قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ} اور إِنَّہَا زَیْنَبُ قَائِمَۃٌ
(۷۲) أَسْمَاءُ الْاِشَارَۃِ :
مَا وُضِعَ لِیَدُلَّ عَلٰی مُشَارٍ إِلَیْہِ نَحْوُذَا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع