30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
محض عرف کی بنیاد پر ادا کی جاتی ہیں اور کوئی بھی انہیں فرض وواجب تصور نہیں کرتا لہٰذا جب تک کسی رسم میں کوئی شرعی قباحت نہ پائی جائے اسے حرام و ناجائز نہیں کہہ سکتے ۔چنانچہ رسوم کی پابندی اسی حد تک کی جاسکتی ہے کہ کسی فعل ِحرام میں مبتلا نہ ہونا پڑے مگربعض لوگ اس قدر پابندی کرتے ہیں کہ ناجائز فعل کرنا پڑے تو پڑے مگر رسم کا چھوڑنا گوارا نہیں مثلاً لڑکی جوان ہے اور رسوم ادا کرنے کو روپیہ نہیں تو یہ نہ ہو گا کہ رسوم چھوڑ دیں اور نکاح کر دیں کہ سبکدوش ہو جائیں اور فتنہ کا دروازہ بند ہوبلکہ سُود جیسی لعنت کوگلے لگانے کے لئے تیار ہوجاتے ہیں ۔ والعیاذ باللّٰہ تعالٰی
(ماخوذ از بہار شریعت، حصہ ہفتم، ص۹۴)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!
کثیر رسومات ایسی ہوتی ہیں جو کہ شرعاً ناجائز ہوتی ہیں مثلاً اس میں مرد وعورت کا بے پردہ اختلاط ہوتا ہے یاوہ رسم کسی مسلمان کی دل آزاری پر مشتمل ہوتی ہے ، علٰی ھذا القیاسلیکن حیاء وشرم کو بالائے طاق رکھ کر ان رسومات کو ضرور پورا کیا جاتا ہے ۔ مثلاً
اکثر گھروں میں رواج ہے کہ شادی کے ایام میں رشتہ داراور محلے کی عورتیں جمع ہو کر ڈھولک بجاتی اور گیت گاتی ہیں ، یہ حرام ہے کہ اولاً ڈھول بجانا ہی حرام پھر عورتوں کا گانا، مزید یہ کہ عورت کی آواز نامحرموں کو پہنچنا اور وہ بھی گانے کی اور وہ بھی عشق و ہجر و وصال کے اشعار یا گیت۔ جو عورتیں اپنے گھروں میں بات کرتے وقت گھر سے باہر آواز جانے کو معیوب جانتی ہیں ایسے موقعوں پر وہ بھی شریک ہو جاتی ہیں گویا ان کے نزدیک گانا کوئی عیب ہی نہیں کتنی ہی دور تک آواز جائے کوئی حرج نہیں نیز ایسے گانے میں جوان کنواری لڑکیاں بھی شریک ہوتی ہیں ۔ ایسے اشعار پڑھنا یا سننا کس حد تک ان کے دبے ہوئے جوش کو ابھارے گا اور کیسے کیسے ولولے پیدا کرے گا اور اخلاق و عادات پر اس کا کہاں تک اثر پڑے گا یہ باتیں ایسی نہیں جن کے سمجھانے کی ضرورت ہویا ثبوت پیش کرنے کی حاجت ہو۔(ماخوذ از بہار شریعت، حصہ ہفتم، ص۹۵)
اسی طرح مہندی کی رسم بھی ہے جس میں نوجوان لڑکیاں زرق برق لباس پہنے خوب بن سنور کر بے پردہ حالت میں بازاروں اور گلیوں میں سے مہندی کے تھال لئے ہوئے گزرتی ہیں اورپھردلہن یادولہاکے گھر جاکر ناچ گانے کی ’’پرائیویٹ‘‘ محفل سجاتی ہیں اور طرح طرح کے فتنوں کے پیدائش کا ذریعہ بنتی ہیں ۔ اے کاش ! ایسی اسلامی بہنوں کو چادرِ حیاء نصیب ہوجائے اور وہ اس بے ہودہ رسم سے باز آجائیں ۔
اسی پر بس نہیں بلکہ اب تو باقاعدہ فنکشن کا اہتمام کیا جاتا ہے جس میں سازوآلات کے ساتھ گلوکاروں اور گلوکاراؤں سے اسپیکر پرگانے سنے جاتے ہیں اور طوائفوں کا ناچ دیکھا جاتا ہے اورہاتھ پیٹ پیٹ کر تالیوں کی صورت میں انہیں ’’داد ‘‘ بھی دی جاتی ہے۔ اس قسم کی محافل میں جن فواحش و بدکاریوں اور مخرب اخلاق باتوں کا اجتماع ہوتاہے ان کے بیان کی حاجت نہیں ۔معاذ اللہ عَزَّوَجَلَّ ماں باپ ، بیٹا بیٹی، بھائی بہن ایک ساتھ ان خوشیوں میں مگن ہوتے ہیں اور’’ حیا‘‘دُور کھڑی شرم سے پانی پانی ہو رہی ہوتی ہے۔ایسی ہی محفلوں کی وجہ سے اکثر نوجوان آوارہ ہو جاتے ہیں اوراپنا دھن دولت برباد کر بیٹھتے ہیں ۔انہیں طوائف سے محبت اور اپنی زوجہ سے نفرت پیدا ہو جاتی ہے۔
منگنی شادی کے وعدہ کا نام ہے ۔ لیکن اس موقع پر بھی بے ہودہ رسموں کا انعقاد ضروری سمجھا جاتا ہے جن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ لڑکا خود اپنے ہاتھوں سے اپنی منگیتر کے ہاتھ میں انگوٹھی پہناتا ہے ۔
مرد کو سر اور داڑھی کے بالوں کے سوا مہندی لگانا ناجائز ہے مگر اکثر دولہے اپنے ہاتھ بلکہ پاؤں کو بھی مہندی سے رنگے ہوئے ہوتے ہیں ۔ (ماخوذ از بہار شریعت، حصہ ہفتم، ص۹۵)
بینڈ باجے والے بلوائے جاتے ہیں جو بارات کی آمد کے موقع پر اپنے فن کا مظاہرہ کرتے ہیں اور ساز وآلات بجانے کے گناہ کمانے کے ساتھ ساتھ سوئے ہوئے مسلمانوں اور مریضوں کو اذیت بھی پہنچاتے ہیں ۔
رخصتی کے موقع پر دُودھ پلائی کی رسم ادا کی جاتی ہے جس میں دولہے کو نامحرم خواتین کے مجمع میں بلایا جاتا ہے ۔ اس کے دوست ایسے موقع پر اسے تنہا نہیں چھوڑتے اور اس کے ساتھ ہی تشریف لاتے ہیں ۔پھرکوئی نامحرم نوجوان لڑکی اپنی ہمجولیوں کے جھرمٹ میں ’’بڑی محبت سے ‘‘ دولہے کودودھ کا گلاس پیش کرتی ہے اور پھر ’’ہلہ گلہ‘‘ہوتا ہے اوردولہا کے دوست نامحرم عورتوں کے ساتھ’’ ہنسی مذاق‘‘ کا شغل کرتے ہیں ، پھر آخر میں دولہے سے دودھ پلائی کا مطالبہ کیاجاتا ہے جوعموماً اس کی حیثیت سے کئی گنا زائدہوتی ہے ایسے موقع پر بے پردگی کے علاوہ بھی بہت تکلیف دہ مناظر دکھائی دیتے ہیں ۔
آتش بازی حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے مگر بعض لوگ ان کاموں کا اتنا اہتمام کرتے ہیں کہ یہ نہ ہوں تو گویا شادی ہی نہ ہوئی بلکہ بعض تو اتنے بیباک ہوتے ہیں کہ اگر شادی میں یہ حرام کام نہ ہوں تو اسے غمی اور جنازہ سے تعبیر کرتے ہیں ۔ یہ خیال نہیں کرتے کہ ایک تو گناہ اور شریعت کی مخالفت ہے ، دوسرے مال ضائع کرنا، تیسرے تمام تماشائیوں کے گناہ کا یہی سبب ہے اور سب کے مجموعہ کے برابر اس پر گناہ کا بوجھ۔مگرآہ!ایک وقتی خوشی میں یہ سب کچھ کر لیا جاتا ہے ۔ مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہم پر لازم ہے کہ اپنے ہر کام کو شریعت کے موافق کریںاللہ و رسول عَزَّوَجَلَّ وصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی مخالفت سے بچیں اسی میں دین و دنیا کی بھلائی ہے۔ (ماخوذ از بہار شریعت، حصہ ہفتم، ص۹۵)
(5)نکاح کے مستحبات پر عمل کرے :
مثلاً(۱) اعلانیہ ہونا (۲) نکاح سے پہلے خطبہ پڑھنا کوئی سا خطبہ ہو اور بہتر وہ ہے جو حدیث میں وارد ہوا (۳) مسجد میں ہونا(۴) جمعہ کے دن(۵) گواہان عادل کے سامنے (۶) عورت عمر ، حسب ، مال، عزت میں مرد سے کم ہو اور (۷) چال چلن اور اخلاق و تقویٰ و جمال میں بیش (یعنی زیادہ)ہو ۔ (الدرالمختار، کتاب النکاح، ج۴، ص۷۵)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع