30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(3) نکاح کے لئے اچھی اچھی نیّتیں کرے :
حضرت سیدناانس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ میں نے حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکو فرماتے سنا : ’’جس نے کسی عورت سے اس کی عزت کی وجہ سے نکاح کیا تو اللہ تَعَالٰی اس کی ذلت کو بڑھائے گا، جس نے عورت کے مال و دولت (کے لالچ)کی وجہ سے نکاح کیا، اللہ تَعَالٰی اس کی غربت میں اضافہ کریگا، جس نے عورت کے حسب نسب(یعنی خاندانی بڑائی)کی بنا پہ نکاح کیا، اللہ تَعَالٰی اس کی کمینگی کو بڑھائے گااور جس نے صرف اور صرف اس لئے نکاح کیا کہ اپنی نظر کی حفاظت کرے، اپنی شرمگاہ کو محفوظ رکھے، یا صلہ رحمی کرے تو اللہ تَعَالٰی اس کے لئے عورت میں برکت دے گااور عورت کے لئے مرد میں برکت دے گا۔‘‘ (المعجم الاوسط : الحدیث۲۳۴۲، ج۲، ص۱۸)
(از : شیخ طریقت امیر اہلسنت حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری رضوی دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ )
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط
اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط
فرمانِ مصطفیٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ : نِیَّۃُ الْمُؤْمِنِ خَیْرٌ مِنْ عَمَلِہِیعنی مسلمان کی نیّت اس کے عمل سے بہترہے۔‘‘ (المعجم الکبیر للطبرانی، الحدیث : ۵۹۴۲، ج۶، ص۱۸۵)
دو مدنی پھول : (۱) بغیر اچھی نیت کے کسی بھی عملِ خیر کا ثواب نہیں ملتا۔
(۲) جتنی اچھی نیتیں زیادہ، اتنا ثواب بھی زیادہ۔
نکاح کرنے والے کو چاہئے کہ اچھی اچھی نیتیں کر لے تاکہ دیگر فوائد کے ساتھ ساتھ وہ ثواب کا بھی مستحق ہوسکے ۔’’نکاح سنّت ہے ‘‘ کے نو حروف کی نسبت سے 9 نیتیں پیشِ خدمت ہیں :
(۱)سنت ِرسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی ادائیگی کروں گا۔
(۲)نیک عورت سے نکاح کروں گا۔
(۳)اچھی قوم میں نکاح کروں گا۔
(۴) اس کے ذریعے ایمان کی حفاظت کروں گا۔
(۵)اس کے ذریعے شرمگاہ کی حفاظت کروں گا۔
(۶)خود کوبد نگاہی سے بچاؤں گا۔
(۷)محض لذت یا قضائے شہوت کے لیے نہیں حصولِ اولاد کے لئے تَخْلِیَہ کروں گا۔
(۸)ملاپ سے پہلے’’بسم اللہ ‘‘اور مسنون دعاپڑھوں گا۔
(۹) سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی امّت میں اِضافے کا ذَرِیعہ بنوں گا ۔حضرت ِ سیدتنا عائشہرضی اللہ عنہاسے مروی ہے کہ تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوت، پیکرِ عظمت و شرافت، مَحبوبِ رَبُّ العزت، محسنِ انسانیت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا : ’’ نکاح میری سنت سے ہے ، پس جو شخص میری سنت پر عمل نہ کرے ، وہ مجھ سے نہیں ۔پس نکاح کرو کیونکہ میں تمہاری کثرت کی بناء پر دیگر امتوں پر فخر کروں گا۔‘‘(سنن ابن ماجہ، کتاب النکاح، باب ماجاء فی فضل النکاح، الحدیث ۱۸۴۶ج۲، ص۴۰۶)
مدنی مشورہ : شادی شدگان نیتوں وغیرہ کی مزیدمعلو مات کے لئے فتاویٰ رضویہ(تخریج شدہ) جلد 23صفحہ نمبر,386,385پر مسئلہ نمبر 42,41 کا مطالعہ فرمالیں ۔
صلوا علی الحبیب! صلی اللہ تعالٰی علٰی محمد
مسئلہ :
جس عورت سے نکاح کرنے کا ارادہ ہو اس نیت سے اسے دیکھنا جائز ہے کہ حدیث پاک میں یہ آیا ہے کہ : ’’جس سے نکاح کرنا چاہتے ہو اس کو دیکھ لو کہ یہ بقائے محبت کا ذریعہ ہو گا۔ ‘‘
(جامع الترمذی ، کتاب النکاح ، باب ما جاء فی النظر۔۔۔الخ، الحدیث۱۰۸۹، ج۲، ص۳۴۶)
حکیم الامت مفتی احمدیار خان نعیمی علیہ رحمۃ اللہ الغنی لکھتے ہیں : ’’مگر بہتر یہ ہے کہ پیغام سے پہلے دیکھا جائے اور وہ بھی کسی بہانہ سے کہ عورت کو پتہ نہ لگے تاکہ ناپسندیدگی کی صورت میں عورت کو رنج نہ ہو ۔‘‘مزید لکھتے ہیں : ’’دیکھنے سے مراد چہرہ دیکھنا ہے کہ حسن وقبح چہرے میں ہی ہوتا ہے اور اس سے مراد وہی صورت ہے جو ابھی عرض کی گئی یعنی کسی بہانہ سے دیکھ لینا یا کسی معتبر عورت سے دکھوا لینا نہ کہ باقاعدہ عورت کا انٹرویوکرنا۔(مراٰۃ المناجیح ، ج۵، ص۱۱، ۱۲)
جس عورت سے نکاح کرنا چاہتا ہے اگر اس کو دیکھنے کی ترکیب نہ بن سکے تو اُس شخص کو چاہیے کہ اپنے گھر کی کسی عورت کو بھیج کر دِکھوا لے اور وہ آکر اس کے سامنے سار احلیہ و نقشہ وغیرہ بیان کر دے تاکہ اسے اس کی شکل و صورت کے متعلق اطمینان ہو جائے۔‘‘( ردالمحتار، کتاب الحظر والاباحۃ ، فصل فی النظر والمس ، ج۹، ص۶۱۱)
اسی طرح عورت اس مرد کو جس نے اس کے پاس پیغام بھیجا دیکھ سکتی ہے اگرچہ اندیشہِ شہوت ہو مگر دیکھنے میں دونوں کی نیت یہی ہو کہ حدیث پاک پر عمل کرنا چاہتے ہیں ۔
(الدرالمختاروردالمحتار، کتاب الحظر والاباحۃ ، فصل فی النظر والمس ، ج۹، ص ۶۱۰ماخوذاً)
(4) منگنی اور شادی کے موقع پر ناجائز رسومات سے بچے :
ہمارے معاشرے میں منگنی اور شادی کے موقع پرمختلف رسومات ادا کرنے کا بہت زیادہ رواج ہے ۔پھرہرعلاقے ، ہر قوم اورہر خاندان کی اپنی مخصوص رسوم ہوتی ہیں ۔ چونکہ یہ رسوم
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع