دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Tarbiyat e Aulad | تربیت اولاد

book_icon
تربیت اولاد

دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ   نے اسلامی بھائیوں کیلئے 72، اسلامی بہنوں کیلئے 63اور طَلَبۂ علمِ دین کیلئے 92 ، دینی طالِبات کیلئے 83اور مَدَنی مُنّوں اور مُنّیوں کیلئے40 مَدَنی اِنعامات سُوالات کی صورت میں مُرتَّب کئے ہیں ۔ان مدنی انعامات کو اپنا لینے کے بعد نیک بننے کی راہ میں حائل رکاوٹیں  اللہ   تَعَالٰی کے فضل وکرم سے بتدریج دور ہوجاتی ہیں اوراس کی برکت سے پابند ِ سنت بننے ، گناہوں سے نفرت کرنے اور ایمان کی حفاظت کے لئے کڑھنے کا ذہن بنتا ہے ۔ہمیں چاہیے کہ باکردار مسلمان بننے کے لئے مکتبۃ المدینہ کی کسی بھی شاخ سے مدنی انعامات کا کارڈ حاصل کریں اورروزانہ فکرِمدینہ (یعنی اپنا محاسبہ) کرتے ہوئے کارڈ پُر کریں اورہر مدنی یعنی قمری ماہ کے ابتدائی دس دن کے اندر اندر اپنے یہاں کے مدنی انعامات کے ذمہ دار کو جمع کروانے کا معمول بنا لیں ۔ مَدَنی انعامات نے نہ جانے کتنے اسلامی بھائیوں اور اسلامی بہنوں کی زندگیوں میں مَدَنی انقِلاب برپاکردیا ہے! اِس کی ایک جھلک مُلا حَظہ ہو :

نمازِ باجماعت کے پابندہوگئے :

         نیو کراچی کے ایک اسلامی بھائی کا کچھ اس طرح کا بیان ہے :  عَلاقے کی مسجِد کے امام صاحِب جو کہ دعوتِ اسلامی سے وابَستہ ہیں ، انہوں نے اِنفرادی کوشِش کرتے ہوئے میرے بڑے بھائی جان کو مَدَنی انعامات کا ایک کارڈ تحفے میں دیا۔ وہ گھر لے آئے اور پڑھا تو حیران رَہ گئے کہ اِس مختصر سے کارڈ میں ایک مُسلمان کو اسلامی زندگی گزارنے کا اتنا زبردست فارمولا دے دیا گیا ہے! مَدَنی انعامات کاکارڈ ملنے کی بَرَکت سےاَلْحَمْدُلِلّٰہِ  عَزَّوَجَلَّ  اُن کو نَماز کا جذبہ ملا اور نَمازِ باجماعت کی ادائیگی کے لئے مسجِدمیں حاضِر ہو گئے اور اب پانچ وَقت کے نَمازی بن چکے ہیں ، داڑھی مبارَک بھی سجا لی اور مَدَنی انعامات کا کارڈ بھی پُرکرتے ہیں ۔

مَدَنی انعامات کے عامِل پہ ہر دم ہر گھڑی

یاالہٰی!خوب برسا رحمتوں کی تُو جھڑی

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب !          صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

                                                                                                                                                   (فیضانِ سنت، باب فیضانِ رمضان ، فیضانِ لیلۃ القدر، ج۱، ص۱۱۳۴)   

چند قابلِ لحاظ اُمور

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!

        یوں تو انسان کی پوری زندگی ہی قرآن وسنّت کے مطابق ہونی چاہیے مگر چند امور ایسے ہیں جن کا اولادکے وجود میں آنے سے پہلے لحاظ رکھنا بے حد ضروری ہے کیونکہ اولاد کی صَالِحِیَّت(یعنی پرہیز گاری) ان امور سے بھی وابستہ ہوتی ہے ۔

(1) نیک عورت کا انتخاب :  

        عمدہ سے عمدہ بیج بھی اسی وقت اپنے جوہر دکھا سکتا ہے جب اس کے لئے عمدہ زمین کا انتخاب کیا جائے ۔ ماں بچے کے لئے گویا زمین کی حیثیت رکھتی ہے ، لہٰذا بیوی کے انتخاب کے سلسلے میں مرد کوبہت احتیاط سے کام لینا چاہیے کہ ماں کی اچھی یا بری عادات کل اولاد میں بھی منتقل ہوں گی ۔متعدد احادیث ِ کریمہ میں مرد کو نیک ، صالحہ اور اچھی عادات کی حامل پاک دامن بیوی کا انتخاب کرنے کی تاکیدکی گئی ہے چنانچہ

 (۱)حضرت سیدنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوت، پیکرِ عظمت و شرافت، مَحبوبِ رَبُّ العزت، محسنِ انسانیت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا : ’’کسی عورت سے نکاح کرنے کے لیے چار چیزوں کو مد نظر رکھا جاتا ہے ، (۱)اس کا مال، (۲)حسب نسب، (۳)حسن و جمال اور(۴)دین۔‘‘ پھر فرمایا : ’’تمہارا ہاتھ خاک آلود ہوتم دیندار عورت کے حصول کی کوشش کرو۔‘‘ (صحیح بخاری، کتاب النکاح، باب الاکفاء فی الدین ، الحدیث ۵۰۹۰، ج۳، ص۴۲۹)

 (۲) حضرتِ سیدنا ابو امامہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ حبیبِ پروردگار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا : ’’ تقوٰی کے بعد مومن کے لیے نیک بی بی سے بہتر کوئی چیز نہیں اگر اسے حکم کرتاہے تو وہ اطاعت کرتی ہے اور اسے دیکھے تو خوش کر دے اور اس پر قسم کھا بیٹھے تو قسم سچی کر دے اوراگر وہ کہیں چلا جائے تو اپنے نفس اور شوہر کے مال میں بھلائی کرے (یعنی خیانت و ضائع نہ کرے)۔‘‘(سنن ابن ماجہ ، کتاب النکاح ، باب فضل النساء ، الحدیث ۱۸۵۷، ج۲، ص۴۱۴)

 (۳)حضرت سیدناعبد  اللہ  بن عمرو رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے ، نبی مُکَرَّم، نُورِ مُجسَّم، رسول اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا : ’’بے شک دنیا بہترین استعمال کی چیز ہے لیکن اس کے باوجود نیک اور صالحہ عورت دنیا کے مال و متاع سے بھی افضل و بہترین ہے ۔‘‘(سنن ابن ماجہ، کتاب النکاح، باب فضل النساء ، الحدیث ۱۸۵۵، ج ۲، ص۴۱۲)

 (۴)حضرت سیدنا عبد  اللہ  بن عمرو رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ روایت فرماتے ہیں کہ رسول پاک، صاحب لولاکصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا : ’’عورتوں سے ان کے حسن کی وجہ سے نکاح نہ کرواور نہ ہی ان کے مال کی وجہ سے نکاح کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کا حسن اور مال انہیں سرکشی اور نافرمانی میں مبتلا کر دے ، بلکہ ان کی دینداری کی وجہ سے ان کے ساتھ نکاح کرو۔کیونکہ چپٹی ناک، اور سیاہ رنگ والی کنیز دین دارہو تو بہتر ہے ۔‘‘(سنن ابن ماجہ، کتاب النکاح، باب تزویج ذات الدین، الحدیث ۱۸۵۹ ، ج۲، ص۴۱۵)   

(2) اچھی قوم میں نکاح کرے :  

        نکاح کے سلسلے میں عورت کے اہل ِ خانہ کے طرزِ زندگی کو بھی مدِ نظر رکھنا ضروری ہے چنانچہ ام المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اسے روایت ہے نبی مُکَرَّم، نُورِ مُجسَّم، رسول اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا : ’’اپنے نطفہ کے لئے اچھی جگہ تلاش کروکہ عورتیں اپنے ہی بہن بھائیوں کے مشابہ بچے پید اکرتی ہیں ۔‘‘

(کنز العمال : الکامل فی ضعفاء الرجال ، عیسیٰ بن میمون الجروی ، ج۶، ص۴۲۳)

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن