30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
انہیں حکم ہو وہی کرتے ہیں ۔
جب نبی اکرم ، نورِ مجسّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے یہ آیتِ مبارکہ صحابہ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ م کے سامنے تلاوت کی تو وہ یوں عرض گزار ہوئے : ’’یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ! ہم اپنے اہل وعیال کو آتش ِ جہنم سے کس طرح بچا سکتے ہیں ؟‘‘ سرکارِ مدینہ ، فیض گنجینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا : ’’ تم اپنے اہل وعیال کو ان چیزوں کاحکم دو جو اللہ عَزَّوَجَلَّ کو محبوب ہیں اور ان کاموں سے روکوجو رب تَعَالٰی کو ناپسندہیں ۔‘‘ (الدر المنثور للسیوطی ، ج۸، ص۲۲۵)
اورحضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ عظمت نشان ہے : ’’تم سب نگران ہو اور تم میں سے ہر ایک سے اس کے ماتحت افراد کے بارے میں پوچھا جائے گا۔بادشاہ نگران ہے ، اس سے اس کی رعایا کے بارے میں پوچھا جائے گا ۔ آدمی اپنے اہل وعیال کا نگران ہے اس سے اس کے اہل وعیال کے بارے میں پوچھا جائے گا ۔ عورت اپنے خاوند کے گھر اور اولادکی نگران ہے اس سے ان کے بارے میں پوچھا جائے گا ۔‘‘ (صحیح البخاری، کتاب العتق، باب کراہیۃالتطاول ۔۔۔۔الخ، الحدیث ۲۵۵۴، ج۲، ص۱۵۹)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!
اگرہم اسلامی اقدار کے حامل ماحول کے مُتَمَنِّی (یعنی خواہش مند) ہیں تو ہمیں اپنی اصلاح کے ساتھ ساتھ اپنے بچوں کی مَدَنی تربیت بھی کرنی ہوگی کیونکہ اگرہم تربیت ِ اولاد کی اہم ذمہ داری کو بوجھ تصور کر کے اس سے غفلت برتتے رہے اور بچوں کو ان خطرناک حالات میں آزاد چھوڑ دیا تو نفس وشیطان انہیں اپنا آلۂ کار بنا لیں گے جس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ نفسانی خواہشات کی آندھیاں انہیں صحرائے عصیاں (یعنی گناہوں کے صحرا)میں سرگرداں رکھیں گی اوروہ عمرِ عزیز کے چار دن آخرت بنانے کی بجائے دنیا جمع کرنے میں صرف کردیں گے اور یوں گناہوں کا انبار لئے وادیٔ موت کے کنارے پہنچ جائیں گے۔رحمت ِ الہٰی عَزَّوَجَلَّ شامل حال ہوئی تو مرنے سے پہلے توبہ کی توفیق مل جائے گی وگرنہ دنیا سے کفِ افسوس ملتے ہوئے نکلیں گے اور قبر کے گڑھے میں جاسوئیں گے ۔سوچئے تو سہی کہ جب بچوں کی مدنی تربیت نہیں ہوگی تو وہ معاشرے کا بگاڑ دور کرنے کے لئے کیا کردار ادا کرسکیں گے، جو خود ڈوب رہا ہو وہ دوسروں کو کیا بچائے گا ، جو خود خوابِ غفلت میں ہو وہ دوسروں کو کیا بیدار کرے گا ، جو خود پستیوں کی طرف محوِ سفر ہو وہ کسی کو بلندی کا راستہ کیونکر دکھائے گا ۔
سُونا جنگل رات اندھیری ، چھائی بدلی کالی ہے
سونے والو جاگتے رہیو چوروں کی رَکھوالی ہے (حدائق بخشش)
صاحب ِ اولاد اسلامی بھائیو!
آپ کی اولاد ، آپ کے جگر کاٹکڑا اور اپنی ماں کی آنکھوں کا نور سہی لیکن اس سے پہلے اللہ عَزَّوَجَلَّ کا بندہ ، نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکا امّتی اور اسلامی معاشرے کا اہم فرد ہے ۔ اگر آپ کی تربیت اسے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بندگی ، سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی غلامی اور اسلامی معاشرے میں اس کی ذمہ داری نہ سکھا سکی تو اُسے اپنا فرماں بردار بنانے کا خواب دیکھنا بھی چھوڑ دیجئے کیونکہ یہ اسلام ہی ہے جو ایک مسلمان کو اپنے والدین کا مطیع وفرماں بردار بننے کی تعلیم دیتا ہے ۔اس لئے اولاد کی ظاہری زیب وزینت ، اچھی غذا ، اچھے لباس اور دیگر ضروریات کی کفالت کے ساتھ ساتھ ان کی اخلاقی وروحانی تربیت کے لئے بھی کمربستہ ہوجائیے۔
تنبیہ الغافلین میں ہے کہ سمرقند کے ایک عالم ابوحفص رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے پاس ایک شخص آیا اور کہنے لگا : ’’میرے بیٹے نے مجھے ماراہے اور تکلیف دی ہے۔‘‘ انہوں نے حیرانگی سے پوچھا : ’’کیا کبھی بیٹا بھی باپ کو مارتا ہے ؟‘‘ اس نے جواب دیا : ’’جی ہاں ! ایسا ہوا ہے ۔‘‘ ابوحفصرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے دریافت کیا : ’’کیاتونے اسے علم وادب سکھایا ہے ؟‘‘ اس شخص نے نفی میں جواب دیا ۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے پوچھا : ’’قرآن کریم سکھایا ہے؟‘‘ اس نے پھر نفی میں جواب دیا تو آپ نے پوچھا : ’’پھر وہ کیا کرتا ہے؟‘‘ اس نے بتایا : ’’وہ کھیتی باڑی کرتا ہے۔‘‘
ابوحفص رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے فرمایا : ’’کیا تجھے معلوم ہے کہ اس نے تجھے کیوں مارا ہے ؟‘‘ اس نے کہا : ’’نہیں ۔‘‘ ابوحفص رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے اس پر چوٹ کی : ’’میرا خیال تو یہ ہے کہ جب صبح کے وقت وہ گدھے پر سوار ہوکر کھیت کی طرف جارہا ہوگا ، بیل اس کے آگے اور کتاّ اس کے پیچھے ہوگا ، قرآن اسے پڑھناآتا نہیں لہٰذا وہ کچھ گنگنا رہا ہوگا ، ایسے میں تم اس کے سامنے آئے ہوگے ۔ اس نے سمجھا ہوگا کہ گائے ہے اور تمہارے سر پر کوئی چیز دے ماری ہوگی ، شکر کرو کہ تمہارا سر نہیں پھوڑ دیا۔‘‘ (تنبیہ الغافلین، باب حقِ الولد علی الوالد ، ص۶۸)
بچوں کی تربیت کب شروع کی جائے؟
والدین کی ایک تعدادہے جو اس انتظار میں رہتی ہے کہ ابھی تو بچہ چھوٹا ہے جو چاہے کرے ، تھوڑا بڑا ہوجائے تو اس کی اخلاقی تربیت شروع کریں گے ۔
ایسے والدین کو چاہئیے کہ بچپن ہی سے اولاد کی تربیت پر بھر پور توجہ دیں کیونکہ اس کی زندگی کے ابتدائی سال بقیہ زندگی کے لئے بنیاد کی حیثیت رکھتے ہیں اوریہ بھی ذہن میں رہے کہ پائیدار عمارت مضبوط بنیاد پر ہی تعمیر کی جاسکتی ہے ۔ جو کچھ بچہ اپنے بچپن میں سیکھتا ہے وہ ساری زندگی اس کے ذہن میں راسخ رہتا ہے کیونکہ بچے کا دماغ مثل ِ موم ہوتا ہے اسے جس سانچے میں ڈھالنا چاہیں ڈھالا جا سکتا ہے ، … بچے کی یاداشت ایک خالی تختی کی مانند ہوتی ہے اس پر جو لکھا جائے گا ساری عمر کے لئے محفوظ ہوجائے گا، … بچے کاذہن خالی کھیت کی مثل ہے اس میں جیسا بیج بوئیں گے اسی معیارکی فصل حاصل ہوگی ۔یہی وجہ ہے کہ اگر اسے بچپن ہی سے سلام کرنے میں پہل کرنے کی عادت ڈالی جائے تو وہ عمر بھر اس عادت کونہیں چھوڑتا ، اگراُ سے سچ بولنے کی عادت ڈالی جائے تو وہ ساری عمر جھوٹ سے بیزاررہتا ہے ، اگراُسے سنّت کے مطابق کھانے پینے ، بیٹھنے، جوتا پہننے ، لباس پہننے ، سر پرعمامہ باندھنے اور بالوں میں کنگھی وغیرہ کرنے کا عادی بنادیا جائے تو وہ نہ صرف خود ان
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع