30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مُکَرَّم، نُورِ مُجسَّم رحمتِ عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : ’’جب تم میں سے کوئی مارے تو اسے چاہیے کہ چہرے پر مارنے سے بچے ۔‘‘
(سنن ابی داؤد، کتاب الحدود، باب فی ضرب الوجہ ، الحدیث۴۴۹۳، ج۴، ص۲۲۲)
ملاحظہ ہو کہ ہمارے بزرگانِ دین علیھم رحمۃ اللہ المتین اپنی اولاد کو ادب سکھانے میں کس قدر مستعد رہاکرتے تھے چنانچہ امام جلیل حضرت سیدنا محمد بن فضلرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے دورانِ تعلیم کبھی بازار سے کھانا نہیں کھایا ۔ان کے والد ہرجمعہ کو اپنے گاؤں سے ان کے لئے کھانا لے آتے تھے ۔ ایک مرتبہ جب وہ کھانا دینے آئے تو ان کے کمرے میں بازار کی روٹی رکھی دیکھ کر سخت ناراض ہوئے اور اپنے بیٹے سے بات تک نہیں کی ۔ صاحبزادے نے معذرت کرتے ہوئے عرض کی : ’’اباجان ! یہ روٹی بازار سے میں نہیں لایا ، میرا رفیق میری رضامندی کے بغیر خرید کر لایا ہے ۔ ‘‘ والد صاحب نے یہ سن کر ڈانٹتے ہوئے فرمایا : ’’اگر تمہارے اندر تقویٰ ہوتا تو تمہارے دوست کو کبھی بھی یہ جرأت نہ ہوتی۔ (تعلیم المتعلم طریق التعلم، ص۶۷)
وضاحت : امام زرنوجی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : ’’اگر ممکن ہو تو غیرمفید اور بازاری کھانے سے پرہیز کرنا چاہیے کیونکہ بازاری کھانا انسان کو خیانت وگندگی کے قریب اور ذکرِ خداوندی عَزَّوَجَلَّ سے دور کردیتا ہے ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ بازار کے کھانوں پر غرباء اور فقراء کی نظریں بھی پڑتی ہیں اور وہ اپنی غربت وافلاس کی بناء پر جب اس کھانے کو نہیں خرید سکتے تو دل برداشتہ ہو جاتے ہیں اور یوں اس کھانے سے برکت اٹھ جاتی ہے ۔‘‘ (تعلیم المتعلم طریق التعلم، ص۸۸)
اپنی اولاد کو نافرمانی سے بچائیے
اولاد پر والدین کی اطاعت واجب ہے ۔ اس لئے اگر وہ والدین کا حکم نہیں مانیں گے توگناہ گار ہوں گے ۔اپنی اولاد کو مبتلائے گناہ ہونے سے بچانے کا ذہن رکھنے والے والدین کو چاہیے کہ جب بھی اپنی اولاد کو کوئی کام کہیں مشورۃً کہیں حکم نہ دیں ۔تنبیہ الغافلین میں ہے کہ ایک بزرگ اپنے بچے کو براہِ راست کوئی کام نہیں کہتے تھے بلکہ جب ضرورت پیش آتی تو کسی اور کے ذریعے کہلواتے ۔ جب ان سے اس کا سبب پوچھا گیا تو فرمانے لگے : ’’ہوسکتا ہے کہ میں اپنے بیٹے کو کسی کام کا کہوں اور وہ نہ مانے تو (والد کی نافرمانی کے سبب)آگ کا مستحق ہوجائے اور میں اپنے بیٹے کو آگ میں نہیں جلانا چاہتا۔‘‘(تنبیہ الغافلین، باب حق الوالد علی الولد، ص۶۹)
شیخ ِ طریقت امیرِ اہل سنت حضرت علامہ مولانا محمد الیاس عطار قادری رضوی مدظلہ العالی کامدنی ذہن ملاحظہ ہو کہ آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ فرماتے ہیں کہ میں اپنی اولاد کو عموماًجو بھی کام کہتا ہوں مشورۃً کہتا ہوں تاکہ یہ نافرمانی کرکے گنہگار نہ ہوں ۔
حضرت سیدنا امام محمد غزالی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کیمیائے سعادت میں فرماتے ہیں ’’جب بچہ اچھا کام کرے اور خوش اخلاق بنے تو اس کی تعریف کریں اور اس کو ایسی چیز دیں جس سے اس کا دل خوش ہو جائے ۔اور اگر ماں بچے کو برا کام کرتے دیکھ لے تو اسے چاہیے کہ تنہائی میں سمجھائے اور بتائے کہ یہ کام برا ہے ، اچھے اور نیک بچے ایسا نہیں کرتے‘‘
(کیمیائے سعادت، رکن سوم ، مھلکات ، اصل اول ریاضت نفس، ص۵۳۲)
جامع صغیر میں ہے : ’’ عرامۃ الصبی فی صغرہ زیادۃ فی عقلہ فی کبرہ یعنی بچے کا بچپن میں شوخی اور کھیل کود کرنا ، جوانی میں اس کے عقل مند ہونے کی علامت ہے ۔‘‘
(جامع صغیر، الحدیث۵۴۱۳، ص۳۳۵)
حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ا سے مروی ہے کہ عید کے دن کچھ حبشی بچے ڈھال اور نیزوں سے کھیل کود کر رہے تھے ۔ نبی کریم رء وف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے انہیں دیکھا تو ارشاد فرمایا : ’’ اے حبشی بچو! کھیلتے رہوتاکہ یہود ونصاریٰ جان لیں کہ ہمارے دین میں وسعت ہے ۔‘‘(کنزالعمال، کتاب اللھو واللعب ، الحدیث۴۰۶۱۰، ج۱۵، ص۹۲)
لیکن خیال رہے کہ ہر کھیل جائز نہیں ہوتا ، اس لئے بچوں کو صرف جائز کھیل کھیلنے کی اجازت دی جائے ، ناجائز کھیل کی طرف تو رخ بھی نہ کرنے دیا جائے ۔
والدین مشاہدہ کرتے رہیں کہ ان کا بچہ کس قسم کے بچوں میں اٹھتا بیٹھتا ہے۔ اگر اس کے قریب جمع ہونے والوں میں بری عادات پائی جاتی ہیں یا وہ گمراہ کن عقائد رکھتے ہیں تو شفقت ونرمی کے ساتھ بچے کو ایسے بچوں سے ملنے سے روکیں اور اسے اچھے ساتھی اور خوش عقیدہ ہم نشین مہیا کریں کیونکہ ہر صحبت اپنا اثر رکھتی ہے ۔ پیارے آقا ، مکی مدنی سلطان ، رحمت عالمیان صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا، ’’اچھے اور برے مصاحب کی مثال ، مشک اٹھانے والے اور بھٹی جھونکنے والے کی طرح ہے ، کستوری اٹھانے والا تمہیں تحفہ دے گا یا تم اس سے خریدو گے یا تمہیں اس سے عمدہ خوشبو آئے گی ، جبکہ بھٹی جھونکنے والا یا تمہارے کپڑے جلائے گا یا تمہیں اس سے ناگوار بو آئے گی ۔‘‘ (صحیح مسلم، کتاب البر والصلۃ والآداب، باب استحباب مجالسۃ الصالحین۔۔الخ، الحدیث ۲۶۲۸، ص۱۴۱۴)
رسو ل اکرم شفیع معظم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَارشاد فرماتے ہیں : ’’آدمی اپنے گہرے دوست کے دین پر ہوتا ہے تو تم میں سے ہر ایک دیکھے کہ وہ کس کو گہرا دوست بنائے ہوئے ہے۔ ‘‘
(سنن ابی داود ، کتاب الادب ، باب من یومر ان یجا لس، الحدیث۴۸۳۳، ج۴، ص۳۴۱ )
بچے بڑے ہوجائیں تو بستر الگ کردیجئے
حضرت سیدنا عبدالملک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ رحمت ِ کونین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : ’’ جب تمہارے بچے سات سال کے ہوجائیں تو ان کے بستر الگ الگ کردو۔‘‘(المستدرک، کتاب الصلوٰۃ ، باب فی فضل الصلوات الخمس، الحدیث۷۴۸، ج۱، ص۴۴۹)
لڑکا بارہ سال اور لڑکی نوبرس سے کم عمر تک ہرگز بالغ وبالغہ نہ ہوں گے اور لڑکا لڑکی دونوں پندرہ برس کامل کی عمر میں ضرور شرعاً بالغ وبالغہ ہیں ، اگرچہ آثارِ بلوغ کچھ ظاہر نہ ہوں ۔ان عمروں کے اندر اگر آثار پائے جائیں ، یعنی خواہ لڑکے خواہ لڑکی کوسوتے خواہ جاگتے میں انزال ہو۔۔ یا۔۔ لڑکی کو حیض آئے ۔۔یا۔۔ جماع سے لڑکا (کسی عورت کو)حاملہ کر دے ۔۔یا۔۔ (جماع کی وجہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع