30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
’’نہیں ۔‘‘آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : ’’ اللہ تَعَالٰی سے ڈرواور اپنی اولاد میں انصاف کرو ۔‘‘ یہ سن کر وہ واپس لوٹ آئے اور وہ صدقہ واپس لے لیا ۔‘‘
(صحیح مسلم، کتاب الھبات ، باب کراہیۃ تفضیل بعض الاولاد فی الھبۃ، الحدیث۱۶۲۳، ص۸۷۸)
شہنشاہِ مدینہ ، قرارِ قلب وسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ عظمت نشان ہے کہ بے شک اللہ تبارک و تَعَالٰی پسند کرتا ہے کہ تم اپنی اولاد کے درمیان برابری کا سلوک کرو حتیٰ کہ بوسہ لینے میں بھی (برابری کرو)۔(کنزالعمال، کتاب النکاح ، باب فی العدل بین العطیۃلھم، الحدیث۴۵۳۴۲، ج۱۶، ص۱۸۵)
حضرت سیدناانس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ ایک شخص تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوت، پیکرِ عظمت و شرافت، مَحبوبِ رَبُّ العزت، محسنِ انسانیت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا کہ اتنے میں اس کا بچہ آگیا ۔ اس شخص نے اپنے بیٹے کو بوسہ دیا اور پھر اپنی ران پر بٹھا لیا ۔اسی دوران اس کی بچی بھی آگئی جسے اس نے اپنے سامنے بٹھا لیا (یعنی نہ اس کا بوسہ لیا اور نہ گود میں بٹھایا)تو سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : ’’تم نے ان دونوں کے درمیان برابری کیوں نہ کی ؟‘‘(مجمع الزوائد، کتاب البر والصلۃ ، باب ماجاء فی الاولاد، الحدیث۱۳۴۸۹، ج۸، ص۲۸۶)
یک طرفہ رائے سن کر فیصلہ نہ دیجئے
اگر کبھی بچوں میں جھگڑا ہوجائے تو ایک فریق کی بات سن کر کبھی بھی فیصلہ نہ دیجئے کیونکہ حق تلفی کا قوی امکان ہے ، ہوسکتا ہے کہ جس کی آپ نے بات سنی وہ غلطی پر ہو اس لئے احتیاط اسی میں ہے کہ فریقین (یعنی دونوں بچوں ) کی بات سن کر انہیں صلح پر آمادہ کریں ۔
اگر بچہ آگ کی طرف بڑھ رہا ہو تو والدین جب تک لپک کر اپنے بچے کو پکڑ نہ لیں انہیں چین نہیں آتا ۔مگر افسوس یہی اولاد جب رب کریم کی نافرمانیوں میں ملوث ہوکر جہنم کی طرف تیزی سے بڑھنے لگتی ہے ، والدین کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی ۔بچہ اگر اسکول سے چھٹی کر لے تو اسے ٹھیک ٹھاک ڈانٹ پلائی جاتی ہے مگر افسوس نماز نہ پڑھنے پر اسے سرزنش نہیں کی جاتی ۔
امامِ اہلسنّت ، مجددِدین وملت الشاہ مولانا احمد رضاخان علیہ رحمۃ الرحمن کی بارگاہ میں کسی نے استفتاء پیش کیا کہ ’’والدین کا حق، اولادِ بالغ کو تنبیہ خیر واجب ہے یا فرض؟‘‘ اس کا جواب دیتے ہوئے آپ رحمۃ اللہ علیہ نے ارشاد فرمایا : ’’جو حکم فعل کا ہے وہی اس پر آگاہی دینی ہے ، فرض پر فرض ، واجب پہ واجب ، سنّت پہ سنّت ، مستحب پہ مستحب ۔مگر بشرطِ قدرت بقدرِ قدرت بامید منفعت ورنہ
عَلَیْكُمْ اَنْفُسَكُمْۚ-لَا یَضُرُّكُمْ مَّنْ ضَلَّ اِذَا اهْتَدَیْتُمْؕ (پ۷، سورۃ المائدۃ : ۱۰۵)
ترجمہ کنزالایمان : تم اپنی فکر رکھوتمہارا کچھ نہ بگاڑے گا جو گمراہ ہواجب کہ تم راہ پر ہو۔( فتاویٰ رضویہ، ج۲۴، ص۳۷۱)
لیکن اولاد کی اصلاح کا انداز ایسا ہونا چاہیے کہ ان کی اصلاح بھی ہوجائے اور وہ والدین سے باغی بھی نہ ہوں ۔ اس لئے جب بھی بچے کو سمجھائیں تو نرمی سے سمجھائیں ۔بچوں کے جذبات بہت نازک ہوتے ہیں ۔بعض والدین کی عادت ہوتی ہے کہ جونہی بچے نے کوئی غلطی کی وہ اس کے احساسات کا خیال کئے بغیر کوسنا شروع کر دیتے ہیں ۔اس سے بچے احساسِ کمتری کا شکار ہوجاتے ہیں اور والدین کواپنا مخالف سمجھنا شروع کردیتے ہیں ۔ ایسانہ کیا جائے بلکہ بچوں کی غلطی مثبت اور نرم انداز میں ان پر آشکار کی جائے تاکہ وہ اپنے آپ کو قیدی تصور نہ کریں اورسمجھانے والے کو اپنا خیر خواہ اور ہمدرد سمجھیں ۔ام المومنین حضرتِ سیدتناعائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہاسے مروی ہے کہ حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : ’’نرمی جس چیز میں ہوتی ہے اسے زینت بخشتی ہے اور جس چیز سے نرمی چھین لی جاتی ہے اسے عیب دار کردیتی ہے ۔‘‘(صحیح مسلم ، کتاب البروالصلۃ، با ب فضل الرفق، الحدیث ۲۵۹۴، ص ۱۳۹۸)
حضرت سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہسے روایت ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا : جسے نرمی میں سے حصہ دیا گیا اسے بھلائی میں سے حصہ دیا گیا اور جو نرمی کے حصے سے محروم رہا وہ بھلائی میں سے اپنے حصے سے محروم رہا ۔‘‘(جامع الترمذی، کتاب البر والصلۃ، باب ماجاء فی الرفق، الحدیث ۲۰۲۰، ج۳، ص ۴۰۸)
بعض ماؤں کی عادت ہوتی ہے کہ بچوں کو سمجھاتے وقت مختلف دھمکیوں سے نوازتی ہیں مثلاً اب اگر تم نے ایسا کیا تو میں تمہیں جنگل میں چھوڑ آؤں گی وغیرہ ۔ایسا نہ کیجئے بچے کا ناپختہ ذہن اس کا بہت غلط اثر قبول کرتا ہے اور نتیجۃً وہ بھی جوابی دھمکیوں پر اتر آتا ہے اورسنبھلنے کی بجائے بگڑتا چلا جاتا ہے ۔ بچے کو کبھی بھی آناً فاناًغصے میں سزا نہ دیجئے بلکہ اس کی غلطی سامنے آنے پر سوچئے کہ مجھے اسے کس طرح سمجھانا چاہیے پھر اس حکمت عملی کو اختیار کرتے ہوئے اسے سمجھائیے۔ سب کے سامنے نہ جھاڑئیے بچہ بہت سبکی محسوس کرتا ہے لہٰذا! حتی الامکان اسے تنہائی ہی میں سمجھائیں اِنْ شَآءَاللہ عَزَّوَجَلَّ مثبت نتائج برآمد ہوں گے ۔بعض مائیں اپنی اولاد کی بار بار کی غلطی پر بددعا دے ڈالتی ہیں پھر جب یہ بددعائیں اپنا اثر دکھاتی ہیں تو یہی مائیں مصلّٰے بچھا کر بیٹھ جاتی ہیں ۔ امام محمدغزالی علیہ رحمۃ اللہ الوالی مکاشفۃ القلوب میں نقل کرتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت عبد اللہ بن مبارک رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اپنے بچے کی شکایت کی ۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے فرمایا : ’’کیاتم نے اس کے خلاف بددعا کی ہے ؟‘‘ اس نے کہا : ’’ہاں ۔‘‘ فرمایا : ’’تم نے خود ہی اسے برباد کردیا ہے ، بچے کے ساتھ نرمی اختیار کرنا ہی اچھا کام ہے ۔‘‘
(مکاشفۃ القلوب، الباب التاسع والثمانون ، فی بر الوالدین وحقوق الاولاد، ص۲۸۰)
ایک بار کی غلطی پربچے کو مختلف القابات مثلاً مکار ، چور، جھوٹا وغیرہ سے نوازنے والے والدین سخت غلطی پر ہیں ۔ان القابات کی تکرار سے بچہ یہ سوچتا ہے جب مجھے یہ لقب مل ہی گیا ہے تو میں کیوں نہ اس کام کو کامل طریقے سے کروں ۔ پھر وہ اسی لقب کا حقیقی مستحق بن کر دکھاتا ہے ۔
اگر نرمی کے باوجود بچہ کسی غلطی کو بار بارکرتا ہے تو مقتضائے حکمت یہ ہے کہ اسے ذرا سختی سے سمجھایا جائے اگر پھر بھی باز نہ آئے تو ہلکی سزا دینے میں کوئی مضایقہ نہیں ہے ۔حضرت سیدنا جابررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ روایت کرتے ہیں کہ خاتِمُ الْمُرْسَلین، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلمین، شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکین، مَحبوبِ ربِّ العلمین، جنابِ صادق و امین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکا فرمانِ عظمت نشان ہے کہ اللہ تَعَالٰی اس بندے پر رحم فرمائے جو اپنے گھر میں کوڑا لٹکائے جس سے اس کے اہل ادب سیکھیں ۔
(کنزالعمال، کتاب النکاح ، تربیۃ اہل بیت ، الاکمال ، الحدیث۴۴۹۹۰، ج۱۶، ص۱۵۹)
لیکن اگر سزا دینی پڑے توہاتھ سے دے ، اتنی ضرب لگائے کہ بچہ اسے برداشت کر سکے اور چہرے پر مارنے سے بچے۔حضرت سیدناابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ نبی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع