دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Tarbiyat e Aulad | تربیت اولاد

book_icon
تربیت اولاد

کرنے والا ترکِ تعلقات کے گناہ سے بری ہوگیا ۔‘‘( سنن ابی داؤد، کتاب الادب ، باب فیمن یھجر اخاہ المسلم، الحدیث۴۹۱۲، ج۴، ص۳۶۳)

(۱۳) گالی دینا :

        کسی کو گالی دیتا دیکھ کر بچے بھی اسی اندازکو اپنانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ انہیں اس کی ہلاکتوں سے آگاہ کر کے بچنے کی تاکید کریں ۔حضرت سیدنا عبد اللہ  بن عمرو رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ سرور کونین، ہم غریبوں کے دلوں کے چین  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا :  ’’مسلمان کو گالی دینا خود کو ہلاکت میں ڈالنے کے مترادف ہے ۔‘‘

(الترغیب والترھیب ، کتاب الادب ، باب الترھیب من السباب ۔۔۔الخ، الحدیث۴۳۶۳، ج۳، ص۳۷۷)

 (۱۴)وعدہ خلافی :

         نبی مُکَرَّم، نُورِ مُجسَّم، رسول اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : ’’جو کسی مسلمان سے عہد شکنی کرے ، اس پر  اللہ   تَعَالٰی ، فرشتوں اور تمام انسانوں کی لعنت ہے اور اس کا کوئی فرض قبول نہ ہوگا نہ نفل ۔‘‘(صحیح البخاری ، کتاب فضائل المدینہ ، باب حرم المدینہ ، الحدیث۱۸۷۰، ج۱، ص۶۱۶)   

         اپنے بچوں کو وعدہ خلافی سے بچنے کی تربیت دیجئے ۔وعدہ خلافی آج ہمارے ہاں کوئی بڑی بات نہیں سمجھی جاتی ۔ بدعہدی (یعنی پورا نہ کرنے)کی نیت سے وعدہ کرنا حرام ہے۔اکثر علماء کے نزدیک پورا کرنے کی نیت سے وعدہ کیا تو اس کا پورا کرنا مستحب ہے اورتوڑنا مکروہ تنزیہی ہے ۔(حدیقہ ندیہ ، ج۱، ص۶۵۶)

        اگر کسی سے کوئی کام کرنے کا وعدہ کیا اور وعدہ کرتے وقت نیت میں فریب نہ ہو پھر بعد میں اس کام کو کرنے میں کوئی حرج پایا جائے تو اس وجہ سے اس کام کو نہ کرنا وعدہ خلافی نہیں کہلائے گا ، حضور پرنور صلی  اللہ  علیہ وسلم فرماتے ہیں ، ’’وعدہ خلافی یہ نہیں کہ آدمی وعدہ کرے اور اس کی نیت اسے پورا کرنے کی بھی ہو بلکہ وعدہ خلافی یہ ہے کہ آدمی وعدہ کرے اور اس کی نیت اسے پورا کرنے کی نہ ہو ۔‘‘(ماخوذ از فتاویٰ رضویہ ، ج۱۰، حصہ اول ، ص ۸۹)

(۱۵) آتش بازی :

        افسوس! آج آتش بازی میں کوئی حرج نہیں سمجھا جاتا بلکہ شعبان کے ایام میں تو ہر علاقہ گویا میدان ِجنگ نظر آتا ہے ۔جگہ جگہ پٹاخے پھوڑے جارہے ہوتے ہیں اور پھلجھڑیاں چھوڑی جارہی ہوتی ہیں ۔آتش بازی ممنوع ہے اپنے بچوں کو اس سے بچائیے۔حکیم الامت مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃ المنّان لکھتے ہیں :

        ’’ آتشبازی کے متعلق مشہور یہ ہے کہ یہ نمرودبادشاہ نے ایجاد کی جبکہ اس نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈالا اور آگ گلزار ہوگئی تواس کے آدمیوں نے آگ کے اناربھرکران میں آگ لگا کر حضرت خلیل  اللہ علیٰ نبیناوعلیہ الصلاۃوالسلام کی طرف پھینکے۔‘‘(اسلامی زندگی ، ص۷۷)

(۱۶) پتنگ با زی :

        پتنگ بازی کے نقصانات کا اعتراف وہ لوگ بھی کرتے ہیں جواس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے ۔سالانہ کروڑوں روپے اس منحوس شوق کی بھینٹ چڑھا دئیے جاتے ہیں ۔ کٹی پتنگ پکڑنے کی کوشش میں متعدد بچے ونوجوان چھت سے گر کر یا کسی گاڑی سے ٹکرا کر عمر بھر کے لئے جسمانی معذوری کو اپنے گلے لگا لیتے ہیں ۔سمجھ دار والدین کو چاہیے کہ اپنے بچوں کو اس شوق کی ہوا بھی نہ لگنے دیں ۔

(۱۷)فلم بینی :

        فلمیں اور ڈرامے وغیرہ دیکھنا آج نوجوانوں کی اکثریت کا محبوب مشغلہ بن چکا ہے ۔جو کچھ آنکھ دیکھتی ہے دماغ اس کا اثر قبول کرتا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ آج جرائم بہت بڑھ گئے ہیں کیونکہ’’ نونہالانِ قوم‘‘کو ڈکیتی ، زنا بالجبر ، غنڈہ گردی وغیرہ کی تربیت کے لئے کسی’’ کوچنگ سینٹر‘‘جانے کی ضرورت نہیں پڑتی بلکہ یہ تربیت انہیں ٹی۔وی ، وی سی آر، ڈش اور کیبل کے ذریعے گھربیٹھے مل جاتی ہے ۔جب اس ناپاک مشغلے کے بھیانک نتائج سامنے آتے ہیں تو والدین سر پیٹ کر رہ جاتے ہیں ۔ اکثر والدین بچوں کو ڈھال بنا کر گھر میں ٹی ۔وی لانے کا ’’حیلہ‘‘ کرتے ہیں کہ کیا کریں جی بچے ضد کررہے تھے ۔ایسے والدین کو سوچنا چاہیے کہ اگر آپ کی اولاد آپ سے جلتے ہوئے چولہے پر بیٹھنے یا چھت سے چھلانگ لگانے کا بولے تو کیا پھر بھی آپ ان کی ضد کے آگے ہتھیار ڈال دیں گے یا سمجھ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان کے مطالبے کو رد کردیں گے ۔اگر ان کے مطالبے کے جواب میں چولہے پر بیٹھ جانا نادانی ہے تو آپ ہی فرمائیے کہ ٹی وی میں جس قسم کے لوفر، حیاباختہ اور تہذیب سے کوسوں دور پروگرام دکھائے جاتے ہیں کیا ان کو دیکھنے والا مستحق جنت قرار پائے گا یا دوزخ کا حق دار ، تو پھر ٹی وی کے معاملے میں اولاد کی ضد کیوں مان لی جاتی ہے ؟ اللہ   تَعَالٰی ہمیں عقل ِ سلیم عطا فرمائے ۔

(اس سلسلے میں تفصیلی معلومات کے لئے امیراہلِ سنّت کے رسائل ’’ٹی وی کی تباہ کاریاں ‘‘ اور’’گانے باجے کی ہولناکیاں ‘‘کا مطالعہ کیجئے )       

بچوں سے یکسا ں سلوک کیجئے

        ماں باپ کو چاہیے کہ ایک سے زائد بچے ہونے کی صورت میں انہیں کوئی چیز دینے اورپیار محبت اور شفقت میں برابری کا اصول اپنائیں ۔بلاوجہِ شرعی کسی بچے بالخصوص بیٹی کو نظر انداز کر کے دوسرے کو اس پر ترجیح نہ دیں کہ اس سے بچوں کے نازک قلوب پر بغض وحسد کی تہہ جم سکتی ہے جو ان کی شخصی تعمیر کے لئے نہایت نقصان دہ ہے ۔ معلمِ اخلاق صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ہمیں اولاد میں سے ہر ایک کے ساتھ مساوی سلوک کرنے کی تاکید فرمائی ہے۔ چنانچہ حضرت سیدنا نعمان بن بشیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ میرے والد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے مجھے اپنا کچھ مال دیا تو میری والدہ حضرت عمرہ بنت رواحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ا نے کہا کہ میں اس وقت تک راضی نہ ہوں گی جب تک کہ آپ اس پر رسول  اللہ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو گواہ نہ کر لیں ۔ چنانچہ میرے والد مجھے شہنشاہِ مدینہ، قرارِ قلب و سینہ، صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی بارگاہ میں لے گئے تاکہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو مجھے دئیے گئے 

 صدقے پر گواہ کر لیں ۔ سرورِ کونین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ان سے پوچھا :  ’’ کیا تم نے اپنے تمام بیٹوں کے ساتھ ایسا ہی کیا ہے ؟‘‘ میرے والد محترم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے عرض کی :

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن