30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہمارے معاشرے میں جھوٹ اتنا عام ہوچکا ہے کہ اب اسے معاذ اللہ عَزَّوَجَلَّ برائی ہی تصور نہیں کیا جاتا ۔ایسے حالات میں بچوں کا اس سے بچنا بہت دشوار ہے ۔ اپنے بچوں کے ذہن میں بچپن ہی سے جھوٹ کے خلاف نفرت بٹھا دیں تاکہ وہ بڑے ہونے کے بعد بھی سچ بولنے کی عادتِ پاکیزہ اختیار کئے رہیں ۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا : ’’جب بندہ جھوٹ بولتا ہے تو فرشتہ اس کی بد بو سے ایک میل دور ہوجاتاہے ۔‘‘
(جامع الترمذی، کتاب البر والصلۃ، باب ماجاء فی الصدق والکذب ، الحدیث۱۹۷۹، ج۳، ص۳۹۲)
غیبت سے مراد یہ ہے کہ اپنے زندہ یا مردہ مسلمان بھائی کی عدم موجودگی میں اس کے پوشیدہ عیوب کو (جن کا دوسروں کے سامنے ظاہر ہونااُسے ناپسند ہو) اس کی برائی کے طور پر ذکر کیا جائے ، اور اگر وہ بات اس میں موجود نہ ہوتو اسے بہتان کہتے ہیں ۔مثلاً ، ’’مجھے بے وقوف بنا رہا تھا ‘‘ ، ’’اس کی نیت خراب ہے ‘‘، ’’ڈرامہ باز ہے ‘‘وغیرہ (ماخوذ از بہارِ شریعت، حصہ ۱۶، ص۶۴۵)
غیبت وہ خطرناک مرض ہے کہ شاید ہی کوئی مجلس اس سے محفوظ رہتی ہو ۔ جہاں دو آدمی اکٹھے ہوئے اور تیسرے کا ذکر ہوا تو اس سے متعلق گفتگو کا اختتام اس کی برائیاں کرنے پر ہوتا ہے ۔ اپنے بچوں کو غیبت کی نحوست سے بچائیے۔
سیدنا انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ آقائے مظلوم، سرورِ معصوم، حسنِ اخلاق کے پیکر، نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبرصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا : ’’جب مجھے معراج کروائی گئی تو میں ایسے لوگوں کے پاس سے گزرا جن کے ناخن تانبے کے تھے اور وہ ان کے ساتھ اپنے چہروں اورسینوں کو نوچتے تھے۔‘‘ میں نے پوچھا : ’’اے جبرائیل !یہ لوگ کون ہیں ؟ ‘‘عرض کی : ’’یہ ایسے آدمی ہیں جو لوگوں کی غیبت کرتے اور ان کی بے عزتی کرتے تھے۔‘‘(سنن ابی داؤد ، کتاب الھبات، باب فی الغیبۃ ، الحدیث ۴۸۷۸، ج۴، ص۳۵۳)
لعنت سے مرادکسی کو اللہ کی رحمت سے دور کہناہے ۔ یقین کے ساتھ کسی پر بھی لعنت کرنا جائز نہیں چاہے وہ کافر ہویامومن ، گنہگار ہویا فرمانبردار کیونکہ کسی کے خاتمہ کا حال کوئی نہیں جانتا۔ (حدیقہ ندیہ ، ج۲، ص۲۳۰)
فتاویٰ رضویہ میں ہے کہ ’’لعنت بہت سخت چیز ہے ، ہر مسلمان کو اس سے بچایا جائے بلکہ کافر پر بھی لعنت جائز نہیں جب تک اس کا کفر پر مرنا قرآن وحدیث سے ثابت نہ ہو۔‘‘
(فتاویٰ رضویہ ، ج۲۱، ص۲۲۲)
ہمارے معاشرے میں بات بے بات لعنت ملامت کرنے کا مرض بھی عام ہے اس کے اثرات سے بچے بھی بچ نہیں پاتے ۔ والدین کو چاہیے کہ اپنے بچوں کو اس کے مضر اثرات سے بچائیں ۔حضرت سیدنا ضحاک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا : کسی مومن پر لعنت کرنا اسے قتل کرنے کے مترادف ہے ۔‘‘(صحیح البخاری، کتاب الایمان والنذور ، با ب من حلف بملۃ سوی ملۃ الاسلام الحدیث۶۶۵۲، ج۴، ص۲۸۹)
بچپن کی عادت بہت مشکل سے چھوٹتی ہے ۔اس لئے بچے گھر کی چھوٹی موٹی چیزیں چرا کر کھا جاتے ہیں یا کسی کے گھر سے چرا لاتے ہیں اگر انہیں مناسب تنبیہ نہ کی جائے تو اس کے نتائج انتہائی خطرناک ہوتے ہیں ۔حضرت سیدناابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا : ’’چور پر اللہ تَعَالٰی نے لعنت فرمائی ہے۔‘‘(صحیح مسلم، کتاب الحدود، باب حد السرقۃونصابھا، الحدیث۱۶۸۷، ص۲۶ ۹)
چونکہ بچوں کو قلبی خیالات کے اچھے یا برُے ہونے کا علم نہیں ہوتا اس لئے دل میں جو آتا ہے وہ کرتے چلے جاتے ہیں اور دوسرے پر اپنے دلی جذبات کا اظہار بھی کردیتے ہیں ۔ چنانچہ ان کے دل میں کسی کا بغض بیٹھ جانا ناممکن نہیں لیکن ظاہر ہے کہ یہ کوئی اچھی چیز نہیں ہے اس لئے بچوں کو اس سے متعلق بھی معلومات دیجئے اور بچنے کا ذہن بنائیے۔حضرت سیدناابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ سرکارِ مدینہ، فیض گنجینہ ، راحت ِ قلب وسینہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : ’’بندوں کے اعمال ہر ہفتہ میں دو مرتبہ پیش کئے جاتے ہیں ، پیر اور جمعرات کو ۔ پس ہر بندے کی مغفرت ہوجاتی ہے سوائے اس کے جو اپنے کسی مسلمان بھائی سے بغض وکینہ رکھتا ہے، اس کے متعلق حکم دیا جاتا ہے کہ ان دونوں کو چھوڑے رہو (یعنی فرشتے ان کے گناہوں کو نہ مٹائیں ) یہاں تک کہ وہ آپس کی عداوت سے باز آجائیں ۔‘‘(صحیح مسلم، کتاب البر والصلۃ والآداب ، باب النھی عن الشحناء والتھاجر، الحدیث ۲۵۶۵، ص۱۳۸۸ )
یہ تمنا کرنا کہ کسی کی نعمت اس سے زائل ہوکر مجھے مل جائے ’’حسد‘‘ کہلاتاہے ۔(لسان العرب ، ج۱، ص۸۲۶)حسدکرنابالاتفاق حرام ہے۔ (حدیقہ ندیہ، ج۱، ص۶۰۰)
اپنے بچوں کوحسد سے بچائیے ۔ لیکن اگر یہ تمنا ہے کہ وہ خوبی مجھے بھی مل جائے اور اسے بھی حاصل رہے رشک کہلاتا ہے اور یہ جائز ہے ۔ حضرت سیدناابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے پیارے محبوب ، دانائے غیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا : ’’اپنے آپ کو حسد سے بچاؤ کہ حسد نیکیوں کو اس طرح کھا جاتا ہے جس طرح آگ لکڑیوں کو کھا جاتی ہے۔‘‘ (سنن ابی داؤد، کتاب الادب ، با ب فی الحسد، الحدیث ۴۹۰۳، ج۴، ص۳۶۰)
ہمارے معاشرے میں معمولی وجوہات کی بنا پر ترکِ تعلقات کرنے اور بات چیت بند کردینے میں کوئی قباحت محسوس نہیں کی جاتی ۔ حضرت سیدناابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ سرکارِ مدینہ ، فیض گنجینہ ، راحت ِ قلب وسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا : ’’کسی مسلمان کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ تین دن سے زیادہ کسی مسلمان کو چھوڑ رکھے ۔اگر تین دن گزر جائیں تو اسے چاہیے کہ اپنے بھائی سے مل کر سلام کرے۔اگر وہ سلام کا جواب دے دے تو (مصالحت کے) ثواب میں دونوں شریک ہیں اور اگر سلام کا جواب نہ دے تو جواب نہ دینے والا گنہگار ہوا اور سلام
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع