30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(۱) سوال کرنا :
دوسروں سے چیزیں مانگنے کی عادت بھی بچوں میں عموماً پائی جاتی ہے۔ آپ اپنی اولاد کو ایسا نہ کرنے دیں اور ان کا ذہن بنائیے کہ شدید ضرورت کے بغیر کسی سے کوئی چیز نہ مانگیں ۔حضرت سیدنا کبشہ انماری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا : ’’جس بندے نے سوال کا دروازہ کھولا اللہ عَزَّوَجَلَّ اس پر فقر کا دروازہ کھول دے گا۔‘‘(جامع الترمذی، کتاب الزھد، باب ماجاء مثل الدنیا مثل اربعۃ نفر، الحدیث ۲۳۳۲، ج۴، ص ۱۴۵)
اصل نام سے ہٹ کر کسی کا الٹا نام (مثلاً لمبو، ٹھنگو، کالو وغیرہ)رکھنا بھی ہمارے معاشرے میں بہت معمولی تصور کیا جاتا ہے بالخصوص چھوٹے بچے اس میں پیش پیش ہوتے ہیں حالانکہ اس سے سامنے والے کو تکلیف پہنچتی ہے اور یہ ممنوع ہے۔
رب تَعَالٰی فرماتاہے :
وَ لَا تَنَابَزُوْا بِالْاَلْقَابِؕ-بِئْسَ الِاسْمُ الْفُسُوْقُ بَعْدَ الْاِیْمَانِۚ (پ۲۶، الحجرات : ۱۱)
ترجمۂ کنزالایمان : اورایک دوسرے کے برے نام نہ رکھو کیا ہی بُرا نام ہے مسلمان ہو کر فاسق کہلانا۔
صدرالافاضل حضرت مولانا سید نعیم الدین مرادآبادی علیہ رحمۃ اللہ الھادی تفسیر خزائن العرفان میں اس آیت کے تحت لکھتے ہیں :
’’بعض علماء نے فرمایا کہ اس سے وہ القاب مراد ہیں جن سے مسلمان کی برائی نکلتی ہو اور اس کو ناگوار ہو لیکن تعریف کے القاب جو سچے ہوں ممنوع نہیں جیسے کہ حضرت ابوبکر کا لقب عتیق(یعنی آزاد) اور حضرت عمرکا فاروق(یعنی فرق کرنے والا) اور حضرت عثمان غنی کا ذوالنورین(دونوروں والا) اور حضرت علی کا ابوتراب(تراب مٹی کو کہتے ہیں ) اور حضرت خالد کا سیف اللہ (یعنی اللہ کی تلوار) رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ م اور جو القاب بمنزلہ علم (یعنی نام کے قائم مقام )ہوگئے اور صاحب ِالقاب کو ناگوار نہیں وہ القاب بھی ممنوع نہیں جیسے کہ اَعْمَشْ(یعنی چندھی آنکھوں والا) اَعْرَجْ (لنگڑا)
(۳) تَمَسْخُر(مذاق اڑانا) :
تمسخرسے مراد یہ ہے کہ کسی کوگھٹیا یا حقیر جانتے ہوئے اس کے کسی قول یافعل وغیرہ کو بنیاد بنا کر اس کی توہین کی جائے اور یہ حرام ہے۔(حدیقہ ندیہ، ج۲، ص۲۲۹)
اپنے بچوں کو اس فعلِ بد سے بچائیے۔ رب تَعَالٰی فرماتا ہے :
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا یَسْخَرْ قَوْمٌ مِّنْ قَوْمٍ عَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنُوْا خَیْرًا مِّنْهُمْ وَ لَا نِسَآءٌ مِّنْ نِّسَآءٍ عَسٰۤى اَنْ یَّكُنَّ خَیْرًا مِّنْهُنَّۚ (پ ۲۶، الحجرات : ۱۱ )
ترجمۂ کنزالایمان : اے ایمان والو!نہ مرد مردوں سے ہنسیں عجب نہیں کہ وہ ان ہنسنے والوں سے بہتر ہوں اورنہ عورتیں عورتوں سے دور نہیں کہ وہ ان ہنسنے والیوں سے بہترہوں ۔
حضرت سیدنا حسن بصری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا : ’’لوگوں سے استہزاء کرنے والوں کے لئے روزِ قیامت جنت کا ایک دروازہ کھول کر کہا جائے گا ’’یہاں آجاؤ۔‘‘ جب وہ پریشانی کے عالم میں دروازے کی طرف دوڑ کر آئیں گے تو دروازہ بند کردیا جائے گا ۔ یہ عمل باربار کیا جائے گا یہاں تک کہ پھر ان میں سے ایک کے لئے دروازہ کھولا جائے گا اور اسے بلایا جائے گا لیکن وہ ناامید ہونے کی وجہ سے نہیں آئے گا ۔‘‘(شعب الایمان، باب فی تحریم اعراض الناس، الحدیث ۶۷۵۷، ج۵، ص۳۱۰)
کسی کا عیب معلوم ہوجانے پر اسے کسی دوسرے پر ظاہر کرنے کی بجائے خاموشی اختیار کرنا بہت کم لوگوں کو نصیب ہوتا ہے ۔ بدقسمتی سے اکثریت ایسے لوگوں کی ہے کہ جب تک ہر جاننے والے پر اس عیب کو بیان نہ کرلیں انہیں چین نہیں آتا ۔ اس بُری عادت کے اثرات سے بچے بھی نہیں بچ پاتے اور اپنے بڑوں کے نقش ِ قدم پر چلنے کا حق ادا کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔والدین کو چاہیے کہ اپنے بچوں کے سامنے اس عادت قبیحہ کی مذمت بیان کرکے انہیں اس سے بچانے کی بھرپور کوشش کریں ۔
حضرت سیدنا ابن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ما سے روایت ہے کہ حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : ’’جو اپنے بھائی کی پردہ پوشی کرے گا اللہ تَعَالٰی قیامت کے دن اس کا پردہ رکھے گا اور جو اپنے بھائی کے راز کھولے گا تو اللہ تَعَالٰی اس کے راز کھول دے گا یہاں تک کہ وہ اپنے گھر ہی میں رسواہو جائے گا ۔‘‘
(سنن ابن ماجہ ، کتاب الحدود، الحدیث ۲۵۴۶، ج۳، ص۲۱۹)
شیخ سعدی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : ’’میں بچپن میں اپنے والدِ محترم کی معیت میں شب بیداری میں مصروف تھا اور قرآن پاک کی تلاوت کررہا تھا ۔ ہمارے اطراف میں کچھ لوگ سوئے ہوئے تھے ۔ میں نے اپنے والد سے کہا : ’’اس جماعت میں ایک بھی ایسا نہیں جو بیدار ہو تاکہ دورکعت نماز ادا کر لے ، اس طرح سوئے ہوئے ہیں کہ گویا مرچکے ہیں ۔‘‘ یہ سن کر میرے والدِ محترم نے جواب دیا : ’’اے باپ کی جان! اگرتُو بھی سو جاتا تو اس سے بہتر تھا کہ لوگوں کی عیب جوئی کرتا۔‘‘(حکایاتِ گلستانِ سعدی، حکایت نمبر ۴۸، ص۷۵)
خودکودوسروں سے افضل سمجھنا تکبرکہلاتاہے۔(مفردات امام راغب، ص۶۹۷) اورتکبرحرام ہے۔ (حدیقہ ندیہ، ج۱، ص۵۴۳، ۵۴۴)
یہ بات اپنی اولاد کے دل میں بٹھادیجئے کہ سب مسلمان برابر ہیں کسی مسلمان کو دوسرے مسلمان پر پرہیزگاری کے سواکوئی برتری نہیں ہے اور یہ کہ غریب بچے بھی تمہارے اسلامی بھائی ہیں اس لئے انہیں حقیر مت جانو۔
خلافِ واقع بات کرنے کو’’جھوٹ ‘‘کہتے ہیں ۔(حدیقہ ندیہ ، ج۲، ص۲۰۰)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع