30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سرکارِ مدینہ ، فیض گنجینہ ، راحت ِ قلب وسینہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : ’’جو نوجوان کسی بزرگ کے سن رسیدہ ہونے کی وجہ سے اس کی عزت کرے تو اللہ تَعَالٰی اس کے لئے کسی کو مقرر کردیتا ہے جو اس نوجوان کے بڑھاپے میں اس کی عزت کرے گا ۔‘‘(سنن الترمذی، کتاب البر والصلۃ، باب ماجاء فی اجلال الکبیر، الحدیث۲۰۲۹، ج۳، ص۴۱۱)
حضرت سیدناانس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا : ’’اے انس ! بڑوں کا ادب و احترام اور تعظیم وتوقیر کرو اور چھوٹوں پر شفقت کرو ، تم جنت میں میری رفاقت پالو گے ۔‘‘(شعب الایمان، باب فی رحم الصغیر، الحدیث۱۰۹۸۱، ج۷، ص۴۵۸)
اپنی اولاد کو والدین کا ادب بھی سکھائیے ۔حضرت سیدناابن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ما سے مروی ہے کہ سرکارِ مدینہ ، فیض گنجینہ ، راحت ِ قلب وسینہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : ’’جس نے اپنے ماں باپ کی فرمانبرداری کی حالت میں صبح کی تو اس کے لئے جنت کے دو دروازے کھول دیئے جاتے ہیں ، اور اگر والدین میں سے ایک ہو تو ایک دروازہ کھلتا ہے ۔اور جس نے اس حال میں صبح کی کہ وہ اپنے والدین کا نافرمان ہو تو اس کے لئے جہنم کے دو دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور اگر والدین میں سے ایک ہو تو ایک دروازہ کھلتا ہے ۔‘‘ایک شخص نے عرض کی : ’’اگرچہ والدین ظلم کریں ؟ ‘‘ارشاد فرمایا : ’’اگرچہ ظلم کریں ، اگرچہ ظلم کریں ، اگرچہ ظلم کریں ۔‘‘(شعب الایمان، باب فی بر الوالدین، فصل فی حفظ اللسان ۔۔۔الخ، الحدیث۷۹۱۶، ج۶، ص۲۰۶)
حضرت سیدناابن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ما سے مروی ہے کہ حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا : ’’جو نیک اولاد اپنے والدین کی طرف محبت کی نگاہ سے دیکھے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کی ہرنگاہ کے بدلے ایک مقبول حج کا ثواب لکھے گا ۔‘‘عرض کی گئی : ’’اگرچہ روزانہ سو مرتبہ دیکھے ؟‘‘فرمایا : ’’ہاں ، اللہ تَعَالٰی سب سے بڑا اور پاک ہے ۔‘‘
(شعب الایمان، کتاب الایمان، باب فی بر الوالدین، الحدیث۷۸۵۹، ج۶، ص۱۸۶)
حضرت سیدناابن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ما سے مروی ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا : ’’جس نے اپنی ماں کی دونوں آنکھوں کے درمیان (یعنی پیشانی پر)بوسہ دیا تو یہ اس کے لئے جہنم سے روک بن جائے گا۔‘‘ (شعب الایمان، باب فی بر الوالدین، الحدیث۷۸۶۱، ج۶، ص۱۸۷)
حضرت سیدناانس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا : ’’جنت ماؤں کے قدموں تلے ہے۔‘‘(کنزالعمال، کتاب النکاح، الباب الثامن فی بر الوالدین، الحدیث۴۵۴۳۱، ج۱۶، ص۱۹۲)
حضرت سیدناجابر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا : ’’اپنے والدین کے ساتھ نیک سلوک کرو، تمہارے بچے تمہارے ساتھ نیک سلوک کریں گے۔‘‘(المستدرک، کتاب البر والصلۃ، باب بروا آباؤکم، الحدیث۷۳۴۱، ج۵، ص۲۱۴)
حضرت ثابت بنانی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں کہ کسی مقام پر ایک آدمی اپنے باپ کو مار رہاتھا ۔ لوگوں نے اسے ملامت کی کہ اے ناہنجار ! یہ کیا ہے ؟ اس پر باپ بولا : ’’ اسے چھوڑ دو کیونکہ میں بھی اسی جگہ اپنے باپ کو مارا کرتا تھا ، یہی وجہ ہے کہ میرا بیٹابھی مجھے اسی جگہ ماررہاہے ، یہ اسی کا بدلہ ہے اسے ملامت مت کرو۔‘‘(تنبیہ الغافلین، باب حق الولد علی الوالد ، ص۶۹)
والدین کو چاہیے کہ اپنی اولاد کو اساتذہ وعلماء کا ادب سکھائیں کہ( علمِ دین سکھانے والا) استاذ روحانی باپ ہوتا ہے اور حقیقی والد جسم کا ۔حضرت سیدناابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا : ’’علم حاصل کرو اور علم کے لئے بردباری ووقار سیکھو، اور جس سے علم حاصل کررہے ہو اس کے سامنے عاجزی وانکساری اختیار کرو ۔‘‘(المعجم الاوسط، الحدیث ۶۱۸۴، ج۴، ص۳۴۲)
حضرت سیدناابو امامہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا : ’’جس نے کسی شخص کو قرآن مجید کی ایک آیت بھی سکھائی وہ اس کا آقا ہے ، لہذا اب اس شخص کو زیب نہیں دیتا کہ اپنے استاذ کو چھوڑ کر کسی دوسرے کو اس پر ترجیح دے ۔‘‘(المعجم الکبیر، الحدیث۷۵۲۸، ج۸، ص۱۱۲)
اپنے بچوں کو مبتلائے تکبر ہونے سے بچانے کے لئے انہیں عاجزی کی تعلیم دیں کہ ہر مسلمان کو اپنے سے افضل جانیں ۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا : ’’جو اللہ تَعَالٰی کے لئے عاجزی اختیار کرتا ہے ، اللہ تَعَالٰی اسے بلندیاں عطا فرماتا ہے ۔‘‘
(صحیح مسلم ، کتاب البر والصلۃوالآداب ، باب استحباب العفو والتواضع، الحدیث ۲۵۸۸، ص۱۳۹۷)
والدین اپنے بچوں کا ذہن بنائیں کہ ہر جائز کام اللہ تَعَالٰی کی رضا کے لئے کریں ۔حضرت عبد $&'); container.innerHTML = innerHTML; }
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع