دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Tarbiyat e Aulad | تربیت اولاد

book_icon
تربیت اولاد

        اپنی اولاد کا ذہن بنائیے کہ جب بھی کوئی صدمہ پہنچے تو بلاضرورت شرعی کسی کے سامنے بیان نہ کیجئے اور صبر کا ثواب کمائیے ۔حضرت سیدنا کبشہ انماری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا : ’’جس بندے پر ظلم کیا جائے اور وہ اس پر صبر کرے  اللہ   تَعَالٰی اس کی عزت میں اضافہ فرمائے گا ۔‘‘

(جامع الترمذی، کتاب الزھد، باب ماجاء مثل الدنیا۔۔۔الخ، الحدیث۲۳۳۲، ج۴، ص۱۴۵)

(۱۲) قناعت :

        اپنی اولاد کو قناعت کی تعلیم دیجئے کہ رب  تَعَالٰی کی طرف سے جو مل جائے اسی پر راضی ہوجائیں ۔حضرتِ جابر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ رحمت ِ عالم نورِ مجسمصلی  اللہ   تَعَالٰی علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا : ’’قناعت کبھی ختم نہ ہونے والاخزانہ ہے ۔‘‘(کتاب الزھد الکبیر، الحدیث ۱۰۴، ص۸۸)

(۱۳)وقت کی اہمیت :

        اپنی اولاد کو وقت کی اہمیت کا احساس دلاتے ہوئے ان کا ذہن بنائیے کہ وقت ضائع کرنا عقل مندوں کا شیوہ نہیں ۔سیدنا امام غزالی علیہ رحمۃ  اللہ  الوالی نقل فرماتے ہیں ’’ بندے کا غیر مفید کاموں میں مشغول ہونا اس بات کی علامت ہے کہ  اللہ   تَعَالٰی نے اس سے اپنی نظر عنایت پھیرلی ہے۔اور جس مقصد کے لیے انسان کو پیدا کیا گیا ہے ، اگر اس کی زندگی کا ایک لمحہ بھی اس کے علاوہ گزر گیا تو وہ اس بات کا حقدار ہے کہ اس پر عرصہ حسرت دراز کر دیا جائے ۔     (مجموعہ رسائل للامام الغزالی، ایھاالولد، ص۲۵۷)

        اور جس کی عمر چالیس سال سے زیادہ ہو جائے اور اس کے باوجود اُس کی برائیوں پر اس کی اچھائیاں غالب نہ ہوں ، تو اسے جہنم کی آگ میں جانے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔   

        (الفردوس بماثور الخطاب : باب المیم ، الحدیث ۵۵۴۴ ، ج ۳، ص۴۹۸ )   

        ہمارے اسلاف رحمھم  اللہ  اپنے وقت کو کس طرح استعمال کیا کرتے تھے اس کی ایک جھلک ملاحظہ ہو : چنانچہحضرت داؤد طائی رحمۃ  اللہ  تعالی علیہ کے بارے میں منقول ہے کہ آپ روٹی پانی میں بھگو کر کھا لیتے تھے، اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے فرماتے، ’’جتنا وقت لقمے بنانے میں صرف ہوتا ہے، اتنی دیر میں قرآن کریم کی پچاس آیتیں پڑھ لیتا ہوں ۔‘‘

(تذکرۃ الاولیاء، ذکر داؤد طائی رحمۃ اللہ   تَعَالٰی علیہ، ج۱، ص۲۰۱ )

(۱۴)خود اعتمادی :

        وقت بے وقت بچوں کو ڈانٹتے رہنے سے بچوں کی خوداعتمادی برُے طریقے سے مجروح ہوتی ہے ۔والدین سے گزارش ہے کہ بچوں کی غلطی پر انہیں تنبیہ ضرور کریں مگر اتنی سختی نہ کریں کہ وہ احساسِ کمتری میں مبتلا ہوجائیں ۔ خود اعتمادی کے حصول کے لئے ہروقت باوضو رہنا بھی بہت مفیدہے ۔

(۱۵)پڑوسیوں سے حسن سلوک :

         بچوں کو سمجھائیے کہ پڑوسی گھرانوں کے بڑے افراد کا احترام کریں اور چھوٹے بچوں سے حسنِ سلوک برتیں ۔ ایک شخص نے  اللہ   عَزَّوَجَلَّ  کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی خدمتِ باعظمت میں عرض کی :  ’’یارسول  اللہ   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ! مجھے کیونکر معلوم ہو کہ میں نے اچھا کیا یا برُا؟‘‘ ارشاد فرمایا : ’’جب تم پڑوسیوں کو یہ کہتے سنو کہ تم نے اچھا کیا تو بے شک تم نے اچھا کیا، اور جب یہ کہتے سنو کہ تم نے برُا کیا تو بے شک تم نے برُا کیا ۔‘‘(سنن ابن ماجہ ، کتاب الزہد ، باب الثناء الحسن ، الحدیث۴۲۲۳، ج۴، ص۴۷۹)

اسلام قبول کرلیا :     

        حضرت سیدنامالک بن دیناررَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے ایک مکان کرایہ پر لیا۔اس مکان کے پڑوس میں ایک یہودی کا مکان تھا اورحضرت سیدنامالک بن دیناررَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکاحجرہ اس یہودی کے مکان کے دروازے کے قریب تھا۔اس یہودی نے ایک پرنالہ بنارکھاتھااورہمیشہ اس پرنالہ کی راہ سے نجاست حضرت سیدنامالک بن دیناررَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکے گھرمیں پھینکاکرتاتھا۔اس نے مدت تک ایساہی کیا۔ مگر حضرت سیدنامالک بن دیناررَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے اس سے کبھی شکایت نہ فرمائی۔

        آخرایک دن اس یہودی نے خودہی حضرت سیدنامالک بن دیناررَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ سے پوچھا : ’’حضرت!آپ کومیرے پرنالے سے کوئی تکلیف تونہیں ہوتی؟‘‘ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے فرمایا : ’’ہوتی توہے مگرمیں نے ایک ٹوکری اورجھاڑورکھ چھوڑی ہے۔جو نجاست گرتی ہے، اس سے صاف کردیتا ہوں ۔‘‘اس یہودی نے کہا :  ’’آپ اتنی تکلیف کیوں کرتے ہیں ؟اورآپ کوغصہ کیوں نہیں آتا؟‘‘ فرمایا :  ’’میرے پیارے  اللہ   عَزَّوَجَلَّ  کاقرآن میں فرمان عالیشان ہے :

وَ  الْكٰظِمِیْنَ  الْغَیْظَ  وَ  الْعَافِیْنَ  عَنِ  النَّاسِؕ-وَ  اللّٰهُ  یُحِبُّ  الْمُحْسِنِیْنَۚ   ۴، ال عمران۱۳۴)

ترجمہ کنزالایمان : اور غصہ پینے والے اورلوگوں سے درگزرکرنے والے اور نیک لوگ  اللہ   عَزَّوَجَلَّ  کے محبوب ہیں ۔

یہ آیات مقدسہ سن کروہ یہودی بہت متأثرہوا، اوریوں عرض گزارہوا، ’’یقیناآپ کا دین نہایت ہی عمدہ ہے۔ آج سے میں سچے دل سے اسلام قبول کرتاہوں ۔‘‘ پھر اس نے کلمہ پڑھا اور مسلمان ہوگیا۔  (تذکرۃالاولیاء، ذکر مالک بن دینار رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ، ج۱، ص۵۱)

(۱۶)غم خواری :   

        اپنے بچوں کا ذہن بنائیے کہ جب کسی کو غم زدہ دیکھیں تو اس کی دلجوئی وغم خواری کریں ۔حضرت سیدنا جابر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا : ’’ جو کسی غمزدہ شخص سے تعزیت(یعنی اس کی غم خواری) کرے گا  اللہ   عَزَّوَجَلَّ  اسے تقویٰ کا لباس پہنائے گا اور روحوں کے درمیان اس کی روح پر رحمت فرمائے گا اور جو کسی مصیبت زدہ سے تعزیت کرے گا  اللہ   عَزَّوَجَلَّ  اسے جنت کے جوڑوں میں سے ایسے دو جوڑے پہنائے گا جن کی قیمت پوری دنیا بھی نہیں ہوسکتی۔‘‘  (المعجم الاوسط، الحدیث۹۲۹۲، ج۶، ص۴۲۹)

(۱۷) بزرگوں کی عزت :

        اسلام ایک کامل واکمل دین ہے جو ہمیں بزرگوں کا احترام سکھاتا ہے ۔ اپنی اولاد کو بزرگوں کے احترام کا خوگر بنائیے۔حضرت سیدناانس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن