30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سے ایک اپنے بھائی کا ہاتھ پکڑتا ہے (یعنی مصافحہ کرتا ہے )تو اللہ عَزَّوَجَلَّ کے ذمۂ کرم پر ہے کہ وہ ان کی دعا قبول فرمائے اور ان کے ہاتھوں کے جد ا ہونے سے پہلے ہی ان کی مغفرت فرما دے ۔‘‘(المسندللامام احمد بن حنبل ، مسند انس بن مالک ، الحدیث۱۲۴۵۴، ج۴، ص۲۸۶)
(۱۴) سلام کی طرح مصافحہ میں بھی پہل کریں ، حضرت سیدنا عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا : ’’جب دو مسلمان ملاقات کرتے ہیں اور ان میں سے ایک اپنے بھائی کو سلام کرتا ہے تو ان میں سے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے نزدیک زیادہ محبوب وہ ہوتا ہے جو اپنے بھائی سے زیادہ گرم جوشی سے ملاقات کرتا ہے ۔پھر جب وہ مصافحہ کرتے ہیں تو ان پر سو رحمتیں نازل ہوتی ہیں ، ان میں سے نوّے رحمتیں سلام میں پہل کرنے والے کے لئے اور دس مصافحہ میں پہل کرنے والے کے لئے ہیں ۔‘‘
(البحر الزخار، ابو عثمان الہندی ، الحدیث۳۰۸، ج۱، ص۴۳۷)
(۱۵)دونوں ہاتھوں سے مصافحہ کریں اور مصافحہ کرتے وقت سنت یہ ہے کہ ہاتھ میں رومال وغیرہ نہ ہو اور دونوں ہتھیلیاں خالی ہوں ۔(ردالمحتار ، کتاب الحظر والاباحۃ ، باب الاستبراء وغیرہ، ج۹، ص۶۲۹)
(۱۶) عالمِ باعمل ، ساداتِ کرام ، والدین اور کسی بھی معظم دینی کے ہاتھ چومنا جائزہے ۔حضرت سیدنازارع رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ جو وفدِعبدالقیس میں شامل تھے، فرماتے ہیں کہ ہم مدینہ میں آئے تو جلدی جلدی سواریوں سے اتر پڑے اور حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے دست ِ مبارک اور پاؤں مبارک کو بوسہ دیا۔‘‘
(سنن ابی داود، کتاب الادب ، باب فی قبلۃ الرجل ، الحدیث۵۲۲۵، ج۴، ص۴۵۶)
حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ اس حدیث کے تحت فرماتے ہیں : ’’اس حدیث سے پاؤں چومنے کا جواز ثابت ہوا ۔‘‘(اشعۃ اللمعات، ج۴، ص۲۷)
درمختار میں ہے : ’’حصولِ برکت کے لئے عالم اور پرہیز گار آدمی کا ہاتھ چومنا جائز ہے۔‘‘(الدر المختار ، کتاب الحظر والاباحۃ ، باب الاستبراء ، ج۹، ص۶۳۱)
گھر یا کمرے میں داخل ہونے کے آداب :
اس سلسلے میں ان کا ذہن بنائیں کہ
(۱) جب بھی گھر یا کمرے میں داخل ہوں تو اجازت لے کر داخل ہوں حضرت سیدناعطاء بن یسار رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے سرکارِ مدینہ ، فیض گنجینہ ، راحت ِ قلب وسینہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے پوچھاکہ کیا میں اپنی ماں کے پاس جانے سے پہلے بھی اجازت لوں ؟‘‘تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : ’’ہاں ۔‘‘ اس نے عرض کی : ’’میں تو اس کے ساتھ ایک ہی گھر میں رہتا ہوں ۔‘‘ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : ’’اجازت لے کر اس کے پاس جاؤ۔‘‘ انہوں نے عرض کی : ’’میں اپنی ماں کا خادم ہوں (یعنی باربار آنا جانا ہوتا ہے)پھر اجازت کی کیا ضرورت ؟‘‘ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا : ’’اجازت لے کرجاؤ، کیا تم پسند کرتے ہو کہ اپنی ماں کو برہنہ دیکھو؟‘‘ عرض کی : ’’ نہیں ۔‘‘ارشاد فرمایا :
’’تو اجازت حاصل کر لیا کرو۔‘‘( المؤطاللامام مالک، کتاب الاستئذان باب الاستئذان، الحدیث ۱۸۴۷، ج۲، ص۴۴۶)
(۲)گھر میں داخل ہونے پر سلام کریں ۔ حضرت سیدناانس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے مجھ سے فرمایا : ’’اے بیٹے ! جب تم گھر میں داخل ہو تو گھر والوں کو سلام کرو کیونکہ تمہارا سلام تمہارے اور تمہارے گھر والوں کے لئے باعث ِ برکت ہوگا۔‘‘
(جامع الترمذی، کتاب الاستئذان والآداب ، باب ماجاء فی التسلیم اذا دخل بیتہ ، الحدیث۲۷۰۷، ج۴، ص۳۲۰)
(۳)جب کسی کے گھر جائیں تو دروازے سے گزرتے وقت ضرور تاً دو سرے کمرے کی طر ف جاتے ہوئے کھنکارلینا چاہیے تاکہ گھر کے دیگر افراد کو ہماری موجودگی کا احساس ہوجائے اور وہ آگے پیچھے ہوسکیں ۔مولائے کائنات حضرت علی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ تَعَالٰی علیہ وآلہ وسلمکی خدمت بابر کت میں ایک مرتبہ رات کے وقت اور ایک مرتبہ دن کے وقت حاضر ہوتا تھا ۔جب میں رات کے وقت آپ صلی اللہ تَعَالٰی علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضری دیتا آپصلی اللہ تَعَالٰی علیہ وآلہ وسلم میرے لئے کھنکارتے ۔‘‘(سنن ابن ماجہ ، کتاب الادب ، باب الاستئذان، الحدیث۳۷۰۸، ص۲۶۹۸)
(۴) جب کسی کے گھر جائیں تو سلام کریں اور اپنا نام بتائیں اور پوچھیں کہ کیا میں اندر آسکتا ہوں اگر اجازت مل جائے فبھاورنہ ناراض ہوئے بغیر واپس لوٹ آئیں ۔ اس دوران دروازے سے ہٹ کرکھڑے ہوں تاکہ گھر میں نظر نہ پڑے ۔ حضرت سیدناعبد اللہ بن بسر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے پیارے محبوب ، دانائے غیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَجب کسی دروازہ پر تشریف لے جاتے تو دروازہ کے سامنے کھڑے نہیں ہوتے تھے بلکہ دائیں یا بائیں طرف دروازے سے ہٹ کر کھڑے ہوتے تھے ۔
(سنن ابی داؤد، کتاب الادب، باب کم مرۃ یسلم الرجل فی الاستیذان ، الحدیث ۵۱۸۶، ج۴، ص۴۴۶)
حضرتِ سیدناابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا : ’’جو اللہ عَزَّوَجَلَّ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہیے کہ اچھی بات کرے یا چپ رہے ۔‘‘(صحیح البخاری، کتاب الرقاق، باب حفظ اللسان، الحدیث۶۴۷۵، ج۴، ص۲۴۰)
حضرتِ سیدناعلی المرتضیٰ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا : ’’جنت میں بالاخانے ہیں جس کے بیرونی حصے اندر سے اور اندرونی حصے باہر سے نظر آتے ہیں ۔ایک اعرابی نے عرض کی : ’’یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ!یہ کس کے لئے ہوں گے ؟‘‘ ارشاد فرمایا : ’’جو اچھی گفتگو کرے ۔‘‘(جامع الترمذی، کتاب البر والصلۃ، باب ماجاء فی قول المعروف، الحدیث۱۹۹۱، ج۳، ص۳۹۶)
(۱)مسکرا کر اور خندہ پیشانی سے بات کیجئے۔
(۲)غیر معمولی تیزرفتاری سے گفتگو وقار میں کمی کرتی ہے ۔سکون اور وقار سے ٹھہر ٹھہر کر گفتگو کریں ۔
(۳) چھوٹوں کے ساتھ شفقت اور بڑوں سے ادب کے ساتھ گفتگو کرنا آپ کو ہر دل عزیز بنادے گا ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع