30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہتھیلیوں کی طرف اشارہ فرمایا۔‘‘(سنن ابی داؤد، کتاب اللباس ، باب فیما تبدی ۔۔۔الخ، الحدیث ۴۱۰۴، ج۴، ص۸۵)
حضرت سیدنا علقمہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اپنی والدہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت حفصہ بنت عبدالرحمن رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ا حضرت سیدتناعائشہ صدیقہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اکی خدمت میں حاضر ہوئیں ۔ انہوں نے ایک باریک دوپٹہ اوڑھا ہوا تھا ۔ حضرت عائشہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ا نے اسے پھاڑ دیا اور انہیں موٹا دوپٹا اوڑھا دیا ۔(مؤطا امام مالک، کتاب اللباس باب مایکرہ، للنساء ۔۔۔الخ، الحدیث ۱۷۳۹ج۲، ص۴۱۰)
بچیوں کو پردے کی عادت ڈالنے کے لئے انہیں بچپن سے ہی اسکارف اوڑھنے کی تربیت دیجئے ۔ تھوڑی بڑی ہوئی تو چھوٹا سا برقعہ بنوا دیجئے ۔ اِنْ شَآءَاللہ عَزَّوَجَلَّ بچی پردے کی عادی ہوجائے گی ۔
مسئلہ :
لڑکیوں کے کان ناک چھیدنا جائز ہے ۔ بعض لوگ لڑکوں کے کان بھی چھیدواتے ہیں اور ان کے کان میں بالی پہناتے ہیں ، یہ ناجائز ہے۔ (ماخوذ از بہارِ شریعت ، حصہ ۱۶، ص۲۰۷)
مسئلہ : لڑکے کو زیور پہناناحرام ہے۔ (فتاویٰ رضویہ جدید، ج ۲۳، ص۲۶۰)
اس سلسلے میں ان کا ذہن بنائیں کہ
(۱) کسی بھی رنگ کا جوتا پہننا اگرچہ جائز ہے لیکن پیلے رنگ کے جوتے پہننا بہتر ہے کہ مولا مشکل کشا علی المرتضیٰ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں جو پیلے جوتے پہنے گا اس کی فکروں میں کمی ہوگی ۔
(تفسیرنسفی، پ۱، البقرہ ، تحت آیۃ ، ۶۹، ص۵۸ : روح المعانی ، پ۱، البقرہ، تحت آیۃ ۶۹، ج۱، ص۳۹۲)
(۲) پہلے سیدھا جوتا پہنیں پھر الٹا اور اتارتے وقت پہلے الٹا جوتا اتاریں پھر سیدھا ۔حضرت سیدناابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے پیارے محبوب ، دانائے غیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا : ’’(کوئی شخص)جب جوتا پہنے تو پہلے داہنے پاؤں میں پہنے اور جب اتارے تو پہلے بائیں پاؤں کا اتارے۔‘‘
(صحیح مسلم، کتاب اللباس والزینۃ، باب استحباب لبس النعل۔۔۔الخ، الحدیث ۲۰۹۷، ص۱۱۶۱ )
(۳) جوتا پہننے سے پہلے جھاڑ لیں تاکہ کیڑا یا کنکر وغیرہ ہوتو نکل جائے۔
(۴) استعمالی جوتا اٹھانے کے لئے الٹے ہاتھ کا انگوٹھا اور برابر والی انگلی استعمال کریں ۔
(۵) استعمالی جوتا الٹا پڑا ہوتو سیدھا کردیجئے ورنہ فقروتنگ دستی کا اندیشہ ہے ۔ (سنی بہشتی زیور، حصہ پنجم ، اسباب فقر و تنگدستی ، ص۲۰۱)
اس سلسلے میں ان کا ذہن بنائیں کہ
(۱) دانت سے ناخن نہیں کاٹنا چاہیے کہ مکروہ ہے ۔(الفتاویٰ الھندیۃ ، کتاب الکراھیۃ ، الباب التاسع، عشر فی الختان ۔۔۔الخ، ج۵، ص۳۵۸)
(۲) ناخن اس طرح تراشیں کہ داہنے ہاتھ کی کلمہ کی انگلی سے شروع کرے اور چھوٹی انگلی پر ختم کرے پھر بائیں ہاتھ کی چھوٹی انگلی سے شروع کرکے انگوٹھے پر ختم کرے پھر داہنے ہاتھ کے انگوٹھے کا ناخن تراشے ۔(الدرالمختار، کتاب الحظر والاباحت، فصل فی البیع، ج۹، ص۶۷۰ )
(۳) ناخن تراش لینے کے بعد انگلیوں کے پورے دھو لینے چاہئیں ۔
حضرت سیدنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا : ’’جس کے بال ہوں تو وہ ان کا اکرام کرے یعنی ان کو دھوئے ، تیل لگائے ، کنگھا کرے ۔‘‘(سنن ابی داؤد، کتاب الترجل ، باب فی اصلاح الشعر، الحدیث۴۱۶۳، ج۴، ص۱۰۳)
(۱)مرد کو اختیار ہے کہ پورے بال رکھے یا حلق کروائے ۔ پورے بال اس طرح کہ آدھے کان کے برابر یا کانوں کی لو کے برابر بال رکھے یا اتنے بڑے رکھے کہ شانوں کو چُھولیں اور بیچ سر میں مانگ نکالے۔(بہارشریعت ، حصہ۱۶، ص۱۹۸)
(۲) سر میں تیل ڈالنے سے پہلے بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھ لیں ۔پھر الٹے ہاتھ کی ہتھیلی میں تھوڑا سا تیل ڈالیں اور پہلے سیدھی آنکھ کے ابرو پر تیل لگائیں پھر الٹی پر ، اس کے بعد سیدھی آنکھ کی پلک پر پھر الٹی پر پھر بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط کہہ کر سر میں پیشانی کی طرف سے تیل ڈالنا شروع کریں ۔سرکارِ مدینہ ، قرارِ قلب وسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ جب تیل لگاتے تو الٹے ہاتھ کی ہتھیلی پر ڈالتے اور پہلے ابرو پر تیل لگاتے پھر پلکوں پر ، پھر اپنے سر مبارک پر تیل لگاتے ۔ (وسائل الوصول الی شمائل الرسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ، الفصل الثالث، ص۸۱)
حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : ’’جو بھی اہم کام بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیمکے ساتھ شروع نہیں کیا جاتا وہ ادھورا اور نا مکمل رہ جا تا ہے ۔‘‘(الجامع الصغیر ، الحدیث ۶۲۴۸، ص۳۹۱)
سیِّدُ المبلغین، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ وضو کرنے میں اور کنگھا کرنے میں او رنعلینِ شریفین پہننے میں دائیں جانب کو پسند فرماتے ۔
(وسائل الوصول الی شمائل الرسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ، الفصل الثالث، ص۸۱)
حضرت سیدنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا : ’’کیا میں تم کو ایسی بات نہ بتاؤں کہ جب تم اس پر عمل کرو تو تمہارے درمیان محبت بڑھے اور وہ یہ ہے کہ آپس میں سلام کو رواج دو۔‘‘(صحیح مسلم، کتاب الایمان ، باب بیان ان لا یدخل الجنۃ ۔۔۔الخ، الحدیث۵۴، ص۴۷)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع