دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Tarbiyat e Aulad | تربیت اولاد

book_icon
تربیت اولاد

        حضرتِ سیدنا جابر بن سمرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ روایت کرتے ہیں کہ حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : ’’انسان کا اپنے بچے کو ادب سکھانا ایک صاع صدقہ کرنے سے بہتر ہے ۔‘‘(سنن الترمذی، کتاب البر والصلۃ، باب ماجاء فی ادب الولد ، الحدیث۱۹۵۸، ج۳، ص۳۸۲)   

         اللہ   عَزَّوَجَلَّ  کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکا فرمانِ رحمت نشان ہے : ’’کسی باپ نے اپنے بیٹے کو اچھا ادب سکھانے سے بڑھ کر کوئی عطیہ نہیں دیا۔‘‘(سنن الترمذی، کتاب البر والصلۃ، باب ماجاء فی ادب الولد ، الحدیث۱۹۵۹، ج۳، ص۳۸۳)

        والدین کو چاہیے کہ اپنے بچے کو مختلف آداب سکھائیں ، بغرضِ سہولت یہاں چند اُمور کا بیان کیا جارہا ہے ۔

کھانے کے آداب :

        کھانا  اللہ   تَعَالٰی کی بہت لذیذ نعمت ہے ۔ اگر سنت ِ رسولصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے مطابق کھانا کھایا جائے تو ہمیں پیٹ بھرنے کے ساتھ ساتھ ثواب بھی حاصل ہوگا ۔ اس لئے والدین کو چاہیے کہ اپنی اولاد کو سنت کے مطابق کھانا کھانے کی عادت ڈالیں ۔ اس سلسلے میں ان کا ذہن بنائیں کہ

 (۱)  ہرکھانے سے پہلے اپنے ہاتھ پہنچوں تک دھو لیں ۔حضرتِ سیدنا انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ روایت کرتے ہیں کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا : ’’ جویہ پسند کرے کہ  اللہ   تَعَالٰی اس کے گھر میں برکت زیادہ کرے تو اسے چاہیے کہ جب کھانا حاضر کیا جائے تو وضو کرے اور جب اٹھایا جائے تب بھی وضو کرے ۔‘‘(سنن ابن ماجہ، کتاب الاطعمہ، باب الوضوء عند الطعام ، الحدیث۳۲۶۰، ج۴، ص۹)

        حکیم الامت مفتی احمدیارخان نعیمی علیہ رحمۃ  اللہ  الغنی لکھتے ہیں :  اس(یعنی کھانے کے وضو ) کے معنی ہیں ہاتھ ومنہ کی صفائی کرنا کہ ہاتھ دھونا کلی کرلینا ۔(مرأۃ المناجیح ، ج۶، ص۳۲)   

 (۲) جب بھی کھانا کھائیں تو بیٹھ کر کھائیں کہ یہ سنت ہے ۔ بیٹھنے کا طریقہ یہ ہے کہ الٹا پاؤں بچھا دیں اور سیدھا کھڑا رکھیں یا سرین پر بیٹھ جائیں اور دونوں گھٹنے کھڑے رکھیں یا دو زانو بیٹھیں ۔(تینوں میں سے جس طرح بھی بیٹھیں گے سنت ادا ہوجائے گی )         (اشعۃ اللمعات، کتاب الاطعمۃ، فصل ۱، ج۳، ص۵۱۸)

 (۳) کھانے سے پہلے جوتے اتار لیں ۔حضرتِ سیدنا انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ سرکارِ مدینہ ، فیض گنجینہ ، راحت ِ قلب وسینہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : ’’جب کھانا کھانے بیٹھو تو جوتے اتار لو ، اس میں تمہارے قدموں کے لئے راحت ہے ۔‘‘(سنن الدارمی ، کتاب الاطعمۃ ، باب فی خلع النعال عند الاکل ، الحدیث ۲۰۸، ج۲، ص۱۴۸)

 (۴) کھانے سے پہلے بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط پڑھ لیں ۔حضرت سیدنا حذیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا : ’’جس کھانے پر بسم  اللہ  نہ پڑھی جائے اس کھانے کو شیطان اپنے لئے حلال سمجھتا ہے ۔‘‘(صحیح مسلم، کتاب الاشربۃ ، باب آداب الطعام۔۔۔الخ، الحدیث۲۰۱۷، ص۱۱۱۶)

        حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ا سے مروی ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا :  ’’جب تم میں سے کوئی کھانا کھائے تو اسے چاہیے کہ پہلے بسم  اللہ  پڑھے ۔اگر شروع میں بسم  اللہ  پڑھنا بھول جائے تو یہ کہے بِسْمِ اللّٰہِ اَوَّلَہٗ وَاٰخِرَہٗ ۔‘‘

(سنن ابی داؤد، کتاب الاطعمہ، باب التسمیۃ عند الطعام ، الحدیث۳۷۶۷، ج۳، ص۴۸۷)   

 (۵) کھانے سے پہلے یہ دعا پڑھ لی جائے تو اگر کھانے میں زہر بھی ہوگا تو اِنْ شَآءَ اللہ   عَزَّوَجَلَّ  اثر نہیں کرے گا ، ’’بِسْمِ اللّٰہِ الَّذِیْ لَایَضُرُّ مَعَ اسْمِہِ شَیْئٌ فِی الْاَرْضِ وَلَا فِی السَّمَائِ یَاحَیُّ یَاقَیُّوْمُ یعنی  اللہ  کے نام سے شروع کرتا ہوں جس کے نام کی برکت سے زمین وآسمان کی کوئی چیز نقصان نہیں پہنچا سکتی ۔اے ہمیشہ سے زندہ وقائم رہنے والے۔‘‘(فردوس الاخبار ، الحدیث ۱۹۵۵، ج۱، ۲۷۴)

 (۶) سیدھے ہاتھ سے کھائیں ۔حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ عظمت نشان ہے : ’’جب تم میں سے کوئی کھانا کھائے تو سیدھے ہاتھ سے کھائے اور جب پئے تو سیدھے ہاتھ سے پئے کہ شیطان الٹے ہاتھ سے کھاتا پیتا ہے ۔‘‘(صحیح مسلم، کتاب الاشربۃ، باب آداب الطعام والشرب ، الحدیث۲۰۲۰، ص۱۱۱۷)

 (۷) اپنے سامنے سے کھائیں ۔حضرتِ سیدنا انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحروبَر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا : ’’ہر شخص برتن کی اسی جانب سے کھائے جو اس کے سامنے ہو۔‘‘(صحیح البخاری، کتاب الاطعمۃ، باب الاکل ممایلیہ، الحدیث۵۳۷۷، ج۳، ص۵۲۱)

        حضرت سیدنا ابو سلمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ ایک روز کھانا کھاتے ہوئے میرا ہاتھ پیالے میں ادھر اُدھر حرکت کر رہا تھا یعنی کبھی ایک طرف سے لقمہ اٹھا یا کبھی دوسری طرف سے اور کبھی تیسری طرف سے لقمہ اٹھایا ۔جب  اللہ   عَزَّوَجَلَّ  کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے مجھے اس طرح کرتے ہوئے دیکھا تو فرمایا : ’’اے لڑکے!بسم  اللہ  پڑھ کر دائیں ہاتھ سے کھایا کرواور اپنے سامنے سے کھایا کرو ، چنانچہ اس کے بعد سے میرے کھانے کا طریقہ یہی ہو گیا‘‘

(صحیح البخاری، کتاب الاطعمۃ ، باب التسمیۃ علی الطعام والاکل بالیمین، الحدیث ۵۳۷۶، ج۳، ص۵۲۱)

 (۸)کھانے میں کسی قسم کا عیب نہ لگائیں مثلاً یہ نہ کہیں کہ مزیدار نہیں ، کچا رہ گیا ہے ، پھیکا رہ گیا کیونکہ کھانے میں عیب نکالنامکروہ و خلافِ سنت ہے اور اگر اس کی وجہ سے کھانا پکانے والے یا میزبان کی دل آزاری ہوجائے تو ممنوع ہے ۔بلکہ جی چاہے تو کھائیں ورنہ ہاتھ روک لیں ۔حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا کہ  نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے کبھی کسی کھانے کو عیب نہیں لگایا (یعنی برا نہیں کہا) اگر خواہش ہوتی تو کھا لیتے اور خواہش نہ ہوتی تو چھوڑ دیتے۔

 (صحیح البخاری، کتاب الاطعمۃ، باب ماعاب النبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  طعاماً، الحدیث۵۴۰۹، ج۳، ص۵۳۱ )

                                                امام اہل سنت الشاہ مولانا احمد رضاخان علیہ رحمۃ الرحمن لکھتے ہیں : ’’ کھانے میں عیب نکالنا اپنے گھر میں بھی نہ چاہیے، مکروہ وخلاف سنت ہے ۔ (سرکارِ دو عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی ) عادت کریمہ یہ تھی کہ پسند آیا تو تناول فرما لیا ورنہ نہیں ۔ (رہا)پرائے گھر میں عیب نکالنا تو(اس میں ) مسلمانوں کی دل شکنی ہے اور کمالِ حرص وبے مروتی پر دلیل ہے ۔ ’’گھی کم ہے یا مزہ کا نہیں ‘‘یہ عیب نکالنا ہے اور اگر کوئی شے اسے مضر(نقصان دیتی) ہے ، اسے نہ کھانے کے لئے عذر کیا ، اس کا اظہار کیا نہ (کہ)بطورِ طعن وعیب مثلاً اس میں مرچ زائد ہے(اور) اتنی مرچ کا یہ عادی نہیں تو یہ عیب نکالنا نہیں اور اتنا بھی (اس وقت ہے کہ جب ) بے تکلفی خاص کی جگہ ہو اور اس کے سبب دعوت کنندہ (یعنی میزبان) کو اور تکلیف نہ کرنی پڑے مثلاً دو قسم کا سالن ہے ، ایک میں مرچ زائد ہے اور یہ عادی نہیں تو اسے

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن