30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
آپ عرض کرتے ہیں ’’میرا توروزہ ہے کیسے کھاؤں ؟‘‘ارشاد ہوتا ہے’’بچوں کا روزہ ایسا ہی ہوتا ہے ، لو کھالو ، میں نے دروازہ بند کردیا ہے ، کوئی دیکھنے والا بھی نہیں ہے ۔‘‘ آپ عرض کرتے ہیں ، ’’جس کے حکم سے روزہ رکھا ہے ، وہ تو دیکھ رہا ہے ۔‘‘یہ سنتے ہی حضور کے والدِ ماجد کی چشمانِ مبارک سے اشکوں کا تاربندھ گیا اور کمرہ کھول کر باہرلے آئے ۔
(حیات اعلیٰ حضرت ، ص ۸۷، مکتبہ نبویہ لاہور)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!
اپنی اولاد کو کامل مسلمان بنانے کے لئے زیورِ علمِ دین سے آراستہ کرنا بے حد ضروری ہے مگر آہ!آج دینی تعلیم کا رجحان نہ ہونے کے برابر ہے ۔ اپنے ہونہار بچوں کو دنیاوی علوم وفنون تو خوب سکھائے جاتے ہیں مگر سنتیں سکھانے کی طرف توجہ نہیں کی جاتی ۔ اگر بچہ ذرا ذہین ہوتواس کے والدین کے دل میں اسے ڈاکٹر، انجینئر ، پروفیسر ، کمپیوٹر پروگرامر بنانے کی خواہش انگڑائیاں لینے لگتی ہے اور اس خواہش کی تکمیل کے لئے اس کی دینی تربیت سے منہ موڑ کر مغربی تہذیب کے نمائندہ اداروں کے مخلوط ماحول میں تعلیم دلوانے میں کوئی عار محسوس نہیں کی جاتی بلکہ اسے ’’اعلیٰ تعلیم ‘‘کی خاطر کفار کے حوالے کرنے سے بھی دریغ نہیں کیا جاتا ۔اور اگر بچہ کندذہن ہے یا شرارتی ہے یا معذور ہے تو جان چھڑانے کے لئے اسے کسی دارالعلوم یا جامعہ میں داخلہ دلا دیا جاتا ہے ۔
بظاہر اس کی وجہ یہی نظر آتی ہے کہ والدین کی اکثریت کا مطمحِ نظر محض دنیاوی مال وجاہ ہوتی ہے ، اُخروی مراتب کا حصول ان کے پیشِ نظر نہیں ہوتا ۔ والدین کو چاہیے کہ پہلے اپنی اولاد کو ضروری دینی تعلیم دلوائیں اسے کم ازکم نماز وروزہ کے مسائل، دیگرفرائض وواجبات ، حلال وحرام ، خریدوفروخت، اجارہ(یعنی اجرت پر خدمت لینے یا دینے)، حقوق العباد وغیرہ کے شرعی احکام سکھا دئیے جائیں ۔
اس کے بعد چاہیں تو وہ دنیاوی تعلیم جس سے احکامِ شرعیہ کی خلاف ورزی لازم نہ آتی ہو ، بھی دلائیں لیکن بہتر یہی ہے کہ اسے درسِ نظامی(یعنی عالم کورس) کروائیں تاکہ وہ عالم بننے کے بعد معاشرے میں لائق ِ تقلید کردار کا مالک بنے اور دوسروں کو علمِ دین بھی سکھائے ۔بطورِ ترغیب علمِ دین سیکھنے کے چند فضائل ملاحظہ ہوں :
حضرت سیدنا ابودرداء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ میں نے سرکارِ مدینہ فیض گنجینہ ، راحت ِ قلب وسینہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو فرماتے ہوئے سنا کہ : ’’جو علم کی تلاش میں کسی راستے پر چلتا ہے تو اللہ تَعَالٰی اس کے لئے جنت کا راستہ آسان فرما دیتا ہے اور بے شک فرشتے طالب العلم کے عمل سے خوش ہوکر اس کے لئے اپنے پر بچھا دیتے ہیں اور بے شک زمین وآسمان میں رہنے والے حتیّٰ کہ پانی کی مچھلیاں طالب علم کے لئے استغفار کرتی ہیں اور عالم کی فضیلت عابد پر ایسی ہے جیسی چودھویں رات کے چاند کی دیگر ستاروں پر اور بے شک علما ء وارثِ انبیاعلیہم السلام ہیں اور انبیاء علیہم السلام درہم ودینا ر کا وارث نہیں بناتے بلکہ یہ نفوسِ قدسیہتو صرف علم کا وارث بناتے ہیں توجس نے اسے حاصل کرلیا اس نے بڑا حصہ حاصل کرلیا۔‘‘
(سنن ابن ماجہ ، کتاب السنۃ، باب فضل العلماء والحث علی طلب ا لعلم، الحدیث۲۲۳، ج۱، ص۱۴۵)
طبرانی شریف میں حضرت سیدنا علی المرتضیٰ کرم اللہ تَعَالٰی وجہہ الکریم سے روایت ہے کہ پیارے محبوب ، دانائے غیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : ’’جو بندہ علم کی جستجو میں جوتے یا موزے یا کپڑے پہنتا ہے ، اپنے گھر کی چوکھٹ سے نکلتے ہی اس کے گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں ۔‘‘(المعجم الاوسط، باب المیم، الحدیث ۵۷۲۲، ج۴، ص ۲۰۴)
حضرتِ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ سرکارِ مدینہ سُرورِ قلب وسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اپنی مسجد میں دومجلسوں کے پاس سے گزرے تو فرمایا : یہ دونوں بھلائی پر ہیں مگر ایک مجلس دوسری سے بہتر ہے ، ایک مجلس کے لوگ اللہ تَعَالٰی سے دعا کررہے ہیں ، اس کی طرف راغب ہیں ، اگر چاہے انہیں دے چاہے نہ دے۔ اور دوسری مجلس کے لوگ خود بھی فقہ اور علم سیکھ رہے ہیں اور نہ جاننے والوں کو سکھا بھی رہے ہیں ، یہی افضل ہیں ، میں معلم ہی بنا کر بھیجا گیا ہوں ۔ ‘‘ پھر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ انہی میں تشریف فرما ہوئے ۔
(سنن الدارمی، المقد مۃ ، باب فی فضل العلم ، الحدیث ۳۴۹، ج۱، ص۱۱۱ )
ان شفاف آئینوں میں تقویٰ وپرہیز گاری کی نقش نگاری کرنے اور شیطان کی کاریگری سے محفوظ رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ بچوں کی تعلیم کے لئے ایسا استاذ تلاش کیا جائے جو خوفِ خدا عَزَّوَجَلَّ اور عشقِ رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا پیکر ہو ۔ مگر افسوس !کہ فی زمانہ یہ اہم انتخاب بھی دنیاوی تقاضوں اور سہولتوں کی بھینٹ چڑھا دیا جاتا ہے ۔تاریخ گواہ ہے کہ اسلامی دنیا میں جتنے بھی لعل وجواہر پیدا ہوئے ان کی تعلیم وتربیت خدا ترس اور شریف النفس علماء واساتذہ کے ہاتھوں ہوئی ۔
حدیث میں ہے’’بے شک یہ علم دین ہے تم میں سے ہر شخص دیکھ لے کہ وہ کس سے دین حاصل کررہا ہے ۔‘‘(کنزالعمال، کتاب العلم ، الباب الثالث فی آداب العلم ، الحدیث۲۹۲۶۰، ج۱۰، ص۱۰۵)
اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ ! دعوتِ اسلامی کے زیرِ انتظام کثیر جامعات بنام ’’جامعۃ المدینہ‘‘ قائم ہیں ۔ ان کے ذریعے لاتعداد اسلامی بھائیوں کو( حسب ِ ضرورت قیام وطعام کی سہولت کے ساتھ)درسِ نظامی (یعنی عالِم کورس)اور اسلامی بہنوں کو ’’عالمہ کورس‘‘کی مفت تعلیم دی جاتی ہے ۔اس کے ساتھ ساتھ جامعات میں ایسا مدنی ماحول فراہم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ یہاں سے پڑھنے والے علم وعمل کا پیکر بن کر نکلیں ۔ آپ بھی اپنی اولاد کو علم وعمل سکھانے کے لئے جامعۃ المدینہ میں تعلیم دلوائیے۔
امامِ اہلِسنّت ، مجدد دین وملت الشاہ مولانا احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن کی ہمشیرہ کا بیان ہے کہ’’اعلیٰ حضرت نے (بچپن میں )کبھی پڑھنے میں ضد نہیں کی، خودسے برابر پڑھنے کوتشریف لے جایا کرتے ۔جمعہ کے دن بھی چاہا کہ پڑھنے جائیں مگروالدصاحب کے منع فرمانے سے رک گئے۔‘‘(حیاتِ اعلیٰ حضرت ، ج۱، ص۸۹)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع